Tuesday, 31 December 2013

کہروا

6 comments
حسب معمول صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی۔ اذانوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کی۔ لیکن دھند کے باعث کچھ نظر نہیں آیا۔ نماز کے بعد چائے بنائی اور کپ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ آج 2013 کا آخری سورج طلوع ہونے والا ہے۔ میں اس سورج پر ایک الوداعی نگاہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ کیوں؟ مجھے معلوم نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے ڈوبتے سورج پر الوداعی نگاہ ڈالنا عادت تھی۔ اس سال اپنی روایت بدلنے کا سوچا۔ طلوع ہوتا سورج دیکھا جائے گا۔

سورج کو اس چیز سے کوئی سروکار نہیں کہ کون سا دن سال اور مہینہ ہے۔ وہ تو اپنی روش پر قائم ہے۔ مگر انسان جس کو ہر چیز کو ناپنے تولنے کی عادت ہے۔ اس نے وقت تولنے کو بھی باٹ ایجاد کر رکھے ہیں۔ یہ سال، گزشتہ سال، آنے والا سال۔ انسان جب بھی وقت کی بات کرتا ہے۔ ناپنے کے لیے اسی ترازو کا استعمال کرتا ہے۔ زمین نے اپنا ایک چکر سورج کے گرد مکمل کر لیا۔ 365 دن گزر گئے۔ اس حساب سے عطارد کا ایک سال 88 دن کا بنتا ہے۔ بقول مقبول عامر
کوئی پڑاو نہیں‌ وقت کے تسلسل میں 
یہ ماہ سال کی تقسیم تو خیالی ہے 

12 ستمبر کا ڈوبتا سورج محمد زین العابدین کی زندگی کا پیغام لے کر آیا۔ اور مغرب کے بعد عشاء سے پہلے نومولود میری گود میں تھا۔ میرا وارث خاموش تھا اور میری ماں رو رہی تھی۔ اس شام میں نے خوشی کے آنسو دیکھے۔ بہت خوبصورت شام تھی۔ ساری عمر یاد رہنے والی شام۔  دوسری بوجھل صبح 22نومبرکی تھی۔ میں سستی سے بستر میں لیٹا تھا۔ نماز کا وقت گزرتا جا رہا تھا۔ اور مجھے اٹھنا عذاب لگ رہا تھا۔ کہ ابو کا فون آیا۔ بیٹا تمہاری پھپھو کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہر وقت دعائیں دینے والی مجسم محبت پھپھو دنیا سے کنارہ کر گئی تھی۔ میرے چاہنے والوں میں ایک کی کمی ہوگئی۔  تیسری خوبصورت شام پھر 28 دسمبر کی تھی۔ جب میرا بھانجا اس دنیا میں آیا۔ میں جن سے محبت کرتا ہوں۔ ان میں ایک کا اضافہ ہوگیا۔ جبکہ باقی محبتیں ہنوز اپنی جگہ برقرار۔ اپنی ماں کی بات یاد آرہی ہے کہ محبتیں رزق کی طرح بڑھتی گھٹتی ہیں۔ شاید ہمیں ان میں  کشادگی کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

یہ سال میرے لیے صرف تین دن کا رہا۔ اس سال کے 362 دنوں کا میرے پاس کوئی حساب نہیں ہے۔ کیسے سورج طلوع ہوئے۔ غروب ہوئے۔ کتنی برساتیں برسیں۔ کچھ یاد نہیں۔ صرف تین دن ایسے ہیں جو میرے سامنے ہیں۔ مجھے یاد ہیں۔ بقیہ سب دن کہرے میں گم ہیں۔ بالکل اس سورج کی طرح جو مشرق سے طلوع تو ہو گیا ہے۔ لیکن کہرے میں گم ہے۔ اس طرح یہ سال کا ہندسہ  بھی کہرے میں گم ہونے والا ہے۔ کل کے سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی کہرا اور گہرا ہوجائے گا۔ اور محض تین دن اپنا نشان برقرار رکھ کر مجھے یہ احساس دلائیں گے کہ یہ سال بھی کبھی زندگی میں آیا تھا۔

Thursday, 19 December 2013

باکمال بزرگ - قسط چہارم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

2 comments
گزشتہ سے پیوستہ:

کچھ ثانیے یوں ہی گزرے تھے۔ کہ دوسرے بزرگ نے کہا۔  چل اب شرمانا چھوڑ۔ تجھے وہ دلارا یاد ہے۔ وہ جس کو سب زنگی کہتے تھے۔ یہ بات سن کر پہلے بزرگ ہنسنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کو کھانسی لگ گئی۔  پہلے بزرگ نے کھانسنے کے درمیان  یوں ہاتھ ہلایا۔ جیسے کہہ رہے ہوں چھوڑ یار!  اور جب ذرا کھانسی تھمی تو انہوں نے واقعی یہی کہا۔ اور مزید اضافہ کرتے ہوئے  کہا۔ کہ یہ بچے یقین نہ کریں گے۔ اس پر ایک چوپال میں موجود ایک نوجوان بولا۔ جناب ہم کیوں یقین نہ کریں گے۔ آپ سنائیں۔ تو بزرگ کہنے لگے۔ یار پہلے تمہیں  اس دور کی خوراکوں کے بارے میں نہ بتا دوں۔ تو وہ نوجوان بچوں کی طرح مچلنے لگا کہ نہیں پہلے ہمیں دلارے کے متعلق بتایا  جائے۔  اس پر بزرگ نے تمام حاضرین پر نظر ڈالی۔ اور سب کے چہرے پر ایک مثبت تاثر دیکھ کر ہتھیار ڈالتے ہوئے کہنے لگے۔ اچھا چلو اب تم ضد کرتے ہو تو سناتا ہوں۔

نام تو اس کا بخشن تھا۔ مگر مشہور وہ پورے گاؤں میں دلارے  کے نام سے تھا۔ سیہ تاب تھا۔ اتنا کہ بسا اوقات تارکول کا گماں ہوتا۔ اور اکثر اوقات بھی تارکول کا ہی۔ یہ واقعہ ہمیں دلارے نے خود ہی سنایا تھا۔ اور اس کے بعد گاؤں کی چوپال میں اس  کا اتنا مذاق اڑایا گیا کہ اس نے یہ مشہور کر دیا کہ یہ محض مذاق کی بات تھی۔ اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ واقعہ دلارے کی زبانی ہی سنیے۔

میں کھیتوں میں ہل چلانے میں مصروف تھا۔ ہل چلاتے چلاتے سورج سر  پر آن پہنچا۔ محض اتفاق کی بات ہے۔ کہ میں نے قمیص اتار رکھی تھی۔ اتنی دیر میں میری والدہ کھانا لے کر آتی دکھائیں دیں۔ میں نے سوچا کہ اس سے پہلے والدہ مجھ تک پہنچیں۔ میں  کدال لے کر کھال کا راستہ کھول دوں۔ تاکہ میرے کھانے سے فراغت حاصل کرنے تک  ایک کھیت سیراب ہو سکے۔ میں کدال لے کر کھال  کھولنے لگا تو دیکھا کہ والدہ میرے پاس سے گزر کر آگے کو چلی جاتی ہیں۔ میں حیران ہوگیا۔ اور آواز دی کے بےبے کدھر۔ اس پر والدہ نے پیچھے مڑکر دیکھا۔ اور کہنے لگیں۔

اوئے دلاریا! اے توں ایں! میں سمجھی کٹا چرن ڈیا اے۔ (اوئے دلارے یہ تم ہو۔ میں سمجھی بھینسا چر رہا ہے۔)

اس پر چوپال فلک شگاف قہقہوں سے گونج اٹھا۔

جب ذرا قہقہوں کا طوفان تھما۔ تو بزرگ نے کہا۔۔۔ خیر یہ واقعہ تو برسبیل تذکرہ یوں ہی بیچ میں آگیا۔۔۔

(جاری ہے)

Thursday, 12 December 2013

باکمال بزرگ - قسط سوئم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

4 comments
گزشتہ سے پیوستہ:
شام کو چوپال میں اسی طاقت کے تذکرے تھے۔ کہ کیسے کیسے لوگ زیرزمین سو گئے۔ ایک بزرگ نے فرمایا۔۔۔ بیٹا یہ سب پرانی خوراکوں کا اثر ہے۔ مجھے دیکھو۔۔۔ تمام نوجوانوں نے ایک نظر بزرگ پر ڈالی۔ ہڈیاں ہی ہڈیاں۔۔۔ آنکھوں پر کوئی ساٹھ نمبر کا چشمہ اور ہاتھ رعشے کی وجہ سے مسلسل لرزاں۔۔۔ اس پر ایک نوجوان کو پھبتی سوجھی۔ اس نے کہا میں نے بھی پرانی خوراکیں کھا رکھی ہیں۔ ابھی ابھی پرسوں کا رکھا  کھانا کھا کر آرہا ہوں۔ اس پر بزرگ جلال میں آگئے۔۔ یوں بھی ایسی باتوں پر جلال میں آنا بنتا ہے۔  محض آدھا گھنٹا کے قریب کھانس کر انہوں نے اپنا گلا صاف کیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے ایک تحقیرانہ نگاہ اس نابکار پر ڈالی۔ اور کہا۔۔۔ تمہارے لیے پرانی خوراکیں یہی ہیں۔۔ مگر ہماری پرانی خوراکیں بھی تازہ ہوتی تھیں۔ میں تمہیں اپنی جوانی کی بات سناؤ تو تم دنگ رہ جاؤ۔
اس پر راقم الحروف فورا ملتمس ہوا کہ قبلہ گاہی! گر آپ اس احقر کو ان  چشم کشا واقعات سے  آشنا فرمائیں۔ تو یہ سر احساس تشکر سے صدا خم رہے گا۔اس پر ایک اور بھی گویا ہوا کہ مجھے بھی دنگ ہوجانے کا شوق ہے۔ مدتیں بیتی کبھی دنگ نہ ہو سکا۔ آج یہ حسرت مکمل ہوتی نظر آتی ہے۔  بزرگ نے اس پر افروختہ افروز انداز میں کہا کہ ہمارے دور میں اسلاف کے سامنے زبان کھولنے کی تاب نہ تھی کسی میں۔ فرماں برداری کا یہ عالم تھا کہ جو اسلاف کہتے خاموشی سے کرتے۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنے باپ کے سامنے کبھی زباں کھولی ہو۔ ایک دن والد صاحب مجھے کہنے لگے کہ یار کچھ بولو۔ مجھے پتا چلے کہ تم بولنا نہیں بھول گئے۔

اس سے پہلے میں تمہیں خوراکوں کے متعلق آگاہی  دوں۔ پہلے والدین اور بڑوں کی خدمت اور ادب سے متعلق یہ واقعہ سنو۔ چوپال میں موجود تمام لوگ ہمہ تن گوش ہوگئے۔ بزرگ نے اپنے ایک پرانے دوست (جو کہ خود بھی بزرگ تھے) کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔۔۔ اس کو تو یاد ہی ہوگا۔۔۔

ایک دن کی بات ہے کہ میں پورا دن کھیتوں میں کام کر کے تھکا ہارا گھر کو آیا۔ صبح صبح میں نے پانی دینے کو نہر سے بندھ توڑا تھا۔ اس کے بعد پھر وہ بندھ باندھا بھی۔ اس ایک کام میں پورا دن کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا۔ جب تھکن سے براحال ہوگیا۔ اور میں اس نہر کنارے لیٹا لیٹا تھک کر چور ہوگیا۔ تو اٹھا اور گھر کی راہ لی۔ کھانے کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ والد محترم نے جس چارپائی پر سونا ہے۔ اس کی نوار ڈھیلی ہوگئی ہے۔ ایک دوست نے چونک کر دیکھا تو ہنس کر کہنے لگے۔۔۔ میاں یہ سنسکرت والا نوار ہے نہ کہ عربی و فارسی والا۔ اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سوچ سے کہ ساری رات والد بے آرام رہیں گے۔ تاک میں بیٹھ گیا کہ جیسے ہی والد اٹھیں تو میں فورا سے پہلے نوار کو کس دوں۔ تاکہ چارپائی پر آرام کیا جا سکے۔ مگر قدرت کو تو مجھ سے میری فرماں برداری اور محبت کا امتحان مقصود تھا۔ وہی امتحان جو ہر ولی سے لیا جاتا رہا ہے اور فرماں برداری کی اعلیٰ روایات کا مظہر رہا ہے۔

والد صاحب وہیں پر سو گئے۔ اب معاملہ میری برداشت سے باہر ہوگیا۔ اور میں اٹھا اور چارپائی کے نیچے گھس کو چاروں ہاتھوں پاؤں پر گھوڑے کی صورت نیچے جھک کر بان کو سہارا دیا۔ تاکہ والد صاحب کی کمر سیدھی رہے۔۔۔ اب جو والد صاحب بائیں کروٹ لیتے تو میں بھی بائیں سرک جاتا۔ اور دائیں کروٹ لیتے تو دائیں سرک جاتا۔ محض اتفاق کی بات ہے کہ والد صاحب جو روانہ تہجد پڑھنے کے عادی تھے۔ اس دن ایسی سکون کی نیند سوئے۔ کہ فجر بھی بس قضا ہی ہوئی چاہتی تھی۔ جب بیداری سے اٹھ کر مجھے چارپائی کے نیچے یوں جھکا پایا۔ تو بےاختیار میرا ماتھا چوم لیا۔ اور کہنے لگے۔ ایسی پرسکون نیند تو واللہ۔۔۔۔ کبھی زندگی میں نہ آئی تھی۔ بڑے فخر سے اپنے دوستوں میں یہ قصہ بیان کیا کرتے۔ پھر بزرگ نے تھوڑا سا شرما کر کہا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اس فرماں برداری اور ادب کے تذکرے گاؤں کی عورتوں میں چرخہ کاتتے بھی ہونے لگے۔ اس پر دوسرے بزرگ ہنس کر کہنے لگے ہاں۔۔۔۔ وہ چرخے والی بات بھی درست ہے۔۔۔۔ شام کو کھیتوں کے کنارے بانسری بجانا بھی تو نے اس کے بعد ہی سیکھا تھا۔۔۔۔۔ اس پر پہلے بزرگ ذرا مزید شرما گئے۔۔۔۔ 

سب نوجوان دنگ تھے۔ چوپال پر سکوت طاری۔۔۔۔

(جاری ہے)

Wednesday, 11 December 2013

باکمال بزرگ - قسط دوم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

6 comments
راقم نے اس نابکار کو گھورا۔۔۔۔ اور بزرگ کے قدم چھونے کے لیے آگے بڑھا۔ جذب عقیدت سے سرشار تھی طبیعت ۔ بس یوں سمجھیے کہ "اے تن میرا چشمہ ہووے" والا مصرعہ اسی دن ہی سمجھ آیا۔

اب  جو بزرگ سے باہم گفتگو بڑھی۔۔۔ تو انہوں نے اپنے خاندان میں گزرے اک اور بزرگ کی شہ زوری کے واقعات سے پردہ اٹھایا۔۔۔ ذرا انہی بزرگ کی زبانی سنیے۔۔۔

بزرگ اپنے سامنے بیٹھے نوجوانوں کو  دیکھا۔۔ اور کہا۔۔۔ کیا جوانیاں تمہاری ہیں۔۔۔ نوجوانوں۔۔ بس ذرا آٹے کی بوری اٹھاتے ہو تو ہانپنے لگتے ہو۔۔۔  یہ پیچھے ڈیرے کی چھت دیکھ رہے ہو۔۔۔ یہ پرانے وقتوں میں بھی چھت ہی تھی۔ اس انکشاف پر اکثر نے انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں۔ یوں بھی فوق العادہ انکشافات پر اظہار کو محاورات کی عملی شکل ضروری تھی۔ بزرگ نے کمال سخاوت سے اس حیرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے متبسم لہجے میں بات جاری رکھی۔  میں اس وقت جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔۔۔ بس روز کی عادت بنی ہوئی تھی۔۔۔ کہ دو بوریاں بغل میں دبا کر سیڑھیاں چڑھ جایا کرتا تھا۔۔۔ اور اترتا تھا۔۔۔ یہ عمل تیس بار دہراتا۔۔۔ پھر جب جسم گرم ہوجاتا تو ڈنڈ پیلا کرتا تھا۔۔۔  اور مزے کی بات دیکھو کہ میں اپنے  ساتھیوں میں سب سے کمزور ہوا کرتا تھا۔۔۔ باقی سب میرا مذاق اڑاتے تھے۔۔۔ غضب خدا کا دیکھو کہ وہ لوگ بھی میرا مذاق اڑاتے تھے جنہیں محلے میں کبوتر کوئی نہ اڑانے دیتا تھا۔ خیر۔۔۔ اس دور باکمال میں ہمارے  محلے میں اک بزرگ ہوا کرتے تھے۔۔۔ سب ان کو سائیں بابا کہا کرتے  تھے۔۔۔ ہائے۔۔۔ کیا بزرگ تھے۔۔۔ اللہ جنت نصیب کرے۔۔۔ بھئی زندگی بھر کوئی شہ زور دیکھا ہے تو وہ ۔۔۔  واہ کیا طاقت دی تھی اللہ نے مرحوم کو۔۔۔۔ گڈا  (بیل کے پیچھے جوتنے والا ریڑھا) اٹھا لیا کرتے تھے۔۔۔ قربانی کے دن بیل کو اکیلے ہی پچھاڑ کر ذبح کر دیا کرتے تھے۔۔ گر کوئی ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا۔۔ تو بہت ڈانٹتے۔۔۔ کہتے تم نوجوان  لوگ کام خراب کرتے ہو۔۔۔۔  ہم نے جا کر سب سے عید ملنے کے بعد ابھی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی تیاری کر رہے ہونا۔۔۔ اور  ان کے گھر سے گوشت  پہنچ جایا کرتا تھا۔۔۔ واہ واہ۔۔۔  اوئے تم لوگوں نے وہ تو دیکھا ہوا ہے ناں۔۔۔ یہاں سے وہ والا شہر۔۔۔۔ جی جی بالکل۔۔ اک نواجوان فورا بولا۔۔ یہاں سے دو سو کلومیٹر دور ہے۔۔ اس پر بزرگ سرکھجاتے ہوئے بولے۔۔ ہاں بالکل۔۔۔لیکن ہمارے دور میں یہ فاصلے ناپنے کا سلسلہ نہ تھا۔۔۔  بس جہاں تھک جاتے رات کاٹ لیتے تھے۔۔۔  خیر  اس سے تھوڑا پہلے اک گاؤں آتا ہے۔۔۔ وہاں جانا تھا۔۔۔ پیدل ہی نکلنے لگے۔۔۔ گھر والوں نے بہت کہا کہ نہیں ،گرمیوں کے دن ہیں۔۔ پیدل نہ جاؤ۔۔ ایسا کرو۔۔۔۔ گڈا لے جاؤ۔۔ پہلے تو نہ مانو۔۔۔ پر جب اصرار بڑھا تو گڈے پر سوار ہو کر نکل گئے۔۔ واپسی پر آدھے سے زیادہ سفر طے کر چکے تھے۔۔۔ کہ گڈے کا اک پہیہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔ طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔۔۔  بہت سٹپٹائے۔۔ اور گڈا اٹھا کر کاندھے پر رکھا۔۔ ساتھ بیل کو ہانکتے ہوئے لے آئے۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔ آئندہ پرائی چیز کا سہارا نہ لوں گا۔۔۔ بھائی اپنے پیروں سے بھلی چیز دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔  اس واقعے پر سب نوجوانوں کے منہ حیرت سے کھل گئے۔۔۔ واہ کیا طاقت تھی۔۔۔ اللہ اللہ

(جاری ہے)

باکمال بزرگ - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

10 comments
آپ کبھی بچے بھی رہے ہوں گے۔ اور جب بچے ہوں گے تب آپ نے اپنے بزرگوں کے کارنامے بھی سنے ہوں گے۔۔ ایسے ایسے کارنامے کے عقل دنگ رہ جائے۔ بھئی کیا کمال دور تھا۔۔۔ کیسے کیسے بزرگ ہوا کرتے تھے۔  اس دور میں تو یہاں تک مشہور تھا کہ بزرگ ہو اور باکمال نہ ہو۔۔۔ سمجھو بزرگ ہی نہیں۔۔۔۔ ایسے ہی کچھ باکمال بزرگوں کی زندگیوں سے کچھ سبق آموز واقعات پیش خدمت ہیں۔

تو جناب یہ بزرگ تھے بہت زبردست۔۔۔ پیدل چلنے کے بہت شوقین تھے۔۔۔ پیدل چلنا۔۔ لاہور سے جو نکلنا تو امرتسر چلے جانا۔۔۔ پورے گھر والوں نے علاقے کی مساجد میں اعلان کروا کروا کر تھک جانا۔۔۔ مگر بزرگ کا کہاں پتا چلنا۔۔۔ وہ تو وہاں کوئی دوسرا  خاندان کا بزرگ جو محض اتفاق سے پیدل ہی ہری مرچیں یا ٹماٹر خریدنے گیا ہوتا۔۔۔ ان کو بازار میں پھرتا دیکھ لیتا۔۔۔ اور ڈانٹ ڈپٹ کر واپس لے آتا۔۔۔ بس جی عجیب دور تھا ۔۔۔میلوں  کا سفرآن کی آن میں طے کرلینا۔۔۔ اک بار کرنا ایسا ہوا۔۔۔ کہ لاہور سے فیصل آباد جانا تھا۔۔۔ اور حقہ بھی ساتھ تھا۔۔۔ لاری والے ٹھہرے بدتمیز اور گستاخ۔۔ کہنے لگے کہ حقہ لاری کے اندر نہ رکھنے دیں گے۔۔ بزرگ نے بارہا سمجھایا۔۔۔ کہ یار حقہ کے بغیر سفر نہ ہوگا۔۔۔ تو گستاخی کی ساری حدیں پار کر گئے۔۔۔ کہنے لگے چھت پر باندھ دیتے ہیں۔۔۔ اس پر جو بزرگ کو جلال آیا۔۔۔ تو بس سے اتر آئے۔۔۔ اور کہنے لگے۔۔۔ اب فیصل آباد میں ہی ملاقات ہوگی۔۔۔ بس والا ہر سٹاپ پر رکتے سواریاں اتارتے چڑھاتے جب فیصل آباد بس اڈے پر پہنچا۔۔۔ تو یہ بزرگ وہاں انتظامیہ کی چارپائی پر بیٹھے حقہ سے لطف  اندوز  ہو رہے تھے۔۔۔ ڈرائیور کو دیکھ کر کہنے لگے۔۔ کیوں کاکا۔۔۔ بس اتنی ہی تھی رفتار۔۔۔۔ انتظامیہ نے جب بتایا۔۔۔ کہ بزرگ پیدل ہی آگئے تھے۔۔۔ اور کب کے آئے بیٹھے ہیں۔۔۔ تو حیرت سے اس کی آنکھیں کانوں تک پھیل گئیں۔۔۔ کہتے ہیں جھیل جیسی آنکھوں والا محاورہ اسی دن ہی ایجاد ہوا تھا۔۔ واللہ اعلم

اور یہ کتنے دن کا قصہ ہے۔۔۔ ایک گستاخ نے معصومیت سے سوال کیا۔۔۔۔

(جاری ہے)

Monday, 2 December 2013

دسمبر پر ایک غزل کی فکاہیہ تشریح

15 comments
ہمارے حال پر رویا دسمبر​
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر​
شاعر دسمبر کی اوس کو بھی اغیار کی طعنہ زنی سمجھ رہا ہے۔ کتابی باتوں نے شاعر کا دماغ اتنا خراب کر دیا ہے کہ وہ یہ بھی بھول بیٹھا ہے کہ ساون دسمبر میں نہیں آتا۔ اصل میں شاعر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے انکی کوئی وجہ تلاش کرنے کے چکر میں ہے۔ اب اور کوئی نہ ملا تو یہ الزام اس نے مہینے کے سر منڈھ دیا۔

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو​
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر​
کوئی اللہ کا بندہ پوچھے کہ جہاں سارا سال گزرا وہاں ان اکتیس دنوں کو کیا بیماری ہے۔ مگر نہ جی۔ اصل میں شاعر نے یہاں استعارے سے کام لیا ہے۔ کہ اپنے گھر والوں کے سامنے شادی کا ذکر کس طرح کرے۔ سو اس نے دسمبر کا کاندھا استعمال کرنے میں رتی بھر رعایت نہیں کی۔

بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا​
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر​
اسی موضوع کو شاعر نے جاری رکھا ہے۔ جب پہلے شعر پر کوئی ردعمل نہ ہوا اور گھر والوں کی طرف سے کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ تو شاعر کا لہجہ ذرا بیباک ہو گیا۔ اور اس نے کھلے الفاظ میں وصل کی تمنا ظاہر کرنی شروع کر دی۔ شاعر کو اخلاقی سدھار کی اشد ضرورت ہے۔

وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن​
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر​
یہاں ہر شاعر نے اپنی نام نہاد محبت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اگر اسے محبوب سے الفت ہوتی تو اسے وقت اور دن یاد ہونا چاہئے تھا۔ مگر شاعر کو تو عشرہ بھی یاد نہیں۔ کہ شروع تھا درمیان یا پھر آخر۔۔۔ ۔ اس کو صرف مہینہ یاد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محبوب شاعر کی نسیانی سے تنگ تھا۔ اوریہی وجہ بنی اس کے چھوڑ کر جانے کی۔ شعر کے الفاظ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ شاعر کو بھی کوئی دکھ نہیں ہے۔

یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے​
میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر​
اب شاعر نے یکدم پلٹی کھائی ہے۔ اور محبوب کے ذکر سے سیدھا غم روزگار پر آ پہنچا ہے۔ شاعر کسی ہوٹل میں پیاز کاٹنے کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ اور انکی وجہ سے جو آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے اس کو بھی دسمبر کے سر تھوپ دیا۔ حالانکہ دسمبر اک خوشیوں بھرا مہینہ ہے۔ اور خاص طور پر مغربی ممالک کے لیئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مگر اسے شاعر کی مغرب بیزاری کہیں یا پھر دسمبر سے چڑ کے اس نے پورے دسمبر کو ہی نوحہ کناں قرار دے دیا ہے۔

جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی​
مری تنہائی اور میرا دسمبر​
شاعر اک فضول خرچ آدمی ہے یا پھر بے روزگار۔ کہ اس کے پاس تنہائی کے علاوہ کچھ اور ہے ہی نہیں۔ اوپر سے اس نے اس کڑکی کے دور میں جب کچھ اور ہاتھ آتا نہ دیکھا تو دسمبر کو ہی اپنی ملکیت قرار دے دیا۔ دسمبر نے یقینا اس دعوے پر اچھے بھلے ناشائستہ لہجے میں اظہار خیال کیا ہوگا۔ واللہ اعلم
اک اور وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاعر اک بدزبان آدمی تھا۔ اور اسی وجہ سے کوئی بھی اس سے ملنا یا بات کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ اب تنہائی میں بیٹھا اکیلے میں باتیں کرتے ہوئے دسمبر کو کہنے لگا کہ یار تم تو میرے ہو۔ سنا ہے دسمبر نے اسکا دل رکھنے کو حامی بھر لی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسمبر نے صاف انکار کر دیا تھا۔ خیر ہم اندر کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔

دراصل میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دسمبر کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟؟؟؟

دسمبر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ شاعر کے ساتھ ہے جس نے دسمبر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور آخر میں اسے اک تھپکی بھی دے کہ
"تو تو یار ہے اپنا۔ فکر مت کر۔۔۔ ۔"
غیر تصدیقی ذرائع سے یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ دسمبر اس کے خلاف احتجاج کرے گا۔ اور قانونی چارہ جوئی کے لیئے بھی کوئی دعوی دائر کرے گا۔

Wednesday, 20 November 2013

طمانچہ​

4 comments
طمانچہ​
(مرکزی خیال ماخوذ)
یہ ملک کے اک انتہائی پسماندہ علاقے میں شہر سے بہت دور دریا کے ساتھ ساتھ کچھ گاؤں تھے۔ کاروبار زندگی رواں رکھنے کو یہاں لوگ باہمی اتفاق سے کام چلاتے تھے۔ لوہار، نائی اور موچی کو اجرت فصلوں کی کٹائی پر فصل کی صورت دی جاتی تھی۔ کسی بھی باہمی ناچاقی یا لین دین کے تنازعہ پر سردار کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا۔ انہی گاؤں کی سرحد کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں خانہ بدوشوں کی جھونپڑیاں تھیں۔ یہ خانہ بدوش ہمیشہ سر جھکا کر رکھتے۔ ہر قسم کی تذلیل کو خاموشی سے برداشت کرتے اور کبھی پلٹ کر جواب نہ دیتے۔ لیکن کل ایک ایسی انہونی ہو گئی تھی۔ جس نے سارے گاؤں کو حیران کر دیا تھا۔ خانہ بدوشوں کے اک لڑکے نے سردار کے بیٹے کو گالیاں دینے پر طمانچہ مار دیا تھا۔

گاؤں کے درمیانی میدان میں پورا گاؤں جمع تھا۔ خانہ بدوشوں کے اک لڑکے نے سردار کے بیٹے کو گالیاں دینے پر پیٹ دیا تھا۔ اتنی جرأت جہاں گاؤں کے لوگوں کے لیے حیران کن تھی۔ وہیں سردار کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ لوگ اس کو مثال بنا کر سرکشی پر نہ اتر آئیں۔ لہذا وہ مجرم کو عبرت ناک سزا دینا چاہتا تھا۔

جرم ثابت تھا۔ خانہ بدوشوں نے بہت معافی مانگی۔ لیکن سردار نے کوڑے لگانے کی سزا سنا دی۔ جب لڑکے کو کوڑے پڑنے لگے۔ تو لڑکے کی ماں برداشت نہ کر سکی۔ اور کھڑی ہو کر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی۔

سردار! کبھی ہمارے خون کی بھی اتنی جرأت ہوئی ہے کہ ایسی گستاخی کا سوچ بھی سکے۔ آپ میرے بیٹے کو معاف کر دیجیے۔

میدان پر سناٹا چھا گیا۔ لوگ آہستہ آواز میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔ سردار کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ اور وہ پنچایت سے اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔ سب لوگ گومگو کے عالم میں گھروں کو لوٹ گئے۔ جانے کل کا سورج کس طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

اگلی صبح گاؤں میں تین لاشیں اٹھیں۔ لڑکے اور اس کی ماں کو سردار کے بیٹوں نے قتل کر دیا تھا۔ اور سردار نے اس رات خود کشی کر لی تھی۔

Thursday, 14 November 2013

خاقان مساحت داں (المعروف کتب برار)

4 comments
ایک دن کا ذکر ہے۔۔ اب تک مجھے یہ بات نہیں سمجھ آئی کہ یہ ہمیشہ ایک دن ہی کا کیوں ذکر ہوتا ہے۔ کبھی دوسرے تیسرے دن کا ذکر کیوں نہیں ہوتا۔ یا پھر ایک رات کا ذکر چھیڑنے میں کیا مضائقہ ہے۔ سو کہانی ہماری ہے۔ اس لیے ہم روایت شکن کہلائیں گے۔ اور کہانی کا آغاز دوسرے دن  سے کریں گے۔

تو  دوستو!!!
دوسرے دن کا ذکر ہے۔ جی جی بالکل! یہ دوسرا دن وہی جو پہلے دن اور پہلی رات کے بعد آتا ہے۔ اب کوئی اسے ولیمے کا دن نہ سمجھ بیٹھے۔ ولیمے کا نام سنتے ہی معنی خیز مسکراہٹیں شروع۔ میاں کہیں تو شرافت اور تہذیب کا دامن تھامے رکھا کرو۔ ہم کیا بات کرنے جا رہے تھے۔ اور تم کیا سوچ رہے ہو۔ بھئی دوسرےدن کا تذکرہ ہے۔۔ نہ کہ لیلیٰ کی ان راتوں کا جو اس نے مجنوں کے سنگ بتائی تھیں۔ اور نہ ہی ان اسباق کا ذکر ہے جو سوہنی روز دریا پار کر کے مہینوال سے لینے جایا کرتی تھی۔ اک عام سے دن کو بھی کیا سے کیا بنا دیتے ہو تم لوگ۔ ہاں تو ہم بات کررہے تھے ایک دن کی۔ ارے نہیں میاں۔ بھلا دیا۔ ہم بات کر رہے تھے دوسرے دن کی۔ جی بالکلٖ!! یہ دوسرے دن کا تذکرہ ہے۔ جب ہماری ملاقات ان موصوف سے ہوئی۔۔ ملاقات کیا ہوئی۔ ایک عدد مراسلہ بنام اپنے پڑا دیکھا۔ کم مرتبہ آدمی تھے۔  کہیں کوئی بھولی بھٹکی ڈاک ہمارے نصیب میں آیا کرتی تھی۔ تو پہروں ڈاک کو کھولا نہ کرتے تھے۔اور اطلاع کی خبر دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ کہ دیکھو۔ ایک عدد خط بنام خاکسار کسی نے لکھا ہے۔ اب جو ہمت کر کے کھولا۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہی ایک عدد خط کا جواب ہے۔ دل ڈر سا گیا۔ کہیں جواب ہی نہ ہو۔ ویسے تو ہم نے کبھی کسی کو ایسا خط نہیں لکھا کہ وہ جواب دے تو ہم دل تھام لیں۔۔ ۔لیکن رسم دنیا تھی۔ سو نباہنی تو تھی۔ اب جو دیکھتے ہیں۔ تو ہم کو اکسایا جا رہا ہے۔ کہ میاں لکھا کرو۔ ہماری تفریح طبع کا سامان ہوتا رہتا ہے۔ ہم حیران رہ گئے۔ یہ کون ہے۔ ہم سے گستاخی۔۔ یعنی بین السطور ہمیں ضحک انگیز کہا جا رہا ہے۔ میاں خاندانی راجپوت ہیں۔ بڑی دیر تک اس دن آئینہ دیکھتے رہے۔ کہ کہیں سے کوئی مسخرے کا یا اور ایسی کسی مخلوق کا گماں گزرتا ہو۔ مگر نہ۔ اچھا بھلا خود کو پروقار شخصیت کا مالک پایا۔ ایک دو انجان لوگوں سے اس بابت رائے بھی لی۔ اپنوں سے اس لیے نہ لی کہ اللہ بخشے کشور کمار کو۔ گاتےہیں۔ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں۔  گرچہ امید واثق تھی کہ کوئی بھی بجلی نہ گرائے گا۔۔ کہ یہاں تو بلب  جلانے کو میسر نہیں۔ کجا یہ کہ کوئی گرا دے۔ مگر بعد میں شکوہ کرنے سے بہتر احتیاط کو سمجھا۔ بے شک پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

اب جو ان موصوف کا خط پڑھا۔ بار بار پڑھا۔ لیکن ہر بار سوئی تفریح طبع والی بات پر آ کر اٹک گئی۔ اب یہ اٹک شہر کا نام نہیں لیا جا رہا۔ کہ لوگوں کےکان کھڑے ہوجائیں۔ اٹک جانا۔ یعنی کہ خیال سے چھٹکارا نہ ملنا۔ سو نہ ملا۔ آخر بڑی دیر کی سوچ بچار کے یہ حل سمجھ میں آیا۔ کیوں نہ اس کی جاسوسی کی جائے۔ بس جی یہ خیال آنا تھا کہ ہماری ساری جاسوسی حسیات جاگ اٹھیں۔ بچپن میں انسپکٹر جمشید، کامران مرزا، شوکی برادرز اور ان کے بعد عمران سیریز کے تمام کارنامے ذہن میں جاگ اٹھے۔ کولمبو ٹو کا  لقب  ہمیں پہلے ہی مل چکا تھا۔ فورا خیال آیا۔ اب بتائیں گے اسے۔۔ ایک ایک حرکت پر نظر رکھیں گے۔ بڑا آیا۔ ہمیں یہ کہنے والا کہ ہنساؤ۔

اب جو انداز گفتگو دیکھا تو پایا کہ پروقار  اور لطیف الفاظ پر مشتمل مراسلے لکھا کرتے۔ پہلے پہل سوچا۔ شاید لغت میں سے لطیف الفاظ ڈھونڈ کر مراسلے لکھتے ہیں۔ لیکن پھر خود ہی اپنے بیوقوفانہ خیالات پر ہنسی آگئی۔ کہ بقول یوسفی۔ دنیا میں سب سے زیادہ فحش الفاظ جس کتاب میں ہیں۔ وہ لغت ہے۔ اور اگر یہ موصوف لغت سے دیکھ کر لکھتے تو کچھ یوں لکھا کرتے۔ کہ تیلی کا تیل جلے۔  بقیہ محاورہ خود ہی لغت سے دیکھ لیجیے۔ اب ہم کیا کشٹ اٹھائیں۔ یوں بھی ہمارے قلم کو لغویات سے وحشت سی ہوتی ہے۔  ایک مزاج آشنا کا کہنا ہے کہ راقم لغو بات لکھنے کی بجائے کرنے پر زیادہ یقین رکھتا ہے۔ اگر آپ کو کبھی ایسے آستین کے پالتو ملیں۔ تو سر کچل دینے کی مثال پر عمل کرنے سے درگزر نہ کریں۔  اور راقم کی جہنم ہاؤسنگ سوسائٹی سے عذاب الیم شاہراہ پر ایک کمرشل پلازہ کے حقدار ٹھہریں۔

جناب کو ایک بہترین غم گسار پایا۔ غم گساری کے لیے جنس بھی تبدیل کر لیتے تھے۔ تاکہ صنف مخالف کو اندیشۂ "مرداں" نہ رہے۔ مرداں کو زبر کے ساتھ پڑھیے۔ اس سے دو فوائد حاصل ہوتے۔ اِدھر ان کی غم گسار فطرت کو تسکین مل جاتی۔ اُدھر بعض صنف مخالف کو اپنی قبیل سے ایک اچھا سامع مل جاتا۔ جس کا اصل حالت میں ان کی قبیل میں پایا جانا بعد از قیاس تھا۔  ایسا نہیں تھا کہ صرف صنف مخالف کے لیے ہی درد دل تھا۔ اپنی قبیل  یعنی کے صنف بہت زیادہ کرخت (کیوں کہ موصوف خود صنف کرخت سے ایک درجہ اوپر کی چیز لگتے تھے ) کی بھی دلجوئی فرمایا کرتے تھے۔ مگر کچھ اس انداز سے کہ اس غریب کو کبھی شائبہ تک  نہ گزرتا کہ اس کی غم گساری کی جارہی ہے۔ کچھ لوگ جو استحقار بھانپ جاتے شکوہ کناں رہتے۔ ایک دن راقم سے کہنے لگے۔ میاں دل بھر آیا۔ آج ایک آدمی "دلبر" "د اشتہ " کو دو الگ الفاظ سمجھ رہا تھا۔ بس میاں! ادب کا زمانہ لد گیا۔ پرسوں ہی ایک ٹرک پر لدا جاتا دیکھا ہے۔  بعض احباب ان کے اس انداز برہمی کو بھی لطافت پر ہی محمول کیا کرتے۔

ہاں ادب سے یاد آیا۔ موصوف خود بہت نستعلیق واقع ہوئے تھے۔ عرصہ دراز تک لوگ ان سے یہ پوچھتے رہے کہ آپ کی نسخ سے کیا دشمنی ہے۔ تو رسان سے سمجھاتے کہ بھئی یہ دو الگ الگ قبیلے ہیں۔ اور قبائل میں باہمی تنازعات تو ہو ہی جاتے ہیں۔ ایک نے تو  گستاخی کی حد کر دی۔ کہنے لگا۔ کہ آپ فطرتاً نستعلیق تھے۔ یا یہ انداز بعد میں اختیار کیا ۔ تو ہنس کر کہنے لگے نہیں میاں میں اصلاً دیوانی ہوں۔

سردیوں کا موسم ان کو بہت پسند تھا۔ فرماتے برفباری میری کمزور ی ہے۔ ہم نے  جن جن کمزوریوں کے طریقہ علاج پڑھ رکھے تھے۔ ان میں کہیں بھی اس بیماری کا تذکرہ نہ تھا۔ عکس کشی پر بہت مہارت تھی۔ اور اکثر تصاویر دیکھ کر لگتا تھا کہ عکس کش کر دیا گیا ہے۔ کیمروں پر بےانتہا معلومات تھیں۔ آپ دنیا کے جس مرضی کیمرہ کا پوچھ لیں۔ فورا سے پہلے  تلاش کر کے بتا دیتے تھے۔ حافظے میں اتنا کچھ محفوظ تھا کہ اگر کوئی سوال پوچھ لیا جاتا۔ تو کافی کافی دیر جواب نہ دیتے۔ بعد میں بتاتے کہ میں دماغ میں تمام باتیں صعودی یا نزولی ترتیب سے نہیں رکھی ہوئیں۔ جس کی وجہ سے متعلقہ جواب تک پہنچتے پہنچتے وقت لگ جاتا ہے۔ متعدد بار کچھ بےتکلف دوستوں نے مشورہ دیا کہ بے جا  چیزوں کو ختم کر دیں۔ لیکن ہمیشہ ایک مسکان سے یہی جواب دیتے کہ میاں! اس سے کارگردگی بہتر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ایسا کرگزرتے۔

شکاریات سے بہت دلچسپی تھی۔ انکسارانہ دعوا  یہ کیا کرتے تھے کہ بس شکار ہم کر لیتے ہیں۔ ایک دن راقم نے پوچھا کہ کس چیز کا شکار کرتے ہیں۔ تو فرمانے لگے میاں ہر شکار کی تفصیلات بتائی نہیں جا سکتی۔ ہر  داستاں میں شکار کا ذکر ہو نہ ہو شکار جستہ کا ضرور ہوتا تھا۔  کئی کتابوں کے تراجم کیے۔ اور ان تمام کتابوں میں جو ایک بات مشترک تھی وہ یہ کہ تمام کسی نہ کسی شکار سے متعلق تھیں۔  سیاحت کی غرض سے سفر بھی بےتحاشہ کرتے۔ لیکن جب کسی بھی سفر کی روداد سننے کو ملتی۔ تو سیاح کی بجائے مساحت داں  معلوم ہوتے۔

الغرض عجب شخصیت ہے ان صاحب کی۔ الفاظ ان کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے۔ اور یہ الفاظ کی۔مذاق کر رہے ہوں تو لگتا ہے سنجیدہ ہیں۔ اور سنجیدہ ہوں تو بھی سنجیدہ ہی لگتے ہیں۔ کسی زمانے میں موصوف کو کی بورڈ پر ہاتھ سیدھا کرنے کا شوق تھا۔ سو بیٹھے کتابیں ٹائپ کیا کرتے تھے۔ زمانے کی ہوشیاری دیکھیں۔ انہیں کتابیں ٹائپ کرنے کا منتظم بنا دیا۔ اب بھی یہی کام کرتے تھے۔ پتا نہیں ٹائپنگ کب سیکھ پائیں گے۔ جانوروں سے ازحد لگاؤ۔ اس قدر کے خود کو بےبی ہاتھی کا خطاب دے ڈالا۔ لوڈ شیڈنگ میں یہ خطاب بڑا کام آتا۔ خود کو ہوا دے لیا کرتے۔۔ اور مکھیاں بھی اڑایا کرتے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک تو انہیں گرمی بھی لگتی تھی۔۔ جو ہوا دینے کی ضرورت پیش آتی۔ دوسرا یہ فارغ نہیں مصروف آدمی تھے۔۔ اگر فارغ ہوتے تو مکھیاں اڑانے کی بجائے مارا کرتے۔

زندگی نے مہلت دی تو اگلی قسط میں ان کے سفر ناموں، عکس کشی اور تراجم کا احاطہ کیا جائے گا۔

Monday, 11 November 2013

شہید و ہلاک

2 comments
جب چنگیز خان و ہلاکو خان فرات کے کنارے اپنی کشتیاں سیدھی کر رہے تھے۔ تو بغداد کی علم گاہوں میں "والضالین" کی قرأت پر بحث ہو رہی تھی۔
جب انگریزی افواج مغل سلطنت پر آخری حملہ کے لیے حکمت عملی وضع کر رہی تھیں تو بادشاہ سلامت اپنے کلام کی نوک پلک سنوارنے میں مشغول تھے۔ 
اور آج جب ایک اور طاقت تمہاری سرحدوں پر بگل بجا رہی ہے تو تم ہلاک و شہید کے بیکار مباحث میں الجھے اپنے اپنے مسلک کا بوجھ لیے اپنے بغض کی نکاسی کا سامان کرنے میں مصروف ہو۔ 

جون صحیح فرماتے تھے۔۔ "ہم حد سے گئے گزرے لوگ ہیں۔ اور وقت کو چاہیے کہ ہمیں بری طرح گنوا دے اور ٹھکرا دے۔ اس لیے کہ ہم بری طرح گنوا دیے جانے اور ٹھکرا دیے جانے کے ہی قابل ہیں۔"

ذوالقرنین

Saturday, 2 November 2013

آلکسی

2 comments
سستی اور انسان کا دوستانہ کتنا پرانا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ بعض سست دانوں کے نزدیک یہ تب سے ہے جب سے انسان وجود میں آیا۔ جبکہ بعض روایات کے مطابق تب سے ہے جب سے انسان نے کھچوا دریافت کیا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پہلے سستی نہ ہوتی تھی۔ اور اگر ہوتی بھی تھی۔ تو اس کا نام کچھ اور تھا۔ تاہم کچھ قدیم کچھوؤں نے اس بات پر اپنے اعتراضات محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ اور بوجہ سستی ریکارڈ کروانے سے قاصر ہیں۔ قدیم زبانوں میں اس کیفیت کو پوستی کیفیت سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔ جب کہ کچھ کہ ہاں آلکسی کا لفظ مستعمل ہے۔
جوں جوں انسان نے ترقی کی۔ اس نے آلکس کو بھی ترقی دی۔ آج کے مشینی دور میں سستی اوج کمال پر پہنچی نظر آتی ہے۔ زیادہ نہیں تو تھوڑا پیچھے جا کر دیکھیں۔ جب ٹی وی چینل بدلنے کو بھی لیور گھمانا پڑتا تھا۔ بہت سے لوگ محض اس لیے بھی ایک ہی چینل دیکھتے تھے کہ کون لیور گھمائے۔ لیکن اب وہی کام ایک تیز رفتار ریموٹ سے سست سے سست آدمی بھی سکون سے کر لیتا ہے۔ جوں جوں اس ضمن میں انسان نے ترقی کی ہے۔ سستی کے معیار بھی بلند ہوگئے ہیں۔ اوراب اس منزل پر پہنچنے کے لیے سخت گیان اور تپیسیا کی ضرورت ہے۔ ہر کوئی سست نہیں کہلا سکتا۔ پرانے زمانے میں لوگ خود بتاتے تھے کہ ہم سست ہیں۔ گو کہ یہ دعویٰ کرنے والے تو آج بھی موجود ہیں۔ مگر فی زمانہ سست وہی ہے۔ جس کو اس کے گھر والے اور معاشرہ سست تسلیم کرلیں۔
یہ بات گو کہنے میں بہت آسان نظر آتی ہے کہ ہر آدمی اپنے گھر والوں سے سستی کی سند لے آئے۔ اور اپنے تئیں سست کہلائے۔ لیکن سست بھی بڑے استاد سست ہیں۔ ایک نظر میں بھانپ لیتے ہیں کہ واقعتاؐ سست ہے یا پھر سستی کا سوانگ بھر رکھا ہے۔

Tuesday, 8 October 2013

آٹھ اکتوبر 2005 از قلم نیرنگ

8 comments
عجب یاسیت نے گھیر رکھا ہے۔ آٹھ سال بیت گئے۔ آج صبح سے ذہن دفتری کاموں میں الجھا ہے۔ ایک لمحہ فرصت کا میسر نہیں آیا۔۔۔ شام ہوئی تو تنہا بیٹھتے ہی یہ یادیں ملنے آگئیں۔۔۔۔ میں رات کو ملازمت کرتا دن کو پڑھتا تھا۔ ابھی دفتر ہی میں موجود تھا۔ گھر کو روانگی کی تیاری تھی۔ زمین سے قریبا 40 فٹ نیچے منزل پر بیٹھا تھا کہ زمین ہلنے لگی۔ دیواروں میں شگاف پڑ گئے۔ اور اعصاب آن واحد میں شل ہوگئے۔ سب کو نکلنے کا عندیہ دیا۔ سب سے آخر میں میں اور ایک دوست نکلے۔ یونہی ذہن میں خیال آیا کہ فائل روم پر نظر مار لوں۔ شاید کوئی انجان نہ رہ گیا ہو۔۔۔ ویسے تو اس قیامت سے کوئی انجان نہ رہا ہوگا۔

@فلک شیر بھائی نے آواران کی بات۔۔۔ ہم نے بھلا دیا۔۔۔۔ ہم نے یاد ہی کب رکھا کسی کو۔۔۔ دانشور کہتے ہیں کہ ہم نے سبق نہ سیکھا۔ ہماری ذہنی استعداد ہی کہاں ہے سبق سیکھنے کی۔۔۔ بلوچستان میں قیامت گزر گئی۔۔۔۔ لب تک نہ ہلے۔۔۔ آٹھ سال ۔۔۔ آٹھ سال۔۔۔۔ میری زندگی کے قیمتی آٹھ سال گزر گئے۔۔۔ کتنے ہی چہرے محو ہوگئے ذہن سے۔۔۔۔ زلزلے سے کیا انکار کروں۔۔۔ قدرت کے سامنے کیا سر اٹھاؤں۔۔۔ یہ سب تو اشارہ ہے۔۔۔ لیکن ان کھلے اشاروں میں کونسا راز مضمر ہے۔۔۔ اس کھلے راز سے پردہ کیوں نہیں اٹھاتا۔۔۔ 
غلط راستے پر چلی جا رہی ہے
ذرا بڑھ کر دنیا کو آواز دینا

یہ آواز کون دے۔۔۔ یہ صدا کا بار کون اپنے سر لے۔۔۔ اور کیوں لے۔۔۔ جب حلق پھاڑ کر چیخنے سے بھی اپنا گلا ہی چھل رہا ہے۔۔۔ کوئی صدا پر کان نہیں دھر رہا۔۔۔ اہل دل کے کانوں پر اب سرگوشیاں اثر نہیں کرتیں۔۔۔  "پہلا طرب شناس بڑا سنگدل تھا دوست" یہ چیخیں بھی اب چیخیں نہیں لگتی۔۔۔ کیوں کہ اب ہم آوازوں کو واسطوں کے پیمانوں سے تولنے لگے ہیں۔۔۔ ہم دکھ سے محروم ہوچکے ہیں۔۔۔ آہ۔۔۔ احمد جاوید صاحب کی ایک بات یاد آگئی۔۔۔ "احمقو! تم دکھ سے آزاد نہیں دکھ سے محروم ہو۔" ہائے۔۔۔ دانشور مر گئے۔۔۔ اور تم ان کے عقیدوں پر بحث کرتے رہے۔۔۔ بغداد کٹ گیا۔۔۔ اور تم ہاتھ باندھنے اور چھوڑنے پر لڑتے رہے۔۔۔ شام لٹ گیا۔۔۔ مصر خون سے سرخ ہوگیا۔۔۔ تمہارے لوگ دن رات آسمان سے برسنے والی آفات سے مرنے لگے۔۔۔ زمین کے پھٹنے سے گڑنے لگے۔۔۔ بھوک سے دریاؤں میں اترنے لگے۔۔۔ شہر زندگی سے ویران ہوگئے۔۔۔ نفسا نفسی نے تمہیں کچھ ایسے کھینچا۔۔۔ ایسے سینچا۔۔۔ کہ تم تعفن کے عادی ہوگئے۔۔۔ عیاشی کو دنیا بنا کر دین کو آسان کہہ کر سب باتوں پر پردہ ڈال دیا۔۔۔۔ کیا لکھوں۔۔۔ کیا لکھوں۔۔۔ کس بات کا رونا ہے۔۔۔۔ کس بات کا رونا۔۔۔ کیوں لکھوں میں یہ سب۔۔۔ آخر لکھنے کو تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔۔۔ تو میں کیوں اپنی بھڑاس نکالوں۔۔۔ آخر کیوں اپنے الفاظ کو رنج میں ڈبو کر دکھ سے کروٹ بدلتا رہوں۔۔ کیوں۔۔۔۔ 
کیا کیا لکھے جاتا ہوں۔۔۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔۔ 

Friday, 6 September 2013

یوم دفاع از قلمِ نیرنگ خیال

4 comments
قوموں کی داستان عروج و زوال سے مزین ہے۔ چاہے یہ قومی تشخص کی بنیاد مذہب پر ہو یا جغرافیائی حدود پر۔ پاکستان خوش قسمتی سے وہ خطہ ہے کہ جو دونوں دولتوں سے مالا مال ہے۔ خیر تذکرہ اس وقت عروج و زوال کا ہے۔ تو ہر قوم کی تاریخ میں وقت کچھ ایسی گھڑیاں ضرور لاتا ہے۔ جب ذاتی مفاد، جان و مال ملکی و اجتماعی مفادات کے آگے ہیچ ہوجاتے ہیں۔ ان آزمائش کی گھڑیوں میں جب قوم اپنے فرض سے آنکھیں چراتی ہیں۔ کڑیل جوان میدان جنگ کی بجائے گھر میں چھپنے کو ترجیح دیں۔ تو ایسی قوموں کے مقدر میں آنے والا لمحات کا سورج خوشی و مسرت نہیں بلکہ اپنوں کی لاشوں کے ساتھ ساتھ غلامی کی نہ ٹوٹنے والی زنجیر لے کر آتا ہے۔ اور پھر بسا اوقات اُس طوق کو اتارنے میں صدیاں بھی  کم پڑ جاتی ہیں۔ 

ایسی ہی ایک گھڑی 6 ستمبر 1965 کو پاکستان کی تاریخ میں بھی آئی تھی۔ لیکن سلام ہیں اس قوم کو۔۔۔ جس نے اپنے فرائض سے آنکھیں نہیں چرائیں۔ ان نوجوانوں کو جن کے لیے ملکی سلامتی ان کی اپنی جان و مال سے کہیں زیادہ تھی۔ سلام ہے۔ ان شہیدوں کو سلام ہے جنہوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر شہادت کا رتبہ پایا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ صریح موت ہے۔ لیکن ڈر کا ان کے عمل سے شائبہ تک نہ تھا۔ ان ماؤں کو جنہوں نے ملکی سلامتی کو اپنے بیٹوں سے زیادہ جانا۔۔۔ ان بیویوں کو جنہوں نے سہاگوں کی لاشوں پر نوحہ نہ کیا۔ بلکہ فخر سے سر اٹھا کر کہا کہ میرا شوہر شہید ہے۔ 

6 ستمبر کا دن پاکستان کا یوم دفاع وہ جرأت اور بہادری کی تاریخ رقم ہوئی جو رہتی دنیا تک درخشاں رہے گی۔
میں ان تمام شہیدوں، غازیوں دلیروں اور بہادروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اور اس دن کی تجدید کرتے ہوئے  یہ مصمم ارادہ کرتا ہوں کہ میں اپنے ملک میں لسانی و صوبائی و دیگر ہر قسم کے تعصب کو آخری حد تک ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس ملک کی بقاء ہی میری بقاء ہے۔ اور میں اپنے تئیں جو بن پڑا اس ملک کی بھلائی کے لیے کروں گا۔ آمین یا رب العالمین

Thursday, 5 September 2013

صحرا فطرت

6 comments
کچھ منتشر خیالات۔۔۔
صحرا سحر سے بھرا ہے۔۔ ۔۔ گر کسی نے رات کو صحرا میں قیام کیا ہے۔ تو وہ صحرا کی دلنشیں راتوں کے گیت گاتا نظر آئے گا۔ اور گر کسی کا واسطہ محض نخلستان سے پڑا ہے۔ تو وہ آپ کو کھجور کے درختوں اور میٹھے پانی کے چشموں کے گن گاتا نظر آئے گا۔ صحرا کی دھوپ کا شکار آپ کو صحرا کی تپش، جلن اور دور دور تک سایہ نہ ہونے کی شکایت کرتا ملے گا۔۔۔ وہ سراب کے متعلق بھی آپ کو بتائے گا۔ اور پیاس کی شدت کا بیان بھی اسی کے لبوں سے جاری ہوگا۔

کچھ لوگ صحرا کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی ذات اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور خوبیوں کے باوجود ہر اک کے لیے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ لوگ انہیں شبِ صحرا کی مانند سمجھ لیتے ہیں۔ جہاں ٹھنڈک، خاموشی اور خوبصورتی ہے۔ دلفریب مناظر ہیں۔ اور دل کو موہ لینے والا سکون۔ کچھ لوگ انہیں نخلستان سمجھ لیتے ہیں۔ جہاں کھجوراور پانی کی فراوانی ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں سایہ ڈھونڈنے کو وہاں آ بیٹھتے ہیں۔ سکون اور نعمتوں کی فراوانی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں نے ان کو ہر رنگ میں یکتا دیکھا ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بظاہر نخلستان دکھائی دینے والا۔۔ رات کے صحرا کی مانند پرسکون و دلفریب حقیقت میں کس قدر جھلسا ہے۔ کیسے کیسے غم کے سورج ہیں جو آگ برسا رہے ہیں۔ کیسے بکھرے ارادوں کی شکست کا طوفان ہے۔ جو شخصیت کے ٹیلوں کو تہہ وبالا کیے جا رہا ہے۔

صحرا فطرتوں کی اک اور خوبی اوج کمال پر ہوتی ہے۔ جتنا مرضی غبار آئے۔ طوفاں اٹھے۔ ان کی سرحد پر بس ہلکے ہلکے آثار ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کبھی یہ اپنے گردو غبار اور طوفان سے بیرون ذات کچھ نقصان نہیں دیتے۔ سمندر فطرت لوگوں کے بالکل برعکس۔ سمندر میں جب طوفان آتا ہے۔ تو اپنی سرحد توڑ کر نکل آتا ہے۔ باہر کے ماحول کو ڈبو دیتا ہے۔ اور جب واپس جاتا ہے۔ تو اپنے ساتھ لائے غم اور خوشیوں کا باعث بننے والوں کو باہر ہی چھوڑ جاتا ہے۔ پرواہ نہیں کرتا۔۔۔ کہ انکا کیاہوگا۔۔ صحرا فطرت اپنے غم اور خوشی کا باعث چیزوں کا اپنی ذات سے باہر نہیں جانے دیتے۔ وہ اس معاملے میں بہت احتیاط پسند ہوتے ہیں۔ سمندر فطرت کی طرح بے پرواہ نہیں۔

Saturday, 27 July 2013

بےحال سے زحال تک

8 comments
بھلے وقتوں کی بات ہے۔۔۔ جب ہم محفل میں آتے تو تھے۔ پر ہماری مرزا صاحب سے ملاقات نہ تھی۔ آتے تھے چلے جاتے تھے۔۔۔ لیکن کبھی کبھی جو مرزا کے آواز سماعتوں میں رس گھولتی۔۔ تو سوچنے ۔لگتے کہ کیسا آدمی ہے۔۔۔ ہمیشہ مثبت بات ہی کرتا ہے۔ پھر سوچا باتیں مثبت ہیں۔۔۔ کہ شخصیت منفی ہوگی۔۔۔ اس کی کھوج لگانے کو جو ہم نے بھی آغاز گفتگو کیا تو شخصیت بھی مثبت پائی۔۔۔ بعد از مدت بھید یہ کھلا کہ موصوف اتنے مثبت اس لیے ہیں کہ زندگی میں "وٹامن She" کی شدید کمی ہے۔ جب یہ خبر سننے کو ملی۔۔ تو پہلا گماں تو موصوف کے مرزا ہونے پر گزرا۔۔۔ سوچا یہ کوئی چال ہے۔۔ اتنا شریف مرزا۔۔۔ نہ نہ ۔۔۔ ۔ برادری کو چاہیے کہ فوراً سے پیشتر اس کو حنوط کروا کر محفوظ کر لے۔ ایسا نہ ہو کہ حالات زمانہ کے باعث اکلوتے شریف مرزا سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائیں۔ لیکن اب جو گفتگو کو سلسلہ چلا تو اک اور راز کھلا۔۔ وہ یہ کہ موصوف ہمیشہ مخاطب کو صنف نازک کے القابات سے پکارتے۔۔ چاہے مخاطب کے دو کلومیٹر پاس سے بھی زنانہ پن نہ گزرا ہو۔ یعنی "مرزا" "ہٹ" قائم تھی۔

اب جو مرزا کے حلقہ احباب میں ہم شامل ہوئے تو یہ پایا کہ پطرس کے لالہ جی، اور انشاء کے استاد مرحوم کو گر شفیق الرحمن کے شیطان سے تقسیم کر لیا جائے تو حاصل جواب اپنے مرزا صاحب ہی آئیں گے۔ لالہ جی کی طرح صبح اٹھنے کی عادت اور نہ صرف خود اٹھنے کی عادت بلکہ اس وقت تک گفتگو کرتے رہنے کی عادت جب تک باقی نہ اٹھ جائیں۔ اور خود بعد میں رام رام کرنے کے بہانے دیوی کے پاس جا پہنچنا۔۔۔ اک بار ہم نے پوچھا یار مرزا۔۔ یہ رام رام دیوی جی کے پاس ہی کیوں ہوتی ہے۔۔ شنکر جی یا وشنو کے پاس کیوں نہیں۔۔ تو ہنسنے لگے۔۔۔ کہتے میاں!!! کیا بتاؤں۔۔ اسلاف کی روحیں روز آکر سوال کرتی ہیں۔۔۔ کہ تمہارے بعد میں آنے والوں کا سکور کہاں پہنچ گیا۔ اور تم ابھی تک عاشقی کے میدان میں مصباح بنے ہو۔۔۔ پہلے رام کے پاس ہی رام رام کرتا تھا۔ لیکن بعد میں اک دن خواب میں بڑے مرزا (صاحبہ والے ) خود تشریف لائے۔ اور فرمانے لگے کہ میاں۔۔۔ ۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم پتھر کی مورت کو ہی مورتی کر لو۔۔ اس دن سے دیوی جی کے پاس ہی آنا جانا ہے۔ ہم بھی دیوی جی کے کبھی درشن نہ کیے۔۔۔ بس ویسے اک بار پوچھ لیا کہ دیوی جی کو آرٹ کا نمونہ بنا رکھا ہے کہ نہیں۔ تو کہنے لگے۔۔ بھئی ہم یوسفی کی اس بات کو خوب سمجھتے ہیں۔ مجال ہے جو کوئی ململ کا کپڑا تمہیں ملے۔۔۔ ہمیں ایسی بےلباس مورتی کے دیدار کی ہرگز تمنا نہ رہی۔۔۔ ۔

استاد محترم کی طرح بے پناہ غیر مطبوعہ کلام چھاپ رکھا تھا۔۔۔ گھر والے بھی ظالم تھے۔۔۔ کبھی جو بارش کے دوران صحن میں پانی جمع ہوجاتا تو اینٹیں رکھنے کی بجائے فاصلے فاصلے پر یہی علم و ادب کا خزینہ دھر کر راستہ بنا لیا کرتے تھے۔ ایسے میں مرزا افسوس سے سر ہلاتے رہ جاتے۔ اور کہا کرتے۔۔۔ کہ میاں۔۔۔ دور لد گیا۔۔۔ علم کی وہ قدر و منزلت نہ رہی۔۔۔ ایسے موقعوں پر آنکھوں کی بجائے منہ میں کافی پانی جمع ہوجاتا تو وقتا فوقتا تھوکتے رہتے۔۔۔ بےخبر لوگ اس کو غرور سے منسوب کر دیتے تھے۔۔۔ حالانکہ رقیق القلبی کا یہ عالم تھا کہ کبھی جو کسی پر ہونے والے ظلم کی داستاں سن لیتے یا دیکھ لیتے۔۔ تو کئی کئی روز تک دل بہلانے کو کھانے پینے اور گھومنے پھرنے پر توجہ مرکوز کیے رکھتے تھے۔۔ اک بار اک کتے کو دیکھا جو بیچارہ درد سے کراہ رہا تھا۔۔۔ تو فوراً ریوالور نکال کر گولی مار دی۔۔ کہتے میرے سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی۔۔ ۔اس کے بعد اکثر لوگ اپنے درد کا تذکرہ ان کے سامنے کرنے سے گریز کرنے لگے۔۔۔ اگر کبھی کوئی موضوع زیر بحث بھی ہوتا تو مرزا کی آمد پر بات بدل دیتے۔ پتا نہیں ایسا کیوں تھا۔

یار باش آدمی تھے۔۔ اجتماعیت کے بہت زیادہ قائل تھے۔ دوران گفتگو بھی زور اجتماعیت پر ہی رہتا۔۔۔ وہ لوگ جو یہ لفظ پہلی بار سنتے۔ لازما چونک جایا کرتے تھے۔۔ ایسے میں مرزا دھیمی سے مسکراہٹ سے کہا کرتے۔۔ کچھ نہیں میاں!!! بس اخبارات نے تمہارا دماغ خراب کر رکھا ہے۔ انٹرویو کرنے کے بہت شوقین تھے۔ جس پر نظر کرم کرنا مقصود ہوتا۔ اس کو چائے کی دعوت دیتے۔ دعوت دینے کا انداز بھی بڑا منفرد تھا۔ کبھی یہ نہ پوچھتے کہ کس وقت فارغ ہوتے ہو۔ کبھی ہمارے آستانے پر تشریف لاؤ۔ چائے مشہور ہے ہماری۔۔۔ بس حکم صادر کرتے میاں۔۔۔ چائے پر آجاؤ۔۔ مجال ہے جو کوئی سرتابی کرے۔۔ میں نے پوچھا کہ مرزا کبھی کسی نے سرتابی کی کوشش کی۔ تواک ادائے کافری سے ہنس کر فرمانے لگے۔ میاں تم کر کے دیکھ لو۔۔۔ چائے پلانے سے پہلے کچھ سوال داغتے۔۔۔ اور پھر چائے پلانے کے بعد کڑک سوالات داغتے۔۔۔ اور جو جواب نہ دیتا۔ تو اس کو "سوا" "لات" رسید کرتے۔ چارو ناچار اس کو حکم کے آگے سر جھکانا ہی پڑتا۔ اور وہ بیچارہ جوابات دے دے کر فوت ہونے والا ہوجاتا۔ ایسے میں جب کبھی ان کے پاس سوالات ختم ہوجاتے تو ان کی اک اور شاگرد سوالات کی پٹاری لے کر آجاتی۔۔۔ اچھا ان کا اور اس شاگرد کا تعلق بھی مزے کا تھا۔ وہ آنے کے بعد ان کے سوالات کی تعریف کرنا نہیں بھولتیں تھیں۔ اور یہ بھی ہمیشہ ہی فرماتے۔۔۔ بس ہم تو یونہی ہیں۔۔ اصل سوالات تو آپ ہی پوچھتیں ہیں۔۔۔ آدھا گھنٹہ یہ دونوں یونہی اک دوسرے کو اونچا ثابت کرتے رہتے۔۔ ایسے میں مسئول ان کی باتوں سے اکتا کر یہ جا وہ جا۔۔۔ بعد میں اس کو کہتے میاں بڑے نابکار ہو تم۔۔۔ ایسی بھی کیا طبیعت میں تیزی پائی تم نے۔۔۔ چلو ابھی چائے پلائی ہے۔۔۔ جب تک سب جواب نہیں ملتے۔۔ جانے کیسے دے سکتے ہیں تمہیں۔۔۔ 

سالگرہ ہمیشہ یاد رکھتے۔۔۔ خاص طور پر اپنی اور ان لوگوں کی جن کی سالگرہ اس دن ہوتی تھی۔۔ جس دن مرزا کی سالگرہ ہوتی تھی۔۔۔ تحفے تحائف دینے کے بھی بہت شوقین تھے۔ کہتے تھے اس سے باہمی اخوت اور محبت بڑھتی ہے۔۔ ہم نے کہا کہ اخوت تو آج کے دور میں محبت کی قینچی ہے۔۔۔ تو ہنس کر رازدرانہ انداز میں کہنے لگے۔۔ میاں اخوت اور محبت کی تخصیص بھی صنفی تفاوت پر ہے۔۔ سمجھا کرو۔۔۔ اس کے علاوہ لوگوں کی کیفیات میں بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔۔ ان کی کیفیات کا خوب مذاق اڑاتے اور مذاق اڑانے والوں کی دل کھول کر حوصلہ افزائی کرتے۔۔۔ خود تو محض کبھی کبھار شہد دیوار پر لگانے کا کام کرتے۔۔ اور پھر خود اک طرف بیٹھ کر لطف اندو ز ہوا کرتے۔۔۔ سیاست کے موضوع کو اپنا پسندیدہ قرار دیتے۔ اور اس پر بات کرنا وقت کا ضیاع سمجھتے۔۔۔ اس میں جانے کیا رمز پوشیدہ تھی۔

دوستوں سے دست درازی کرتے پائےجاتے۔ بچوں سے شفقت، بڑوں سے ادب اور صنف نازک سے ہمیشہ محبت سے پیش آتے۔ راقم بھی ٹھہرا بخت برگشتہ جو پوچھ بیٹھا کہ مرزا یہ صنف نازک سے محبت سے پیش آنا۔۔۔ تو ہنس کر فرمانے لگے۔۔۔ میاں جس معاشرے میں میں رہتا ہوں۔۔۔ صنف کرخت سے محبت سے پیش آؤں تو تم کو کیا معلوم کیسی کیسی باتیں سننے کو ملیں۔۔۔ یہاں تک کہ وطن واپسی پر بھی یہی رویہ رہتا۔۔ اس ضمن میں فرماتے کہ بھئی چند دن کے لیے اب اپنی عادتیں کون خراب کرے۔۔۔ ویسے میری "شر" "افت" پر تمہیں شبہ کیوں ہے۔ ہم نے فوراً دست بستہ عرض کی۔ جناب ہمیں تو اس پر صدیوں سے یقین ہے۔ یہ سننا تھا کہ بھڑک اٹھے۔ اور کہنے لگے۔۔ خبردار جو بڑے مرزا کو بیچ میں لائے۔۔ یہ کردار کشی سے جو تاریخ مسخ کی گئی ہے۔ بقیہ عشاق کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ہم سے ناراض ہوگئے۔ اور کافی دن تک خیر خبر نہ لی۔ پھر ہم بھی رمز شناس تھے۔ اک صوفیانہ کلام کی آڑ لے کر انتظام سبو کیا تو دونوں یعنی مرزا اور ان کی مسکراہٹ واپس لوٹ آئی۔ ٹناری جب بڑھ جاتی تو پنجابی ہی بولا کرتے تھے۔

اک دن جوش میں فرمانے لگے کہ میاں تم بھی تو اپنے تئیں ادیب کہلاتے ہو۔۔ ہم نے فوراً یہ الزام اپنے سر لینے سے انکار کر دیا۔ تو ہنسنے لگے۔۔ کہتے میاں!!! ہماری بات غور سے سنو۔۔ یہ جتنے بھی بڑے ادیب تھے۔۔۔ یہ اس لیے بڑے ادیب بنے کہ ان کے پاس اک ایسا شخص تھا جس پر یہ لکھ سکتے تھے۔۔ اور وہ تھا مرزا۔۔۔ تم بھی خوش نصیب ہو۔۔۔ مرزا کا ساتھ تمہیں نصیب ہے۔۔ لکھو ہم پر۔۔۔ اور بن جاؤ بڑے ادیب۔۔۔ بھئی ہم تو لوگوں کو ادیب ہی بناتے آئے ہیں۔۔۔ اسلاف کی اس رسم سے بھی روگردانی مناسب نہیں۔۔ اس پر ہم نے کہا کہ ہمارے اسلاف میں تو کوئی ادیب نہ گزرا تھا۔۔ تو ہم کونسی وراثت پر حق جتانے کے لیے لکھیں۔۔۔ تو طنزا بولے۔۔۔ آنے والوں کو بھی یہ بات کرنے کا ہی موقع دینا چاہتے ہو۔۔۔ 

اب جو ہم نے لکھنا شروع کیا کہ ہم نے جو ادب کا مطالعہ شروع کیا تو "مرزا" کو بہت عام پایا۔ فکاہیہ تحاریر ہوں کہ شاعری یا تنقیدی مضامین۔۔ یا عشقیہ داستان۔۔ مرزا مرزا اور مرزا ہر جگہ ہو رہی ہوتی تھی۔۔۔ ہم نے سوچا کہ اگر کچھ بننا ہے تو مرزا سے دوستی کرنی پڑے گی۔ مرزا کی تلاش میں خاک چھانتے رہے۔۔۔ لیکن مرزا نہ ملا۔۔۔ آخر اک دن یونہی اتفاق سے مرزا سے ملاقات ہوگئی۔ اور پھر ملاقات کیا۔۔۔ یہ تو سلسلہ ہوگیا۔ جب تک مرزا سے چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔۔۔ کوئی جملہ بازی کا تبادلہ نہ ہو۔۔ یوں محسوس ہوتا کہ آج کچھ کمی رہ گئی ہے۔۔۔ 

مرزا بہت عمدہ عادات و خصائل کے مالک ہیں۔ شاعری پر بے انتہا عبور ہے۔ وجہ غالب کا مرزا ہونا ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے عادی ہیں۔ اک رہنما کی طرح لوگوں کا اکھٹاکرنے اور اکھٹا رکھنے کے فن پر دسترس رکھتے ہیں۔ تو یہی پر ٹوک دیا۔ ۔۔۔ کہنے لگے۔۔ کیا بیکار انداز تحریر ہے تعریف کرنے کا۔۔۔ بھئی کچھ پرانے ادیبوں کو پڑھو۔۔ انہوں نے مرزا کی کس طرح تعریف کی ہے۔ پھر کچھ طبع آزمائی کرو۔۔۔ پہلے تیرنا سیکھو۔۔۔ پھر پانی میں اترنا۔۔۔ ہم نے اس نصیحت کو نیفے میں اڑس لیا۔۔ اب اتنی سی بات کے لیے پلو کہا ں سے لاتے۔ کہ اس سے تو مرزا خود بھی محروم تھے۔۔

فکر تجربی

0 comments

فکر تجربی
پیش ہے اک جہاں دیدہ مچھیرے کی داستاں

پرانے وقتوں کی بات ہے۔۔۔ کتنے پرانے ۔۔۔ جب مچھیرا کی رمز نئی نئی ایجاد ہوئی تھی۔ تو کئی لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر مچھیرا کہلانے کو مچھلیوں کا شکار کیا کرتے تھے۔ مگر مؤرخ بڑا مورکھ تھا۔ اس نے بھی ایسے لوگوں کو مچھیرے کے خطاب سے نہ نوازا۔ بلکہ جو صرف مچھلیاں پکڑ کر اپنی گزر اوقات کا بندوبست کرتا۔ اس کو مچھیرے کے خطاب سے نوازا۔
تو ایسے ہی وقتوں میں اک مچھیرا تھا۔ جو کہ مچھلیاں پکڑتا تھا۔ اب کوئی پوچھے کہ ہرن کیوں نہیں مارتا تھا۔ پرندے کیوں نہیں پکڑ لیتا تھا۔ اس میں جان جانے کا بھی خدشہ نہیں۔ ڈوب جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔
تو بئی بات یہ ہے کہ وہ اک مچھیرا تھا۔ جس کا کام مچھلیاں پکڑنا تھا۔ لیکن تھا کوئی اصلاً برصغیر کا مچھیرا۔۔۔ وہ ایسے کہ جب تک پہلی شکار کی ہوئی مچھلی نہ ختم ہوتی۔ دوسری کے لیے نہ نکلتا۔ فطری سستی اور طبیعت کا دھیما پن اس کے برصغیر سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن مؤرخ نے جب دیکھا کہ اس میں اک علاقے کے نام پر ضرب لگنے کا اندیشہ ہے۔ تو اس کو تؤکل کا نام دے دیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی۔ کہ توکل سے اس کا کچھ لینا دینا نہ تھا۔ وہ مچھیرا تھا۔ عالم وقت نہ تھا۔ خیر چھوڑیں ان باتوں کو۔۔۔ اصل کہانی کی طرف آتے ہیں۔
اچھا اس مچھیرے میں جہاں بہت سی خوبیاں تھیں۔ وہاں اک خوبی یہ بھی تھی۔ کہ یہ صرف ایک ہی مچھلی پکڑ کر لاتا تھا۔ کبھی دو نہ پکڑتا۔ ظاہر ہے فریج کا دور نہ تھا۔ کہ مچھلی ذخیرہ کر لی جائے۔ اور مٹکے میں مچھلی چھوڑ کر ضرورت پڑنے پر استعمال میں لانے کا خیال اس کے ذہن میں کبھی آیا نہ تھا۔ کیونکہ بات پھر وہی ہے، کہ مچھیرا تھا۔ سائنسدان نہ تھا۔ کبھی جو ایک سے زیادہ مچھلیاں جال میں پھنس جاتیں۔ تو ایک رکھ کر باقیوں کو چھوڑ دیتا۔ اور ان سے اپنے رویے کی معافی بھی مانگتا۔ بعض روایات میں ہے کہ ساری چھوڑ دیتا۔ اور صرف ایک مچھلی کے پھنسنے پر جال سمیٹتا۔ اگر زیادہ پھنس جاتی تو ایسی جگہ جا کر جال لگاتا۔ جہاں کسی بھولی بھٹکی مچھلی کے آنے ہی کا امکاں ہوتا۔ مچھلی لا کر اپنی بیوی کے حوالے کرتا۔ ماں باپ بہن بھائیوں کا ذکر اس حکایت میں اضافی ہے۔ اور غالب گمان ہے کہ بچوں کے بغیر بھی حکایت چل سکتی ہے۔
تو ایسی ہی اک شام میں جب وہ اپنی شکاری طبیعت کی بےچینی دور کر کے اک عدد مچھلی کا شکار کرنے کے بعد گھر لوٹا۔ تو حسب عادت یا حسب روایت یا حسب حکایت مچھلی اپنی بیوی کے ہاتھ پر رکھی۔ اور کمر سیدھی کرنے کو دراز ہوگیا۔ بیوی جب مچھلی کاٹ رہی تھی تو اس نے مچھلی کے پیٹ میں اک چمکتا دمکتا موتی دیکھا۔ یہ موتی دیکھتے ہی بیوی کی باچھیں کھل گئیں۔ بچپن میں سنی تمام کہانیاں پردہ ذہن پر رقصاں ہوگئیں۔ جن میں یونہی کسی غریب آدمی کے ہاتھ خزانہ لگتا تھا۔ اور وہ بادشاہ بن بیٹھتا تھا۔ خزانے کے ساتھ ہی اسے سپہ سالاری اور حکومت کرنے کے گر پتا نہیں کہاں سے ہاتھ لگ جاتے تھے۔ لیکن بات پھر وہی کہ جناب ہم کو ان باتوں سے کیا لینا دینا۔۔۔ ۔
موتی دیکھ کر مچھیرے کی بیوی اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ سکی۔ اور چلائی۔ اؤے مچھیرے۔۔۔ پھر اسے خیال آیا کہ اگر وہ امیر ہوگئی تو یہ زبان اشرافیہ میں معیوب و معتوب ٹھہرے گی۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے اپنی پکار میں تبدیلی پیدا کی۔ اور چلائی۔
سرتاج ، سرتاج
دیکھیے تو ذرا، ادھر آئیے۔۔۔ آج مچھلی کے شکم سے کیا برآمد ہوا ہے۔ بتاؤ تو سہی۔ ذرا بوجھو تو سہی۔۔۔ اک چمکتا دمکتا موتی۔۔۔ آج کے دور کی کوئی فلمی قسم کی بیوی ہوتی تو گانا گانے دریا پر نکل جاتی۔ لیکن یہ اک پرانی کہانی ہے۔ شاید گانا بھی ابھی ایجاد نہ ہوا تھا۔
موتی دیکھ کر مچھیرا بھی خوشی سے اچھلنے لگا۔ اور کہنے لگا۔ میری پیاری مچھیرنی۔۔۔ اوہ معذرت میری پیاری بیوی۔۔۔ میرے برے ہی برے وقتوں کی ساتھی۔۔۔ لگتا ہے کہ آج قسمت سے وہ دن آگیا ہے۔ جس کے لیے میں نے یہ پیشہ اپنایا تھا۔ میں جاتا ہوں۔ اور موتی کو بیچ کر کچھ اور کھانے پینے کا سامان لاتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے دن پھرنے کا وقت آگیا ہے۔
مچھیرے کی بیوی نے کہا۔ کہ پرانی کہانیوں میں اس طرح کی باتوں کو چھپایا جاتا تھا۔ سو آپ بھی خاموشی سے پہلے اس کی قیمت کا اندازہ لگوا آؤ۔ یہ نہ ہو دن پھرنے سے پہلے ڈاکو پھر جائیں یہاں سے۔۔۔ 
مچھیرے نے موتی کو سنبھال کر تھاما۔ اور گاؤں کے سنار کے پاس جاپہنچا۔۔ سنار نے موتی کو اچھی طرح پرکھا۔ پہلے تو اس کے دل میں بےایمانی آئی کہ اس کو تھوڑی سی قیمت دے کر یہ چیز اپنے قبضے میں کر لوں۔ مگر پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ اب اپنی ساری عمر گزار چکاہوں۔ یہ جو چند روپے بےایمانی سے کما لوں گا تو بلا وجہ اپنی قبر کو کیڑوں سے بھروں گا۔ اس نے مچھیرے سے کہا کہ بھائی بات یہ ہے کہ اپنی اتنی پسلی نہیں کہ یہ موتی خرید سکیں۔ تم ایسا کرو۔۔ کہ اس کو شہر کے کسی سنار کے پاس لے جاؤ۔ شاید وہ اس کی قیمت ادا کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ یہ چیز بہت نایاب اور قیمتی ہے۔ دھیان سے جانا۔ اور دیکھو ٹھگے نہیں جانا۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔
مچھیرا اب موتی کو لے کر شہر میں سب سے امیر و کبیر سنار کے پاس جا پہنچا۔ اور اس کو موتی دکھایا۔ لیکن قصہ نہ بتایا۔ سنار نے موتی دیکھا۔ اور پھر مچھیرے کو۔ تو اس کے دل میں بےایمانی آگئی۔ اس نے کہا کہ میں اس سے اونے پونے دام خرید لیتا ہوں۔ اور بادشاہ سے منہ مانگا انعام پاؤں گا۔ اس نے مچھیرے کو کہا کہ ایسی تو کوئی خاص بات نہیں۔ خیر میں تمہیں اس کی اتنی قیمت ادا کردیتا ہوں۔ اب مچھیرا جو عرصہ سے مچھلیاں پکڑ پکڑ کر مچھلی شناس ہو چکا تھا۔ سمجھ گیا۔ کہ سنار اس کو بھی مچھلی سمجھ رہا ہے۔ کہنے لگا۔ نہیں میں یہ موتی نہیں بیچوں گا۔ اور وہاں سے نکل کر سیدھا بادشاہ کے محل جا پہنچا۔
بادشاہ کے محل میں پہنچ کر مچھیرے نے بوجہ واقفیتِ مؤرخانہ، سب سے پہلے جان کی امان چاہی۔ جب اس بات پر یقین آگیا کہ بادشاہ نہیں مارے گا۔ تو سارا قصہ کہہ سنایا۔ اور موتی بھی بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔
پرانے زمانے میں بادشاہ بھلے کوئی بھی بن جائے۔ لیکن جیسے ہی وہ بادشاہ بنتا، اس کو نجوم، سپہ گری ، قیافہ شناسی اور یہاں تک کہ جوہری ہونے پر بھی مکمل دسترس خود بخود حاصل ہوجاتی۔ سو یہی معاملہ اس بادشاہ کے ساتھ تھا۔ موتی دیکھ کر ہی بھانپ گیا کہ کوئی عدیم المثال قسم کی چیز ہے۔ اور دوبارہ ہاتھ نہیں آنے والی۔ فورا کہنے لگا۔ کہ میاں مچھیرے! اس موتی کی قیمت تو بہت زیادہ پاتے ہیں۔ کہ یہ اک بہت ہی نایاب چیز ہے۔ لیکن قصہ کچھ یوں ہے کہ تم خزانے میں چلے جاؤ۔ اور اک وقت مقرر کر دیا کہ اس دوران جو بھی اٹھانا چاہو۔ اٹھا سکتے ہو۔
مچھیرے نے فورا اک چھکڑا خریدا۔ اور اس کو لے کر شاہی خزانے میں داخل ہوگیا۔ جو چیز ہاتھ آئی۔ اٹھا اٹھا کر چھکڑے پر لادتا گیا۔ پرانی روایتوں میں آتا ہے کہ وہ کھانے پینے میں مشغول ہوگیا۔ لیکن یاد رہے کہ بادشاہ نے اس کو خزانے کا راستہ دکھایا تھا نہ کہ باورچی خانے یا پھر آرام گاہ کا۔ وقت مقررہ تک مچھیرا کافی لوٹ مار کر چکا تھا۔

وہاں سے نکل کر وہ اپنے علاقے میں واپس آگیا۔ جب ذرا غم روزگار سے فرصت ملی۔ تو دین کی طرف بھی راغب ہوا۔ بہت سے نیک کام کروائے۔ کہتے ہیں کہ اس کا لنگر ہر وقت چلتا تھا۔ جبکہ بعض متعصب مؤرخوں کے مطابق اس نے جال کرایے پر دینے کا کام بھی شروع کر دیا۔ اور بہت سے ملازم مچھیرے رکھ لیے۔ یوں وہ مچھلی منڈی کا سب سے بڑا تاجر بن گیا۔۔۔ واللہ اعلم

حکایت اور کہانی اب یہاں ختم ہوگئی ہے۔ اور اس سے آگے کوئی سبق نہیں۔ جو کچھ تھا اس میں ہی تھا۔ اب بھی اگر اخد نہیں کیا تو بس پھر الگ سے لکھنا بھی بیکار ہی ہے۔۔۔

کمال ارتشا

0 comments


کمال ارتشا
معمولات عوام سے نابلد بادشاہوں کا وہی پرانا قصہ
پرانا دور بھی کمال دور تھا۔۔۔ ۔ سیانے ہر اچھی بری عادت بادشاہ پر ڈال کر اپنی راہ لگتے تھے۔ جیسی عوام ویسا حکمران کا مقولہ بھی ایجاد نہ ہوا تھا۔ اور بادشاہ بھی ہنسی خوشی ہر اچھی اور بری عادت کو اپنا فخر سمجھتے تھے۔ پھر ہر دور کے بادشاہ مختلف ہوا کرتے تھے۔ کبھی ظالم بادشاہوں کا دور آتا تو روئے زمین پر یا کم از کم حکایات میں ہر طرف ظالم سے ظالم بادشاہ دیکھنے کو ملتا۔ ایسے ایسے ظلم کرتے کہ آج کے دور کے لوگ سنیں تواکثر افراد کی بےاختیار ہنسی نکل جائے۔ اور کبھی اچھے بادشاہوں کا دور آتا تو ہر حکایت میں اک سے بڑھ کر اک بادشاہ آرہا ہوتا تھا۔ کوئی عجز کا پیکر تو کوئی صفیں بنتا پھرتا۔۔۔ کوئی پوچھے معاملات سلطنت کس وقت نبٹاتا تھا۔ جب آدھا دن عبادت اور آدھا صفیں بنتے گزار دیتا تھا۔ ایسے بادشاہوں کے وزیر بھی پھر باکمال ہوتے تھے۔ وہ فارغ وقت میں صفوں کو بیچ آیا کرتے تھے۔ لیکن بعض لوگ جو ہر چیز کو محض تعصب کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے کہ اس دور میں کسی اور کو صفیں بنانے اور فروخت کرنے کی اجازت نہ ہوا کرتی تھی۔ سب کو مجبورا بادشاہ سے ہی منہ مانگے دام دے کر خریدنی پڑتی تھی۔ واللہ اعلم
اس طرح بادشاہوں کی اک قسم ایسی بھی ملتی ہے۔ جو اقتدار کے خواہش مند ہوتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں جیسے کہ بھائیوں کو مروا دینا یا باپ کو قتل کرا کر مسند پر جلوہ افروز ہونا جیسے کام معیوب نہ سمجھتے تھے۔ لیکن اک بار جو بادشاہ بن گئے تو بس پھر اتنے نیک ہوجایا کرتے تھے اتنے نیک ہوجایا کرتے تھے۔۔ کہ محل کے باہر زنجیر لگوا دیا کرتے تھے۔ لیکن پھر وہی مورخ کا متعصبانہ رویہ کہ جی بجانے والے کو بھی خوب بجایا کرتے تھے۔ خیر ہم ایسے تعصب بھرے بیانات پر توجہ نہ دیں گے۔
تو آج کی ہماری حکایت کا مرکزی کردار ان بادشاہوں جیسا نہیں تھا۔ جو لالچی ہوں۔ یا پھر ظالم یا پھر نیک۔ وہ تو اک اعتدال پسند بادشاہ تھا۔ لیکن مشیروں وزیروں نے بادشاہ کے کان بھرے کہ آپ روایت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بادشاہ یا تو نیک ہوگا یا ظالم یا پھر لالچی۔ آپ اس طرح کا معتدل سا رویہ رکھ کر تاریخ کو مسخ مت کیجیے۔ کوئی ایسا کام کیجیے کہ تاریخ کی کتاب میں آپ کے لیے اک نیا باب نہ لکھنا پڑے۔ اور پرانے تذکروں کے ساتھ ہی کہیں آپ کے دور کا بھی تذکرہ آجائے۔ جب بادشاہ نے اس بات پر کہا کہ اچھا ہے تاریخ میں اک نیا باب کا اضافہ ہونا۔ تو وزیروں نے یہ کہا کہ لوگ یا تو ظالم بادشاہوں کے قصے پڑھیں گے یا نیک کے۔ کوئی آپ کا تذکرہ نہ پڑھے گا۔ یہ بات بادشاہ کے دل کو لگی۔ لیکن ایسی کیا تمنا کرتا کہ تاریخ میں اک منفرد مقام بھی پاتا۔۔۔ ۔

بادشاہ اب ضعیف ہو رہا تھا۔ ڈھلتی عمر کے ساتھ ہی قوی بھی جواب دیتے جاتے تھے۔ ادھر ماضی اک یاد بن کر گمان کی چوکھٹ سے لپٹا رہتا تھا۔ کہ جس طرح اپنے باپ کو مروا کر تخت حاصل کیا تھا۔ اب پھر سے تاریخ دہرانے کا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ کہ اسے خیال آیا۔۔ اگر وہ امر ہوجائے۔ (یہ امر پریم والا امر نہیں۔ بلکہ ہمیشہ حیات رہنے والا امر ہے۔) تو پھر کون مار کر بادشاہت حاصل کر سکے گا۔ بس یہ خیال آنا تھا کہ شاہی طبیبوں کو عمر خضر کا حاصل کرنے کے طریقوں پر لگا دیا۔ دل میں کہیں خواہش عمر ابلیس حاصل کرنے کی تھی۔ پر زبان پر عبور حاصل ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو بھی نیکی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ ادھر اک دو شاہی طبیب جن کا خود اک پاؤں قبر اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر تھا۔ اس بیٹھی بٹھائی مصیبت سے پریشان ہوگئے۔
آخر اپنی زندگی بچانے کو ان بوڑھے شاہی طبیبوں نے فیصلہ یہ کیا کہ ہندوستان کی کسی نام نہاد جڑی بوٹی کا ذکر کرتے ہیں۔ یوں بھی حکمت اہل ہند کی لونڈی ہوا کرتی تھی۔ اور زیادہ تر محدود بھی اسی حد تک ہی تھی۔ لیکن حکماء کا خیال تھا کہ جب تک وہ بوٹی آئے گی۔ وقت گزر جائے گا۔ اور جو حال ہے۔ ہم بھی ساتھ ہی گزر جائیں گے۔ اور نیا طبیب کوئی نیا بہانہ تراش ہی لے گا۔ وگرنہ سزا پائے جس کا وہ حق دار ہوگا۔
لہذا بادشاہ کے سامنے باادب ہو کر جان کی امان پا لینے اور اس کی اچھی طرح تصدیق کر لینے کے بعد عرض کی۔ کہ یہ کام کچھ مشکل نہیں۔ ہندوستان کے ملک میں اک جڑی بوٹی پائی جاتی ہے۔ گر وہ مل جائے تو عمر خضر کی دوا تیار ہوجائے۔
بادشاہ نے اک وفد تیار کیا۔ اور اس میں ناپسندیدہ مشیران کے ساتھ ساتھ اک حکیم کو بھی شامل کر دیا کہ بوٹی کی پہچان کر کے لائے۔
ادھر راجہ بھی کچھ کم بھرم باز نہ تھا۔ جب بادشاہ کا وفد وہاں پہنچا تو اچھے طریقے سے شاہی آداب بجا لینے کے بعد خط پیش کیا۔ خط کا پڑھنا تھا کہ راجہ کا قہقہہ نکل گیا۔ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا۔ اور کہنے لگا کہ اس احمق بادشاہ کو کس نے کہا ہے کہ دنیا میں انسان اپنی مرضی سے عمر حاصل کر سکتا ہے۔ اب اس نے پورے وفد کو پہاڑی غار میں قید کر دیا۔ اور کہا کہ جب تک لینڈ سلائیڈنگ نہ ہوگی۔ کسی نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو اس کی گردن مار دی جائے گی۔یہ سنکر وفد کا خون خشک ہوگیا۔ اور فشار خون کی رفتار گرنے سے رنگ پیلا پڑ گیا۔ اکثریت نے زندگی میں کبھی نماز نہ پڑھی تھی۔ کجا یہ کہ کوئی نیک کام کیا ہوتا۔ اک جو ایسے کاموں میں پرانا کھلاڑی تھا۔ اس نے کہا کہ آؤ میں حفاظتی دستے سے کوئی مک مکا طے کرتا ہوں۔ اس نے ان کو اک معقول رشوت کے عوض منا لیا۔ اور پہاڑی پر چڑھ کر سب کی مدد سے کوئی چار پانچ چھوٹے بڑے پتھر پھینک دیے۔ تاکہ لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ سچ لگے۔
دو دن وہاں انہوں نے خوب موج مستی کی۔ دن کو شکار کرتے ۔ رات کو آگ کا الاؤ جلا کر اک دوسرے کو اپنے اپنے بادشاہ کی حماقتوں کے قصے سناتے۔ اس کے بعد حفاظتی دستہ ان کو لے کر بادشاہ کی خدمت میں پیش ہوا اور سارا واقعہ عبرت آموز انداز میں سنایا۔ پورا دربار ان کی دعاؤں کی تاثیر کے ایمان افروز واقعات سنکر اشک بار ہوگیا۔ عقیدت کا یہ عالم دیکھ کر وفد میں سے کئی ایک نے سوچا کہ ہندوستان کی فضا پیری مریدی کے لیے بڑی سازگار ہے۔ لیکن اس وقت اپنے آپ کو باز رکھا۔
اس راجہ نے اب اس وفد کو کہا کہ اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ۔ اور اس کو یہ ایمان افروز واقعہ سنانے کے بعد کہو میرا یہ پیغام دے دو کہ جسمانی حیات کی بجائے نیکی یا برائی کے کام کر کے ابدی نام کمایا جائے۔

اخلاقی سبق: ایسی کہانیوں کا کوئی اخلاقی سبق نہیں ہوتا۔۔۔ عوامی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہونے اور اپنی حماقتوں کو عقلمندی سمجھنے کی وجہ سے ہر کسی سے بیوقوف بننے والوں بادشاہ کی دوسرے اپنے جیسے ہی بادشاہ پر رعب ڈالنے کی کوشش ہے۔


Monday, 13 May 2013

دھاندلی کیا ہے!!!

2 comments
دھاندلی ہے کیا؟ سب سے پہلے تو ہمیں اس کے لغوی مطلب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سنسکرت  کے لفظ دوند سے ماخوذ اردو میں دھاند "ل" اضافے دھاندل کے ساتھ "ی" بطور لاحقہ لگانے سے دھاندلی کا لفظ وجود میں آیا۔ اس کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔ لغت کے حوالوں سے شاید 1922 کو "گوشۂ عافیت" میں تحریرا مستعمل ملتا ہے۔ اور معانی ہیں۔۔ اصل بات کو چھپانے کا عمل، مکروفریب، بےایمانی، دھوکا

اب آپ سوچیں گے کہ یہ بات تو ہم سب پہلے سے جانتے تھے۔ عام سا لفظ ہے۔ ہمارے لیے اس میں کچھ بھی نیا نہیں۔ تو میں بھی یہی عرض کرنے والا تھا۔ کہ جی بالکل عام سا لفظ ہے۔ اور بالکل اسی عام سے انداز میں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بھی ہے۔ جب رکشا والا ہم سے زیادہ کرایہ لیتا ہے تو وہ دھاندلی کا ہی مرتکب ہوتا ہے۔ جب سبزی والا مہنگے دام لگاتا ہے۔ تو وہ بھی دھاندلی ہی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس طرح موچی، نائی  اور میٹر ریڈر سے شروع ہو کر معاشرتی تقسیم کے مطابق درجات بڑھاتے جائیں۔ کلرک، سیکرٹری، افسر سے لے کے صدارت کے عہدے تک۔ ہر آدمی کی عملی زندگی کی شبیہ اٹھاتے جائیں۔ اور دیکھتے جائیں کہ حقائق کو چھپانے کا عمل کہاں کہاں رائج ہے۔ مکروفریب کے کیسے کیسے جال بچھے ہیں۔ اور دھوکا دینے کی کونسی کونسی عملی شکلیں قوانین کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔

ہارنے والی جماعت یا ٹیم کا کسی بھی کھیل میں ہار کر دھاندلی کا الزام لگانا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن ہمارا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم  نے اس لفظ کو صرف اور صرف انتخابی مہم سے جوڑ رکھا ہے۔ ہار گئے تو دھاندلی۔ اور یہ بات نہیں کہ دھاندلی ہوتی نہیں۔ ظلم تو یہی ہے کہ دھاندلی ہوتی ہے۔ کھلم کھلا ہوتی ہے۔ لیکن اک پل کے لیے سوچیے۔۔ کہ یہ لفظ مہنگے پھل سبزی خریدتے وقت کیوں نہیں یاد آتا۔ اسے ہم کیوں نہیں کہتے کہ میاں تم دھاندلی کر رہے ہو۔ منڈی کا ریٹ یہ نہیں۔ یہ دھاندلی کا راگ ہمیں اس وقت کیوں یاد نہیں آتا۔۔۔۔ جب سوئی گیس کا میٹر لگوانے کے لیے سرکاری فیس 3ہزار کے علاوہ ہم سے اک بہت بھاری رقم کا تقاضا کیا جاتا ہے۔  جب چھوٹے چھوٹے سرکاری کاموں کے لیے کلرکوں افسروں کی جیبیں بھرنی پڑتی ہیں۔ تب ہم کیوں وہاں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہتے۔۔ یہ لوگ کرپٹ ہیں۔۔ یہ لوگ دھاندلی کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہماری اندر کی منافقت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ دھاندلی اس لیے ہورہی ہے کہ جب ہم خود اختیار کی کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ تو انہی لوگوں کی کھال کھینچ اتارتے ہیں۔ اس لیے خاموشی ہمارے لبوں کی زینت بنی رہتی ہے۔

لیکن اس بار حالات مختلف ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگنا نئی بات ہے۔ نہ دھاندلی کا ہونا  ہی۔ "زبردست کا ٹھینگا سر پر"  یہ مقولہ قوم کو ہمیشہ ایسے موقعوں پر بھول جاتا ہے۔ جب اک انتہائی چھوٹے سے کاروبار سے منسلک آدمی اپنی دکان میں جو چاہے نرخ مقرر کرے۔ تو جس کو پورے پورے شہروں پر حکومت ہو۔۔ وہ وہاں اپنی مرضی کے کام کیوں نہ کروائے۔ اس سے اس دھاندلی کا حق چھیننے کا اختیار کس کو ہے۔ ان لوگوں کو جن کا خود کا اک اک لمحہ مکروفریب سے بھرا پڑا ہے۔

لیکن اس بار حالات مختلف ہوگئے۔ کیوں؟ کیوں کہ اب دھاندلی کا الزام لگانے والی وہ نوجوان نسل سڑکوں پر آگئی۔ جن کے دامن ابھی اتنے داغدار نہیں۔ جن کے ضمیر ابھی اس قدر مردہ نہیں ہوئے ۔ کہ وہ اس کو ماضی کی اک روایت کہہ کر خاموش ہوجائیں۔ یا یہ سوچ کر خاموش ہوجائیں کہ ہمارے خود کے بھی یہی کرتوت ہیں عمومی زندگی میں۔ تو سب ٹھیک ہے۔ یہ نوجوان نسل ابھی اس حقیقت سے آشنا نہیں۔ کہ یہ دھاندلی تو وہ طاقت ہے جو خون بن کر رگوں میں دوڑا کرے گی۔ ان کی خون ابھی اس طاقت سے محروم ہیں۔ وہ ابھی برائی کو برائی اور اچھائی کو اچھائی سمجھتے ہیں۔ ان کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی کہ زبردست کا ٹھینگا سر پر ہوتا ہے۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ بازوؤں پر بندھی سیاہ احتجاجی پٹیاں شاید ان ناسوروں کے لیے شرم و حیا کا پیغام لائیں گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ جس کی رگ رگ میں دھاندلی ہو۔ اک دن کی مزید دھاندلی اس کے اندر احساس جرم پیدا نہیں کرسکتی۔ اس کے ضمیر کو جگا نہیں سکتی۔ ان نوجوانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے۔ کہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ اپنی  رگوں میں اس کینسر کو نہ بڑھنے اور پھلنے پھولنے دیں۔ قوموں کی تاریخ میں پانچ دس سال کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ لیکن اگر یہ دھاندلی کے خلاف احتجاج انفرادی سطح پر جاری رہا. اور ہم نے اس کو اپنے معمولات میں نہ پھلنے پھولنے دیا تو انشاءاللہ مستقبل میں ان نعروں کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ دھاندلی اپنی موت آپ مر جائے گی۔ سورج طلوع ہوگا۔ اور بیمار ذہنیت سے لتھڑے  بے ایمانی اور فریب کو  موروثی خزانہ سمجھ کر غندہ گردی، بدمعاشی اور لسانی و علاقائی تعصب کو فروغ دینے والے بادلوں کی طرح چھٹتے جائیں گے۔ اجلے لوگ اور روشن چہرے اس ملک کا مستقبل لکھیں گے،  جن کے درمیان لسانی و علاقائی منافرت نہ ہوگی۔ انشاءاللہ