Tuesday, 18 April 2017

خانہ پوری یا سیکیورٹی

1 comments
کل ایک دفتری ساتھ تشریف نہیں لائے۔ یوں ہی باتوں باتوں میں ہم نے خیریت دریافت کی تو پتا چلا کہ بروز جمعہ   نصف شب کے قریب  جب وہ دفتر سے نکلے تو جین مندر کے پاس انہیں پولیس والوں نے روک لیا۔ اور کہا کہ موٹر سائیکل ایک طرف لگا دیں۔ انہوں نے کاغذات وغیرہ چیک کروائے تو پولیس والوں نے کہا کہ بھئی! کاغذات سے کوئی سروکار نہیں۔ موٹرسائیکل بند ہوگی۔ یہ صاحب بہت حیران ہوئے۔ ان کے علاوہ بھی وہاں کوئی دس پندرہ موٹرسائیکل سوار تھے۔ ان سب کو بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل تھانے میں بند ہوگی۔ اس کے بعد آپ اپنے گھروں کو جائیں۔ مزید کریدنے پر پتا چلا کہ ایسٹر کی وجہ سے دہشت گردی کا خطرہ ہے اور لاہور پولیس موٹرسائیکلیں بند کر رہی ہے۔ بیچاروں نے بہت عرض گزاری اور منت کی کہ بھئی رات کے اس پہر کدھر کو جائیں گے۔ لیکن پولیس والوں نے نہ سننی تھی نہ سنی۔فرماتے ہیں کہ آخر جب میں عرض گزاری ضرورت سے زیادہ بڑھی تو ایک پولیس والا تنگ آکر بولا کہ یار! ہمیں ڈیڑھ دو سو موٹر سائیکل بند کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور وہ ہم نے ہر صورت بند کرنی ہے۔ اس بات پر  ایک دوسرے ساتھی کسی اور تہوار کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اُس رات میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اور جب میں پولیس وین میں بیٹھ کر تھانے اپنی موٹر سائیکل بند کروانے جا رہا تھا تو تھانے سے بار بار سپاہیوں کو فون آرہے تھے کہ ابھی تک صرف پندرہ موٹرسائیکلیں آئی ہیں۔ اور یہ فون پر جواب دے رہے تھے ۔۔۔ "سر جی! لے کے آندے پئے آں۔ رستے اچ ہے گے آں۔" ہمارے ملک کے حالات جیسے بھی ہیں یا ہوں گے، لیکن سیکیورٹی کے نام پر عوامی سیکیورٹی سے مذاق، خانہ پوری، اور عوام کو ذلیل کرنے کا یہ طریقہ  انتہائی قابل مذمت  اور شرمناک حد تک گھٹیا ہے۔