Tuesday, 20 May 2014

آڈٹ ہوگا جوتو پھر دور تلک جائے گا از قلم نیرنگ خیال

8 comments
(کفیل آزر سے معذرت کے ساتھ)

آڈٹ ہوگا جوتو پھر دور تلک جائے گا
لوگ بےوجہ ہی این سی* کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ پھر Counter Action کیا ہو؟
انگلیاں اُٹھیں گی گم کردہ ڈراموں کی طرف
اک نظر دیکھیں گے ایم پی تھری گانوں کی طرف
مفت content پہ بھی طنز کئے جائیں گے
ٹرائل Versions پہ فقرے بھی کسے جائیں گے
آڈیٹر ظالم ہیں گیمز کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں پائریسی کو لے آئیں گے
تہمتِ سرقہ لئے Apps بھی گنوائیں گے۔‬‎
"اُن کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا"
چاہے کچھ بھی ہو مگر گیمز چُھپا کر رکھنا
ڈرائیو میں رکھا ہوا ڈیٹا بچا کر رکھنا
این سی نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

این سی۔۔۔ Non Conformance۔
گم کردہ -- Hidden

Tuesday, 13 May 2014

انسٹالر سپھل ہوا کب کا (جون ایلیا کی روح سے معذرت کے ساتھ )

4 comments
(جون ایلیا  کی روح سے معذرت کے ساتھ)

Installer سپھل ہوا کب کا
اپنا سی ایم*تو گھر گیا کب کا

Tester نیند اور لینے کو
Script اِک چلا گیا کب کا

Bugگزیدہ ازل ابد لمحہ
کر کے Report چل دیا کب کا

"اپنا منہ اب تو مت دکھاؤ مجھے"
Log تو میں لگا گیا کب کا

نشہ Bonus کا بےطرح تھا کبھی
پر وہ ظالم بھی "مُک" گیا کب کا

آپ اب verify کرنے آئے
Bug مری جان فکس ہوا کب کا

سی ایم: Configuration Manager
محمداحمد  بھائی کا شکرگزار ہوں۔ جن کی مدد کے بعد یہ اس قابل ہو سکی کہ آپ احباب کے سامنے پیش کی جائے۔

Sunday, 11 May 2014

بکرے کی ماں

0 comments


سوال:
بکرے کی ماں کب تک خیر مناے گی
بکرے کی امی حضور ہی کیوں خیر مناتی ہیں
ابا حضور کو کیا مسئلہ ہے جو ان کو خیر کی پرواہ نہیں

نیرنگ خیال:
آپ نے جیسا کہ مشہور مقولہ اپنے پہلے سوال میں پوچھا ہے۔۔۔ اس سوال کے جواب میں میرا ایک سوال ہے۔۔۔ کہ یہ اگلی دو سطریں بھی اس سوال کا حصہ ہیں۔ یا الگ سے سوالات ہیں۔۔۔
ہیلو
ہیلو
میرا خیال ہے لائن کٹ گئی ہے۔۔۔
تو قارئین ہم اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیتے ہیں۔۔۔ کہ یہ شاید ایک ہی سوال ہے جس کے مختلف پہلوؤں کو اگلی سطور میں واضح کیا گیا ہے۔
تو جنا ب اب آتے ہیں جواب کی طرف۔۔۔۔
ہاں! تو ماں کی حیثیت تو سب کے لئے مُسلّم ہے۔ چاہے وہ بکرے کی ماں ہو یا اس کی جو بکرا بنا ہے۔ بس فرق صرف یہ پڑتا ہے کہ بکرے کی ماں بکری ہوتی ہے۔ اور بکرا بننے والے کی ماں عموما ساس کہلاتی ہے۔ اور بیچاری بہت سی تنقید کا نشانہ بنی رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب بے جا ہے۔ دراصل اس شہرت کے پیچھے صدیوں کی کاوشیں اور محنت ہے۔ آج بکرا بنانے والی جب کل خود بکرے کی ماں بنتی ہیں۔ تو ان سے نئی بکرا بنانے والیوں کو بھی وہی شکوے ہوتے ہیں۔ جب انہوں نے کسی کو بکرا بنایا تھا تو ان کو اس بکرے کی ماں سے تھے۔۔۔ خیر یہ بات بہت گھمبیر ہوگئی۔۔۔۔
لہذا قارئین واپس بکرے کی طرف لوٹتے ہیں۔ تو جناب اردو زبان کا مشہور محاورہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی عمومی طور پر تب بولا جاتا ہے۔ جب کوئی آپ کو چکمہ دے کر نکل جائے۔ اور آپ دل کو کینہ سے بھر کر تاڑ میں ہوں کہ اب کسی دن میرا داؤ بھی چلے گا۔
آپ کے سوال کا اگلا حصہ تھا کہ آخر ماں ہی کیوں۔۔۔ بکرے کا باپ کیوں نہیں۔ تویہاں میں بکروں کی خانگی زندگی کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا کہ بکرے انسانوں کی طرح ظلم سہنے کے عادی نہیں ہوتے۔ لہذا اکثر اوقات بکرے کی والدہ سے نہ بننے پر علیحدگی ہوجاتی ہے۔ مزید یہ کہ اکثر بکرے بیچارے قصائیوں کے عتاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو ان سے بچتے ہیں وہ عید قربان پر دوبارہ بالواسطہ قصائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو بکرا تو ہر صورت چھری کے نیچے آیا ہی رہتا ہے۔ جبکہ بکرے کی ماں عمومی صنف مخالف کی طرح چکمہ دے کر نکل جاتی ہے۔ اور شاید ہی کبھی ہاتھ آتی ہو۔ تو بڑے سیانوں نے یہاں تانیث پر بھی گہرا طنز جڑ اہے۔
یہاں پر میں آپ سب سے یہ بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہم کو ایسے تمام محاورات کو ختم کرنا چاہیے اور زبان سے خارج کر دینا چاہیے جو کسی بھی طور کسی تذکیر و تانیث کےتعصب کے فروغ کا باعث ہوں۔ یا پھر دل میں کینہ پال کر آپ کی اخلاقی اقدار تباہ کرنے کے درپے ہوں۔

Thursday, 8 May 2014

آم کے آم گھٹلیوں کے دام

10 comments

زبیر مرزا:
السلام علیکم
جناب @نیرنگ خیال آن لائن ہوں گے اور سوالات کے جوابات دیں گے - یہ ایک مسخرانہ اور لطیفانہ سلسلہ ہوگا
آپ نیرنگ خیال سے اشعار کی تشریح کراسکتے ہیں ،اپنی سر کی خشکی کا علاج دریافت کریں یا محاوروں کا مطلب پوچھیں
جوابات دیں گے مشہور ومعروف دانشور جناب ڈاکٹر نیرنگِ خیال اپنے مخصوص انداز میں

نیرنگ خیال:
وعلیکم السلام!
اس سے پہلے کہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کروں۔ قارئین میں آپ کی توجہ" میزبان مرزا" کے اس جملے کی طرف دلانا چاہوں گا۔ کہ یہ ایک مسخرانہ اور لطیفانہ سلسلہ ہوگا۔
قارئین کسی بھی دانشور کے اقوال اور خیالات کا مذاق اڑانا ان مرزا یاروں کا پرانہ طریق رہا ہے۔ کسی کے سنجیدہ اقوال کو اگر آپ پروگرام کے شروع میں ہی ایسے الفاظ سے متعارف کروائیں گے تو ظاہر ہے بات کا اثر جاتا رہے گا۔ اور یہی مرزا کی دلی خواہش ہے۔ کہ کسی بھی طریق سے ہماری جگ ہنسائی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ لیکن وہ نیرنگ ہی کیا جو ڈر جائے پروگرام کے خونی منظر سے۔۔۔۔

آپ سب کے سامنے نیرنگ خیال حاضر ہے۔ حاضرین آپ کے مشکل سوالات کا تو میں کیا جواب دے پاؤں گا۔ لیکن اپنی سی سعی ضرور کروں گا۔ کوشش ہوگی کہ تمام جوابات غیر مستند اور کسی بھی حوالے کے بغیر ہوں۔ جہاں تک ممکن ہوا بلاوجہ کے تاریخی حوالہ جات سے احتراز کروں گا۔ اور وجہ بھی ہوئی تو صرف اپنی مرضی کے حوالے دوں گا۔ حقائق کو خوب توڑ موڑ کر بیان کروں گا۔ امید ہے کہ شافی جوابات ملنے پر آپ کے اندر کے محقق کی چند ایک سوالات ہی میں موت واقع ہوجائے گی۔ بصورت دیگر اس محقق کو مجھے خود آکر مارنا پڑے گا۔ جو کہ اس مہنگائی کے دور میں کچھ بھلا معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ریٹرن ٹکٹس دستیاب ہوں تو خادم یہ سہولت بھی فراہم کرنے کو تیار ہے۔

تو اب شروع کرتے ہیں پروگرام۔۔۔


زبیر مرزا:
  ڈاکٹر نیرنگ خیال پہلا سوال آپ سے یہ ہے کہ آموں کی آمد آمد ہے تو ہمیں اس کہاوت کا مطلب سمجھادیں
"آم کے آم گھٹلیوں کے دام"

نیرنگ خیال:
جناب مرزا نے پہلے ہاتھ ہی آموں کے بارے میں سوال پوچھا ہے۔ اس سے آپ احباب کو بہت اچھا اندازہ ہوگیا ہوگا۔ کہ یہ ایک تاریخی سوال ہے۔ جو کم از کم مرزا جتنا پرانا تو ہے ہی۔ لیکن ناظرین اس سوال کو تہذیبی رنگ دینے کو ضروری ہے کہ صاحباں کے ذکر سے حتی الوسع گریز کیا جائے۔
ہائے آم۔۔۔۔ واہ۔۔۔ اوپر سے موسم بھی آگیا ہے۔ ہمارے علاقے میں تو دوسیری اب بازار میں آگیا ہوگا۔۔۔ خیر چھوڑیں جی علاقے کو۔۔۔ سوال کی طرف آئیں۔
یہ ایک کاروباری سوال ہے۔ عمومی طور پر آم لوگ اس کو کسی غیر متوقع منافع حاصل کر لینے کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ سراسر غلط ہے۔ساری دنیا جانتی ہے کہ بیچنے والا گھٹلی سمیت ہی بیچے گا اور تولے گا۔ خریدنے والا اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ ایسی صورت میں گھٹلیوں کے الگ سے دام استعاراتی طور پر بھی استعمال کرنا کسی آم کی دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ آم بناء گھٹلی کے بیچنا ایسا ہی ہے جیسے محبوب کو دل دیے بغیر محبت کرنا۔

ہاں تو قارئین میں کہہ رہا تھا کہ  آم بہت سی چیزوں کے لیے استعارہ رہا ہے۔ عمومی طور پر آم آدمی کو بھی عام آدمی کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو تو بھی آم حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ کچھ کام نہ ہو تو بھی آم کا کاروبار عروج پر رہتا ہے۔ الغرض آم ایک ایسی چیز ہے جو ایک بہترین روزگار ہے وہیں بیکاری کے دنوں کا ایک بہترین شغل بھی۔
یعنی اگر آم آدمی کے تناظر میں دیکھیں تو ووٹ اس کی گھٹلی بنتا ہے۔ جس کے وہ عرصہ پنچ سال کے بعد چند سو روپے وصول کر لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یا پھر اپنے گھر کے باہر والی نالی پکی کروا لیتا ہے۔
دوسری صورت آم کی یہ بنتی ہے کہ آم کھاؤ اور آم کی گھٹلی اپنے گھر کی چھت پر سکھا کر کھاؤ۔۔۔ اس کا بھی اپنا لطف ہے۔ لیکن اس حرکت سے لوگ آپ کو آم آدمی کم اور حاتم طائی کا قاتل زیادہ سمجھیں گے۔ لہذا اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے کسی بچے کے کاندھے کا سہارا لیں۔
اس کے اگر آپ آموں کا باغ لگانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو بھی گھٹلیوں کے دام کہیں نہیں گئے۔۔۔
واللہ اعلم
اگر مزید کسی کی تسلی و تشفی ان جوابات سے نہیں ہوئی۔ تو اس کے لیے لازم ہے کہ اپنی تسلی و تشفی پر ان للہ پڑھ لے۔

نوٹ: احباب کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ اس میں "ڈاکٹر " جیسے القابات مزاحاً استعمال ہوئے ہیں۔ :)

Thursday, 1 May 2014

سالگرہ مبارک باباجانی۔۔۔۔۔

18 comments
میں نے جب گھر چھوڑا تو کبھی والد صاحب مجھے ضد کر کے چھوڑنے آجاتے بس اڈے تک۔ اور پھر میں دیکھتا رہتا۔ جب تک بس نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوجاتی تھی۔ وہ  وہیں کھڑے رہتے ۔ میں بےنیاز تھا۔ اولاد کی جدائی کے درد سے۔ ان کو کہتا۔ بابا آپ کیوں آتے ہیں۔ آپ گھر بیٹھیں۔ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا کہ آپ یوں کھڑے رہیں۔ یہاں مٹی ہے۔ آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔ لیکن بابا کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکان ابھر آتی۔ بیٹا چند منٹ کی تو بات ہے۔ ابھی تمہاری بس چلی جائے گی۔ تو میں بھی گھر لوٹ جاؤں گا۔ پھر بابا نے مجھے چھوڑنے آنا چھوڑ دیا۔ بس وہی دروازے سے مل کر کہتے ۔ پہنچتے ہی فون کر دینا۔ اور صبح میرے فون کرنے سے پہلے ہی خود فون کر لینا۔ اور میں اس محبت کو سمجھ ہی نہیں پایا کبھی۔ پھر ایک دن میں اپنی اولاد کو چھوڑنے بس اڈے تک آگیا۔ بٹیا شیشے سے دیکھ دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھی۔ اور میں کھڑا دیکھ رہا تھا کہ شیشے میں بٹیا نہیں میں بیٹھا ہوں۔ اور باہر میرا باپ کھڑا ہے۔ میری آنکھوں میں نمی بڑھنے لگی۔ میں وہاں سے ہٹنا چاہتا تھا۔ لیکن جب تک بس نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔ میں ایک قدم ہل نہیں سکا۔ اس بار جب گھر گیا تو والد صاحب  نے کہا میں تمہیں چھوڑنے جاؤں گا اڈے تک۔ میرا دل کانپ گیا۔ بابا بس کے باہر کھڑے تھے۔ اور میرا دل بھی۔ جب بس چلنے لگی تو بابا دوسری طرف دیکھنے لگے۔ میں کرب میں ڈوب گیا۔ اپنی بیٹی کو میں گھر چھوڑ آیا تھا کہ مجھے جاتا دیکھ کر روئے گی۔ اور اپنے باپ کو ساتھ لے آیا ۔ کتنے سالوں سے میں ان کو رلا رہا ہوں۔ کتنے ہی سالوں سے۔

دوسرا المیہ محبتوں کے اظہار کا رہا۔ اس بات کا احساس مجھے اس دن ہوا ۔ جب ایک دن میں اور بٹیا رانی سونے کے لیے لیٹے تھے۔ تو اس نے مجھ سے لپٹ کر کہا۔ پاپا آئی لو یو۔ وقت سمٹ گیا۔ اور میں اس کیفیت طرب کو بیان نہیں کر سکتا۔ اس کےبعد اس نے عادت بنا لی۔ وہ روز مجھے سونے سے پہلے یہی یاددہانی کرواتی۔ کہ پاپا آئی لو یو۔ میری دو سال کی بیٹی سمجھتی ہے۔ کہ ماں باپ سے محبت ہےتو ان کو بتانا بھی ہے۔ اور میں  جس کی جوانی کا سورج ڈھلنے لگا ہے۔ اس بات سے بےخبر۔ کبھی نہیں کہا۔ کہ بابا مجھے آپ سے محبت ہے۔ ایسی کیا چیز تھی جس نے مجھے مدتوں یہ کہنے سے روکے رکھا۔ آخر ایسا کیا تھا کہ میں کبھی یہ کہہ ہی نہیں پایا۔ جبکہ یہ بات تو مجھ پر واضح تھی کہ میں اپنے بابا سے بہت محبت کرتا ہوں۔ آج  آپ کی سالگرہ ہے۔ تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بابا میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔ آج  میں یہ آپ کو کہنا چاہتا ہو ں کہ جو مزدوری آپ نے تاعمر ہمارے لیے کی ہے۔ اور ابھی تک کر رہے ہیں۔ میں اس کے کسی ایک لمحے کی قیمت بھی ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ لیکن میری دعا یہی ہے کہ اللہ آپ کا سایہ تاعمر میرے سر پر سلامت رکھے۔ مجھے فرمانبردار اور محبتوں کو پہچاننے والا بنائے۔ اور میرے لیے ایسے اسباب پیدا کرے کہ میں آپ کے پاس رہوں۔ آپ کی خدمت کروں۔