Thursday, 31 December 2015

اوستھا

11 comments
2015 اپنے اختتام کو پہنچا۔ نئے سال کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ کتنے سالوں سے یہی عادت ہے کہ سالِ نو کے آغاز میں ارادے باندھنا اور سال کے آخر میں ان بوسیدہ  منصوبوں کو دفن کر دینا۔ آج بھی ایک ایسا ہی دن ہے۔ کتنے منصوبے دفنا رہا ہوں جو اس سال کے آغاز میں  بڑے جذبے سے بنائے گئے تھے۔ اس وقت یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی تکمیل کرنے میں صرف چند دن کا فاصلہ ہے ۔  یہ چند دن کب چند ہفتے اور پھر مہینے سے ہوتے ہوئے سال میں ڈھل گئے اگر سوچنے بیٹھوں تو شاید کوئی وجہ نہ تلاش کر سکوں۔

چائے کا کپ ہاتھ میں لیے میں ہمیشہ کی طرح طلوع آفتاب کا منتظر ہوں۔اس منظر سے شاید مجھے یوں لگتا ہے کہ نئی صبح آگئی ہے۔ لیکن شام ثابت کرتی ہے کہ " وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں "۔ گزشتہ گزرے دس سالوں میں شاید یہ پہلا یا دوسرا سال ہے کہ میں صادق آباد اپنے امی ابو کے پاس بیٹھا ہوں۔ ابو اپنی عادت کے مطابق روز کی طرح اونچی آواز میں فارسی کے اشعار پڑھ رہے ہیں۔

كريما ببخشاي بر حال ما
كه هستيم اسير  كمند  هوا
نداريم غير از تو  فريادرس
تويي عاصيان را خطا بخش و بس
نگهدار ما را ز راه  خطا
خطا در گذار وصوابم نما.....

میرا ان اشعار سے تعلق بہت پرانا ہے۔ بچپن سے یہ اشعار اسی ترنم سے سنتا آرہا ہوں۔ ابو ان اشعار کا ورد بلند آواز میں بڑی دیر تک کرتے رہتے ہیں۔ خیر بات کدھر نکل گئی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ  کیا فائدہ اتنے ارادے باندھنے کا، جن کو سال کے آخر میں خود اپنے ہی ہاتھ سے دفنانا ہے۔ یہ سب آنے والے دن تو اس کے کرم کےمتلاشی  ہیں۔ ہماری ہستی کا جھونکا کب جانے گزر جائے  ۔ بس وہی منصوبے انجام کو پہنچتے ہیں جن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے  میں عمل کے ساتھ اس کریم کی رضا بھی شامل ہو۔ اس کے علاوہ کون ہے جو ہم گناہ کاروں خطاکاروں کی خطائیں بخشے۔  حضرت علی رضہ اللہ تعالیٰ عنہ  کرم اللہ وجھہ فرماتے ہیں کہ "میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔" میں کیسا کوتاہ نظر ہو ں مدتوں سے ارادوں کو دفنا رہا ہوں لیکن رب کو نہیں پہچان رہا۔ اور پہچانوں بھی کیسے کہ مقصود ہی  دنیا ہے۔

نہ گزرے شب و روز پر دل گرفتہ ہونے کا ارادہ ہے  اور نہ اس سال کے لیے کوئی باقاعدہ  منصوبہ  ہے۔ اس سال بس دعائیں ہیں کہ رب کریم پہلے سے الجھے معاملات کو سلجھا دے۔ ظالموں کی رسی کو اب اور دراز نہ کرے۔ جو کوئی جس جگہ جس حال و منصب میں ظلم کر رہا ہے۔ اب اس کی پکڑ ہوجائے۔ اب وہ  ذلیل و رسوا ہوجائے۔ وہ عناصر جو اس ملک کی جڑیں کاٹنے میں مشغول ہیں ان کی جڑیں خدا اس طرح کاٹ دے کہ وہ بے نام و نشاں ہوجائیں۔ حکمرانوں کو عقل عطا کردے۔ شعور عطا کر دے۔ ان ظالموں کے پالتو کتے جو اپنے ہی وطن کی  بیٹیوں کی عصمت دری میں مصروف ہیں۔ ان کے ہاتھ کٹ جائیں۔ میں یہ دعا چاہ کر بھی نہیں کر پا رہا کہ ان کی وکالت کرنے والوں کے خاندانوں کے ساتھ بھی یہی ہو لیکن یہ دعا ضرور ہے کہ وہ احمق و بےشعور لوگ جو آنکھوں دیکھی مکھی نگلتے ہیں۔ وہ جنہوں نے ظلم کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے۔ اب  بصارت کے ساتھ ساتھ ان پر بصیرت کے راز بھی آشکار کر دے۔ اللہ اس سال ہمارے امیدوں کے چراغوں کو بجھنے نہ دینا۔ ہم کو مایوس کرم نہ کرنا۔ اس صبح کو وہ صبح بنا دینا جس کا انتظار ہے۔ کہ نفس مطمئن ہوجائے۔ راضی بالرضا ہوجائے۔  جو احباب اس سال کچھ منصوبوں کو ترتیب دیے ہیں۔ ان کو کامیابی و کامرانی عطا کرنا۔  ہمارے نفس کو اپنے قابو میں رکھنا کہ ہم اس سرکش گھوڑے کے اچھے سوار کبھی بھی ثابت نہیں ہوئے۔ آمین

Wednesday, 30 December 2015

ای میلز اُڑا دیجے

3 comments
ای میلز   اُڑا دیجے
(جون ایلیا سے معذرت کے ساتھ)
فاتح بھائی کی محبتوں نے اس نظم کو نکھار دیا ہے۔

تم نے مجھ کو لکھا ہے
"میلز سب اُڑا دیجے
مجھ کو فکر رہتی ہے
دفع آئی ڈی کیجے
آپ کا اکاؤنٹ گر
ہیک ہوا تو کیا ہو گا
دیکھیے میں کہتی ہوں، یہ بہت برا ہو گا"

"میں بھی کچھ کہوں تم سے!
فارحہ نگارینہ!
فیس بک کی شاہینہ
اردو ویب کی تہمینہ
شوخ تو تمھیں تھیں نا
میں تمھاری ای میلیں
کرتا آرکائو ہوں
ہے سوادِ بینائی، ان میں جو ہیں تصویریں
ارکئوز اڑا دوں کیا؟
جو بھی ان کے بیک اپ ہیں
ڈبلو ڈی ڈرائیو پر
ڈبلو ڈی ڈرائیو کو
فارمیٹ کر دوں کیا
اور کچھ کلاؤڈ پر
آسماں ڈرائیو پر
سب کی سب لٹا دوں کیا
ساری پکس اُڑا دوں کیا
جو بھی ان کاعنواں ہے
نقشِ جاں ہے جاناناں
نقشِ جاں مٹا دوں کیا؟


آسماں ڈرائیو کیا
اور کُل کلاؤڈ کیا
سب کی سب لٹا دوں کیا؟
ارکئوز اڑا دوں کیا؟
بیک اپ ہی مٹا دوں کیا؟
آئی ڈی گنوا دوں کیا؟

مجھ کو لکھ کے ای میلیں
اور بھیج کر اسنیپس
یونہی بےخیالانہ جرم کر گئی ہو تم
ای میل ہیک ہونے پر، سب سے ڈر گئی ہو تم
جو بغیر سوچے ہی
میلز میں کبھی تم نے
یوں اٹیچ کر ڈالیں
جب سنیپ چیٹ آٹو
وائپ ہی سے نہ بھیجیں
پھر تو میری رائے میں، جرم ہی کیے تم نے​