Monday, 22 December 2014

کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے

4 comments
میں گزشتہ  دنوں سے غم و غصے کی جس کیفیت میں ہوں شاید میں اس کو الفاظ میں کبھی بھی نہ ڈھال سکوں۔ خدا گواہ ہے کہ جب میں سوشل میڈیا پر انا للہ و انا الیہ راجعون لکھ رہا تھا تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ایک لہر تھی جو میرے پورے وجود میں دوڑ رہی تھی۔ میں اس کو غم سمجھ رہا تھا۔ لیکن مجھے احساس ہوا  کہ یہ نفرت کی لہر تھی۔ جو میرے پورے احساسات اور وجود پر حاوی ہو گئی تھی۔ نفرت اور اس قدر شدید نفرت۔ مجھے اپنے آپ سے الجھن ہو رہی تھی۔ اپنی حلیم طبع مجھے بار محسوس ہو رہی تھی۔ میری مروت اخلاق لحاظ داری سب کچھ ایک جھٹکے میں اتر چکا تھا۔ میں ہذیان بک رہا تھا۔ اور بکے چلے جا رہا تھا۔ لعنت و ملامت کا جو دورہ مجھے پڑا تھا اس سے مجھے چھٹکارے کی کوئی صورت ابھی تک نظر نہیں آرہی۔ خود پر ملامت، ان اہلکاروں پر ملامت جو اپنی مصروفیتوں میں اس قدر مگن تھے کہ انہیں خبر نہ ہوئی۔
 لوگ کہتے ہیں کہ اور قیامت کس کو کہتے ہیں۔ کیسی ہوگی قیامت۔ مگر مجھے لگ رہا   کہ قیامت کہ دن تو کوئی کسی کو نہ مارے گا۔ کوئی بھی نہ مرے گا۔ سب زندہ کیے جائیں گے۔ تو پھر یہ کیسی قیامت ہے کہ جس میں لوگ مارے جا رہے ہیں۔ نہتے بچوں پر کچھ بیسواؤں کی اولادیں اپنی نشانہ بازی کی مشقیں کر رہی  ہیں۔ عورتوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ شیطان کے پجاری ننگا ناچ رہے ہیں۔ 
دفتر میں روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھے ہم کہ چائے پینے جب کیفے میں آئے تو سامنے ٹی وی پر دردناک مناظر نظر آنے لگے۔ اس کے بعد خبریں ملنا شروع ہوئیں۔ اور دل کا وہ عالم ہواکہ "اشکوں سے بحر ہوگیا صحرا نہیں رہا"۔ اس کے بعد کام میں دل نہ لگا۔ شام کو گھر آتے ہی نصف بہتر کو دیکھا جو اپنے باورچی خانہ  کے کاموں میں الجھی تھی۔ دونوں بچے سب سے بےفکر ایک دوسرے سے لڑائی میں مصروف تھے۔ کبھی ایک کھلونے پر لڑائی جاری ہے۔ تو کبھی دوسرے پر۔ میں نے نصف بہتر سے کہا کہ آج پشاور میں جو کچھ گزرا ہے۔ قیامت کا لفظ بھی مجھے چھوٹا لگ رہا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیا ہوا۔ مجھے تو آج پورا دن ٹی وی دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا،  کیا ہوا ہے؟ تفصیل بتائیں۔ آپ بچوں کو سنبھالیں اب۔ یہ سن کر میرا درد اور بھی بڑھ گیا۔ کتنی ہی مائیں ہوں گی جو اپنے بچوں کو اس دن اسکول بھیج کر مطمئن ہو گئی ہوں گی۔ اپنے کام کاج میں پتا نہیں انہیں خبر بھی ملی ہوگی کہ نہیں کہ ان کا لخت جگر کچھ انسان صورت کتوں کے ہاتھوں شہید ہوچکا ہے۔ پتا نہیں کب انہوں نے بھی ٹی وی چلایا ہوگا۔ شاید کسی ہمسائے نے آکر بتایا ہو کہ آج اس اسکول پر یہ قیامت گزر گئی۔ لوگ کیسے بھاگے ہوں گے۔ باپ بھاگا ہوگا۔ میرا بچہ بھی تو وہیں پڑھتا ہے۔ میں دیکھوں۔ اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی۔ کبھی ایک بچے کو دیکھتا۔ کبھی دوسرے کو۔ میری آنکھوں کی روشنی ان سے ہے۔ میرے والدین کی آنکھوں کی روشنی مجھ سے ہے۔ کیسے کوئی ظالم ہوگا جو ان روشنیوں کو بجھا دے گا۔ اولاد تو سرمایہ ہے۔ روشنی ہے۔ راستہ ہے۔   دل کٹتا جاتا ہے۔ جتنا سوچتا ہوں تلافی ممکن نہیں نظر آتی۔ کتابوں میں پڑھا تھا کہ فرعون بڑا ظالم تھا۔ بچے مار دیتا تھا۔ ہلاکو خان چنگیز خان نے سب کو مارا۔ لیکن یوں بھی کسی نے کبھی مارا ہوگا۔ مجھے تو ان طوائف زادوں میں سے کسی کا نام بھی نہیں آتا، کہ فرعون ، ہلاکو خان اور  چنگیز خان کے مقابل پیش کر سکوں۔ دیکھو اسی بات پر تم اتراتے تھے کہ تم سے زیادہ ظالم کوئی تاریخ میں نہ آئے گا۔ آج چند افراد اٹھے ہیں جنہوں نے تمہارے ظلم کو دھندلا دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ مجھے ان کے نام نہیں آتے۔ وگرنہ میں لکھتا اور اپنی آنے والی نسلوں کو تاکید کر کے جاتا کہ دیکھو ان ناموں میں کوئی نام اپنے آنے والے بچوں کہ نہ رکھ دینا۔ کہ ان سے منسوب انسان نما جانوروں پر تمام قوم کی لعنت ہے۔ 
وقت تو یہ ہے کہ ہم سب ہتھیار اٹھا لیں   ان جنونی درندوں کتوں کی مخالفت میں۔ جو نہ صرف انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں۔ بلکہ جنہوں نے مذہب کو بھی اس قدر بدنام کر دیا ہے کہ لوگ اب خود کو مسلم کہتے ہوئے سر جھکا لیتے ہیں۔ ان پیسے کے لئے بکنے والے کتوں نے نہ انسانیت کا پاس رکھا اور نہ مذہب کا۔ مذہب سے تو خیر ان کا تعلق تھا ہی نہیں لیکن انسانیت تو سب کے لئے ایک جیسی رہتی ہے۔ اس سے بھی منہ موڑ لیا۔ 
ہمارا یہاں دل پھٹ گیا ہے۔ لوگ ابھی تک غم و غصے اور نفرت کی لہر سے باہر نہیں آئے۔ تو وہ گھرانے جن پر یہ قیامت بیت گئی۔ جو ان  خون آشام درندوں کی درندگی کا شکار ہوگئے۔ وہاں کیسی صف ماتم بچھی ہوگی۔ دیکھنے کی ہمت نہیں۔ سننے کی تاب نہیں۔ کاش شتر مرغ ہوتے ہم ۔ کاش ہم بھی ریت میں سر دبا لیتے۔ کاش۔ کاش کاش۔۔۔۔۔ اب تو بس ایک ہی خواہش ہےکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے یہ تمام شیطان کے کارندے اپنے انجام کو پہنچیں۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے۔۔۔

Wednesday, 10 December 2014

اوّلیں چند دسمبر کے (محترم و مکرم امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ)

7 comments
اوّلیں چند دسمبر کے 
(امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ)

اوّلیں چند دسمبر کے
ہربرس ہی عجب گزرتے ہیں
انٹرنٹ کے نگار خانے سے
کیسے کیسے ہنر گزرتے ہیں
بے تکے بےوزن کلاموں کی
محفلیں کئی ایک سجتی ہیں
میڈیا کے سماج سے دن بھر
کیسی پوسٹیں پکارتی ہیں مجھے
"جن میں مربوط بےنوا گھنٹی"
ہر نئی اطلاع پہ بجتی ہے 
کس قدر پیارےپیارے لوگوں کے 
بد شکل بد قماش کچھ مصرعے
ٹائم لائن پہ پھیل جاتے ہیں
شاعروں کے مزار پر جیسے
فن کے سوکھے ہوئے نشانوں پر
بدوضع شعر ہنہناتے ہیں 
پھر دسمبر کے پہلے دن ہیں اور
"ہر برس کی طرح سے اب کے بھی"
بے طرب صفیں باندھتے ہیں یہ
"کیا خبر اس برس کے آخر تک"
شعر اور بےوزن سے مصرعوں سے
کتنے دل اب کے کٹ گئے ہوں گے
کتنے شعراء اپنی قبروں میں
پھڑ پھڑا کر اکڑ گئے ہوں گے
بےبحر شاعری کے جنگل میں
کس قدر ظلم ہوگئے ہوں گے
"ہر دسمبر یہ سوچتا ہوں میں"
"اک دن ایسا بھی تو ہونا ہے"
شاعری کے ہنر کو سونا ہے
بےبحر بے طرب یہ سارے شعر
کب عروض و بحر سمجھتے ہیں
بس دسمبر کی رٹ لگائے ہوئے 
سماجی میڈیا کو بھر دیا ہوگا
اور کچھ بےتکے سےمصرعوں سے
ایک دیوان چھپ گیا ہوگا

+Muhammad Ahmed  بھائی کا خاص شکریہ اس کو نکھارنے میں مدد کرنے کا۔ :)

Wednesday, 3 December 2014

پنجابی محاورات کی شرح۔۔۔ ایک عزیزی کے استفسار پر

2 comments


 آلکسیاں دے پنڈ وکھرے نئیں ہندے۔۔۔۔

یہ ایک ایسا محاورہ ہے جس میں زندگی کی بڑی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔چاہے طنز ہی کی صورت ، کہ سست لوگ بھی دیکھنے میں عام لوگوں جیسے لگتے ہیں۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ یہ چنے ہوئے افراد ہوتے ہیں۔ جو کہ کسی بھی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ سست اور کاہل لوگ سدا سے دوسروں کے لئے باعث حسد و رشک رہے ہیں۔ لوگ چاہ کر بھی سستی نہیں کر پاتے۔ کیوں کہ اس کے لئے جس حوصلہ برداشت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے عموماً وہ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا جب جب کسی آلکسی سے آشنا ہوتی ہے اس کو سمجھتی ہے شاید یہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہے۔ وگرنہ اس قدر حوصلہ ہمت و برداشت اللہ اللہ۔۔۔ "یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔" دوسری طرف وہ لوگ جو اپنی برق رفتاری پر نازاں ہوتے ہیں وہ اس مصرعہ کی صورت "پہلے تھے تیزروی پر نازاں اب منزل پر تنہا ہیں" خود کو محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ سچا آلکسی کبھی بھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ کاررواں کے اس معتبر اور ذمہ دار شخص کی طرح ہوتا ہے جو کہپیچھے پیچھے آتا کہ اگر کسی کی کوئی چیز رہ گئی ہو اور اپنی برق رفتاری میں کچھ عوامل کو نظرانداز کر گیا ہو تو اس کو احساس دلا سکے۔ لیکن بےلوث خدمت کے جذبے کودنیا کہاں سمجھتی ہے۔ امتیازی سلوک کر کے ہر قدم پر ان کو احساس دلاتی ہے کہ تم سست ہو۔ اور یہ بھول جاتی ہے کہ دنیا تو وجود ہی سستوں سے ہے۔ کیا ایک تیزرفتار مکھی ایک کچھوے کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ کہاں کچھوے کی عمر رواں، کہاں سمندر سمندر خشکی خشکی کے تجربات اور کہاں چند دنوں کی ایک زندگی جس کا ہرکام بنا سوچے عجلت میں۔
ہمارے ایک محترم دوست کا فرمانا ہے کہ کیا دنیا میں کاہلی سے بڑا بھی کوئی سچ ہے۔ حضور کی اس بات سے ہم اسقدر متاثر ہوئے تھے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک کوچہ آلکساں کی بنیاد رکھیں گے۔جو کہ عرصہ پہلے ہم نے رکھ بھی دی تھی۔ اور اس محاورے کو غلط ثابت کریں گے۔ دنیا کو بتائیں گے کہ ہر آدمی سست نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ آپ کے درمیان رہتا ہے۔ تو قدر کیجیے کہ بجائے اس کے وہ کوچہ آلکساں میں جابسے اور تمہاری بستیاں محض عجلت کی تصویر بن کر رہ جائیں۔اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ عجلت کن لوگوں کا کام ہوتا ہے۔

 آٹے دی بلی بناواں میاؤں کون کرے ۔۔۔۔

دھوکا دینا اور دھوکا کھانا انسان کی فطرت ہے۔ ہر دور انسانی میں انسان نے کچھ ایسے ہتھکنڈے ضرور ایجاد کئے رکھے ہیں جس سے وہ معصوم اور بھولے بھالے لوگوں کو بیوقوف بنا سکے۔ درج بالا محاورہ بھی ایک ایسے ہی دور کی ایجاد ہے جب انسانی عقل شعور کے کچھ مراحل طے کر چکی تھی۔ اور لوگ ظاہراً ہر بات دیکھ کر اس پر یقین نہ کیا کرتے تھے۔ بلکہ اس کے دیگر عوامل کے بارے میں سوالات کر لیا کرتے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب نقادی کے فن نے زور پکڑا اور ہر قسم کے کام کے لئے اس کے کچھ اصول وضع کر لئے گئے تھے۔
جس دور میں محاورہ ایجاد ہوا اس دور میں ٹھگی بہت عروج پر تھی۔ اور لوگ بہت ہی چھوٹی سی چیز کو بھی بڑی بتا کر عوام کو ٹھگ لیا کرتے تھے۔ لیکن محاورہ بنانے والے کے ذہن کے پاس سے بھی یہ بات نہ گزری کہ بلی گونگی بھی ہو سکتی ہے۔ بعد کے لوگوں نے جب گونگی بلیوں پر تحقیق کی تو اس کے بعد سے اس محاورے کی شہرت میں خاطر خواہ کمی آئی۔ چونکہ یہ محاورہ ٹھگی کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنے کے لئے بنایا گیا تھا کہ جب کچھ دھوکے کا کام کرو تو اس کے بنیادیلوازمات پورے کر لو۔ اور اس کا اطلاق عہد حاضر کی جدید ٹھگیوں پر نہیں ہوتا۔ جہاں پر ایک بات پر لوگ تیس تیس سال ایک ہی جماعت کو حکمران رکھتے ہیں۔ جبکہ نہ اس کے پاس بلی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ میاؤں کرتی ہے۔

 آئی موج فقیر دی لائی جھگی نوں اگ

عملی زندگی میں آپ کا بارہا ایسے لوگوں سے سامنا ہوتا ہے جو خوشی ہو یا غم نقصان اپنا ہی کرتے ہیں۔ سیاست کی زبان میں ان کو عوام کہتے ہیں۔ جبکہ کتابی زبانمیں اس کو موج میں آیا فقیر کہتے ہیں۔ دونوں صورت میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ عوام قرض و امداد کے ٹکڑوں پر پلتی ہے اور فقیر ان ٹکڑوں پر پلنے والوں کےٹکڑوں پر۔ لہذا دونوں جب خوش ہوں تو ایک ہوائی فائرنگ کر کر کے آتش بازی کر کر کے اپنے ہی گھر جلا لیتا ہے۔ دوسرا جس کے پاس کچھ خریدنے کو نہیں ہوتاوہ کہیں سے ماچس خرید کر آتش بازی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ گھاس پھونس ہی تو ہے دوبارہ جمع کر لوں گا۔ قصہ مختصر یہ ایک انتہائی عملی محاورہ ہے۔جس میںہمارے معاشرتی رویوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

 آدمیاں نوں آدمی ملدے نیں تے کھواں نوں کھو

اپنی طرف سے اس محاورے میں بہت ہی بڑا انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا مکافات عمل ہے۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ یہ تمام کتابیباتیں ہیں۔ بعض لوگ ساری عمر دھوکا دیتے ہیں اور پھر بھی وہ بیچارے جلاوطنی کی زندگی کے نام پر ہیرو رہتے ہیں۔کچھ بیویوں کے مقروض رہتے ہیں جبکہ ان کیبیوی کا کوئی کاروبار ہی نہیں ہوتا۔ بعض بیچارے اتنے غریب ہوتے ہیں کہ اپنے ملک میں مساجد میں بیٹھے رہتے ہیں۔ لیکن کاروبار باہر کے ممالک میں کرتے ہیںتاکہ اس ملک میں تبدیلی کا عمل شروع ہو سکے۔ اور تمام "آدمی" ان کنووں سے پانی نکلنے کی آس میں ان کے اردگرد جمع رہتے ہیں۔ الغرض یہ ایک ایسا بیکارمحاورہ ہے۔ جس کی عملی مثالیں عہد حاضر میں ڈھونڈنا بہت ہی مشکل ہے۔