Sunday, 17 April 2016

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں

2 comments
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
 
گزشتہ دنوں لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ یوں تو ہر کچھ عرصہ کے بعد لاہور کا چکر لگتا رہتا تھا اور ہے۔ لیکن اس بار پنجاب یونیورسٹی جانا تھا۔ میں جامعہ پنجاب کا طالبعلم تو کبھی نہیں رہا لیکن لاہور شہر کے اندر بسے اس شہر سے ہمیشہ سے ایک عقیدت رہی ہے۔ درمیان سے بہتی نہر کے ایک طرف تو جامعہ کے شعبہ جات ہیں۔ جبکہ دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ ہاسٹلز کی ایک قطار ہے۔ ان ہاسٹلز کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے بنے میدان تھے۔
 ان میدانوں کے ایک سرے پر کچھ تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔  میں پہلی نگاہ میں یہ سمجھا کہ جامعہ کی طرف کوئی سپورٹس کمپلیکس بنانے کا ارادہ ہوگا  جس کی تکمیل کے لیے یہ کام کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب ان پر میں نے شادی ہال کے جگمگاتے بورڈز دیکھے تو مجھے شدید دکھ اور کرب کا سامنا کرنا پڑا۔ تو اب جامعہ اپنی آمدن کے لیے شادی ہال چلائے گی۔ ایک طرف طلباء کو تعلیم دے گی اور دوسری طرف کاروبار چمکایا جائے گا۔ بلاشبہ لاہور جیسے شہر میں بڑا شادی ہال بنانا  ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ لیکن کیا اب پنجاب حکومت اس قدر تنگدست ہوچکی ہے کہ جامعہ کو اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے کاروبار چلانے پڑیں گے۔ غیر سرکاری تعلیمی اداروں نے تو پہلے ہی  تعلیم کو کاروبار بنا کر دیوالیہ نکال دیا ہے۔ ان کے لیے طالبعلم ایک صارف ہے۔ اور استاد ایک کاروبار بڑھانے والا سیلز مین۔
لاہور کے اکھڑی سڑکیں، نئے نئے نقشے یقینی طور پر ظاہری ترقی کی علامت ہیں۔ لیکن وہ قوم جس کے حکمران دلالی کو اپنی وراثت اور لوٹ کھسوٹ کو اپنا فرض سمجھتے ہوں۔ وہ قوم جو ہر آنے والے لٹیرے کو رہنما سمجھ کر خود کی ہی نیلامی میں شریک ہوتی ہو۔ اس قوم کو کیا  کھلی سڑکیں ، بڑی کاریں اور ظاہری چمک دمک  کی ضرورت ہے یا تعلیم اور شعور کی۔ یقینی طور پر شعور کی۔ من حیث القوم بنا کسی علمی مقام تک پہنچے اور شعور کی بنیادی منازل طے کیے بغیر ایسی ترقی کا خواب بھی ذہنی عیاشی کے علاوہ کچھ نہیں۔  ایسی علم گاہوں کی شدید کمی ہے جو قوم کی ذہنی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ جن کی مدد سے نوجوان طبقہ  اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے لیے نئے آسمان پیدا کر سکے۔  سڑکوں او رظاہری شان و شوکت پر اربوں روپیہ لگانے والوں کے پاس کیا اس قدر رقم بھی نہیں کہ صوبے کی سب سے بڑی جامعہ کے اخراجات  ہی پورے کر دیے جائیں۔ طلباء کے کھیلوں کے میدان پر بنائے گئے ان شادی ہالوں کی جگہ ان کے لیے  ذہنی بالیدگی کی فضا قائم کی جاتی۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا آج اگر میں اٹھارہ برس کا ایک لڑکا ہوتا جو جامعہ داخلے کے لیے آتا۔ اور جامعہ کو اس قسم کے کاروبار کرتے دیکھتا۔ تو شاید میں اپنے گاؤں واپس  لوٹ جاتا۔ وہ رقم جو میں نے اپنی تعلیم پر خرچ کرنی تھی۔ وہ میں اسی  طرز کے کسی بڑے پلاٹ پر تنبو قناطیں کھڑی کرنے پر لگا دیتا۔ چھوٹے پیمانے سے شروع کرتا۔ اور شاید کامیاب بھی رہتا۔لیکن جب میں اپنے گردونواح پر نظر ڈالتا ہوں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ سب سے آہستہ رفتار والی لائن میں جانے پر بھی پیچھے سے کوئی گاڑی والا آپ کو بار بار لائٹس مارتا ہے۔ جب کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کا شیشہ نیچے ہوتا ہے۔ اور ان کے اندر سے ایک جوس کا ڈبہ یا کوئی   خالی بوتل اور بسکٹوں کو خالی ڈبہ باہر اچھال کر شیشہ واپس اوپر کر لیا جاتا ہے۔ جب پولیس والا کمتر کا چالان اور ظاہری شان رکھنے والے کو جانے دیتا ہے۔ جب سفارشی عہدے پر ہوتا ہے۔ اور علم اپنی علمیت کا بوجھ اٹھائے در در کے چکر لگاتا ہے۔ تو پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ جامعہ کا فیصلہ درست ہے۔ اس ذہنی بدکار اور بیکار قوم کو تعلیم اور کھیلوں کے میدان کی نہیں شادی ہالوں کی ہی ضرورت ہے۔