Tuesday, 19 July 2016

افسانچہ: تیری صبح کہہ رہی ہے۔۔۔۔

7 comments
تمام دوست خوش گپیوں میں مصروف تھے، لیکن وہ خاموش بت بنا بیٹھا خالی نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا۔ پیشانی پر سلوٹیں اور آنکھوں کے گرد حلقے بہت گہرے نظر آرہے تھے۔بار بار گردن کو دائیں بائیں ہلاتا جیسے درد کی وجہ سے پٹھوں کو آرام دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ آنکھوں کی سرخی سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گزشتہ کئی دن سے سو نہیں پایا۔  کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب برخلافِ طبیعت اس کی طرف سے کوئی جملہ کسی بھی موضوع پر سننے کو نہ ملا تو احباب اپنی گفتگو ترک کر کے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ پہلے نے ایک گہری نگاہ اس کے سراپے پر ڈال کر پوچھا۔
یہ تمہاری آنکھوں کے گرد حلقے اتنے گہرے کیوں ہیں؟ کس کا غم سوہان روح بنا ہوا ہے؟ دوسرے نے سوال اٹھایا۔
بولو بھی!  کیا زبان گروی رکھ دی ہے؟ تیسرے نے جملہ چست کیا۔
خدا کے واسطے! اب یہ نہ کہہ دینا کہ تمہیں اس عمر کسی مٹیار سے عشق ہوگیا ہے.جبکہ تمہارا ایک پاؤں قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے۔ ایک نے جھلا کر کہا۔
پھر سب چپ ہوگئے۔ اس نے سب پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ اور پھر آہستہ سے بولا۔
میں آجکل نائٹ شفٹ بھی کر رہا ہوں۔ 

نوٹ: پتا نہیں اس کو افسانچہ بھی کہنا چاہیے کہ نہیں۔۔۔ خیر جو بھی ہے۔ 

Thursday, 7 July 2016

ایک عادت

7 comments
کہتے سنتے آئے ہیں کہ پرانی عادتیں بھی پاؤں کی زنجیر ہوتی ہیں۔ انسان ان سے جان چھڑانے کی جتنی بھی کوشش کرے، صورت حال "چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی" والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریٹائر بزرگ  گھر کے اندر اور بےروزگار نوجوان گھر کے  باہر ہر کسی کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ خیر ہمارا  بزرگ افراد اور بےروزگار نوجوان، دونوں سے بیک وقت محاذ آرائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ شام کی مصروفیات پر گفتگو کا ارادہ ہے جن کے بارے میں ہم ہمیشہ سے ایک احساس کمتری کا شکار رہے ہیں۔ یہ احساس کمتری اور بھی بڑھ جاتا جب ہم لوگوں کو نصف نصف شب سردیوں کے چاند کی مانند آوارہ پھرتے دیکھتے۔اب  اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ گرمیوں کا چاند کیا آوارہ نہیں ہوتا۔ تو بھئی! ایک تو سردیوں کا چاند ذرا شاعرانہ سی اصطلاح ہے۔ اور بلاوجہ ایک رومانویت کا احساس ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف گرمیوں کا چاند ہم چولستانیوں کو چولستان کے گرمی یاد دلاتا ہے۔ اور جو گرمی وہاں پڑتی ہے اس میں تو چاند کی مت ماری گئی ہوتی ہے۔ رومانویت کا پہلو کیا خاک نکلے گا۔ بہرحال ہمیں  ماں باپ نے سرکس کے شیر کی طرح ایسا سدھایا کہ جس عمر میں ہمارے ہم عمر شب خون مارنے کے منصوبے بنایا کرتے تھے ہم اپنے بستر میں لیٹے خوداحتسابی جیسے قبل مسیح کے بیکار شغل سے دل بہلایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے شام کی بجائے صبح کی آوارہ گردی کو اپنا شعار بنایا۔ یہ الگ بات ہے کہ صبح  وقت ہمارا سامنا کبھی بھی کسی حسین و مہ جبیں سے نہ ہوا۔ اور اگر کبھی کوئی نظر آئی بھی ہوگی تو یقینی طور پر ایسی ہوگی کہ ہم کو صبح کا منظر ہی زیادہ بھلا معلوم ہوا ہوگا۔  یوں بھی بقول شفیق الرحمٰن عشق اتارنے کا مجرب نسخہ یہ ہے کہ لڑکی صبح کو دکھائی جائے۔  ہماری  خود ساختہ نیکی اور شرافت کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی  ہو سکتی ہے۔ یہ وجہ  ہمیں خود ابھی ابھی یہ  سطور  لکھتے ہوئے معلوم ہوئی ہے۔
قصہ مختصر بچپن میں   گھر سے زیادہ دور تک جانےکی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی۔ مغرب کے بعد ماں کی بڑی سخت تاکید ہوا کرتی تھی کہ اگر باہر نکلنا بھی ہے تو گھر سے دور نہیں جانا۔ چھوٹے ہوتے ہم اس کو ماں کا پیار سمجھتے تھے۔ پھر پتا چلا کہ ماں  نفسیات داں ہے۔ اس  کو ڈر ہے مغرب کے بعد لوگ ہمیں1 دیکھ کر ڈر نہ جائیں سو احتیاطً اپنے پاس رہنے کا کہا کرتی تھی مبادا  لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے بچے کی نفسیات پر برا اثر نہ پڑے۔صبح کو آج تک ہم سے کوئی نہیں ڈرا۔ یہ ہمارا ذاتی تجربہ ہے۔
  لیکن آج جب ہم مدتوں گھر کا رخ نہیں کرتے۔ تو کبھی گلی کوچوں سے گزرتے کسی دروازے  سے جھانکتی ماں کو دیکھتے ہیں۔ جو گلی میں کھیلتے اپنے بچے کو کہہ رہی ہوتی ہے کہ "مغرب ہوگئی۔ اب اندر آجاؤ۔" توماں کے بعد ہمارا خیال چوہدری کی طرف جاتا ہے۔ چوہدری بھی  آج بھی دن چڑھے دس بجے سے پہلے  اور غروب آفتاب کے بعد گھر سے باہر  نہیں   نکلتا۔ اگر کبھی دوستوں کے اصرار پر گھر سے نکلنا پڑ ہی جائے تو اپنے گھر کے سامنے بنے پارک سے آگے نہیں جاتا۔ہم چونکہ اپنی اس کمی کا علی الاعلان اعتراف کر چکے تھے اور تجدید بھی کرتے رہتے ہیں سو احباب نے ہمیں ہماری اس کمی سمیت قبول کر لیا ہے۔ بلکہ ہماری  اس خامی میں بہتری لانے کی  کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف   چوہدری صاحب اس بات کو ماننے سے بھی انکاری تھے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ دو لوگو ں کا آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایک وہ جو نہر کے دوسرے کنارے کھڑا ہو کر آپ کو گالی دے دے۔ دوسرا وہ جو منہ پر مکر جائے۔ چانچہ جب  بارہا بار  ثبوت فراہم کرنے کے بعد بھی چوہدری  کا کوا سفید ہی رہا تو احباب نے الجھنا چھوڑ دیا۔ ایک دن کچھ دفتری مصروفیات کے سبب تاخیر ہوگئی۔ واپسی پر  عشاء  کے قریب   ہم  چوہدری کے گھر کے باہر سے گزرے۔ لیکن انہی عادات کے سبب ان کے آرام میں مخل ہونا مناسب نہ سمجھا۔ اگلے دن باتوں باتوں میں چوہدری کو بتایاکہ کل اس طرح تمہارے گھر کے پاس سے گزرے تو چوہدری نے فوراً کہا۔ عجیب آدمی ہو تم۔ آجاتے۔ گھر کے باہر بیٹھ کر خوب گپیں مارتے۔ ہم دل ہی دل میں اپنے  گزشتہ شب کے  فیصلے کو خوب داد دی۔   رمضان میں افطاری پر احباب بلا لیں تو اس کے گھر کے گرد پانچ سو میٹر کے دائر میں ہوٹل  ہو تو ٹھیک ورنہ کوئی حیلہ بہانا کر کے ٹرخا دیا کرتا۔ اب اگر ہم یہ بات کہیں کہ جیسی شکل ہماری بچپن میں تھی ویسی چوہدری کی اب  ہے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ اس پر کبھی کوئی مولوی جیسا مزاج شناس یہ کہہ دیتا کہ اس کو ماں نہیں بھابھی کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو چوہدری یوں شرما جاتا تھا جیسے کسی کنواری لڑکی کو اس کی سہیلیاں سہاگ کا جوڑا دکھا کر چھیڑ رہی ہوں۔ لیکن جو بات سمجھ سے بالاتر تھی وہ یہ کہ  سب کو بہلا کر کسی ایک دوست کے ساتھ خفیہ افطاری اپنے گھر کے سامنے بنے ہوٹل میں کر لیا کرتا  اور بعد میں چوپال میں دوستوں کو تصاویر دکھا کر کہتا۔ دیکھو! تم ناحق مجھ پر الزام لگاتے ہو۔ کل بھی افطاری باہر کی تھی۔ اکثر احباب اس مخصوص ہوٹل کےمیز و کرسیاں اور  ٹشو پیپر پر بنے مونو گرام تک  پہچانتے تھے۔ اس ضمن میں کئی سوالات بھی اٹھائے جا چکے تھے۔ کہ صرف کسی ایک دوست کے ساتھ ہی کیوں جایا جاتا ہے؟ شہر اقتدار میں  ہوٹل ختم ہوگئے ہیں؟ کسی اور جگہ افطاری نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ لیکن پہلی بات یہ کہ چوہدری ان سب کو بیک جنبش لب ایک فلسفیانہ جملہ ادا کر کے ختم کردیتا کہ انسان اس دنیا میں سب کو خوش نہیں کر سکتا۔میں سونے کا بھی بن جاؤں تو بھی تمہارے اعتراضات ایسے ہی رہیں گے۔اور دوسری یہ کہ ہم بھی اپنی آئندہ زندگی کے کسی رمضان میں اس عزت کے حقدار ٹھہریں گے۔اب تو فہرست میں ہمارا نمبر بھی آیا ہی چاہتا ہوگا۔  یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ہمیں چوہدری کے بارے میں کسی بھی قسم کے بیان جاری کرنے سے روک دیتی ہے۔