Thursday, 8 May 2014

آم کے آم گھٹلیوں کے دام

10 comments

زبیر مرزا:
السلام علیکم
جناب @نیرنگ خیال آن لائن ہوں گے اور سوالات کے جوابات دیں گے - یہ ایک مسخرانہ اور لطیفانہ سلسلہ ہوگا
آپ نیرنگ خیال سے اشعار کی تشریح کراسکتے ہیں ،اپنی سر کی خشکی کا علاج دریافت کریں یا محاوروں کا مطلب پوچھیں
جوابات دیں گے مشہور ومعروف دانشور جناب ڈاکٹر نیرنگِ خیال اپنے مخصوص انداز میں

نیرنگ خیال:
وعلیکم السلام!
اس سے پہلے کہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کروں۔ قارئین میں آپ کی توجہ" میزبان مرزا" کے اس جملے کی طرف دلانا چاہوں گا۔ کہ یہ ایک مسخرانہ اور لطیفانہ سلسلہ ہوگا۔
قارئین کسی بھی دانشور کے اقوال اور خیالات کا مذاق اڑانا ان مرزا یاروں کا پرانہ طریق رہا ہے۔ کسی کے سنجیدہ اقوال کو اگر آپ پروگرام کے شروع میں ہی ایسے الفاظ سے متعارف کروائیں گے تو ظاہر ہے بات کا اثر جاتا رہے گا۔ اور یہی مرزا کی دلی خواہش ہے۔ کہ کسی بھی طریق سے ہماری جگ ہنسائی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ لیکن وہ نیرنگ ہی کیا جو ڈر جائے پروگرام کے خونی منظر سے۔۔۔۔

آپ سب کے سامنے نیرنگ خیال حاضر ہے۔ حاضرین آپ کے مشکل سوالات کا تو میں کیا جواب دے پاؤں گا۔ لیکن اپنی سی سعی ضرور کروں گا۔ کوشش ہوگی کہ تمام جوابات غیر مستند اور کسی بھی حوالے کے بغیر ہوں۔ جہاں تک ممکن ہوا بلاوجہ کے تاریخی حوالہ جات سے احتراز کروں گا۔ اور وجہ بھی ہوئی تو صرف اپنی مرضی کے حوالے دوں گا۔ حقائق کو خوب توڑ موڑ کر بیان کروں گا۔ امید ہے کہ شافی جوابات ملنے پر آپ کے اندر کے محقق کی چند ایک سوالات ہی میں موت واقع ہوجائے گی۔ بصورت دیگر اس محقق کو مجھے خود آکر مارنا پڑے گا۔ جو کہ اس مہنگائی کے دور میں کچھ بھلا معلوم نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ریٹرن ٹکٹس دستیاب ہوں تو خادم یہ سہولت بھی فراہم کرنے کو تیار ہے۔

تو اب شروع کرتے ہیں پروگرام۔۔۔


زبیر مرزا:
  ڈاکٹر نیرنگ خیال پہلا سوال آپ سے یہ ہے کہ آموں کی آمد آمد ہے تو ہمیں اس کہاوت کا مطلب سمجھادیں
"آم کے آم گھٹلیوں کے دام"

نیرنگ خیال:
جناب مرزا نے پہلے ہاتھ ہی آموں کے بارے میں سوال پوچھا ہے۔ اس سے آپ احباب کو بہت اچھا اندازہ ہوگیا ہوگا۔ کہ یہ ایک تاریخی سوال ہے۔ جو کم از کم مرزا جتنا پرانا تو ہے ہی۔ لیکن ناظرین اس سوال کو تہذیبی رنگ دینے کو ضروری ہے کہ صاحباں کے ذکر سے حتی الوسع گریز کیا جائے۔
ہائے آم۔۔۔۔ واہ۔۔۔ اوپر سے موسم بھی آگیا ہے۔ ہمارے علاقے میں تو دوسیری اب بازار میں آگیا ہوگا۔۔۔ خیر چھوڑیں جی علاقے کو۔۔۔ سوال کی طرف آئیں۔
یہ ایک کاروباری سوال ہے۔ عمومی طور پر آم لوگ اس کو کسی غیر متوقع منافع حاصل کر لینے کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ سراسر غلط ہے۔ساری دنیا جانتی ہے کہ بیچنے والا گھٹلی سمیت ہی بیچے گا اور تولے گا۔ خریدنے والا اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ ایسی صورت میں گھٹلیوں کے الگ سے دام استعاراتی طور پر بھی استعمال کرنا کسی آم کی دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ آم بناء گھٹلی کے بیچنا ایسا ہی ہے جیسے محبوب کو دل دیے بغیر محبت کرنا۔

ہاں تو قارئین میں کہہ رہا تھا کہ  آم بہت سی چیزوں کے لیے استعارہ رہا ہے۔ عمومی طور پر آم آدمی کو بھی عام آدمی کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو تو بھی آم حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ کچھ کام نہ ہو تو بھی آم کا کاروبار عروج پر رہتا ہے۔ الغرض آم ایک ایسی چیز ہے جو ایک بہترین روزگار ہے وہیں بیکاری کے دنوں کا ایک بہترین شغل بھی۔
یعنی اگر آم آدمی کے تناظر میں دیکھیں تو ووٹ اس کی گھٹلی بنتا ہے۔ جس کے وہ عرصہ پنچ سال کے بعد چند سو روپے وصول کر لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یا پھر اپنے گھر کے باہر والی نالی پکی کروا لیتا ہے۔
دوسری صورت آم کی یہ بنتی ہے کہ آم کھاؤ اور آم کی گھٹلی اپنے گھر کی چھت پر سکھا کر کھاؤ۔۔۔ اس کا بھی اپنا لطف ہے۔ لیکن اس حرکت سے لوگ آپ کو آم آدمی کم اور حاتم طائی کا قاتل زیادہ سمجھیں گے۔ لہذا اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے کسی بچے کے کاندھے کا سہارا لیں۔
اس کے اگر آپ آموں کا باغ لگانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو بھی گھٹلیوں کے دام کہیں نہیں گئے۔۔۔
واللہ اعلم
اگر مزید کسی کی تسلی و تشفی ان جوابات سے نہیں ہوئی۔ تو اس کے لیے لازم ہے کہ اپنی تسلی و تشفی پر ان للہ پڑھ لے۔

نوٹ: احباب کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ اس میں "ڈاکٹر " جیسے القابات مزاحاً استعمال ہوئے ہیں۔ :)

10 comments:

  • 8 May 2014 at 03:33

    واہ میاں اس تحریر کی لذت آموں سے کم نہیں- آم جو پھلوں کا باشاہ ہے جس کی مہک اورذائقہ جس میں نشہ ساہوتا ہے وہ سب اس تحریرمیں موجودہے-مختصراندازمیں شگفتہ جملوں سے تحریرکو چاشنی بخشنا اب آپ کے بائیں ہاتھ کا کام بنتا جارہا ہے
    نوٹ: احباب کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ اس میں "ڈاکٹر " جیسے القابات طنزا استعمال ہوئے ہیں۔ :)
    اس کی تصحیح کرلیں طنزاََ نہیں مزاحاََ ہیں یہ القاب:)

  • 8 May 2014 at 03:53

    ارے زبیر بھائی۔۔۔ یہ تو سب آپ لوگوں کی محبت ہے۔ وگرنہ احقر کی مجال کیا ہے۔
    لو جی ہم نے طنزاً ویسے ہی نکال دیا ہے۔۔۔۔ :D

  • 8 May 2014 at 04:28

    بہت مزے کی تحریر ہے۔۔اس سلسلہ کو جاری رکھئے

  • 8 May 2014 at 08:18

    بہت شکریہ سر۔۔۔۔ :) سلسلہ جاری ہے۔۔۔ :)

  • 27 June 2015 at 09:54

    یہ فرمائیے جناب ڈاک دار بمعہ مرزا یار کہ یہ فقیرِ بے تقصیر اپنا سوال کہاں پیش کرے اور کس انداز میں پیش کرے۔ "دے جا انھیا، سخی نوں پیسہ" کا سا انداز تو شاید سخی اور اندھے دونوں میں کسی کو بھی قابلِ قبول نہ ہو گا۔ اور اگر شومیء قسمت سے یہ دونوں تعریفیں ایک شخصیت میں جمع ہوں تو کیا ہو گا۔
    اس سے آگے سوچ کا کشکول گر کر سرِ بے مایہ کی طرح ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔

  • 30 July 2015 at 08:12

    سوالات تو اور بھی ہیں، بلکہ ڈیڑھ لات، پونے دو لات بھی! ہاں دو لات پورے کرنے میں خدشہ دو لتّی کا بھی ہے، سو ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ فی الحال ایک سوال ایک بے چارے مردہ پژمردہ سوال کے بارے، جو جُون کی دھوپ میں بھی نہیں سوکھا۔ آپ کے آم کی ’’گھٹلی‘‘ ممکن ہے سوکھ کر ٹھیک ہو گئی ہو۔ گٹھلی کے طور پر دوبارہ درست نام سے معروف ہونے میں تو خیر تاخیر ہونی ہی، آم کی بات کوئی عام بات تو ہوتی نہیں۔
    ہم ذکر کر رہے تھے اپنے ہی سوال کا (نمبر ۵) جو جون کی دھوپ میں نہیں سوکھا تو رمضان اپنے حقیقی مزاج (گرمی) کے ساتھ آن وارد ہوا، وہ پھر بھی نہیں سوکھا۔ کہ اس کو گیلا رکھنے کے لئے دریاؤں نے طغیانی اختیار کر لی۔ یار لوگ اپنے سوال کے جواب کے انتظار میں سوکھ رہے ہیں۔ چلئے کچھ تو سوکھا!

  • 30 July 2015 at 14:56

    یہ سلسلہ محفل پر شروع کیا تھا پھر درمیان میں ہی رہ گیا

  • 31 July 2015 at 00:42

    ہاہاہاہاااا۔۔۔ سر آپ کے سوال بڑا دقیق ہے۔۔۔ آج ہی عرصہ بعد ادھر آیا ہوں۔ اور یہ سوال آج ہی دیکھا ہے۔۔۔ اب تک کی تاخیر کے لیے معذرت اور اس کے بعد ہونے والی تاخیر کے لیے معذرت پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
    مرزا بھائی اپنے مہربان ہیں۔ ان سے کہہ کہلوا کر یہ سلسلہ دوبارہ اردو محفل پر شروع کروا لیتے ہیں۔۔۔ آخر اتنا حق تو بنتا ہی ہے۔۔۔ :ڈی

  • 31 July 2015 at 18:52

    اپنے مرزا کا تو سنا ہے آج کل "مرزا نوشہ" بنے پھرتے ہیں، سچ مچ نہ سہی خیالوں ہی میں سہی۔ کہا بھی کہ حضت! مان جائیے آپ کے ہاتھ سرخ کیے دیتے ہیں! یوں ہی لنڈورے پھرتے رہو گے کون سا کولمبس سے آ گے نکل جاؤ گے! پر، وہ اس مشورے کو بظاہر ہنسی میں اڑا دیتے ہیں، دلِ ناتواں پر کیا گزرتی ہو گی، یہ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے!

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔