Saturday, 19 July 2014

شیف

0 comments
شام ڈھلنے کے قریب تھی۔ سامنے ٹی وی پر ایک ہی چینل بہت دیر سے چل رہا تھا۔ ہم کبھی ٹی وی پر نگاہ ڈالتے تو کبھی چند گز دور پڑے ریموٹ  پر۔ دل چاہ رہا تھا کہ اٹھ کر ریموٹ اٹھا   لیں۔  لیکن اس سے ہماری  سست طبع پر حرف آنے کا شدید امکان تھا۔اگرچہ گھر میں اور کوئی نہ تھا جو کہہ سکتا کہ اس نے خود اٹھ کر ریموٹ اٹھا یا ہے لیکن  کراماً کاتبین کو صرف اس کام کے لئے جگانا مناسب خیال نہ کیا۔ اورخود کوبھی  کیا جواب دیتے۔ کہ محض ایک ریموٹ اٹھانے کی خاطر ہی بستر سے جدائی اختیار کر لی۔ میاں کس بات پر خود کو امیرِ سستی کہتے ہو۔ کل یہی باتیں رہ جائیں گی۔ یہی مثالیں پیش کروں گے نوآموز پوستیوں کو۔ کیا منہ دکھاؤ گے باقی آلکسیوں کو۔ سستی کی معراج یہ ہے کہ یہ ریموٹ خود اٹھ کر تمہارے پاس آئے۔ ضمیر کی اس  متواتر پکار  سے سر میں بھی درد شروع ہوگیا تھا۔  لہذا سوچ کا محور ریموٹ سے بدل کر چائے کی طرف کیا۔ جو کہ  موجودہ صورت میں کے- ٹو سر کرنے سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھا۔  شام کی چائے بنانے کا منصوبہ ابھی ذہن میں ہی تکمیل پا رہا تھا کہ چائے ابھی  بنائی جائے یا کچھ دیر اور یونہی بستر سے محبت نبھائی جائےکہ دروازے پر دستک ہوئی۔
دروازہ کھلا ہے۔ ہم نے لیٹے لیٹے ہی اپنی لیٹی ہوئی آواز اٹھانے کی کوشش کی جو کسمساتی، رینگتی ہوئی باہر کھڑے شخص کے کانوں تک جا پہنچی۔ دستک دینے والا اندر آیا تو دیکھا کہ موٹا بھائی ہیں ۔ ہم نے فوراً لیٹے لیٹے مسکرا کر ان کا استقبال کیا۔ ہماری آلکسی بھلے معراج پر ہو لیکن اتنے بھی سست نہیں کہ چہرے کے تاثرات تک تبدیل نہ کر سکیں۔ مسکراتے ساتھ ہی  ہم نے ان سے عرض کی کہ جب ہاتھ ملانے کو ادھر آئیں تو راستے سے ریموٹ اٹھاتے لائیں۔ ہماری سستی کا یہ عالم دیکھ کر انہوں نے ایک بھرپور جمائی لی۔  اور ریموٹ اٹھا کر سامنے صوفے پر تشریف فرما ہوگئے۔ کہنے لگے۔تم سے ہاتھ ملانے کی حسرت کبھی بھی نہیں تھی۔ اور  ریموٹ کا بٹن دبانے سے عین ممکن ہے کہ تم میں چستی کی کوئی لہر دوڑ جائے۔ لہذا یہ کام میں خود ہی سرانجام دے لیتا ہوں۔ اور ہم جو موٹا بھائی کو فرشتہ و غیبی مدد اور پتا نہیں کون کون سے القابات سے نوازنے والے تھے۔' میر جعفر از بنگال صادق از دکن' کا مطلب پوچھنے لگے۔ موٹا بھائی ہماری اس گستاخی کو پس منظر کا شور گردانتے ہوئے ریموٹ کے بٹن دبا کر دیکھنے لگے کہ یہ کام بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ ہم نے ریموٹ کو بھلا کر واپس چائے کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ خیال آیا۔ اگر موٹا بھائی بھی چائے پینے پر رضامند ہوجائیں تو لطف رہے گا۔ 
"آپ چائے پئیں  گے؟"  ہم نے اپنی ساری طاقت مسکرانے پر صرف کرتے ہوئے کہا۔
"نہیں! میں چائے نہیں بناؤں گا۔" موٹا بھائی نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔
"عجب ہیں آپ! میاں ہم چائے پینے کا پوچھ رہے ہیں۔ اب گھر آئے مہمان سے کون چائے بنواتا ہے۔" ہم نے زبردستی حیرت اپنے اوپر طاری کرتے ہوئے کہا۔
"جو بھی ہے۔ میں چائے نہیں بناؤں گا۔" موٹا بھائی نے اسی لہجے میں جواب دیا۔
"حد ہوگئی! شرافت کا زمانہ ہی نہیں رہا۔  ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں کہ ہم چائے آپ سے بنوائیں گے۔" ہم نے موٹا بھائی پر آخری وار کرنے کی کوشش کی۔
"نہیں میاں! تم جو مرضی کہو۔ لیکن  اس بغیر کسی گوشے والے دماغ کے ہی تم کئی بار مجھ سے چائے بنوا چکے ہو۔ اور آج میں فیصلہ کر کے آیا ہوں کہ چائے نہیں بناؤں گا۔" موٹا بھائی  الزام تراشی پر اتر آئے تھے۔
"خودغرضی لوگوں کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہی ہے۔"  ہم نے ایک خبروں کے چینل پر ایک خبر دیکھ کر تبصرہ کیا۔
"ہاں بالکل! اب تو لوگ چائے بنانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔" موٹا بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"آپ کے اس رویے سے ہماری میزبان طبع کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔" ہم نے جذباتی حملہ کرنے کی کوشش کی۔
"ایسے ہی سہی۔" موٹا بھائی انتہائی بےرخی سے بولے۔
صبح سے کمر کو بستر سے جوڑ کر ہم نے طاقت جمع کی تھی ساری کی ساری صرف کر کےاٹھے  اور  کچن کا رخ کیا۔
"چائے پئیں گے آپ؟" ہم نے وہاں سے آواز لگائی۔
"بتایا تو ہے نہیں بناؤں گا۔" موٹے بھائی کی مسکراتی آواز  سنائی دی۔ غالباً انہیں اب تک اس بات پر یقین نہ آیا تھا کہ ہم واقعی چائے بنانے کی غرض سے باورچی خانے میں رونق افروز ہوچکے ہیں۔
ہم نے انتہائی تیزی اور پھرتی سے چائے بنائی۔ تاکہ بستر اور ہمارے درمیان ہجر کی گھڑیاں کم سے کم ہوں۔  موٹا بھائی کے سامنے ایک کپ دھرا اور دوسرا خود تھامے واپس اپنے بستر پر بیٹھنے ہی والے تھے کہ گھنٹی کی آواز نےہمارے چائے اور بستر کے درمیان کیدو کا کردار ادا کیا۔ باہر دیکھا تو  محلے کا اکلوتا چوکیدار فضلوکھڑا تھا۔
"کیسے ہو فضلو؟ کافی دن غائب رہے؟" ہم نے اس سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
ٹھیک ہوں صاحب!  بس وہ کچھ  کھا لیا تھا  بعد میں پتا چلا کہ وہ گلا ہوا ہے جس کی وجہ سے بہت بیمار رہا ہوں۔
فضلو کی عادت تھی کہ وہ اچھی بری ہر چیز بغیر پرواہ کئے  کھا جاتا تھا۔ صاف نظر آرہا ہوتا تھا کہ چیز خراب ہے لیکن وہ پھر بھی نگل جاتا۔ اپنی اسی عادت کی وجہ سے اکثر  و بیشتر بیمار رہتا  تھا۔ بارہا سمجھانے پر بھی جب اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو اہل محلہ نے سمجھانا چھوڑ دیا۔
ہم فضلو کو اس کی تنخواہ دے کر واپس آئے  تو کیا دیکھتے ہیں کہ موٹا بھائی ٹی وی پر چند لڑکیوں کو بڑے انہماک سے دیکھنے میں مصروف ہیں  جو کھانا بنانے میں مصروف تھیں۔
"تم کو کھانا بنانا آتا ہوگا؟  آخر کو ایک عمر تم نے گھر سے باہر گزاری ہے۔" موٹا بھائی نے لڑکیوں یا پھر کھانے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"جی نہیں۔" ہم نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔
"بنانا کیوں نہیں سیکھا۔"  موٹا بھائی نے  نظریں لڑکیوں سے ہٹانا گناہ  سمجھتے ہوئے پوچھا۔
"ہم صرف اچھا کھانا کھانے کے شوقین ہیں۔ اور چونکہ ہم کو اچھا کھانا بنانا نہیں آتا لہذا ہم اپنا بنایا کھا کر اچھا کھانے والی صلاحیت بھی کھونا نہیں چاہتے۔  " ہم نے وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
"میاں انسان گاتے گاتے گویا ہو ہی جاتا ہے۔ بناؤ گے تو آہستہ آہستہ بنانا آجائے گا۔" انہوں نے  ٹی وی پرکھانا بناتی لڑکیوں میں سے ایک پر نظر جماتے ہوئے  ناصحانہ  انداز میں کہا۔
"ہم میں صبر کی شدید کمی ہے۔" ہم نے اس نوجوان کے انداز میں کہا۔ جو چند بزرگوں کے درمیان گھر گیاہواور جان بچانے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔
"ہمم! اچھا سنو میں سوچ رہا ہوں کہ   شیف بنوں  اور اس  مقابلے میں حصہ لوں۔"  موٹا بھائی نےہماری طرف متوجہ ہوئے بغیر کہا۔
"اگر  آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال ہے کہ آپ کو ان لڑکیوں کی معرفت میں کام کرنے کا موقع ملے گا تو یقین کریں آپ بہت بھولے ہیں۔" ہم نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے ان پر جملہ چست کیا۔
"ان لڑکیوں کو کون دیکھتا ہے۔ میں کھانا بنانا سیکھوں گا اور اس مقابلے میں حصہ لے کر جیتوں گا۔"  موٹا بھائی نے اپنی نظریں لڑکیوں پر گاڑے گاڑے جواب دیا۔
اس عزم پر ہم نے حیرانی سے اس جثہ رستم کو دیکھا جو  کچھ بھی نیا سیکھنے کی عمر سے گزر چکا تھا۔
"آپ سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں!" ہم نے حیرت سے استفسار کیا۔
"ہاں! میں شیف بن کر رہوں گا۔ اور مقابلے میں حصہ بھی لازمی لوں گا۔" موٹا بھائی نےپلٹ کر  ہم کویوں  گھورتے ہوئے کہا۔  گویا اگر آج  تک وہ شیف نہیں تھے تو ہمارا ہی قصور تھا۔
"لیکن جہاں تک اس خاکسار کا خیال ہے کہ آپ کچھ بھی بننے کی عمر سے گزر چکے ہیں۔ "
"ہنہہ! نہیں میاں! تم کو معلوم نہیں کہ میرے اندر کتنا ٹیلنٹ چھپا ہے۔ "
ہم نے ایک نظر دوبارہ ان کے ٹیلنٹ زدہ جثے پر ڈالی۔ اور انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔" مشکل ہے!"
غصہ سے دوبارہ لڑکیوں پر نظریں جما لیں۔ کہنے لگے۔" کیا مشکل ہے! کسی کے جسامت دیکھ کر تم اندازہ لگاؤ گے کہ وہ اچھا شیف ہے یا نہیں۔ "
"نہیں۔ میری معلومات ذرا کم ہیں۔ شیف کا کام کیا ہوتا ہے۔"
فخر سے گردن اکڑا کر کہنے لگے۔ "میاں! بڑے بڑے ہوٹلوں میں شیف ہی ہوتا ہے۔ "
"اس کو باورچی بھی کہہ سکتےہیں؟ "
ذرا غصہ سے پہلو بدلتے ہوئے۔" تم نے کبھی کسی بڑے ہوٹل میں کھانا نہیں کھایا؟"
"کھایا ہے۔" ہم نے جلدی جلدی ہوٹلوں کے نام گنوانے شروع کر دیے۔
"بس بس! آگیا یقین کہ تمہیں بھی کسی نے اندر گھسنے دے دیا ہوگا۔ خیر وہ کھانا جو تم کھا آئے ہو۔ وہ شیف بناتا ہے۔" فخر سے بولے۔
"اوہ! اچھا۔ وہ اتنا بیہودہ اور مہنگا کھانا شیف بناتا ہے۔ ویسے تو آپ بن سکتے ہیں۔ اگر ذائقہ شرط نہ ہو تو آپ میں بھی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ "
بھڑک کر بولے۔ " کھانا بنانا آرٹ ہے۔ "
"کل تک تو عشق بھی آپ کی نظر میں آرٹ تھا۔ لیکن اس عمر میں اچھا بنانا کہاں سے سیکھیں گے۔ اچھا تو ایک طرف برا بنانا بھی کچھ ایسا سہل نہیں۔ کیا مخلوق خدا کے ہاضمے پر تجربات کے لئے کسی ادارے سے کوئی مالی امداد ملی ہے۔ یا  کسی امراض معدہ کے ڈاکٹر سے دوستی گانٹھ لی ہے۔ " موٹا بھائی کو مایوس کرنا ہماری گفتگو کا مقصد ہوچلا تھا۔
میری تمام تر گستاخیوں کو نظرانداز کر کے رازدارانہ انداز میں بولے۔ "باقاعدہ درس لینے کا ارادہ ہے۔ "
"کہاں سے؟" ہم نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔
انتہائی خوشی سے ایک بڑے ہوٹل کا نام بتاتے ہوئے۔ "  میں نے فیس، کلاسز کے اجراء اور داخلہ کی شرائط بھی پتا کر لی ہیں۔"
"ہیں!! تو گھر کھانا بناتے کیا موت پڑتی ہے۔بچت بھی ہوگی اور بھابھی کا بھی بھلا ہوجائے گا۔ " ہم نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔
"تم نہیں سمجھو گے۔ کتنے لوگوں کے لئے کتنا بنانا ہے۔ پیش کیسے کرنا ہے۔ یہ سب وہیں سکھایا جاتا ہے۔ " موٹا بھائی نے ہمیں دنیا کا آخری بیوقوف سمجھ کر سمجھانے کی کوشش کی۔
"تو آپ زیادہ لوگوں کے لئے کھانا بنانا چاہتے ہیں؟ ہوٹل کھولیں گے؟" ہمارے لہجے میں حقیقی حیرت عود کر آئی تھی۔
"نہیں۔ میں یہ مقابلہ جیت کر ملک کا بہترین شیف بنوں گا۔" وہ ہماری جہالت پر برہمی سے بولے۔
"کیا آپ اس عزت افزائی کے متحمل ہو سکتے ہیں جو مقابلے میں شریک لوگ برداشت کرتے ہیں۔ " ہماری حیرت کا سلسلہ جاری تھا۔
"ہاں! تنقید اگر مثبت ہو تو نکھار لاتی ہے۔" انہوں نے اپنا سر یوں ہلایا جیسے کسی ہانڈی میں ڈوئی ہلائی جا رہی ہو۔
"یہ کتابی باتیں ہیں۔ عملاً ان لوگوں کے چہروں پر اذیت کبھی محسوس نہیں کی آپ نے۔" ہم نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
"نہیں میاں۔ یہ تو سننے والے منحصر ہے کہ وہ تنقید کو مثبت لیتا ہے یا منفی۔ ظاہر ہے اصلاح کا عمل ضروری ہے۔ "
"ہمم۔۔۔بفرض محال آپ جیت گئے۔ اس کے بعد؟" ہم نے  بھولپن سے پوچھا۔
"بفرض محال ہی کیوں؟ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں نہیں جیت پاؤں گا۔" موٹا بھائی تیزی سے بولے۔
"چلیں جی یقیناً آپ جیت جائیں گے۔ اس کے بعد؟" ہم نے آگے کی منزل جاننے کو بحث سے بچنے کی کوشش کی۔
"اس کے بعد کسی بڑے ہوٹل میں ملازمت کروں گا۔" فخریہ انداز میں بولے۔
"یاحیرت! یعنی باورچی بن جائیں گے؟ "  ہم نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا جو اب سائبریا سے درآمد شدہ لگ رہی تھی۔
"شیف میاں شیف! تمہیں معلوم ہے کبھی کسی  ہوٹل میں جا کر کھانا بنانا تو کبھی کسی میں۔ کبھی کوئی گاڑی لینے آرہی ہے تو کبھی چھوڑنے۔ وقت پر وقت دیے جا رہا ہوں گا۔ اس وقت ممکن نہیں۔ آج اس وقت تک میسر ہوں۔ دولت کی ریل پیل۔ الغرض کتنے ہی فوائد ہیں جن کا تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ اور سب سے بڑا لطف مرکز توجہ ہونے کا۔ بئی واہ۔" انہوں نے خیالی پلاؤ کی دیگ میں زور زور سے چمچ ہلاتے ہوئے کہا۔
"مصالحے بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ ہاتھ ہلکا رکھیں۔ "ہم نے دست بستہ عرض کی۔
"پورے ملک میں میرا نام ہوگا۔ عزت ہوگی۔" انہوں  نے اسی کیفیت میں بات جاری رکھی۔
"تو کیا اب آپ کی عزت نہیں ہے۔" ہم نے بھی مسکراتے  ہوئے جملہ کسا۔
"تم اس طرح کی باتوں سے مجھے مایوس نہیں کرسکتے۔اس وقت سے ڈرو جب تمہیں اپنے خاص مہمانوں کے لئے میری خدمات کی ضرورت ہوگی اور میرے پاس تمہاری بات سننے کا بھی وقت نہیں ہوگا۔" انہوں نے ہماری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پرغرور لہجے میں کہا۔
"شادی بیاہ کا بھی بنا لیں گے؟ " ہم نے شرارت سے پوچھا۔
ہمارے لہجے کی شرارت نظر انداز کر کے فرمانے لگے۔ "ہاں! شادی بیاہ پر بھی پکا سکوں گا۔ "
"مطلب خاندان میں شادی پر نائی کا خرچہ نہیں ہوگا۔ " ہم نے اسی شرارتی انداز میں کہا۔
چراندے ہو کر کہنے لگے۔" کیا اول فول بک رہے ہو۔"
عرض کی۔" ہمارے تو شادی بیاہ کا کھانا نائی ہی بناتے ہیں۔" .
"تم لوگ جاہل ہو۔ اجڈ ہو۔ پرانے خیالات کے مالک ہو۔ " موٹا بھائی انتہائی برہمی سے بولے۔
"اگر نام بدل دیں۔ اور نائی یا باورچی کو شیف کہیں تو آپ کو اعتراض نہ ہوگا۔" ہم بھی شرارت پر تلے تھے۔
سخت غصہ سے ہونٹ بھینچ لئے۔ کوئی جواب نہیں۔
"اچھا چھوڑیں نائی کو۔ ہمارے لوگ ذرا پرانے خیالات کے مالک ہیں۔ اگر آپ کسی جگہ سج دھج کر جائیں۔ اور لوگ سوال کر بیٹھیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ تو کیا جواب دیں گے؟"
کہنے لگے۔ "تمہاری سب شیطانی  سمجھ رہا ہوں۔ کہوں گا کہ فلاں بڑے ہوٹل میں بڑا شیف ہوں۔ " زور بڑے پر تھا۔
"مطلب اگلا سوال کہ شیف کیا ہوتا ہے کا جواب کیا دیں گے؟"
"کہہ دوں گا وہاں کھانا بناتا ہوں۔ "
"یعنی نائی ہوں۔ یا باورچی۔ "
"حد ہوگئی۔ تمہاری سوئی اس  سے آگے کیوں نہیں بڑھتی۔ " بھڑک کر بولے۔ چائے کا کپ بھی واپس رکھ دیا۔ ختم جو ہوگئی تھی۔
"اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک بار شادی پر سردار کے برابر کرسی پر نائی بیٹھ گیا تھا۔ تو سردار وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ کہ آئندہ کبھی ان کی شادی میں نہیں آؤں گا۔ میرے برابر میں نائی کو بٹھا دیا ہے۔ " ہم نے ان کی معلومات میں اضافہ کرنے کی غرض سے کہا۔
"تم کچھ بھی کہہ لو ۔ لیکن یہ میرا شوق ہے۔ اور اب سے جنون بھی" ان کا لہجہ اٹل تھا۔
"آپ کو کتنا یقین ہے کہ آپ ایک اچھے شیف بن سکتے ہیں۔ " ہم نے ان کے عزم کو دیکھ کر موضوع بدلنے کی نیت سے پوچھا۔
"لو !  کیسی بات کی۔ ابھی کل ہی میں نے کھانا بنایا تھا۔ فضلو چوکیدار کو کھلایا تھا۔ وہ تو بلے بلے کر رہا تھا۔  اور کہہ رہا تھا کہ آپ بہت اچھے کھانے بناتے ہیں۔ "
ہم اپنی سائبرین چائے کو حلق میں انڈیلنے  لگے۔ بحث ختم ہوچکی تھی۔ ظاہر ہے  اب فضلو کی مہر کے بعد تو  نامور شیف بننے میں کوئی رکاوٹ ہی باقی نہیں رہی  تھی۔

Thursday, 17 July 2014

ایک بہت پرانا دور تھا​

2 comments

ایک بہت پرانا دور تھا

ایک بہت پرانا دور تھا۔ اتنا پرانا کہ پرانے لوگ بھی اس کو پرانا کہتے تھے۔ ایسے ہی ایک دور میں دو دوست کہیں جا رہے تھے۔ اس دور کی خاص بات یہ بھی تھی کہ کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ کوئی پوچھتا نہ تھا کہ کہیں سے کیا مراد ہے؟ آج کے دور کی طرح سوال جواب نہیں ہوتے تھے کہ کہیں بھی جاؤ تو بتا کر جاؤ ، کہاں جا رہے ہو۔ بس کہیں کا مقصد کہیں ہوتا تھا۔ ایسے جانے والے دوست کبھی تو چند دن میں لوٹ آیا کرتے تھے۔ اور کبھی مدتوں نہیں لوٹا کرتے تھے۔ بس راہ جانے والوں کو لوٹا کرتے تھے۔ اور اس رقم سے سرائے بنوا کر غریبوں کو مفت دعائیں اور امیروں کو روپے لے کر کھانا دیا کرتے تھے۔ یہ دو دوست بھی حالات سے ننگ، گھر والوں کے ہاتھوں تنگ کہیں کو چل پڑے۔ کہیں تو کوئی بھی جا سکتا تھا۔ اس کے لیے اسبابِ راہ و سواری وغیرہ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تھی۔ یا اگر ہوتی تھی تو پرانے حکایت بیان کرنے والے اس کو اضافی سمجھتے تھے۔ سو ہم بھی طول نہیں کھینچتے۔
ہاں تو ہم تذکرہ کر رہے تھے ان دوستوں کا۔ جو کہیں نکل پڑے تھے۔ راہ میں ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے وقت کٹ رہا تھا کہ مذاق کرتے کرتے دونوں سنجیدہ ہوگئے۔اورتاریخ شاہد ہے کہ جب جب لوگ سنجیدہ ہوئے ہیں۔ لڑے ہیں۔ سو اسی روایت کو قائم رکھنے کو یہ دونوں بھی لڑ پڑے۔ جب ایک نے دیکھا کہ دوسرا زبانی اس پر بھاری پڑ رہا ہے تو اس نے دوسرے کے منہ پر ایک شاندار قسم کا طمانچہ رسید کر دیا۔ گاؤں یا محلہ ہوتا تولڑائی خوب بڑھ جاتی تاوقتیکہ کوئی تیسرا آکر سمجھاتا، یا پھر فوراً کوئی بیچ بچاؤ کرانے آ پہنچتا۔لیکن وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا اور اس بات کا دونوں کو بخوبی ادراک تھا۔ لہذا دوسرے دوست نےجو صحت میں بھی کمزور تھا لڑ کر خود کو تھکانے اور مزید مار کھانے کی بجائے ریت پر لکھ دیا ۔ آج میرے کمینے، رذیل اور منحوس دوست نے میرے منہ پر تھپڑ مارا۔ باقی دل پر کیا لکھاکیا نہیں۔ اس کو پڑھنے یا جاننے کا راوی کے پاس کوئی وسیلہ نہیں۔ گرچہ کچھ پرانے حکایتی بیان کرتے ہیں کہ اس نے یہ بات دل پر پکی ووٹروں والی سیاہی سے لکھ لی تھی۔ لیکن محض ایک مبہم تاریخی حوالے کی وجہ سےہم کسی کے دل میں جھانکنے کا دعواٰ کرنا نہیں چاہتے۔
اس کے بعد دونوں آگے چل پڑے۔ کچھ دیر خاموش رہےلیکن کب تک خاموش رہتےکہ بات کرنے کو تیسرا تو کوئی تھا نہیں۔ سو انہوں نے سوچا کہ بجائے منہ خراب کر کے پڑے رہنے کے کیوں نہ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ وہ دوست جس نے تھپڑ مارا تھا۔اس نے کہا یار دیکھ! ارادہ تھپڑ مارنے کا نہیں تھا۔ لیکن تو ایک غصیلی بیگم کی طرح بےتکان بولے چلا جا رہا تھا اور تجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ تو زبان دراز ہے اور میں ہتھ چھٹ ہوں۔ اور ہاتھ قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ سو تجھےچپ کرانے کو ایک لگانی پڑی۔ اس بات پر دل میلا نہ کر۔ اپنے پاس تو کپڑے دھونے کو کوئی چیز نہیں۔ دل کہاں سے دھوتے پھریں گے۔ دوسرے دوست نے بظاہر ایک مسکان اور چند مغلّظات اس کے قصیدے میں پڑھ کر ظاہر کیا کہ وہ ناراض نہیں ہے۔
آگے جاتے جاتے دونوں ایک دریا کنارے تک جا پہنچے۔ تھپڑ کھانے والا دوست طبیعت بحال کرنے کو دریا میں اتر گیا۔ بیوقوف آدمی تھا۔ جب تیرنا نہیں آتا۔ تو دریا میں اترنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تھی۔ لیکن اتر گیا۔ ایک شوخ و چنچل لہر اس پر عاشق ہوگئی اور اس نے فورا سے پہلے اس کو آغوش میں آچھپایا یوں کہ وہ اس کے وجود میں یوں ڈوب جائے کہ اس کے سوا نہ کچھ دیکھ سکے اور نہ سوچ سکے۔ اور حقیقت میں نہ سانس لے سکے نہ آہ بھر سکے۔ عجب بیگم مزاج لہر تھی۔ وہ اس کی شوخی کی تاب نہ لا سکا۔ اور  اس کی آغوش میں ڈبکیاں لگانے لگا گویا فنا فی اللہر کی منازل طے کر رہا ہو۔دوسرے دوست نے جب اس کو ڈبکیاں کھاتے دیکھا۔ توایک نعرہ مارا۔ اوئے مریں نا۔ میں آیا۔ چھلانگ ماری اور اس کوسر کے بالوں سے پکڑ کر کنارے کی طرف کھینچنے۔ اور آخر کار اس کو باہر کھینچ لانے میں کامیاب ہوگیا۔
کچھ دیر بعد جب ڈوبتے دوست کے حواس درست ہوئے۔ تو اس نے ہتھوڑی اور کیل کی تلاش شروع کی۔ لیکن اس بیابان میں کیل ہتھوڑی کہاں سے آتی۔ آخر ایک گھوڑے کی نعل اس کے ہاتھ لگ گئی۔ اور اس نے اسی کی مدد سے ایک پتھر پر لکھ دیا۔ کہ آج میرے سب سے کمینے دوست نے میری جان بچائی۔ دل والی بات پر ہم دوبارہ کوئی بیان دینے سے خود کو معذور پاتے ہیں۔
پہلا ہتھ چھٹ دوست یہ حرکت دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا کہ پہلی بار تو نے ریت پر لکھالیکن تیرے دل کاغبار ہلکا نہیں ہوا۔ بلکہ تو اب مجھے سب کے سامنے گالیوں سے نوازنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے خیر! مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ دوسری بار تو نے پتھر پر لکھ دیا۔ لیکن اس بات کا تذکرہ تو سب کے سامنے بےعزت کرنے کے بعد گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کو کرے گا۔ یہ پرانی حکایتوں والی ڈرامہ بازی کر کے تو کیا ثابت کرنا چاہ رہا ہے۔ یہ بات سن کر دوسرا دوست ہنسنے لگ پڑا۔ اور کہنے لگا کہ آہ! تو کتنا ٹھنڈا کمینہ ہے۔ یہ بات سن کر پہلا بھی ہنسنے لگ پڑا اور کہنے لگا کہ جب تجھے معلوم ہے کہ مجھے سب معلوم ہے تو بلاوجہ سائنسدان کیوں بن رہا ہے۔ اور وہ دونوں ہنسی خوشی "کہیں" کے راستے پر گامزن ہوگئے۔
اخلاقی سبق: یہ دو دوستوں کی روزمرہ بکواس کی داستان ہے۔ اس میں سے اخلاقی سبق ڈھونڈنا دورجدید کی اداکاراؤں کے جسم پر لباس ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ سو بلاوجہ زحمت مت کیجیے۔

Tuesday, 15 July 2014

یہ شاخِ نور جسے ظلمتوں نے سینچا ہے

6 comments
عہد حاضر بلاشبہ خون ریزی و فساد کا دور ہے۔ جدھر جدھر نگاہ جاتی ہے لاشے نظر آتے ہیں۔ کوئی سر بریدہ بچہ تو کوئی جسم  بریدہ بوڑھا۔ کہیں خون کا تالاب تو کہیں اعضاء در و دیوار سے چپکے ہوئے۔ کوئی زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کرنے کو زندہ درگور کیا جا رہا ہے۔ تو کوئی بیٹا اپنی ماں کی لاش کے پاس اس امید سے بیٹھا ہے کہ ابھی ماں اٹھ کر اس کو سینے سے لگا لے گی۔ اس ظالم و جابر دنیا کے ظلم و جبر سے بچا لے گی۔ کوئی زخمی اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی آنتوں کو سنبھالے ہے۔ تو کوئی اپنے ہی زخم پر مرحم رکھنے کے واسطے بھی دوسرے ہاتھ کا محتاج ہے۔ کوئی کافر ہونے کے ارزاں فتوے کا شکار ہے تو کوئی خود کو مسیح اور دوسروں کو دجال سمجھے دنیا کو پاک کرنے کے کام پر مامور ہے۔ اس مسلسل بربریت کے مناظر نے ہم سے ہمارا احساس چھین لیا ہے۔ اب ہماری  راتیں اس سوچ میں نہیں گزرتیں کہ آج جو ہوا وہ سانحہ تھا۔ وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے دل نے اس رمز کو پا لیا ہےکہ جو ہوا وہ ہونا ہی تھا۔ اب ہماری  پلکیں ان مناظر کو دیکھتے دیکھتے ہی بوجھل ہو جاتی ہیں۔ اور ہم نیند کی وادیوں میں اتر جاتے ہیں۔ ہم یہ خونی داستانیں  سنتے سنتے  سو جاتے ہیں۔ اور اٹھ کر پھر سے داستان وہی سے سننا شروع کر دیتے ہیں جہاں نیند کی دیوی نے سماعتوں سے بےنیاز کر دیا تھا۔
میرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا سو ہے اب تک
مگر اس عالمِ وحشت میں ایمانوں‌ پہ کیا گزری
ایک بےحسی ایک وحشت طاری ہے۔ جانے کب کس کا دل کرے  اور لاشوں سے بازار پٹ جائے۔ قاتل کب دیکھتے ہیں کہ سہاگ تھا۔ نومولود تھا۔ یا پھر معاشرے کا ناسور تھا۔وہ تو بس اپنی وحشی طبع کی تسکین کرتے ہیں۔اور  جسم کو عبرت کا نشان بنانے کو چھوڑ جاتے ہیں۔ لاشیں گرائی جاؤ۔ لاشیں اٹھائی  جاؤ۔ بقول جون ایلیا "جشن کے ساتھ سوگ مناؤ۔ سوگ کے ساتھ جشن مناؤ۔" ایسے میں جب کبھی اپنے ماحول پر نظریں دوڑاؤ۔ اردگرد بستے لوگوں کو دیکھو۔تو دل بےاختیار قہقہے لگانے لگتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیسا خوش قسمت ہے۔ اس دور پر آشوب میں ہنسی اس کے ہونٹوں پر ہے۔ لیکن اس ہنسی سے پہلے کتنا خون تھوکا گیا ہے۔ اس پر کسی کی نگاہ نہیں جاتی۔
انبیاء کی سرزمین خون میں رنگی جا رہی ہے۔ کتنے ہی نومولود ہیں۔ جن کے جسم تک نہیں ملے۔ کتنے ہی سہاگ ہیں۔ کتنی ہی مائیں ہیں۔ بوڑھے بچے جوان۔ الغرض کون ہے جس کے خون سے زمین سیراب نہیں کی جا رہی۔ اور یہاں میرے معاشرے کے اہل درد کس قدر سرعت سے الزام ایک دوسرے کے کندھے پر رکھنے کو کوشاں ہیں۔ ان کا درد کس طریق سے ابل رہا ہے۔ ایک گرو پکار رہا ہے۔ ڈوب مرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری تھی۔دوسرا واویلا کر رہا ہے۔  نہیں تم ڈوب مرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری تھی۔ ایک مسجد سے صدا بلند ہو رہی ہے۔ اے اللہ! یہ فلاں و فلاں و فلاں مر جائیں۔ ان کی وجہ سے آج اہل فلسطین برباد ہیں۔ دوسری مسجد سے رقت آمیز دعائیں کی جا رہی ہیں۔ اے مولا! رسوا کردے ان کو۔ کہ ان کی وجہ سے ہی آج اہل یہود غالب ہیں۔اپنے اپنے فرقوں اور مسالک کا بوجھ لئے اپنے بغض کی نکاسی میں مصروف ہیں۔ کہ اگر یہ چپ رہیں تو مر جائیں۔ اس قدر بغض و نفرت کے بعد بھلا کون خوش رہ پایا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک وہ گروہ ہے جس کے نزدیک جرم مارنے والے کا نہیں مرنے والے کا ہے۔ کہ کیوں مر گیا۔ جب دیکھ لیا کہ بم آرہا ہے۔ بارود آ رہا ہے۔ تو ایک طرف کیوں نہ ہٹ گیا۔ مصلحت کو کیوں نہ اپنایا۔ اب مرنے پر واویلا کیوں۔انسانوں کے اس روپ سے انسانیت خود نوحہ کنا ں ہے۔ 
مظلوم ان تماش بینوں کی طرف حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کچھ کر نہیں سکتے لیکن ہمارے درد میں شریک ہیں۔ جبکہ اس معاشرے میں بسنے والوں کی حالت اس گروہ کی سی ہے جو طوائف کا مجرا نہیں دیکھ سکا تو اب دیکھنے والوں سے قصے سن کر حظ اٹھا رہا ہے۔
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
میں ان مقتولوں، مظلوموں آس لگائے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم ان کی طرف حسرت و امید سے مت دیکھو۔ یہ وہ گروہ ہے کہ جب ان کے بازار میں معصوم بچے ڈنڈے مار مار کر قتل کئے جا رہے تھے تو یہ تماش بینی میں مصروف تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں۔ جو ایک ریپ کے بعد لٹکائی گئی لڑکی کی لاش پر یہ سوچتے رہے کہ مقدمہ درج ہونا چاہیے کہ نہیں۔ کہیں ریپ اور قتل کرنے والا گروہ امیر ہوا تو مقدمہ درج کرنے والوں کا ریپ ہوجائے گا۔ یہ وہ تماش بین قوم ہے جو غریب کے دو سال کے بیٹے کو ٹریکٹر کے نیچے کچل کر اس کو مرتے اور تڑپتے دیکھ کر لطف لیتی ہے۔اور اپنے خاموش رہنے کے لئے ایک سے ایک تاویل تراش لیتی ہے۔  ماں باپ کے سامنے بیٹیوں کی عزت لوٹتی ہے اور پھر اپنے گناہ کی مزید تشہیر کے لئے سب کو قتل کرتی ہے۔ یہ صرف اور صرف فریق مخالف کو گالیوں سے نواز سکتے ہیں۔ یہ سگانِ سیاست کے لئے دن رات مباحث کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس تمہارے لئے وقت کہاں ہے۔ ان کو تو اپنے اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماؤں کو ولی ثابت کرنا ہے۔ یہ ان سیاسی مداریوں کے جھوٹے وعدوں کو وقت کی پکار کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک گناہ صرف وہ ہے جو کوئی ایک آدمی کر رہا ہو۔ اگر سب اس  میں ملوث تھے یا رہے ہیں تو گناہ نہیں رہا۔ اس قوم سے بھلائی کی امید جو قبروں سے لاشیں نکال کر ان کی بےحرمتی کرتی ہے۔۔ اس قوم سے امید۔ اس قوم سے رحم کی توقع۔اس قوم سے مدد کی آس۔ جو آج تک اپنے لئے نہیں لڑ پائے وہ کسی اور کے لئے کیا لڑیں گے۔  اگر تم ان کے پاس فریاد لے کر آؤ گے تو یہ محض دوسرے گروہ کو گالیاں دے کر تمہاری تشفی کا سامان کریں گے۔    
وجہِ بے رنگیِٔ گلزار کہوں یا نہ کہوں!
کون ہے کتنا گنہگار کہوں یا نہ کہوں!
شیطان ہنس رہا ہے۔ رقص میں ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک پورا گروہ جو پچھلی چند دہائیوں میں لکھ پتی سے عرب پتی بنا ہے۔ رقصاں ہے۔ موت، بےبسی،غربت اور  جہالت اپنے پر پھیلاتی چلی جا رہی ہے۔ تاریکی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔انسانیت ظلم کے پنجہ میں بے بس ہے۔ بےحسی رگوں میں لہو بن کر رواں ہے۔ آدمیت نوحہ کناں ہے۔ اوروہ ذات جبار و قہار، رحمن و رحیم توبہ کا منتظر ہے۔ سچی توبہ کا۔اس کی صفتِ کریمی  کسی سچے سائل کی منتظر ہے۔ اجالا منتظر ہے۔ مگر تاریکی کے دیوانے ظلمت کو اپنا کر اس قدر خوش ہیں کہ اجالے کی کرنوں سے اب ان کا دم گھٹنے لگا ہے۔اب تاریکی کے سفر کو اوج ملنے والی ہے۔

Sunday, 6 July 2014

باکمال بزرگ - قسط پنجم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

6 comments
گزشتہ سے پیوستہ:

وہ خوراک والے قصے تو رہ ہی  گئے۔ ایک نوجوان ہاتھ ملتے ہوئے ملتمس ہوا۔ بھئی آج تو میں بہت تھک گیا ہوں۔ ویسے بھی رات شروع ہو گئی ہے۔ اس قصے کو کسی اور دن پر اٹھا  رکھو۔ چند دن گاؤں کے نوجوانوں کی زبان پر انہی لوگوں کے قصے تھے۔ اور ہر کوئی اپنے اپنے مزاج کے مطابق لطف اٹھا رہا تھا۔ کہ ایک دن راقم الحروف نے بزرگ کو دوبارہ چوپال میں چھاپ لیا۔ اور کہا کہ آج ادھورے قصے سنے بغیر ہم نہ جائیں گے۔ باقی سب نے بھی بھرپور تائید کی۔ اور بزرگ کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ چوپال سج گئی۔ بزرگ کے حقے کی چلم بھری گئی اور حقے کے دو چار کش لگانے کے بعد وہ کچھ یوں گویا ہوئے۔
بھئی بات یہ ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے۔ تو کیا زندگی تھی۔ بہت ہی سادہ اور زبردست۔ آج کے دور کی طرح تصنع سے عبارت نہ تھی۔ ماں نے صبح اٹھ کر گھر میں جھاڑو دینا۔ پھر بھینسوں کا دودھ دوہنے کے بعد اپلے جلا کر ابلنا رکھ دینا۔ اور ساتھ ہی ساتھ جھاڑو سے بھی فارغ ہوجانا۔ اتنی دیر میں فجر کی اذانیں ہو جاتی تھیں۔ تو ہم بھی نماز پڑھنے کو اٹھا جایا کرتے تھے۔ نماز کے بعد وہیں مسجد میں ناظرہ پڑھتے۔ اور پھر گھر کو لوٹ آتے۔ خیر یہ سب باتیں تو چلتی رہیں گی میں تمہیں ایک مزے کی بات سناتا ہوں۔
خوش خوراکی میں ہمارا گاؤں بہت مشہور تھا۔ اللہ بخشے ہمارے تایا مرحوم کو ایک روٹی کا ایک نوالہ بنایا کرتے تھے۔ کبھی بہت ہوا تو دو کر لیے۔ اس وقت روٹی بھی بڑی بنتی تھی۔۔۔ یہ چھوٹے چھوتے توے نہ تھے۔ بلکہ ایک بڑی سی توی ہوا کرتی تھی۔ جس پر اکھٹی چار پانچ روٹیا ں پکائی جاتی تھیں۔  گھر کی خواتین تین اطراف میں بیٹھ جاتیں۔ اور اوپر روٹیاں بناتی چلی جاتیں۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ تایا جی بڑے خوش خوراک تھے۔ دودھ کے بڑے شوقین تھے۔ روزانہ صبح کوئی سات آٹھ کلو دودھ پیا کرتے تھے۔ اور اس کے بعد ناشتہ کرتے۔ اکثر بلونے کے دوران ہی چاٹی  منہ کو لگا کر ساری لسی پی جاتے اورسارے  مکھن کے گولے بنا بنا کر کھاجاتے۔  اگر ان سے پہلے کوئی اور مکھن یا لسی پر ہاتھ صاف کر جاتا تو بڑا ناراض رہتے۔ پورا دن طبیعت پر بیزاری رہتی۔ دادی مرحوم ان کی خوراک کو ہاتھی کی خوراک سے تشبیہ دیا کرتی تھیں۔ کھانا بہت عجلت میں کھایا کرتے تھے۔ اور منہ میں لقمے پر لقمہ ڈالتے چلے جاتے۔ بعض اوقات تو اس طرح کھاتے کہ سانس لینے کا باقاعدہ وقت نکالنا پڑتا تھا۔ ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تایا کے سامنے بکرے کے گوشت سے ایک کڑاہی بھری رکھی تھی۔ کھاتے کھاتے سانس اکھڑ گئی۔ تو اشارے سے مجھے کہنے لگے۔ جلدی جلدی پانی دے۔ میں نے بھی مٹکا اٹھا کر دے دیا۔ مٹکا منہ کو لگایا اور ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔ ان کے اس واقعے کے بعد میں نے خاندان میں مشہور کر دیا کہ تایا کھانا کم کھاتا ہے اور ریس زیادہ لگاتا ہے۔ان کو ایک بہت پرلطف واقعہ سناتا ہوں جو کچھ یوں ہے کہ ہماری دادی نے ان کو ایک بڑے گیلن میں دیسی گھی ڈال کر دیا۔ جو کہ انہوں نے دوسرے گاؤں اپنی خالہ کے گھر پہنچانا تھا۔ خالہ کا گاؤں کافی دور تھا۔ چنانچہ تایا مرحوم صبح سویرے گیلن اٹھا کر گھر سے نکل گئے۔ دوپہر کے قریب ہی واپس آگئے۔ اور آکر سو گئے۔ گھر والوں نے دیکھا تو گیلن خالی تھا۔ دادی نے پوچھا کہ کوئی بیس کلو گھی تھا۔ آخر گیا کہاں۔ کیا گر گیا۔ شام کو اٹھے تو یہی سوال جواب کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ تو تایا کہنے لگے کہ جب میں یہاں سے نکلا تو میں نے سوچا کہ یہ جو درختوں کا جھنڈ ہے۔ اس کے اندر سے راستہ مختصر ہے۔ یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ ابھی درمیان میں ہی پہنچا تھا کہ چند ڈاکو مجھے اپنی طرف آتے نظر آئے۔ میرے پاس اور تو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ گھی ہی تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ گھی ہی لے جائیں گے۔ سو وہیں گیلن کا ڈھکن ہٹایا اور سارا گھی پی گیا۔ یہ منظر دیکھ کر ڈاکو وہاں سے بگٹٹ بھاگ اٹھے۔ گیلن خالی کرنے کے بعد آگے جانے کی کوئی وجہ نہ رہتی تھی سو واپس آگیا۔ ہمارے خاندان میں ڈاکوؤں کا بڑا مذاق اڑایا جاتا رہا کہ گھی پیتا دیکھ کر بھاگ گئے۔

چوپال میں سب نوجوانوں کے منہ کھلے ہوئے تھے اور حیرت زدہ ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔

(جاری ہے۔)

Wednesday, 2 July 2014

خاک نشیں کو پرواز کا تخیل بھی عجب ہے

2 comments
خاک نشیں کو پرواز کا تخیل بھی عجب ہے۔
علم کی بنیاد پیمانہ خالی رکھنے پر ہے۔ صاحب علم کے سامنے جوں جوں ادراک کی گرہیں کھلتی ہیں، اس کو اپنا پیمانہ اور بھی خالی نظر آنے لگتا ہے۔ ہوس بڑھتی ہے کہ مزید کچھ اس پیمانے میں ڈالا جائے۔ جوں جوں آگہی کے باب کھلتے ہیں اپنی کم علمی کھل کر سامنے آتی جاتی ہے۔ دل مزید کی تمنا کے لیے تڑپتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معاملے پر بلند پروازی اس کو عجب نظر آتی ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ آگہی کے فلک پر کتنے ہی ضیغم ہیں جو اس کو زیر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ صاحب علم ان کی بلند پروازی کے مشاہدے میں غرق ہو جاتا ہے اور یوں علم اس کے اندر انکساری کو پروان چڑھاتا ہے۔ یہ انکساری خشیت اور الہی کی اطاعت لے کر آتی ہے۔ کہ علمی ذہن جب مظاہر کے مطالعہ میں غرق ہوتا ہے۔ تو اس کو اپنی ذات تنکا نظر آتی ہے۔ جبکہ کسی معاملے پر اپنی رائے حرف آخر ثابت کرنا تکبر کو جنم دیتا ہے۔ اور تکبر پستی ہے۔ جوں جوں انسان ہر معاملے کو محض اپنی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کا پیمانہ بھرتا جاتا ہے۔ اور اس میں مزید کی گنجائش نہیں نکلتی۔ اسی بات کو مختصراً بیان کیا جائے تو وہ یہ کہ "خاک نشین کو پرواز کا تخیل بھی عجب ہے۔"
از قلم نیرنگِ خیال