Monday, 15 January 2018

تتلیاں

0 comments

ہمارے گھر کے باہر کافی کثیر تعداد میں درخت اور پودے موجود تھے۔ انہی پودوں اور پھولوں پر رنگ برنگی تتلیاں منڈلایا کرتی تھیں، اور ہم انہیں پکڑا کرتے تھے۔ کبھی تتلی پکڑ کر چھوڑ دیتے۔ اور کبھی وہ ہماری گرفت کی تاب نہ لا کر چل بستی۔ گو کہ ہم بہت احتیاط سے کام لیتے تھے مگر اجل پر کس کا زور ہے۔ تتلیوں کے رنگ ہمارے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی پر رہ جایا کرتے تھے۔ اور وہی ہماری ٹرافی ہوا کرتی تھی۔ بدقسمتی سے لاہور شہر میں تتلیاں بہت کم نظر آتی ہیں۔ بلکہ شاید دھواں، آلودہ فضا اور کٹتے درختوں نے یوں بھی پرندوں اور ایسی خوبصورت مخلوق کو شہر سے باہر دھکیل دیا ہے۔ اسی سلسلے میں جلو بوٹینیکل گارڈن جانے کا پروگرام بنایا کہ کچھ تتلیاں اور کچھ پودے اکھٹے ایک جگہ دیکھ لیے جائیں۔

شدید حبس کا موسم تھا۔ آسمان بادلوں نے گھیر رکھا تھا مگر بارش کے قطروں کی پہلے آپ پہلے آپ کی بحث ابھی جاری تھی۔ درخت یوں ساکن تھے گویا بت ہوں۔ کبھی کسی درخت پر پرندوں کے بیٹھنے اور اڑنے سے کچھ پتے ہل جاتے، تو باقی پتے ان کو یوں حیرت سے تکتے محسوس ہوتے جیسے کسی ایک بچے کی شرارت پر باقی بچے اس کو دیکھتے ہیں، گویا کہہ رہے ہوں، اب تمہاری وجہ سے سب کو ڈانٹ پڑ سکتی ہے۔ اکا دکا منڈلاتی تتلیاں نظر آئیں تو کیا کیا زمانے یاد آئے۔ میں راہ میں چلتے ہوئے  دوسرے اور اپنے بچوں کو دیکھنے لگا۔جن کے لیے پھولوں پر تتلیوں کے بیٹھنے کے منظر میں کوئی دلچسپی و دلکشی نہ تھی۔ وہ بالکل بڑوں کی طرح وہاں سے گزرتے جاتے تھے۔ بغیر متوجہ ہوئے۔میں چاہتا تھا میرے بچے تتلیوں کے پیچھے بھاگیں۔ مگر یہ خواہش میرے گلے میں کہیں گھٹ گئی تھی۔ کتنی سنجیدگی بھرتی جاتی ہے۔ جاذبیت اب بےنام رنگوں اور جعلی مناظر تک محدود ہوگئی ہے۔

یوں ہی چھوٹے چھوٹے باغیچوں سے گزرتے گزرتے ایک چھوٹے سے بچے نے میری توجہ کھینچ لی۔ وہ ایک شوخ رنگ کی تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ایک بوڑھے بزرگ جو انداز سے اس کے دادا معلوم ہوتے تھے اس کے پیچھے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ وہ بچہ گردوپیش سے بےخبر اس تتلی کو پکڑنے میں مصروف تھا۔ تتلی کبھی ایک پودے پر بیٹھتی کبھی دوسرے پر۔ بچہ اس کے پیچھے گھات لگائے جاتا مگر قریب پہنچنے پر وہ اڑ جاتی۔ بچے کے دادا بچے کے کھیل سے شاید اکتاہٹ محسوس کرنے لگے تھے۔ آخر انہوں نے بچے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ “آؤ چلیں! اس بیکار کام سے کچھ حاصل نہیں۔ تم اگر اس کو پکڑ بھی لو گے تو ہاتھ پر ایک کچے رنگ کے سوا کچھ نہ رہے گا۔” بچہ مایوس سا ہو کر بزرگ کے پاس آگیا۔ اس کے معصوم منظر پر بزرگ کی اس بات نے سیاہ رنگ کر دیا ہوگا۔

ہم جب بوٹینیکل گارڈن سے باہر نکلنے لگے تو بارش چھما چھم برسنے لگی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے دل و دماغ کو ایک تازگی دے دی تھی۔ پودے اور درخت دھل رہے تھے۔ پتے بارش اور ہوا کا لمس پا کر دائیں بائیں شرارت سے جھوم رہے تھے۔ شاید برستی بارش نے ان پر مستی کی کیفیت طاری کر دی تھی۔ اور میں ان برستے قطروں میں سے وہ پہلا قطرہ ڈھونڈنا چاہ رہا تھا جو “پہلے آپ ” کی بحث سے اکتا کر نیچے کو چل پڑا تھا۔

آج نئے سال کے پہلے دن مجھے وہ بچہ یاد آرہا ہے جو رنگین تتلیوں کے پیچھے بھاگتا پھرتا تھا۔ ان کا لمس پا کر خوش ہوتا اور ان کے کچے رنگ کو اپنی پوروں پر دیکھتے پہروں نہیں تھکتا تھا۔ مگر پھر عمرِ رواں نے اس منظر میں مزید منہمک نہ رہنے دیا۔ نئی عمر کی تتلیاں، نئے رنگوں کے ساتھ آموجود ہوئیں۔ ان کا لمس، ان کے رنگ، بچپن کی تتلیوں سے کہیں زیادہ دلفریب لگتے تھے۔ ڈھلتی عمر اور بالوں میں بڑھتی چاندی لیے، میں اسی سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں کہ ایک سال گزر گیا۔ کچھ رنگ پوروں پر جمے ہیں۔ کچھ ادھ موئی خواہشات طاقچوں میں دھری ہیں۔ کچھ تتلیاں دور کتنے خوبصورت باغ میں پھر رہی ہیں۔ خواہش ہے کہ آگے بڑھ کر ان کو چھو لوں۔ ان کو پکڑ لوں۔ ہر عمر، ہر دور کی اپنی تتلیاں ہیں۔ ان کے اپنے منظر ہیں، اور اپنی کشش ہے۔ مگر ان سارے مناظر میں، ان ساری تتلیوں میں سب سے خوبصورت اور دلفریب بچپن کی تتلیاں ہیں۔گزرتی عمر کے ساتھ ساتھ انسان جن تتلیوں کے پیچھے بھاگتا ہے وہ حاصل ہونے پر کریہہ الصورت اور بدنما محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے رنگ پیشانی پر لکیروں کی صورت چمکنے لگتے ہیں۔ ہر کوئی حقیقت سے باخبر ہونے کے باوجود اپنے اپنے منظر میں اپنی تتلیوں کو چھو لینے کی آس لیے ان کے پیچھے بھاگتا پھرتا ہے اور خود اس کے پاس ہر دوسرے شخص کے مناظر اور خواہشوں کے لیے ایک ہی فقرہ ہے۔ اسی بوڑھے کا فقرہ۔

Monday, 25 December 2017

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

2 comments
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا


دور جدید کا ایک بڑا خسارہ برداشت کا جنازہ ہے۔ چند اہل علم و ہنر اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مروت، محبت اور رواداری قریب المرگ ضرور ہیں مگر ابھی جنازہ نہیں اٹھا۔ بعض کے ہاں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ سکرات طاری ہے مگر ممکن ہےکہ پھر سے صحت پائیں۔ میں ان پرامید لوگوں کی شمع امید گل کرنا نہیں چاہتا مگر ان سے یہ سوال ضرور پوچھ لیتا ہوں کہ قریب المرگ ہے تو کب تک سرہانے سے لگے اس کو دیکھو گے؟سکرات طاری ہے تو وینٹیلیٹرز کب تک کام کریں گے؟
موجودہ معاشرے میں جہاں ایک "فارورڈ" کے بٹن نے تحقیق کا گریباں چاک کیا ہے وہیں "کاپی پیسٹ" جیسی سہولت تعمیری اور مدلل گفتگو کے لیے پھانسی کا پھندا ثابت ہوئی ہے۔ آپ اپنا نکتہ نظر سمجھائیں۔ مخالف آپ کو پلوٹو ، سقراط یا پھر کسی اور ایسے ہی بڑے دانش ور کا قول ا س زور سے مارے گا کہ آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے۔ آپ کہیں گے کہ میاں اس بات کے سیاق و سباق کچھ اور ہیں۔ تو وہ جواب میں کسی اور دانش ور کا کوئی اور اقتباس لا مارے گا۔ اب آپ اس سے کہیں گے کہ بھئی تمہاری رائے کیا ہے؟ تو وہ آپ کو جواب دے گا کہ "جب تم اتنے بڑے لوگوں کی بات سمجھنے سے قاصر ہو تو میری رائے کہاں سمجھو گے؟" یا حیرت! یعنی موصوف کی رائے ان دانش وروں سے بھی بڑی ہے؟ بزعم خود ذہین اور عالم ہونے کی جو غلط فہمی تیز رفتاری سے پرورش پارہی ہے وہ موجودہ صورتحال میں بڑی زہریلی اور مہلک ہے۔
پچیس دسمبر کو قائد کی سالگرہ مبارک کے پیغامات کے ساتھ ساتھ کفر کے کتنے فتوے بھی ہواؤں میں داغ دیے جاتے ہیں۔ سو ہمیشہ کی طرح آج بھی چند پیغامات رقصاں تھے کہ " میری کرسمس کا مطلب ہے۔ اللہ نے بیٹا جنا (نعوذ باللہ)۔ اور ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ اور آگے ایک طویل اصلاحی مکالمہ" میں اس آدھے سچ اور آدھے جھوٹ میں سچ والے حصے سے متفق ہوں۔ کہ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے، اور ترجمے سے اختلاف رکھتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے اور میرا ذاتی خیال ہے کہ تمام اہل اسلام عیسائیوں کو مسلمان سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ تو پھر جھگڑا کیا ہے؟ ڈیڑھ چلو پانی میں آپ کا ایمان نہیں بہتا۔ جھوٹ بولنے سے آپ کو حیا نہیں آتی۔ ملاوٹ کرنے سے بھی ایمان میں خلل واقع نہیں ہوتا۔ کلمہ پڑھ کر دو نمبر چیزیں فروخت کرنے میں رتی برابر شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اور تو اور من گھڑت باتیں قرون اولیٰ کے لوگوں سے منسوب کر کے پھیلاتے وقت بھی آپ کا دل نہیں کانپتا۔ تو پھر یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کو ان کے عقائد کے مطابق ان کے تہوار کی مبارک دے دینا آپ کو خارج از اسلام کیسے کر دیتا ہے؟ ماسوائے یہ کہ آپ اس عقیدے کے باقاعدہ پیروکار ہوجائیں۔میں نے جب میسج بھیجنے والے سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب میں ایک اور تصویر شکل کا اقتباس میرے منہ پر دے مارا۔ جو شاید کسی پرائمری پاس (اس حسنِ گماں پر معذرت) ماجھے گامے کا ڈیزائن کیا ہوا تھا۔میں نے عرض کی اگر تکفیری فتوی جات کی ہی بات ہو تو اہل اسلام میں کوئی مسلم نہ بچے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے شدید بیزاری کا اظہار کیا۔
خدا را اپنے ذہنوں کو زحمت دیجیے۔ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ دنیا میں استعمال کر لیجیے۔ اور اگر نیا غیر استعمال شدہ "ڈبا پیک" دماغ روز محشر میں لے جانے پر کوئی انعام و اکرام مقرر ہے تو ہمیں بھی بتائیے۔ اور اگر ایسا کوئی انعام مقرر نہیں تو اپنے اندر بھرتی نفرتوں کو ملک عدم کی راہ دکھائیے۔ معاشرتی اور سماجی سطح پر اس برداشت، رواداری اور مروت کا عملی مظاہرہ کیجیے جس کا اسلام آپ سے تقاضا کرتا ہے۔غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیے۔ نہ کہ یاوہ گوئی اور خرافات بکنے تک محدود ہوجائیے۔ ورنہ یقین کیجیے کہ وہ دن دور نہیں جب اپنے لکھے کے نیچے لوگ "بقلم خود" کی جگہ "بگالم خود" لکھا کریں گے اور اس پر فخر محسوس کریں گے۔


از قلم نیرنگ خیال
25 دسمبر 2017

Thursday, 21 December 2017

ایک شعر کی فکاہیہ تشریح

2 comments
شال پہنائے گا اب کون دسمبر میں تمہیں
بارشوں میں کبھی بھیگو گے تو یاد آؤں گا
فکاہیہ تشریح:
ہم اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتے کہ محبت کی داستان میں رنگ بھرنے کو مبالغہ آرائی اور لفاظی عام ہے۔ مگر مبالغہ آرائی اور لفاظی کو بھی کوئی بنیاد تو میسر ہو۔ شاعر اپنی اہمیت جتانے کے چکر میں زمینی حقائق بالکل ہی فراموش کر بیٹھا ہے۔ ایسی صورتحال تب ہوتی ہے جب آپ تیز تیز دلائل دینے کی کوشش میں مصروف ہوں اور پھر آپ کا تمام زور منطقی دلائل کی بجائے محض زور بیاں پر رہ جائے۔ ہم نے ساری عمر یہی دیکھا ہے کہ شال اوڑھائی جاتی ہے، پہنائی نہیں جاتی۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ وہ بھی بارش میں۔ یعنی صریح ظلم۔ ایک طرف تو محبوب کی نازکی کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے، دوسری طرف جب گرم وزنی شال پر بارش کا پانی پڑے گاتو اس کا وزن دس گنا بڑھ جائے گا۔ اور پھر بھیگنے کے بعد گیلی شال میں جو دسمبر کی ٹھنڈ مزا کروائے گی تو ایک بار محبوب بھی پکار اٹھے گا۔ "چس کرا دتی اے۔" درحقیقت شاعر نے اپنی لفاظی سے سرد موسم میں گیلی شال اوڑھانے کی منظر کشی میں محبوب کو جو ٹوپی پہنائی ہے وہ صحیح معنوں میں داد کی مستحق ہے۔ویسے ابھی مزاحیہ شرح لکھتے لکھتے مجھے راجندر ناتھ کا بڑا خوبصورت شعر یاد آیا ہے کہ

اک دن برسات میں بھیگے تھے ہم تم دونوں
اب کبھی برسات میں بھیگو گے تو یاد آؤں گا

شیلف میں رکھی ہوئی اپنی کتابوں میں سے
کوئی دیوان اٹھاؤ گے تو یاد آؤں گا
از قلم نیرنگ خیال
21 دسمبر 2017

Wednesday, 20 December 2017

لو آج کی شب بھی سو چکے ہم

0 comments

شہر اقتدار سے دانہ پانی اٹھنے کے بعد ہم نے زندہ دلوں کے شہر کا رخ کیا۔ جس دوست کو بھی یہ خبر سنائی، اس نے قہقہہ لگا کر ایک ہی بات کی۔ “جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی”۔ ان دنوں دو باتوں پر ہماری زبان سے ہر وقت شکر ادا ہوتا تھا۔ ایک کہ یہ محاورہ مذکر نہیں۔ دوسرا اہلِ زبان اس میں مذکر کے لیے کچھ مناسب ترامیم کا ارادہ نہیں رکھتے۔ نئی ملازمت میں آتے ہی پتا چلا کہ شام کو آنا ہے۔ اور صبح سویرے منہ اندھیرے جانا ہے۔ چند دن گزارے تھے کہ منہ تو یوں بھی اندھیرے کا ہی حصہ بن گیا۔ لیکن بات اس منہ اندھیرے کی نہیں بلکہ بات ہے ہماری دکھتی رگ کی۔ یعنی کہ لیپ ٹاپ۔

یہاں پر ہمیں ایک بالکل نیا لیپ ٹاپ دیا گیا تھا۔لیکن بستہ پرانا تھا۔ یہ بڑی دلچسپ بات تھی۔ ہم دل پر لے گئے۔ کہا کہ بستہ بھی نیا دو۔ متعلقہ شعبے کا فرد متعلقہ شعبوں کے افراد کی طرح ہی ہنسنے لگا۔ ہم اس ہنسی سے خوب آشنا تھے۔ خیر یہ تو خود بہلا رہے تھے وگرنہ اصل بات یہ ہے کہ طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ ایک تو ہمیں اس عزت افزائی کی عادت نہ تھی۔ دوسرا اس کے کلیدی تختہ کی اکائیاں بہت نرم تھیں۔ اور ہماری سخت جاں انگلیاں ان کی نرمی کو کسی حسینہ کے لمس جیسا محسوس کرتی تھیں۔ اس کے دوبنیادی نقصانات تھے۔ ایک تو دوران کام ہمارا دھیان حسیناؤں میں الجھا رہتا۔ دوسرا ہم بلاوجہ اکائیاں دباتے رہتے۔ تاہم ہمارا لیپ ٹاپ مکمل طور پر مردانہ تھا۔ گلا پھاڑ کر چیخنا ہو تو حاضر۔ مگر جو سرگوشی کا کہو تو آنسو بہاتا تھا۔ متعلقہ شعبہ سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ اس ماڈل میں نقص ہے۔ اور ہیڈ فون استعمال نہیں کرسکتے۔طمانیت کی ایک لہر پورے وجود میں دوڑ گئی۔ زندگی میں اگر ہم کو ایسا لیپ ٹاپ دے دیا جائے جس میں کوئی نقص نہ ہو تو شاید ہم کام ہی نہ کرپائیں۔ لیکن یہ بات سب کو بتانے کی تھوڑی تھی۔ سو ہم نے کلہاڑے پر پاؤں مارتے ہوئے کہا کہ میاں! کچھ اندازہ بھی ہے ہیڈ فون ہمارے کام کے لیے کتنا ضروری ہے۔ فون کس سے سنیں گے۔ کیا محلے والوں کو بتلائیں گاہک ہم سے جس زباں میں بات کرتا ہے۔ اس کے لیے تو شاعر مدتوں قبل شرح آرزو سے منع فرما گیا ہے۔ اب کیا کریں۔ پرانی کمپنی بہت یاد آئی۔ جہاں ہم چیزوں کے چلنے پر شکرادا کیا کرتے تھے۔ کہاں یہ کہ ہم چیزوں کے نہ چلنے پر نالاں ہیں۔ فلک کو بھی ہم سے کیا کیا دشمنیاں نکالنی تھیں۔

چند دن گزرے تھے کہ ایک نوجوان معصوم شکل ہمارے پاس آیا اور کہا کہ آپ کا لیپ ٹاپ بدلنا چاہتا ہوں۔ سو ڈیٹا کے بارے میں حکم کیجیے کہ کس طرح نئے والے میں منتقل فرماویں گے۔ اب اللہ جانتا ہے کہ معصوم شکل اس کی قدرتی تھی یا اس نے یہ ریاضت سے حاصل کی تھی۔ بہرحال ہم نے اس کی باتوں میں آکر لیپ ٹاپ اس کے حوالے کر دیا۔ جس کو وہ ایک اور نئے لیکن نسبتاً پرانے لیپ ٹاپ سے بدل لایا۔ اس لیپ ٹاپ کے ماتھے پر ابھرا گومڑ دیکھ کر دل کو یک گونہ تسلی ہوئی۔ سب سے پہلے ہیڈ فون لگایا۔ سرگوشیاں اچھی کرتا تھا۔ پنک فلائیڈ اورڈسٹی سپرنگ فیلڈ اسے زبانی یاد تھے۔ حق حق۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ میاں! کیا چیز لائے ہو۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔

چند دن ہی گزرے تھے کہ اس نئے مگر پرانے لیپ ٹاپ نے اپنے رنگ ڈھنگ دکھانے شروع کیے۔ جب تک ہم اس سے نہ ملے تھے سمجھتے تھے کہ اٹھنے میں ہم سے زیادہ سست کوئی نہیں۔ کبھی پہلو بدلا، کبھی لیٹ رہے، آدھے بیٹھ گئے، دوبارہ لیٹ گئے۔ یوں اٹھنے کے بعد بستر سے نیچے پاؤں اتارتے اتارتے ہم کو بیس سے تیس منٹ لگتے ہیں۔ لیکن موصوف سے ملاقات پر اندازہ ہوا کہ ہم تو برق رفتار ہیں۔ہماری اڑان پر تو آہو بھی آہیں بھرتا ہوگا۔ پاور آف کرنے کا باقاعدہ برا مناتا تھا۔ شاید یہ بتانا چاہتا تھا کہ بھئی! ہم کوئی انسان تھوڑی ہیں جن کو آرام کی ضرورت ہو۔ ہم تو مشین ہیں۔ سو چلاؤ چلاؤ۔۔۔ یا پھر چلّاؤ۔ ہمارے حصے میں آخرالذکر ہی آیا۔

پاور آن کرنے پر تو موصوف کے نخرے کسی حسینہ سے کم نہ تھے۔ سیٹ اپ میں داخل ہونے والی سکرین جو ہم مدتوں سے بھول چکے تھے اسی نامعقول نے یاد کروائی۔ پھر جو بوٹ سکرین پر آتا تو دل کرتا کہ بوٹ اسے ہی دے ماریں۔ اس کے بعد یکدم سکرین غائب ہوجاتی۔سکرین پر تاریکی چھاجاتی۔ ہم بے چین ہو کر بار بار پہلو بدلنے لگتے۔ ہارڈ ڈسک کی جلتی بجھتی بتی ہمیں یقین دلاتی کہ پس پردہ کچھ کہانی چل رہی ہے۔ ایسے موقعوں پر ابھی ہم اتاؤلے ہو کر سوچ ہی رہے ہوتے کہ اب اس کو ایک بار پاور آف کر کے دوبارہ چلا لیں کہ یکدم جھماکے سے ایک نیلی سکرین آجاتی۔ نیلے رنگ سے ہماری محبت شاید اسی وجہ سے ہے۔ اس سکرین کو دیکھ کر ہم خدا کر شکر کرتے اور چائے بنانے کا رخ کرتے۔ چائے بنا کر واپس آتے آتے لاگ ان سکرین آچکی ہوتی تھی۔ اب ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کب آیا کرتی تھی۔ کیوں کہ چائے بنانے کا عمل بھی طویل ہی ہوتا ہے۔ بہرحال لاگ ان کر چکنے کے بعد ہم آرام سے چائے نوش فرماتے۔ کبھی کبھار آخری چسکی سے پہلے یا اکثر آخری چسکی کے ساتھ ہی ڈیسک ٹاپ کام کے لئے تیار ہوا کرتا تھا۔

مدتوں ہم اقبال کے اس بیان کو بغیر سمجھے پیش کرتے رہے کہ “ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔” لیکن اس مصرعہ میں غوطہ زن ہونے کا سبب یہ شمارندی آغوشیہ ہی بنا۔ جب موصوف ایک بار کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتے تو اس کے بعد اطلاقیے (ایپلیکشنز) چلانے کا مشکل مرحلہ درپیش آتا۔ اس مثال کو سمجھنے کے لیے آپ کا شادی شدہ ہونا بےحد ضروری ہے۔فرض کیجیے کہ کسی دن یوں ہی بےوقت آپ نے اپنی بیگم سے چائے کی فرمائش داغ دی۔ اور اس نے کہا۔ لیجیے۔ ابھی بنائے دیتی ہوں۔ تو بھئی۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ جب تک وہ چائے تیار ہو کر آپ کے سامنے آتی ہے۔ حقیقت میں چائے کا وقت ہوچکا ہوتا ہے۔ ہمارے اس شمارندی آغوشیے نے بھی ایسا ہی مزاج پایا تھا۔ ای میل اطلاقیہ اگر آپ نے بعد میں کھولا ہے اور پہلے کوئی اور اطلاقیہ چلانے کی جرأت کی ہے۔ تو بھی یہ مشین اپنے تیار کردہ سکرپٹ کے مطابق پہلے ای میل کا اطلاقیہ ہی چلائے گی۔ آپ کا دوسرا اطلاقیہ انتظار کرے۔ ایسے موقعوں پر ہم یہ کہہ کر دل کو سمجھا لیتے ہیں کہ اصول بھی تو یہی ہے۔قدرت خدا کی دیکھیے کہ ایک بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اطلاقیہ چلاتے جب کام کا ماحول بنتا تو ایک بار پھر ہماری چائے کا وقت ہوجاتا۔

چند دن گزرے تھے کہ ہماری کام چور طبیعت بھی خود سے بیزار نظر آنے لگی۔ کہاں ہم اپنے تئیں خود کو پیر آلکسی سمجھتے کہاں ایک مشین کے سامنے ہماری کاہلی بےبس نظر آنے لگی۔ دنیا کے ساتھ ساتھ اس کی ایجادات سے بھی اعتبار اٹھتا نظر آنے لگا۔ اپنے افسران کے سامنے عرض گزاری۔ حضور! آپ کی مردم شناسی کا جواب نہیں۔ واللہ آج سے قبل کوئی ہمارے مزاج کو اس طرح نہ سمجھ پایا تھا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ “اور سے اور ہوئے سستی کے عنواں جاناں”۔ ہماری بات کو سمجھیے۔ ہمیں ایک بالائے لب تبسم سے مت ٹرخائیے۔ للہ کچھ کیجیے وگرنہ آنے والے شب و روز ہمارے لیے اس موضوع میں تحقیق کے وہ در وا کر جائیں گے کہ کروٹ لینے کو بھی فرصت نصیب نہ ہوگی۔انہوں نے مسکرا کر ٹالنا چاہا، مگر ہم نہ ٹلے۔آخر انہوں نے متعلقہ شعبہ کے نام رقعہ لکھ دیا۔ اب ہم نئے لیپ ٹاپ کی آس لئے متعلقہ شعبے کے چکر لگاتے رہتے۔ رفتہ رفتہ صورتحال بہ الفاظ پطرس یہ ہوئی جاتی تھی کہ ہم لیپ ٹاپ کا پتا کرنے متعلقہ شعبہ تک جاتے اور وہاں موجود افسران ہمیں ایک شفیق مسکراہٹ کے ساتھ چلے جانے کا اشارہ کرتے۔کبھی ہم دروازے کے باہر سے ہی اشارہ کر کے پوچھتے اور نفی میں جواب پا کر چلے آتے۔صورتحال جب اس نہج پر پہنچی کہ کبھی دروازے کے باہر سے گزرتے نادانستہ نگاہ بھی اندر پڑ جاتی تو ایک سر نفی میں ہلتا نظر آتا، ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا۔ آخر چند مہینوں بعد وہی معصوم صورت نوجوان وہی مخصوص مسکراہٹ سجائے ہاتھ میں ایک بڑی بھاری سی پتھر نما چیز اٹھائے ہماری میز پر آن پہنچا۔
ہم نے استفہامیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔
لیپ ٹاپ۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں لکھیں گے اب ہم۔ اس موضوع پر دوبارہ قلم کشائی نہیں کریں گے۔ کبھی نہیں کریں گے۔کوئی کہے گا لکھو تو کہہ دیں گے قلم ٹوٹ گیا ہے۔ ہماری انگلیوں میں لکھنے کی قوت ہی نہیں رہی ہے۔ قدرت نے ہم کو لکھنے کی جس صلاحیت سے نوازا تھا وہ واپس لے لی ہے۔ ہاں سنا تم نے۔ کچھ نہیں لکھیں گے۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں حیران نظروں سے ہم کو دیکھتا رہا۔ اور پھر لیپ ٹاپ میز پر رکھ زیرِ لب یہ کہتا ہوا واپس مڑ گیا۔ "ٹیسٹ کر لیجیے گا۔"

Saturday, 2 December 2017

موسیا آداب داناں دیگر اند

2 comments
موسیا آداب داناں دیگر اند

زندگی ایک حیرت کدہ ہے ۔جہاں عجائب کی کمی نہیں۔ یہ دیکھنے والے کی آنکھ پر منحصر ہے کہ وہ کیا دیکھتا ہے۔ ایک منظر کسی کے لیے بار بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس جگہ پر وہی منظر کسی دوسرے کے لیے دلچسپی کا سامان ہو سکتا ہے۔ شوگران جاتے وقت ماسوائے برفیلے راستوں اور یخ بستہ ہواؤں کے اور کچھ ذہن میں نہ تھا۔ صبح سویرے آٹھ بجے جب واپسی کا سفر باندھا تو ذہن کے کسی گوشے میں  آنے والے تکلیف دہ حالات و واقعات کا ایک عکس تک نہ تھا۔ ہاں  جب مانسہرہ سے نکل کر ایبٹ آباد داخل ہونے سے پہلے راستے میں موٹر سائیکلوں پر نوجوان دین و ایمان کے جھنڈے اٹھائے ڈنڈے لہراتے نظر آئے تو توجہ اس طرف گئی۔ بےاختیار ساتھ والے سے پوچھا۔
وہ اسلام آباد دھرنا کہاں تک پہنچا؟
کوئی خبر نہیں۔ اس نے جواب دیا۔
مجھے خود اپنے بیوقوفانہ سوال پر حیرت ہوئی۔ نہ موبائل، نہ سگنل، نہ انٹرنیٹ، ظاہر ہے اس کے پاس بھی کیا خبریں ہوں گی۔ بہرحال شہر میں داخل ہوئے تو موبائل فون پر اطلاعات موصول ہونے لگیں۔ آپریشن شروع ہوگیا ہے۔ شیلنگ جاری ہے۔ ایسے میں انسان کا ذہن فطری طور پر سب سے پہلے منزل کی طرف جاتا ہے کہ جتنا جلد ہو سکتے منزل تک پہنچا جا سکے۔ کیوں کہ ایک تو انتشار اور پھر مذہبی انتشار، یہ ایک ایسی صف ہے جس میں محمود و ایاز کی تفریق نہیں۔ حسن ابدال سے موٹروے پر داخل ہوئے تو بظاہر کوئی مسئلہ نظر نہ آیا۔ ساڑھے چار کے قریب جب لاہور کے لیے ایم ٹو پر داخل ہونے لگے تو گاڑیوں کی ایک طویل قطار نظار آئی۔ داخلہ بند تھا۔ معلوم ہوا کہ ایک گروہ نے چکری پر موٹروے بند کر رکھی ہے۔ اور آنے جانے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی صورتحال میں مشتعل گروہ کے پاس جانا تو کوئی عقلمندی کی بات نہ تھی۔ انتظار کرتے کرتے نصف رات ہوگئی۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ اب یہیں پر مزید رکا جائے۔ اور کچھ دیر میں موٹر وے کھل جائے گی۔ مشتعل ہجوم تھک ہار کر گھر کی راہ لے گا۔ تو ہم رات کے اندھیرے میں نکل جائیں گے۔ مگر یہ سب خیالات خیال ہی ثابت ہوئے۔
طے یہ پایا کہ حسن ابدال واپس جایا جائے جہاں ہمارے ساتھ کی باقی دو  کوسٹر  انتظار میں ہیں۔ اور ان کے ساتھ ملکر منصوبہ بنایا جائے۔ گو کہ میں اس منصوبے کا ظاہری و باطنی ہر حالت میں مخالف تھا مگر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ ہم وہاں سے نکل کر حسن ابدال آگئے۔ اور باقی افراد کے ساتھ چہلیں کرنے لگے۔ موٹر وے کا نہ کھلنا تھا نہ کھلی۔ رات  کوسٹر کی سیٹ پر کاٹی۔ صبح نکلتے نکلتے یار لوگوں نے پھر نو  بجا دیے۔ سب کچھ دوبارہ بند ہوچکا تھا۔ خبر ملی تھی کہ رات کسی لمحے موٹر وے کھلی رہی ہے۔ مگر اب وہ دوبارہ بند ہو چکی ہے۔ جی ٹی روڈ تو ظاہر ہے یوں بھی ایسے حالات میں مظاہرین کی رہائش گاہ کا  کام کیا کرتی تھی۔ فتح جنگ روڈ سے جانے کا ارادہ کیا۔ مگر وہ بھی بند تھا۔ ایسے میں خبر ملی  کہ ٹرین کا ٹریک کھلا ہے۔ اور وہاں سے جایا جا سکتا ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹرین عام دنوں میں بھی ایک خطرہ مول لینے والی بات ہی ہے۔ اور پھر ایسے حالات میں۔ لیکن بظاہر کوئی اور صورت بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ سو چاروناچار ٹرین کی راہ تکنے لگے۔ عوام ایکسپریس صرف نام ہی کی نہیں ہر طرح سے عوامی ٹرین ہے۔ حسن ابدال کے چھوٹے سے سٹیشن پر جب ٹرین میں سوار ہونے کا مرحلہ آیا تو یہ ایک دشوار کام ثابت ہوا۔ کسی نہ کسی طرح ہم ٹرین میں سوار ہوگئے۔ اور دروازے کے اندر ہی ہم کو پاؤں ٹکانے کی جگہ بھی مل گئی۔ مگر اگلے سٹیشن سے لاتعداد مسافر اور سوار ہوئے۔ اور یوں ہمارا سانس لینا بھی محال ہوگیا۔ پنڈی تک یہ صورتحال تھی کہ میں صرف ایک پاؤں پر کھڑا تھا۔ اور دوسرا پاؤں دیوار کے ساتھ ہلکا سا ٹکا رکھا تھا۔ گرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
راولپنڈی سٹیشن سے ایک کثیر تعداد اور سوار ہوگئی۔ اور ہم لوگ یوں تھے جیسے مکئی کے دانے کسی جار میں بند کیے ہوں۔ کوئی ایک بھی نکلے تو اس کے پیچھے کئی لڑھک جائیں۔ ٹرین راولپنڈی سے چل تو پڑی اور محاورۃً نہیں حقیقتاً تل دھرنے کی جگہ باقی نہ رہی تھی۔ ہمیں یوسفی کا وہ معروف جملہ بےاختیار یاد آیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ "اندرون لاہور کی کچھ گلیاں تو اتنی تنگ ہیں کہ ایک طرف سے مرد اور دوسری طرف سے عورت آجائے تو بیچ میں صرف نکاح کی صورت نکلتی ہے۔" یقینی طور پر یوسفی کا واسطہ ایسی صورتحال سے نہ پڑا ہوگا وگرنہ وہ ٹرین سے  اترنے والے ہر ایک کو ست رنگی جھنڈے اٹھانے کا مشورہ ضرور دیتے۔حالات یہ تھے کہ کسی سٹیشن پر ٹرین رکتی تو باہر سے اندر کسی نے خاک آنا تھا، اندر سے باہر جانا بھی معرکے سے کم نہ تھا۔اس معرکے میں وہی فتحیاب ہوتا جو دھکوں کے ساتھ ساتھ "دھرنے کی زبان" بھی استعمال کرنے میں ماہر ہوتا۔ ٹرین جہلم رک گئی۔ اور کافی دیر رکی رہی۔ سواریاں اتر کر دائیں بائیں دیکھنے لگیں۔ہم نے بھی جب اسٹیشن پر پاؤں رکھا تو احساس ہوا کہ دوسری ٹانگ ہنوز اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ شکرانے کا نعرہ مستانہ زبان سے بلند ہوا۔ اسٹیشن کی  انتظامیہ سے معلوم ہوا کہ تاحکم ثانی ٹرین یہیں رکی رہے گی۔ ہم اتر کر سامنے رکھے بینچ پر بیٹھ گئے۔ حالت یہ تھی کہ چائے پینے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ جو احباب ہمیں جانتے ہیں وہ ہمارے اس جملے سے ہماری حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ٹرین ایکا ایکی بغیر کوئی ہارن دیے چل پڑی۔بشمول ہمارے ایک خلقت دروازوں کی طرف لپکی۔  ٹرین پر سوار ہونا تیسری جنگ عظیم سے کم نہ تھا ۔  ٹرین پر سوار ہو کر ہمیں احساس ہوا  کہ اس طرح تو پانی بھی راستہ نہ بنا پایا ہوگا جس طرح ہم دروازے پر موجود دیوار انساں سے راستہ بنا کر نکلے ہیں۔ خود کو داد دی اور ان لمحات کو کوسا جب ہم  نے پیشہ سپہ سالاری پر شمارندی مہندس بننے کو ترجیح دی تھی۔ بلاشبہ دنیا کو ہم نے پیش قدمی کے لیے ایک بہترین حکمت عملی طے کرنے  والے سپہ سالار سے محروم کر دیا تھا۔ ہائے ہائے۔۔۔۔
ٹرین چلی ہی تھی کہ دوبارہ ٹھہر گئی۔ معلوم ہوا کہ لالہ موسیٰ کا اسٹیشن آگیا ہے۔ اسٹیشن پر اعلان جاری تھا کہ لاہور جانے والے مسافر اتر جائیں۔ ٹرین براستہ سرگودھا سیدھا خانیوال جائے گی۔ ٹرین سے اترے   اور سب سے پہلے چائے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ چائے پی کر احساس ہوا کہ کل رات سے بھوکے بھی ہیں۔ سو بھوکوں کی طرح  ایک نان پر ایک کباب رکھ کر نوش فرمایا گیا۔ اس کے بعدباقی احباب سے ملاقات پر معلوم ہوا  کہ اب چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہو کر لاہور تک پہنچا جائے۔ اسٹیشن سے چند احباب کے ساتھ باہر نکلے اور ایک موٹرسائیکل رکشہ (چنگچی) کے ساتھ گجرات پہنچنے تک کے بارے میں بات کی۔ گجرات پہنچ کر جلوس سے گزر کر دوسری طرف پہنچے۔ جہاں سے اگلی منزل تک کے لیے کوئی اور سواری ڈھونڈنی تھی۔ جلسے میں اکثریت نوعمر لڑکوں کی تھی جن کی مسیں ابھی نہیں بھیگی تھیں۔ اور انہوں نے اپنے سے زیادہ بڑے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے۔ تقریر کرتے ہوئے مولانا انتہائی  اخلاق سوز زبان میں حکومتی انتظامیہ کی شان بیان کر رہے تھے۔ وقفے وقفے سے "لبیک یا رسول اللہ" کے نعرے بھی جاری تھے۔ جلسے کے بیچوں بیچ کچھ لوگ "سیلفی" بنا رہے تھے۔ یہ منظر بےحد کربناک تھا۔گجرات سے ہمیں ایک ٹویاٹا گجرانوالہ تک لے آیا۔ گجرانوالہ پہنچ کر دوبارہ اک چنگچی  لیا۔ جو براستہ کامونکی اور مرید کے سے ہوتا ہوا ہم احباب کو امامیہ کالونی تک لے آیا۔ مرید کے اور کامونکی کے جلسے بھی ہم نے پیدل اتر کر پار کیے جبکہ رکشے والا کسی طرح سے گھما پھرا کر رکشہ جلوس کے دوسری طرف لے آیا۔
کامونکی کے جلسے میں ایک حضرت خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ "یہ چوہدری نسوار ، یہ پٹھانوں کی نسوار یہ مرنے لگا تھا کل۔ بکتر بند گاڑی والے بچا کر لے گئے اسے۔ کوئی بات نہیں۔ دوبارہ مار دیں گے۔"
مرید کے کے جلسے میں ایک حضرت جوش بیان میں "چند انتہائی اعلیٰ گالیوں" سے نوازنے کے بعد فرمانے لگے۔ ان "کتوں، خنریروں اور ڈیش ڈیش" نے عشاق رسول کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ پورا مجمع بہ آواز بلند چلایا۔ "لبیک یا رسول اللہ"۔ اللہ اکبر۔۔۔۔ مجھے لگا کہ یہ آزمائش مسلمانوں کی نہیں اسلام کی ہے۔ایک دلچسپ بات جس کا مشاہدہ میں نے کیا کہ لالہ موسیٰ سے لاہور تک کسی بھی جلسے اور جلوس کے پاس کوئی ایک پولیس والا بھی نہ تھا۔ یہ ایک بہت ہی عجیب بات تھی کیوں کہ میں نے جلوس کے دائیں بائیں پولیس کو ہمیشہ موجود پایا ہے چاہے ان  کی حثیت ایک تماشائی سے زیادہ نہ ہو۔ 
امامیہ کالونی سے دوبارہ ایک چنگچی پکڑا اور شاہدرہ موڑ تک آگئے۔ پل پیدل کراس کرنے کے بعد دوبارہ رکشہ لیا اور گھر پہنچے۔ یوں تقریباً چالیس گھنٹوں پر محیط یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ 

Tuesday, 21 November 2017

شمارندی آغوشیے (لیپ ٹاپ) کے نفسیاتی علاج معالجے کے لیے درخواست

6 comments
کچھ دن قبل ایک عجیب مشاہدہ ہوا۔ لیپ ٹاپ کو ری سٹارٹ یا شٹ ڈاؤن کرو تو ری سٹارٹ یا بند نہیں ہوتا تھا۔ پاور کے بٹن سے ہی آف آن کرنا پڑتا۔ اس کیفیت میں مجھ سے یہ درخواست سرزرد ہوگئی۔


شمارندی آغوشیے (لیپ ٹاپ) کے نفسیاتی علاج معالجے کے لیے درخواست


السلام علیکم تیکنیکی بھائیو!
بعد از سلام بصد احترام آپ بھائیوں کی خیریت مطلوب ہے۔ بھائیو! میرا مسئلہ بہت پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ وہ شمارندی آغوشیہ جس سے آپ مکرمین نے مجھے نواز رکھا ہے۔ مدتوں سے سو نہیں پاتا۔ جب کبھی نیند کی جھپکی دلانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تو ایک عدد ضرب اس کی سر پر لگانی پڑتی ہے۔ جس سے وہ بیہوشی کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر دوسری ضرب پر دوبارہ جاگ اٹھتاہے۔ نیند سے ایسی بیزاری یا تو عشاق کا خاصہ رہی ہے یا اس کو بزرگوں سے نسبت رہی ہے۔ اب اس روشنی میں شمارندی آغوشیے کو دیکھیں تو اس کو عاشق سے زیادہ بزرگ پاتے ہیں۔
عرض مدعا یہ ہے کہ اس کا مناسب نفسیاتی علاج کر کے اس نیند بیزاری کی کیفیت کو ہمیشہ کے لیےختم کیا جائے۔ تاکہ مناسب وقت پر نیند لینے سے کی جسمانی و روحانی حالت درست رہے اور یہ روزمرہ کے معمولات بروقت انجام دے سکے۔
نوازش ہوگی
العارض
ایک مہندس
از قلم نیرنگ خیال

Monday, 14 August 2017

آزادی مبارک

0 comments
"صرف مشترکہ کوششوں اور مقدر پر یقین کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔"
(محمد علی جناح)

 میں جانتا ہوں کہ آپ سب کو  لفظ آزادی کے مفہوم کی تجدید کی ضرورت  نہیں ہے ۔ میں اسی خوش گمانی کو قائم رکھنا چاہتا ہوں کہ  تمام افرادِ پاکستان آزادی کے تصور اور اس کی قدر و قیمت سے بخوبی آشنا ہیں۔ مگر کیا کروں کہ میرے سامنے جب سماجی، معاشرتی اور سیاسی واقعات آتے ہیں تو میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ لفظ آزادی کے معانی اور قدروقیمت کا تو ذکر ہی کیا، شاید ابھی تک میرے ملک کے لوگ اس لفظ سے ہی آشنا نہیں۔ ہمارے  گزرے ستر برس اس بات کے  غماز ہیں کہ ہم نے اپنے لیڈر کے آخری الفاظ کو بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ ان ستر برس کی داستاں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے مشترکہ کوشش اور مقدر پر یقین تو کیا کرنا تھا، ہم نے خواب دیکھنے ہی چھوڑ دیے۔ ہماری گفتگو زبانی جمع خرچ تک محدود ہوتی چلی گئی اور عملی طور پر ہر آنے والا دن ہمارے لئے بےیقینی کا سورج لایا،  جس کی شامیں یاس و ناامیدی کی شفق لیے ہیں۔ ہر سال ہم بحثیت قوم اس دن ارادے تو باندھتے ہیں۔ خود سے وعدے بھی کرتے ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ ان میں صداقت نہیں ہوتی۔ مگر گزرتے دن ان وعدوں پر وقت کی دھول ڈال دیتے ہیں اور یوں یہ سب طاق نسیاں میں دھرا رہ جاتا ہے۔ اگلے سال ان وعدوں اور ارادوں کو اٹھا کر جھاڑا جاتا ہے۔ انہی وعدوں ارادوں کی نئے لفظوں نئے لہجوں سے آرائش کی جاتی ہے۔

 میں مایوسی نہیں لکھنا چاہتا۔ میں قنوطیت کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا   لیکن ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کہ کیا واقعی سچ میں آپ نے کبھی اس معاشرے کی فکر کی ہے؟ ایسا کوئی کام کیا ہے جو معاشرے میں بہتری لانے کا سبب ہو۔  کبھی کسی غمگیں کے آنسو پونجھے ہو؟ کبھی کسی بھوکے کے منہ میں نوالا ڈالا ہو۔ یوں ہی کبھی آپ کسی انجان جنازے میں شامل ہوگئے ہوں۔ کبھی آپ نے سڑک کنارے کسی چھوٹے سے بچے کو ہاتھ میں غبارے و کھلونے لیے بیٹھا دیکھ کر اپنی سواری روکی ہو۔ اور اس سے پوچھا ہو کہ ہاں بیٹا! تم بیچنے لائے ہو تو ایک طرف اداس کیوں بیٹھے ہو۔ غربت اپنی جگہ، مگر ایسی اداسی نے کیوں آن گھیرا ہے؟ یوں چپ چاپ کیوں بیٹھے ہو؟کبھی یوں ہی بے سبب کسی ہسپتال میں جا کر آپ نے موت سے لڑتے ہوئے مریضوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہو یا پھر تھیلیسما کے مریض بچوں کے پاس جا کر کوئی دن گزارا ہو؟

ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ   سب ایک اچھی زندگی کے خواہاں ہیں۔ ایک ایسی زندگی جس میں آپ کی ، آپ کے   بچوں کی اور  گھر والوں کی ہر خوشی شامل ہو۔ مگر بدقسمتی سے مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں ملک کا نام نظر نہیں آتا۔ مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں وہ اداس چہرے کہیں نظر نہیں آتے جو دن بھر کسی غیبی مدد کی آس لئے رات کے بوجھل قدموں تلے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  سیاسی آزادی نظر نہیں آتی۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  اخلاقی آزادی نظر نہیں آتی۔ آپ کی سمت دوسرے متعین کرتے ہیں۔ آپ کا معیارِ سچ جھوٹ کی تکرار ہے۔  ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ دن میں دس اچھی پوسٹس بھی شئیر کرتے ہیں۔ حوصلہ بڑھانے والی ویڈیوز اور تصاویر  بہت خوشی سے سب کو دکھاتے ہیں۔ احادیث اور قرآنی آیات آگے بڑھانے میں بھی آپ کا  دامن تنگ نہیں۔ اور یوم آزادی پر تو جھنڈے بھی پہنے پھرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا کہ نعرے بھی بخوشی لگا لیتے ہیں۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ گزشتہ عرصہ  سے،  میں محض  بکواس پڑھ اور سن رہا ہوں۔ ایک دوسرے کے لیے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کو کسی بھی طرح سے اشرافیہ کی زبان نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک دوسرے کے لیے زہر اگلا جا رہا ہے۔فضا نفرت سے تعفن زدہ ہے۔ رویوں نے اظہار کو مسموم کر رکھا ہے۔ ایسے میں اچھے کام، اچھے رویے اور اچھے لوگ خلائی مخلوق محسوس ہونے  لگے ہیں۔ کس کو سراہا جائے۔ کس کی تعریف کی جائے۔ کس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے۔ معاشرے سے زندہ مثالیں ڈھونڈے نہیں ملتیں۔ اور اگر بدقسمتی سے کوئی اچھا شخص زندہ ہی ہے تو اس کے مرنے کا انتظار جاری ہے تاکہ بعد از مرگ اس کی تعریف کی جا سکے، اس کو سراہا جا سکے۔ اس ریا کے تماشے میں وہی افضل ہے جو ننگا ہے۔

مجھے مسائل کا حل پیش نہیں کرنا۔ دانشور چلا چلا کر اپنے گلے چھیل چکے ہیں۔ مجھے تم سے یہ نہیں کہنا خدارا محبتوں کو فروغ دو، کیوں کہ  کسی چیز کی ترغیب دینا اس کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔میں کیا کہوں، کیا لکھوں، کیا سمجھاؤں کہ میں خود اسی تعفن زدہ معاشرے کا جزو ہوں جس کے سوچ وخیالات نے اس فضا کو خوشگوار بنانے میں ابھی تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ 

میں ناامیدی کی ناؤ میں  دہشت و خوف کے منجدھار میں پھنسی، نفرتوں کے بیج بوتی، محبتوں کے جنازے اٹھاتی، تشدد کے پھل کاٹتی اور زہر کے دریا بہاتی   قوم کو ملک کی سترھویں سالگرہ پر مبارک دیتا ہوں۔ اور اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اب غیب سے اسباب پیدا کر۔ اب اس رات کی سحر کر۔ اب بےیقینی کے سائے اٹھا دے مولا۔  اس گمان و یاس کی دھند سے امید کا سورج طلوع کر۔ ہم پر اپنی پہچان آسان کر دے۔
 آمین یا رب العالمین