Tuesday, 23 May 2017

سوشل میڈیائی لطائف اور ہم

0 comments
ایک کام میں مصروف تھے کہ میز پر پڑا فون کپکپا اٹھا۔ اب معلوم نہیں کہ کپکپاہٹ سے خوف نمایاں تھا کہ یہ خوشی کی لہر تھی۔ فون اٹھایا تو دیکھا ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک لطیفہ بھیجا تھا۔ لطیفہ اچھا تھا۔ سو ہم نے جواباً "ہاہاہاہاہا" کا میسج اس کو بھیج دیا۔ تاکہ سند رہے لطیفہ وصول پایا ہے اور پڑھنے والے نے اس سے حظ بھی اٹھایا ہے۔ ابھی چند ثانیے ہی گزرے تھے کہ فون دوبارہ کپکپا اٹھا۔ دیکھا وہی لطیفہ کسی نے ایک وٹس ایپ گروپ میں شئیر کر رکھا تھا۔ مروتاً ایک دانت نکالتا ہوا شتونگڑہ وہاں رسید کیا ۔ ابھی فون واپس نہ رکھا تھا کہ ایک اور گروپ ٹمٹما اٹھا۔ دیکھا تو اس گروپ میں ایک حسین و مہ جبیں نے وہی لطیفہ پھینکا تھا۔ حسن کونظر انداز کرنا جتنی بڑی گستاخی ہے اس کے ہم ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ سو فوراً سے پیشتر دو چار ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے شتونگڑے باقاعدہ اقتباس لے کر رسید کیے تاکہ کوئی اور بدمذاق یہ نہ سمجھے ہمیں اس کی بات پر ہنسی آئی ہے۔ ہنسی بہ حق دار رسید ۔
کام سے فارغ ہو کر سوچا کہ کچھ دیر آستانہ فیس بک پر حاضری دے لی جاوے۔ ابھی اطلاعاتی صفحہ پر لوگوں کی کارستانیاں ابھرنی شروع ہوئی تھیں کہ ایک پرانا لطیفہ نئے سنجیدہ لطائف کے درمیان جگمگاتا نظر آیا۔ اس لطیفے سے جڑی کئی یادیں آگئیں۔ ہم نے بےاختیار ہو کر "ہاہاہا" کا شتونگڑہ رسید کیا۔ اور آگے کو چل دیے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی لطیفہ ایک اور پرانے دوست نے بھی شیئر کر رکھا ہے۔ فوراً  لعن طعن کی۔
"یہ کیا حرکت ہے؟ کبھی کوئی سنجیدہ بات بھی کر لیا کر۔ یہاں تم لوگوں نے تھیٹر لگایا ہوا۔ اور قبل مسیح کے لطائف سنا کر ہنسانے کی کوشش کرتے ہو۔"
اس کو ڈانٹ پلا کر ایک فخر کا احساس جاگا۔ شرم آرہی ہوگی اب اسے۔ دل میں شرمندہ ہو رہا ہوگا۔ کہ واقعی کتنا پرانا لطیفہ شئیر کیا ہے۔ اپنے آپ کو داد دیتے ہوئے ذرا سا صفحہ آگے بڑھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ کسی انجان حسینہ نے ایک فیس بکی گروپ میں وہی لطیفہ تازہ تازہ ارسال فرمایا ہے۔ تصویریں دھوکا ہیں۔ ان پر اعتبار مت کیجیو۔ مگر ہائے۔۔۔۔ دل ہی تھا پگھل گیا۔ کئی الٹے سیدھے شتونگڑے بنائے۔ اور عرض کی۔
" کیا کمال لطیفہ شریک کیا ہے۔ واہ واہ۔۔۔ بھئی لوگ بھی کیا سوچتے ہیں۔۔۔ ہاہاہاہا۔ آج ہی پڑھا۔ بلے بلے۔۔۔"
داد و تحسین کے ڈونگرے برسا کر ابھی واپس بھی نہ پلٹے تھے کہ انہی موصوفہ نے ہمارے تبصرے پر ایک لال سرخ سہاگن قسم کا  "دل" ارسال کر دیا۔ بس بےارادہ ہی  آئندہ سے ہمیشہ اس حسینہ کے لطیفوں پر ہنسنے کا ارادہ فرما لیا تھا۔
فیس بک سے فارغ ہو کر سوچا پیر ٹوئٹر شریف کے درشن کیے بھی مدتیں بیت گئی ہیں۔ وہاں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک دوست نے وہی لطیفہ تصویری شکل میں لگا رکھا تھا۔ ہنہ۔ ہم نے ہنکارہ بھرا۔ نظرانداز کر کے آگے بڑھے تو پھر ایک حسینہ کی طرف سے وہی تصویر نظر آئی۔۔۔۔۔۔اطلاعاتی صفحہ وہیں ٹھہر گیا۔۔۔۔۔۔  و علی ہذا لقیاس

Wednesday, 3 May 2017

یکے از خواجگان

3 comments
شہرِ اقتدار سے شہر زندہ  دلان بسلسلہ روزگار منتقلی نے مجھے  شب کا مسافر بنا دیا تھا۔ اور اس شاہراہ پر میرے ساتھ بہت کم ہی مسافر تھے۔ یوں سمجھیے ،  راقم القصورہی ان اولیں لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ادارہ مذکورہ میں شب بیداری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اور سفرِ شب کے رموز و فوائد  آشکار کیے۔ طلب سچی اور راہ سیدھی ہو تو کارواں بنتے دیر کب لگتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان شب بیداری کے اس سفر میں ہمسفر بننے لگے۔ رات کو دن کا سماں رہنے لگا۔ انہی دنوں میری  ملاقات خواجہ صاحب سے ہوگئی۔" خواجہ" لفظ سے میری  عقیدت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔بزرگان دین کے ناموں کے ساتھ لگے اس لفظ نے  ذہن پر ایک ان دیکھی سی چادر تان رکھی تھی۔ پردہ تصور اس لفظ سے   ہمیشہ   سادگی و انکساری کا  پیکر ابھرتا۔ چشم تصور میں اس لفظ کے ساتھ ہی نیکی، انسانیت اور محبت کے ایک ایسے وجود کی تصویر ابھرتی، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ لیکن بھلا ہو یکے بعد دیگرے ملنے والے خواجوں کا۔ جنہوں نے اس تصور کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ پہلے پہل تو ایک آدھے "خواجہ" کو اپنے خیالی تصور سے یکسر مخالف سمت میں پایا تو یہ کہہ کر دل کو تسلی دی  "پسر نوح بابداں بہ نشست خاندان نبوتش گم شد" ۔ لیکن بات جب ایک دو سے بڑھ چلی تو محسوس ہوا ،  جانے انجانے یہ عقیدت اس لفظ سے کم سے ہو چلی ہے۔
چھوٹے قد، چھوٹے بالوں میں، چھوٹا  چہرہ لیے،چھوٹے سے  خواجہ صاحب کو جب راقم نےپہلی بار  دیکھا تو دل میں یہ خیال آیا کہ وہ "خواجہ" جن کا وجود آج کے گمراہ دور میں خیال ٹھہرا ہے؛ مجسم ہو کر ہمارے سامنے آگیا ہے۔پرانے چند ناخوشگوار واقعات کے سبب  عقیدت نے ہماری آنکھوں پر پٹی نہیں باندھی لیکن دل نے ایک تھپکی ضرور دی۔ مورکھ! دیکھ کیا رہا ہے۔ پائے لاگو کر لے۔ دل کو کسی طور سمجھا لیا۔ کہ چند دن، چند دن ۔ خواجہ صاحب سے کچھ دل کی باتیں کریں۔ مرشد کامل ہوا تو ہم نے پلہ کیوں چھوڑنا۔ ارادت مندوں میں تو زبردستی شامل ہوجائیں گے۔ ہائے۔۔۔۔ یہ گناہ گار ذہن اور معاشرے کا چلن۔ کیسے نیک نیک لوگوں کے بارے میں کیسے کیسے گمان ذہن  میں آجاتے ہیں۔
خواجہ صاحب تشریف لاتے۔ ایک چادر میز کے کونے پر ٹکاتے۔ ایک ٹوپی بھی تھی شاید۔ جو کسی نے خواجہ صاحب کو بھلے وقتوں میں پہنا دی تھی اور خواجہ صاحب اس یاد کو سر پر سجائے رکھتے تھے۔ سیٹ پر تشریف رکھتے۔ ایک ادائے بےنیازانہ سے اپنے کام کا آغاز کرتے۔ ہم جیسے راندہ درگاہ قسم کے لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے ہیڈ فون لگا لیتے۔ کچھ منقبت وغیرہ سنتے ہوں گے۔ اللہ لوگوں کے بھید کون کھول پایا ہے۔ رات کا پہلا پہر ڈھلنے کے بعد تشریف لاتے۔ اور دوسرا پہر ڈھلنے سے قبل   غائب ہوجاتے۔ چادر بھی غائب ہوجاتی۔ کیا منظر ہوتا تھا۔ اللہ اللہ ۔ مدتوں  اسی کافرانہ گمان کا شکار رہے کہ کسی خالی کمرے میں جا کر چادر اوڑھ کر سوجاتے ہوں گے۔ یہ خیال ایسا کوئی ذاتی بھی نہ تھا۔ لوگ کہتے ہیں تو کیا بے سبب کہتے ہوں گے مصداق ہم نے اس پر کچھ کچھ یقین بھی کر لیا مگر بغیر تحقیق کیے ایسے کافرانہ خیالات رکھنا یقینی طور پر ایک قابل گرفت عمل ہے۔ اور راقم الحروف تو بزرگی کے منصب پر بھی  فائز نہیں تھا کہ یہی کہہ کر جان چھڑا لے خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔
یوں تو خواجہ صاحب سے آتے جاتے ہم چونچیں لڑایا ہی کرتے تھے مگر جب وہ مصروف ہوں تو اس وقت ان کو چھیڑنے کا ایک الگ سے لطف ہوتا تھا۔ ایک دن جب خواجہ صاحب کام میں گھٹنوں گھٹنوں مصروف تھے راقم نے ہمت کر کےگفتگو کا آغاز کیا ا ور خواجہ صاحب سے ان کی دنیااور اس کے بعد پھر اس ادارے میں آمد کے متعلق سوال پوچھا۔ جواب میں خواجہ صاحب نے پنجابی ایک فصیح و بلیغ گالی سے نوازا۔ایسا نہیں کہ زندگی میں مجھے کسی نے گالی نہیں دی مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ کام بہت بےتکلف دوست ہی کیا کرتے  تھے۔ ٹھنڈے دل سے  جملے میں جب الفاظ و گالیوں کے تناسب پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ یہ گالیاں جملے میں اثر انگیزی کے لیے ٹانکی گئی ہیں۔ تاہم کچھ اس قدر زیادہ تعداد میں ٹانک دی گئی تھیں کہ اصل جملہ قریب غائب ہو چکا تھا اور صرف اثر انگیزی رہ گئی تھی۔ مجھے احمد اقبال صاحب کا جملہ بےاختیار یاد آگیا۔ کہ "اگر بھورے ماموں کی دھوتی کے سوراخوں کا رقبہ جمع کیا جائے تو دھوتی غائب ہوجاتی ہے۔" مختصر گفتگو فرماتے۔ مختصر سے مراد یہ ہے کہ جملہ تو کافی طویل ہوتا۔ تاہم اس میں اصل عبارت بےحد مختصر ہوا کرتی تھی۔   ہر قسم کے قومی نظریے کے مخالف تھے اور خود کو قوم پرست بھی سمجھتے تھے۔ یہ ایک عجیب تضاد تھا جس کا راز آج تک راقم پر نہیں کھلا۔ خود ہی نیشنلزم، کیپٹلزم  اور سوشلزم پر درس دیتے۔ خود ہی سوال کر کے جواب دیا کرتے تھے۔ اور پھر خود ہی ان نظریات کو رد کر کے کہہ دیا کرتے تھے کہ خطیب کیسا بیوقوف آدمی ہے۔ اور ہمارے پاس سوائے  ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔رفتہ رفتہ میں خواجہ صاحب کو اور خواجہ صاحب  مجھے سمجھنے لگے۔
ایک دن جوش خطابت میں مسلم حملہ آوروں کو برا بھلاکہہ رہے تھے۔ دورانِ خطاب فرمانے لگے یار دیکھو ہمارے اسلاف کی معصومیت۔ اچھے بھلے اونچی ذات کے برہمن تھے۔ مسلم ہو کر شودر ہوگئے۔ ہم نے عرض کی حضور، آپ کے اسلاف کو بھی چاہیے تھا کہ بحث کرتے۔ کہتے ادھر سے مندر چھوڑیں گے تو ادھر پیری کی مسند پر بیٹھیں گے۔ سر جھٹک کر فرمانے لگے۔ اس وقت یہ راز کب کھولے تھے انہوں نے۔ یہ رمزیں تو کہیں بعد جا کر پتا چلیں۔ دھوکے سے لٹ گئے۔اس سے احباب اگر یہ اندازہ لگائیں کہ خواجہ صاحب پرانے مذہب کے لیے کوئی نرم جذبات رکھتے تھے تو آپ سراسر غلطی پر ہوں گے۔ مذہب و غیر مذہب الغرض تمام حلقوں کے لیے ان کا رویہ ایک ہی تھا۔ ایک دن عالم وجد میں راقم سے فرمانے لگے۔ بھلے مانس! زندگی میں کبھی کسی مولوی کی بات پر اعتبار نہ کرنا۔ عرض کی۔ سیدی! آپ کے بارے میں کیا حکم ہے۔ تو ایک عارفانہ ہنسی کے ساتھ بولے۔ خدا گواہ ہے کہ تم میری کسی بات کا یقین نہیں کرتے۔ راقم نے عقیدت میں اس بات سے بھی انکار نہ کیا۔لیکن مدعا عرض کیا کہ روحِ سوال یہ تھی "خودرافصیحت، دیگران رانصیحت"۔ تو ہنستے ہوئے کہنے لگے "ہرکس سلیقہ ای دارد" ۔ ہم کج فہم بھی ہنس پڑے۔ بھید نہ پا سکے۔
خواجہ صاحب ہر اس بات کے خلاف تھے جو ایک عامی کےمعیارِ عقل و شعور   پر پوری اترتی تھی۔ پہلے پہل راقم کو خیال گزرا کہ شاید یہ مخالفت بہت زیادہ علم و عملیات کے سبب ہے۔ تاہم خواجہ صاحب نے اس خوش فہمی میں بھی زیادہ عرصہ نہ رہنے دیا۔ ایک دن گفتگو کے دوران ایک معروف کتاب پر بحث چھڑ گئی۔ لائبریری میں وہ الماری، جس میں کتاب دھری تھی،  اس کے سامنے سے راقم کا بارہا گزر ہوا تھا۔ ادھر خواجہ صاحب  کے ایک دوست نے وہ کتاب باقاعدہ پڑھ رکھی تھی۔ الغرض دونوں ان مسائل پر بہت دیر تک بات کرتے رہے جن کا اس مصنف کو کما حقہ ادراک نہ تھا۔  ایک دن فرمانے  لگے۔ مجھے دو قسم کے لوگ بہت برے لگتے ہیں۔ ایک وہ جو سرِورق دیکھ کر کتاب کے بارے میں ثقیل و طویل تبصرے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ  سوشل میڈیائی  جو قول کا ذائقہ چکھ کر کتاب کے بارے میں بےلاگ تبصرہ فرماتے ہیں۔ راقم نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ درحقیقت آپ ایک ہی قسم کے لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تو کہنے لگے۔ نہیں میاں! دو مختلف باتیں ہیں۔ تم کو غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے کافی غور کیا مگر کوئی خاص فرق معلوم کرنے سے قاصر رہے۔ تادم است غم است۔
مالِ دنیا کے مآل سے واقف تھے سو ظاہری ہیئت کی چنداں پرواہ نہ کیا کرتے۔ ایک جینز اور ٹی شرٹ جو میلی ہوتی تو الٹی کر کے پہن لیتے۔ فرماتے میاں ! مالِ دنیا چرک دست است۔ راقم نے عرض کی تو ساری میل ہاتھ پر ہی جمع رکھیں گے۔ کچھ اتار بھی پھینکیے۔ اس پر غصہ میں آگئے۔ بڑی دیر غصہ رہے۔ لیکن اگلے دن بھی اسی حلیے میں دیکھ کر عرض کی کل کے غصے کا کیا ہوا۔ فرمانے لگے کہ تمہارا غصہ ان بےجان چیزوں پر کیوں اتاروں۔ ان کو خود سے دور کیونکر کروں۔ شاعر آدمی تھے اور پیٹر تخلص کرتے تھے ۔ مخطوطات بھی زبانِ فرنگ ہی میں تھے۔ جن میں اکثریت بنیادی اخلاقیات کے لیے زہر قاتل تھے۔ خود فرماتے تھے کہ میری گزارشات  ناپختہ ذہن کے لیے موت ہیں  اور پختہ کے لیے مخطور۔ واللہ کیا کیا راز کھولا کرتے تھے۔ ایک دن راقم نے پوچھ ہی لیا کہ "پیٹر" ہی کیوں۔ کہنے لگے ایک تو اس سے "انٹیلکچوئل پُنے" کا گمان ہوتا ہے دوسرا اس لیے کہ دیار فرنگ کے بےشمار ناموں سے ہمارے ہاں یہی معروف ہے۔ توجیہ اچھی تھی راقم نے بھی اعتراض نہ کیا۔ خود اپنی جان سے ہاتھ دھونے  کا اندیشہ نہ ہوتا تو ان کا کوئی مخطوطہ  "فی سبیل اللہ فساد" کے لیے ضرور شریک کرتے۔ بلکہ تحریر کیا۔ ان کا تو ایک آدھا قول ہی ہمیں وجود سے عدم کی طرف منتقل کرنے کو کافی ہے۔ 
خواجہ صاحب کی ذات باکمال کے متعلق بالا گفتگو تو مشے نمونے از خروارے ہے۔  زندگی رہی تو خواجہ صاحب کی رمز بھری زندگی سے کچھ سنہرے واقعات عوام کی ہدایت اورعبرت کے لیے کبھی پیش کیے جائیں گے۔

نوٹ: اس خاکے کے تمام کردار تخیلاتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی سو فیصد مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔

Tuesday, 18 April 2017

خانہ پوری یا سیکیورٹی

3 comments
کل ایک دفتری ساتھ تشریف نہیں لائے۔ یوں ہی باتوں باتوں میں ہم نے خیریت دریافت کی تو پتا چلا کہ بروز جمعہ   نصف شب کے قریب  جب وہ دفتر سے نکلے تو جین مندر کے پاس انہیں پولیس والوں نے روک لیا۔ اور کہا کہ موٹر سائیکل ایک طرف لگا دیں۔ انہوں نے کاغذات وغیرہ چیک کروائے تو پولیس والوں نے کہا کہ بھئی! کاغذات سے کوئی سروکار نہیں۔ موٹرسائیکل بند ہوگی۔ یہ صاحب بہت حیران ہوئے۔ ان کے علاوہ بھی وہاں کوئی دس پندرہ موٹرسائیکل سوار تھے۔ ان سب کو بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل تھانے میں بند ہوگی۔ اس کے بعد آپ اپنے گھروں کو جائیں۔ مزید کریدنے پر پتا چلا کہ ایسٹر کی وجہ سے دہشت گردی کا خطرہ ہے اور لاہور پولیس موٹرسائیکلیں بند کر رہی ہے۔ بیچاروں نے بہت عرض گزاری اور منت کی کہ بھئی رات کے اس پہر کدھر کو جائیں گے۔ لیکن پولیس والوں نے نہ سننی تھی نہ سنی۔فرماتے ہیں کہ آخر جب میں عرض گزاری ضرورت سے زیادہ بڑھی تو ایک پولیس والا تنگ آکر بولا کہ یار! ہمیں ڈیڑھ دو سو موٹر سائیکل بند کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور وہ ہم نے ہر صورت بند کرنی ہے۔ اس بات پر  ایک دوسرے ساتھی کسی اور تہوار کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اُس رات میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اور جب میں پولیس وین میں بیٹھ کر تھانے اپنی موٹر سائیکل بند کروانے جا رہا تھا تو تھانے سے بار بار سپاہیوں کو فون آرہے تھے کہ ابھی تک صرف پندرہ موٹرسائیکلیں آئی ہیں۔ اور یہ فون پر جواب دے رہے تھے ۔۔۔ "سر جی! لے کے آندے پئے آں۔ رستے اچ ہے گے آں۔" ہمارے ملک کے حالات جیسے بھی ہیں یا ہوں گے، لیکن سیکیورٹی کے نام پر عوامی سیکیورٹی سے مذاق، خانہ پوری، اور عوام کو ذلیل کرنے کا یہ طریقہ  انتہائی قابل مذمت  اور شرمناک حد تک گھٹیا ہے۔ 

Tuesday, 31 January 2017

شکریہ

6 comments
بڑے دنوں سے یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ جب سے لاہور آیا ہوں دوستوں کے ساتھ  مل بیٹھنے کا وقت ہی نہیں مل رہا۔ چارلس ہنسن کی نظم "آراؤنڈ دا کارنر" بھی یاد آرہی تھی۔ معمولاتِ زندگی میں اب وقت کیسے نکالا جائے۔ کیسے ملا جائے سب سے۔ پھر یہ سوچ کر دل بہلا لیتا کہ شاید اب  بالمشافہ ملاقاتوں کا زمانہ بھی اٹھنے والا ہے۔ کوئی دور تھا  ہر وقت ساتھ ہوتے تھے۔ دن رات ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ کر اکتائے رہتے تھے۔ اور اب مہینوں ملاقات ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ مہینوں کیا۔۔۔ کئی ایک  شکلیں تو  ذہن سے محو ہوئی جاتی ہیں۔ کیسا خوشنما دور تھا۔ کوئی فون کرتا تو کہتے ریسور رکھ۔ اور چند منٹ بعد اس کے گھر کے باہر کھڑے ہوتے۔ کیسا آسان تھا ملنا۔ یہ بھی خوف نہیں ہوتا تھا کہ اب بس وقت ختم ہونے والا ہے۔ اب اٹھ کر واپس بھی جانا ہے۔ کتنی ہی راتیں  یوں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھے بیٹھے کاٹ دیا کرتے تھے۔ کیسا دلچسپ دور تھا۔

 آج جب فرقان مدتوں بعد ملنے آیا تو مجھے وہی دور دوبارہ یاد آگیا۔ کتنا مشکل ہے جب دیار غیر سے آدمی پلٹ کر آئے۔ اور پھر لاہور اس کا شہر بھی نہ ہو۔ اور وہ وقت نکال کر صرف اور صرف ملنے آئے۔ اپنے اس چند روزہ قیام میں ہمارے لیے وقت نکال کر لائے۔ بتلائے کہ نہیں دوست! ملاقاتوں کا دور ابھی گیا نہیں ہے۔ ابھی ہم ادھر ہی ہیں۔ ویسے ہی۔ کیا ہوا جو سنجیدگی نے ہمارے چہروں پر ڈیرہ جما لیا ہے۔ کیا ہوا جو مہینوں کے حساب سے ہم ایک دوسرے کو فون تک نہیں کرتے۔ مگر ہم ہیں۔ ادھر ہی اسی جگہ۔ ہوں گے جو وقت کی پکار پر تیز رفتار زندگی کے ساتھ آگے نکل گئے ہوں گے۔ مگر ہم پرانی قدروں   کے ہی گرویدہ  ہیں۔ ہمارے لیے آج بھی ملاقات کا مطلب جا کر ملنا ہی ہے۔ کچھ پل کچھ لمحے جو ساتھ گزر گئے۔ کتنی ہی انمٹ یادوں کا نشاں چھوڑ گئے۔ ذہن کے قبرستان سے   کیسے کیسے مناظر دوبارہ زندہ کر گئے۔ میں تمہاری ان محبتوں کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔ سدا خوش رہو۔

Sunday, 1 January 2017

عجب تعلق

9 comments
کچھ تعلق بہت عجیب ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ یہ یوں ہی بن جاتے ہیں۔ ان کہے، ان سنے۔ ان کی اپنی ایک چاشنی ہوتی ہے۔ آپ سامنے والا کا نام نہیں جانتے۔ وہ آپ کا کام نہیں جانتا۔ لیکن اس کے باوجود ایک آشنائی کی صورت قائم رہتی ہے۔ ایسے تعلقات گفتگو کے متقاضی نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کے درمیان ایک لگا بندھا سا  رشتہ ہوتا ہے۔ بہت ہی عمومی سا۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے نام مجھے نہیں آتے۔ ان کو یقینی طور پر میرا نام نہیں آتا ہوگا۔ لیکن ہمارے درمیان ایک  ان کہا دوستانہ سا موجود ہے۔

 بچپن میں لائبریری کے لیے نکلا کرتا تھا۔چونکہ پیدل جانا ہوتا تھا تو شارٹ کٹ کے چکر میں   محلے کے بیچ سے گزرتی  گلیوں سے ہوتا لائبریری جاتا تھا۔ دو تین گلیاں گزرنے کے بعد ایک گھر کے باہرایک چھوٹا سا سٹال آتا تھا۔ اس سٹال پر ایک ہم عمر نے بسکٹ، ٹافیاں یا ضروریات زندگی کا کچھ سامان رکھا ہوتا تھا۔ میں اس دکان پر رکتا ،  رسیلی سپاری خریدتا  اور آگے لائبریری کی طرف نکل جاتا۔ شب و روز گزرتے چلے گئے۔ بڑا ہونے پر  بابا نے مجھے سائیکل دلا دی۔ یوں پیروں کی جگہ پیڈل نے لے لی۔ ۔ اُدھر  اس لڑکے نے اپنے گھر کی بیٹھک کو ہی دکان بنا لیا تھا۔  کچھ اور سامان بھی رکھ لیا تھا۔ میں جیسے ہی اس کی دکان کے سامنے پہنچتا، تو وہ بن کہے  ایک مخصوص رقم کی سپاری میرے سامنے دھر دیتا۔ ادھر میری مٹھی میں وہی رقم ہوتی جو میں نے اس کو دینی ہوتی تھی۔ میں کاؤنٹر پر رقم رکھ کر سپاری اٹھا کر آگے نکل پڑتا۔کالج کے بعد  صادق آباد چھوڑ دیا۔ وہ راستے، لائبریری سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ لائبریری بند ہوگئی۔ کیسے اور کیوں بند ہوئی۔ یہ گفتگو  الگ سے طویل تحریر کی متقاضی ہے۔ تاہم ابھی کچھ دن قبل  گھر بیٹھا تھا کہ امی نے مجھے بازار سے کچھ لانے کا کہا۔ میں نے سوچا چلو پیدل ہی چلتے ہیں۔ بازار ان گلیوں سے بہت قریب تھا۔ اندازاً بھی پندرہ برس کے بعد میں انہی گلیوں سے گزرنے کا قصد کر رہا تھا۔  چلتے چلتے میں جب اس دکان کے سامنے پہنچا تو بےارادہ ہی رک گیا۔وہ چھوٹی سی دکان ایک جنرل سٹور بن چکی تھی۔  وہی لڑکا وہاں خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ میری طرح وہ بھی موٹا ہو چکا تھا۔ عمرِ رواں کی دی ہوئی لکیریں اس کے ماتھے پر بھی ابھر آئی تھیں۔ مجھےدیکھ کر اس کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ کاؤنٹر سے باہر نکلا۔ بڑی گرمجوشی سے گلے ملا۔ اور پہلی بار میں نے شاید اس کی آواز سنی تھی۔ "کہاں چلے گئے تھے تم"؟ بس فکر روزگار کھینچ کر لے گئی تھی۔ میں نے جواب دیا۔ "موٹے ہوگئے ہو۔ " اس نے ہنس کر کہا۔ اور پھر اپنی توند پر ہاتھ پھیر کر اور بھی ہنسنے لگا۔ "سپاری اب بھی کھاتے ہو؟" " نہیں۔ دو سال قبل چھوڑ دی تھی۔ اس وقت  سونف کھاؤں گا ۔" میں نے کہا۔ اس نے سونف مجھے پکڑا دی۔ میں نے روپے دینے کی کوشش کی تو کہنے لگا۔ رہنے دو۔ میں نے زبردستی ادائیگی کی۔دعائیہ کلمات کا تبادلہ کیا اور بازار کی طرف چل پڑا۔

سال کے آخری دن سے تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آخری دن آتا ہے۔ میں اپنی عمر کی الماری سے بارہ مہینے نکال کر سامنے رکھ دیتا ہوں۔ وہ بدلے میں چند لمحے، کچھ پل، خوشی غمی کے مجھے تھما دیتا ہے۔ میں کہتا رہ جاتا ہوں۔ مجھے یہ یادیں نہیں چاہییں۔ یہ چھبن یہ نادانی لے جاؤ۔ اگر تم پلٹ کو تو یہ فیصلہ میں بدلنا چاہتا ہوں۔ وہ  مسکرا دیتا ہے۔میرا کاندھا تھپکتا ہے۔ آنے والے کے استقبال کا کہتا ہے اور آگے نکل پڑتا ہے۔ میں کتنی دیر تک اسے جاتا ہی دیکھتا رہ جاتا ہوں۔ اور پھر ان یادوں کو سمیٹ کر حافظے کی دراز میں رکھ دیتا ہوں۔ کتنے سال ہیں جوآخری دن بھی  مجھ سے ملنے ہی نہیں آئے۔ ان   کی درازیں خالی پڑی ہیں۔پھر مدتوں بعد جب کوئی سال مجھ سے ملنے آیا تھا۔ تو میں بھی کتنے تپاک سے اسے ملا تھا۔ کہاں رہ گئے تھے تم۔ ایسا ہی کچھ سوا ل میرا بھی تھا۔ اس کا جواب یاد نہیں۔شاید وہ ہنس پڑا تھا۔ میرے بیوقوفانہ سوال پر۔ کسی کسی دراز میں اب   کہیں کوئی ایک واقعہ ہے۔ کہیں کسی خوشی کے استعارے بھی ہیں۔   اب یہ  درازیں بھرنے لگی ہیں۔ امسال  ان یادوں کی درازوں میں دوائیوں اور تشخیصی نسخوں کا بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ سوال و جواب جو تشنہ تھے۔ ملاقاتیں جو ادھار تھیں۔ ارادے جو ادھورے رہ گئے ہیں۔ ان کہی باتیں جو کہیں دل  میں ہی رہ گئیں۔ اور کہی ہوئی جو بار سماعت ٹھہریں یا پھر شور میں سماعتوں تک نہ پہنچ سکیں۔ میں ان سب کو حیرت سے دیکھ رہا ہوں۔ کیا خبر کہ اگلے سال کی ادائیگی میں حیرت بھی ہوگی یا نہیں۔

Thursday, 1 December 2016

قصہ دوسرے لیپ ٹاپ کا

3 comments
قصہ دوسرے لیپ ٹاپ کا
باب از عینیت پسندی

ذرائع سے معلوم ہوا کہ نیا لیپ ٹاپ چند دن میں دے دیا جائے گا۔ دو دن بعد ہارڈ وئیر کے شعبے سے ایک لڑکا سیاہ رنگ کا شاپر سا  اٹھائے ہمارے میز تک آ پہنچا۔قریب آنے پر پتا چلا کہ یہ بیگ نما کوئی چیز ہے۔ غور کرنے پر غلط فہمی دور ہوگئی۔ یہ ایک بیگ ہی تھا۔  ہم نے ایک نظر بیگ پر ڈالی۔ایک دریدہ دہن بیگ۔ جس کی ایک سائیڈ لقوہ زدہ لگ رہی تھی۔ لانے والا  کانوں سے پکڑ کر اس کا منہ سیدھا اور بند کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔  قبل اس کے بیگ کی دریدہ دہنی دیکھ کر ہم منہ پھٹ اور گستاخ ہونے کا الزام لگاتے، ٹوٹی زپ دیکھ کر اس کی معذوری سمجھ میں آگئی۔
"یہ کیا ہے؟"  ہم نے کھلے دہن سے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔
"لیپ ٹاپ"۔ مختصر جواب ملا۔
"کس کا ہے؟" ہم نے دوبارہ سوال کیا۔
"اب تمہارا ہے۔" دوبارہ وہی جواب ملا۔ 
"پہلے کس کے پاس تھا۔ " ہم نے پھر پوچھا۔
"اس بات کو چھوڑو۔ بہت سے لوگوں کے پاس رہا ہے۔" اسی روکھے انداز میں دوبارہ جواب دیا گیا۔  
ہم خاموش ہوگئے۔ خود کو احساس ہوچلا  تھا کہ ہمارے سوالات  بکرا خریدنے  والے کے سوالات جیسے ہوگئے ہیں۔ 
 ہم نے لیپ ٹاپ کو دیکھے بغیر کہا۔ "اس کو اٹھائیں گے کیسے۔ دہن بندی کا کچھ سبب ہو سکتا ہے؟ " 
"فی الوقت یہی بیگ ہے۔ گزارہ کرو۔" ٹکا سا جواب ملا۔
سوئی دھاگہ مل جائے گا۔ ہم  شاید ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ تھے۔ 
اب آنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔  یہ آئی ٹی فرم ہے۔ درزی کی دکان نہیں۔  
ہم نے ہنکارہ بھرا۔ اور لیپ ٹاپ کو باہر نکال لیا۔ کئی ایک جگہ زخموں کے گھاؤ تھے ۔ کچھ پرانے مالکین کے دیے تحفے بھی تھے جو اس نے اپنے ماتھے پر تمغوں کی صورت سجا رکھے تھے۔  پاور کا بٹن دبانے پر پہلی بار ہی سکرین روشن ہوگئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ ہم نے کی بورڈ کی ساری اکائیاں دبا دبا کر دیکھیں۔ سب ہی چلتی تھیں۔ ہم نے اس کے بنائے جانے کی تفصیلات دیکھیں  تو اس کو اپنے پرانے والے سے ایک سال کم عمر پایا۔ ابھی  جانچ پڑتال میں مصروف تھے کہ اس کا سی ڈی روم خود ہی باہر آگیا۔ ہم نے سی ڈی روم بند کرنے  کی بجائے اس لڑکے کو دیکھا جو ابھی تک ہمارے پاس کھڑ ا تھا۔ 
"یہ نئی سہولت ہے۔ سی ڈی روم کھولنا نہیں پڑے گا۔ "اس نے ہماری نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا۔ 
"لیکن میں سی ڈی روم استعمال نہیں کرتا۔" ہم نے اپنے آپ کو پرسکون رکھتے ہوئے کہا۔
"تو پھر اس کو بند کر دو۔" اس نے بےاعتنائی سے جواب دیا۔
گھر جا کر چلایا تو نہ چلا۔ بہت کوشش کی۔ لیکن کوئی بات نہ بنی۔ ایسے ہی بیٹری باہر نکالی تو دیکھا کہ اندر ایک پٹی سے ابھری ہے۔ اس کو دبایا  تو وہ کھٹک کی آواز کے ساتھ ہی نیچے ہو گئی۔ اب بیٹری لگا کر چلایا تو چل پڑا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد اتنا گرم ہو گیا کہ سکرین پر درجہ حرارت کا اطلاع نامہ کھل گیا۔ اور ساتھ ہی خود بخود بند بھی ہوگیا۔ یہ سہولت مجھے پسند آئی کہ گرم ہوجائے تو خودبخود بند ہوجائے۔ ابھی اٹھا کر دوسرے کمرے میں رکھنے جا رہا تھا کہ کوئی وزنی چیز پاؤں پر گرنے سے چیخ اٹھا۔ بیٹری زمین پر پڑی منہ چڑا رہی تھی۔ اس کا لاک خراب تھا۔ اٹھا کر چلو تو نیچے گر جاتی تھی۔ اب روز کا تماشا ہوگیا۔ بیٹری نکالو۔ پٹی دباؤ۔ پھر چلاؤ۔ سکرین کی ہر زوایے پر ریزولیشن  (Resolution)مختلف تھی۔  کچھ جگہ بالکل سفید ہوجاتی تھی۔ اور کچھ جگہ پر کچھ رنگ کم اور کچھ زیادہ ہوجاتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس پر بھی ہاتھ سیدھا ہوگیا۔ اب سکرین کھولتے ہی خوب بخود اس زوایے پر ہاتھ رک جاتے تھے۔ جس پر بہترین نظر آتا تھا۔ گرمی کا حل ایک عدد پنکھا لگا کر دور کر لیا گیا۔  سی ڈی روم والا معاملہ میرے لئے  کھیل سا بن گیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی کہ اوسطاً میں ہر بیس سیکنڈ بعد خود ہی سی ڈی روم پر ہاتھ مار دیا کرتا تھا۔ چاہے کھلا ہو یا نہ۔  پہلے میں صرف اس کا فین پیڈ چھوڑ کر جانے لگا۔ پھر چارجر اور ماؤس بھی دفتر پڑا رہنے لگا۔ بیگ تو پہلے دن سے ہی میں ذاتی استعمال کر رہا تھا۔ دفتری بیگ وہی پڑا تھا۔ اور آخر آخر یہ صورتحال ہو گئی  کہ لیپ ٹاپ بھی وہیں پڑا رہنے لگا۔ میں البتہ گھر آجایا کرتا تھا۔  ایک دن ایک عمر اور عہدے میں بڑے ساتھی نے روک لیا۔ یہ اٹاری تمہاری ہے۔ اٹاری! ہم نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔ ہاں یہ۔ اس نے میرے  شاندار لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنے گستاخ جملوں سے اس بےجان چیز کو جو ٹھیس پہنچائی تھی  مجھے سر تا پا سلگا گئی تھی۔ درجہ حرارت بلند ہونے پر ایک لمحہ مجھے خود پر بھی لیپ ٹاپ ہونے کا گمان گزرا۔ 
یہ ایک لیپ ٹاپ ہے۔ اٹاری نہیں۔ ہم نے غصے سے کہا۔ 
اوہ اچھا! معذرت۔ میں سمجھا لیپ ٹاپ ایسے ہوتے ہیں۔ اس نے اپنے والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
نیا نو دن۔ پرانا سو دن۔ ہم نے استہزائیہ انداز میں کہا۔ 
 دن اور سال کا فرق سمجھتے ہو۔ اس نے  بھی  زہریلی مسکراہٹ سے وار کیا۔ 
ہم بیٹھ گئے۔ بالکل اس امید وار کی طرح جس کو اپنی ہار کا یقین ہوجائے تو جیتنے والے کے حق میں نتائج سے پہلے ہی بیٹھ جاتا ہے۔
 خیر آپ کو کیا مسئلہ ہے اس سے۔ ہم نے  اس کے سوال کی وجہ جاننے کی کوشش کرنے کی کوشش کی۔
یہ یہاں کیوں چھوڑ جاتے ہو؟ اس نے پوچھا۔
مرضی ہماری۔ ہم نے ابرو اچکاتے ہوئے جواب دیا۔
تم اس کو یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ یہ کمپنی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کو تمہیں ساتھ گھر لے جانا ہوگا  اور اگلے دن لانا بھی ہوگا کہ  یہی اصول برائے شودران ہے۔  اس نے ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
اس کی اس بات سے  بےاختیار ہمیں آغا گل کے افسانے کی ایک سطر یاد آگئی۔ "شاب جی! آپ بھی شودر ہیں کیا مسلمانوں کے؟" اور ایک مسکراہٹ ہمارے چہرے پر پھیل گئی۔ 
مسکرا کیوں رہے ہو۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
"ہم ہنس دیے ہم چپ رہے"، اب ہم اس کو کیا بتاتے، ہمارے دل پر کیا بیت گئی ہے۔ 

Saturday, 12 November 2016

قصہ پہلے لیپ ٹاپ کا

6 comments
قصہ پہلے لیپ ٹاپ کا
باب از عینیت پسندی

حالات کی ضرورت  اور کمپنی کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ راوی کو ایک عدد لیپ ٹاپ سے نواز دینا چاہیے۔ یہ لیپ ٹاپ لے کر بھاگے گا نہیں۔ پورے گاؤں میں اعلان کروا دیا کہ کمپنی نے ہم پر اعتماد کی انتہا کر دی ہے۔ اب مجھے باقاعدہ ایک لیپ ٹاپ میسر ہوگا۔ ایک دو احباب نے حیرت سے پوچھا کہ تمہارے پاس تو ذاتی بھی ہے۔  میں نے تفاخر سے  کہا،  "اب دفتری بھی ہوگا"۔ چند ایک نے  مایوس کرنے یا نیچا دکھانے کی  غرض سے کہا کہ ان کے پاس تو پتا نہیں کتنے سالوں سے دفتری لیپ ٹاپ ہے۔ لیکن میں ایسی بے دست و پا کو کب خاطر میں لانے والا تھا۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا۔  مجھے لیپ ٹاپ دے دیا گیا۔ ایک بد ہئیت  سا بیگ  میری میز تک لایا گیا۔ ایسا ایک بیگ ہمارے گھر میں بھی تھا۔ امی اس میں گھر بھر کے  جوتے رکھا کرتی تھیں  مٹی سے بچے رہیں گے۔ 
"یہ کیا ہے؟" مین نے حیرت سے استفسار کیا۔
"لیپ ٹاپ ہے۔ اس کی بیٹری بہت اچھی ہے۔" لانے والے نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ 
لیپ ٹاپ دیکھا۔ یہ والا ماڈل میں نے زندگی میں پہلی بار ہی دیکھا تھا۔ کتنا پرانا ہے۔ میں نے دوبارہ سوال کیا۔ "زیادہ سے زیادہ سات سال۔" جواب ملا۔
"ہمم۔۔۔۔ سات سو بھی ہوتے تو ہم نے کیا کر لینا تھا۔ " میں نے  ایک گہرا سانس لیا۔
چلایا۔ تو واقعی چلتا تھا۔ کچھ دن استعمال کرنے پر پتا چلا کہ واقعی صرف بیٹری بہتر ہے۔ کبھی سکرین چلتے چلتے بند ہوجاتی  تو کبھی لیپ ٹاپ خود بخود ری سٹارٹ ہو جاتا۔ کی بورڈ کے ایک دو بٹن چھوڑ کر باقی سارے کام کرتے تھے۔  کچھ زور سے چلتے۔ اور کچھ نرمی کی زبان سمجھتے تھے۔ مجموعی طور پر ایک بہترین چیز  تھی۔ میں  اس کو آن کر کے سامنے تو رکھ لیتا۔ لیکن کام اپنے دوسرے ڈیسک ٹاپ  کمپیوٹر پر ہی کیا کرتا تھا۔ وہ لیپ ٹاپ عجیب و غریب آوازیں بھی نکالا کرتا تھا۔ اٹھانے پر برا مناتا  اور کھڑ کھڑ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا۔  سوجاتا تو خراٹے لیتا۔ یہ بھی ضروری نہیں تھا کہ ہر بار  سونے کے بعد وہ اٹھ بھی جائے یعنی گہری نیند لینے کا عادی تھا۔ اکثر سکرین  تاریک ہی رہتی تھی۔ ایسی صورتوں میں پاور کا بٹن دبا کر ایک ری سٹارٹ دینا پڑتا۔ رفتہ رفتہ میرا  ہاتھ سیدھا ہو گیا۔ اب میں  تاریک سکرین پر ہی ری سٹارٹ کی کمانڈ دے دیا کرتا تھا۔
ایک دن اس کے اندر سے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ ایسی آوازیں لڑائی جھگڑے والے گھروں سے عموماً آیا کرتی ہیں۔ لیکن کسی کمپیوٹر سے ایسی آوازیں سننے کا میرا  پہلا ہی تجربہ تھا۔  اس کے بعد سب کچھ خاموش ہوگیا۔ بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ آوازیں دیں۔ لیکن لگتا تھا اس نے اس فانی دنیا سے فنا کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ متعلقہ شعبے تک لے گیا۔ بہت دیر تک آئی سی یو میں رہا۔ پھر ایک نے آپریشن تھیٹر سے باہر آ کر افسردہ سی نظر مجھ پر ڈالی۔ میں نے اس کے چہرے پر لکھی مایوسی پڑھ لی تھی۔ کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی۔ میرے تمام سوالوں کا جواب اس کے چہرے پر تحریر تھا۔ دل بجھ گیا۔ اس لیپ ٹاپ سے مجھے انسیت سی ہو چلی تھی۔ 
"اس میں موجود ڈیٹا کا کیا ہوگا؟" میں نے  سوچوں کا رخ بدلنے کو بجھے دل سے سوال کیا۔
" وہ آپ کو نئے والے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ " ایک سرد جواب ملا۔
 یہی ہوتا ہے۔ یہی دنیا کا اصول ہے۔ پرانی چیزیں پھینک دی جاتی ہیں۔ اور ان کی جگہ نئی لے لیتی ہیں۔ میں دنیا کی بےثباتی پر غور کرنے لگا۔ قبل اس کے میں فلسفی ہوجاتا۔ اور قنوطیت کی ساری حدیں پھلانگ جاتا۔ متعلقہ شعبے کے فرد نے میرے خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔ "یہی چاہتے تھے نا تم! ایک نیا لیپ ٹاپ مل جائے۔ اس سے جان چھوٹ جائے۔ سمجھو جان چھوٹ گئی۔ اب جاؤ اور نئے کے لئے درخواست دے دو۔"  میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس شعبے سے نکل آیا۔ بوجھل دل سے یہ خبر اپنے افسران کو سنائی۔ اور دل کو تسلیاں دیتا ہوا واپس چلا آیا۔