Tuesday, 25 July 2017

باکمال بزرگ - قسط ہفتم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

0 comments
گزشتہ سے پیوستہ:

شدید حبس کے موسم میں جب سانس لینا بھی دشوار ہوا تھا اور جسم سے پسینہ یوں خارج ہوتا تھا جیسے حکومت کے پانی کی ترسیل کے پائپ ہوں۔ جن میں چھوٹے چھوٹے جابجا سوراخوں کے سبب اتنا پانی پائپ کے اندر نہیں ہوتا جتنا باہر کی سطح پر ہوتا ہے اور اسی سبب  رسنے کی جگہ کا اندازہ لگانا بھی ناممکن رہتا ہے۔ ہمارا جسم بھی جب "لوں لوں دے مڈھ لکھ لکھ چشمہ" کی صورت اختیار کر گیا تو دوستوں کے ساتھ طے پایا کہ چل کر ٹیوب ویل پر نیم تلے پانی میں بیٹھا جائے۔ ایک دوست نے حقہ اٹھا لیا اور دوسرے نے آموں کا تھیلا۔

آموں کا تھیلا ٹیوب ویل کے سامنے بنی حودی میں پھینک دیا گیا تاکہ آم ٹھنڈے پانی سے نہا کر ٹھنڈے ہو رہیں۔ قمیصیں اتار کر نیم کی ٹہنیوں کے ساتھ ٹانک دی گئیں اور شلواریں کو گھٹنوں تک چڑھا کر جانگیے  بنا لیا گیا۔ پانی میں نہاتے اچھلتے کودتے، آم کھاتے ہمیں احساس ہی نہیں ہوا کہ کب دونوں بزرگ اپنا حقہ اٹھائے ٹیوب ویل کے پاس ہی  پڑی چارپائی پر آبیٹھے۔ جب ہماری توجہ ان کی طرف گئی تو ہم نے حوض سے ہی ان کو بھی آم کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے شفقت اور پیار سے انکار کیا۔ اور آپس میں باتیں کرنے لگے۔ 

کچھ دیر بعد ہمیں ان بزرگوں کا قہقہہ سنائی دیا۔ ہم سب نے پلٹ کر دیکھا تو وہ دونوں بےاختیار ہنس رہے تھے۔ ہم سب نے بزرگوں کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ اور ہنسنے کی وجہ پوچھنے لگے۔ بزرگ فرمانے لگے۔ تم لوگوں کو نہاتا اور اٹکھیلیاں کرتا  دیکھ کر ہمیں اپنا ایک واقعہ یاد آگیا تھا۔ سو اس کو یاد کر کے ہنس رہے تھے۔ ہم نے عرض کی کہ یوں بھی مدت بیتی آپ نے کوئی پرانا واقعہ نہیں سنایا لہذا ہم کو بھی یہ واقعہ سنایا جائے۔ اس پر بزرگ نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور یوں گویا ہوئے۔

جس طرح آج تم لڑکے بالے یہاں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہو،اسی طرح یہ واقعہ بھی تب کا ہے جب ہم تمہاری عمر میں تھے۔ ہم چاروں،  میں، یہ (سامنے والے بزرگ کی طرف اشارہ کرکے)، زنگی اور فیضو(جسے ہم ڈھور کہا کرتے تھے) نہر سے نکلنے والے ایک چھوٹے کھال میں پاؤں ڈبوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ڈھور اپنے ابے کا حقہ چوری چھپے اٹھا لایا تھا  جب کہ زنگی کہیں سے کچھ مدک  چرا لایا تھا۔ مدک کو چلم پر دہکا کر حقے کے جو کش لگے تو   ملنگی ماحول بن گیا۔ جگہ ایسی چنی گئی جہاں سے ہم کسی کو نظر نہ آئیں لیکن کوئی بھی کھیتوں کا رخ کرے تو ہم باآسانی اسے دیکھ سکیں۔ طریقہ یہ طے پایا کہ ہر کوئی اپنے سامنے والی سمت کا خیال رکھے گا، تاکہ چاروں اطراف پر نظر رکھی جا سکے اور رنگے ہاتھوں پکڑے نہ جائیں۔ زمین و آسمان کی سمت کو ہم نے کاندھوں پر بیٹھے فرشتوں کے حوالے کر دیا کیوں کہ یہاں سے جو بھی آتا اس کو صرف وہی دیکھ پاتے۔ ہماری اتنی تاب کہاں تھی۔ چھوٹے چھوٹے قصوں سے شروع ہوئی یہ بیٹھک باقاعدہ بڑھک بازی تک جا پہنچی اور اب ہم چاروں مدک باز ایک جھوٹے قصوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

انہی بڑھک بازیوں میں سب کی توجہ اطراف سے بالکل ہٹ گئی اور ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب ڈھور کا باپ ہمارے سروں پر آن پہنچا۔ زمین تو پھٹی نہیں تھی ورنہ ہم لازمی باخبر ہوتے۔ شاید آسمان سے نازل ہوا  لیکن ان فرشتوں کا کیا کریں کہ یہ آج تک نہیں بتاتے وہ کہاں سے آیا تھا۔ بہرحال قصہ مختصر ہمیں ہوش تب آیا جب ڈھور کو چند گالیوں کے ساتھ اوپر تلے پانچ چھے اعلیٰ قسم کے تھپڑ پڑے۔ اُس دن ڈھور کو پتا نہیں کیا ہوا، وہ پہلے بھی ہمارے سامنے کئی بار پٹا تھا لیکن شاید آج اس کی انا آڑے آگئی اور وہ اپنے باپ سے الجھ پڑا اور کہتا اب میں یہاں نہیں رہوں گا، میں شہر چلا جاؤں گا۔ یہ دھمکی ڈھور پہلے بھی کئی بار اپنے باپ کو دے چکا تھا، مگر اس دن وہ  لاری  اڈےکی طرف چل پڑا۔ اس کا ابا اس کے پیچھے اور ہم اس کے ابے کے پیچھے پیچھے ہولئے۔ ہمیں یہ ڈر تھا کہ ڈھور  کا ابا کہیں لاٹھی سے اس کی ٹھکائی نہ شروع کر دے۔ جب اڈے پر پہنچے تو وہاں شہر جانے کے لئےلاری  تیار تھی۔ ڈھور ایک طرف ہو کر کھڑا ہوگیا۔ جب اس نے دیکھا کہ باپ پیچھے پیچھے آرہا ہے،  تو بس کے دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا مگر بس میں سوار نہ ہوا۔ ڈھور کا ابا اس کے پیچھے پہنچا تو وہ جیبیں ٹٹولنے کی اداکاری کرنے لگا۔ ہم بھی پاس پہنچ چکے تھے۔ ڈھور کی نظر جب ہم پر پڑی تو اور بھی مچل اٹھا اور  اپنے باپ سے یوں مخاطب ہوا۔
ڈھور: میں گھر کائی نہ ویساں (میں اب گھر نہیں جاؤں گا۔ )
اس کا باپ بہت پرسکون انداز میں: کتھاں ویسیں؟ (کہاں جاؤں گے؟)
ڈھورابرو اچکاتے ہوئے: شہر ویساں۔ (میں شہر جاؤں گا۔)
ڈھور کا باپ اسی پرسکون انداز میں: پیسے ہن ؟ (پیسے ہیں تمہارے پاس)
ڈھور سر نیچے جھکا کر: نہ سئیں، پیسے کائی نئیں (نہیں سائیں! پیسے نہیں ہیں۔ )
اس کے باپ نے  جیب میں ہاتھ ڈال کر مڑے تڑے کچھ نوٹ نکالے اور اس کو تھما کر کہنے لگا۔ ایہو گھن پیسے، تے ترے  مہینے گھر کائی نئیں آونا ورنہ لتاں بھن ڈے ساں۔ (یہ لو پیسے، اور تین مہینے گھر نہیں آنا، ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا۔)

Wednesday, 19 July 2017

دوسرا رخ

2 comments
پس منظر:
میرے بھانجے خزیمہ (عمر تقریباً ایک سال) کی ہفتہ بھر کے لئے آمد۔ اس دوران زین العابدین اور عشبہ کی اس سے دوستی ہوگئی، اور تینوں بچے ملکر خوب کھیلتے تھے۔ ہفتہ بعد خزیمہ کی واپسی ہوگئی۔

منظر:
میں، بیگم اور بچے بیٹھے ہیں۔
مکالمہ:
بیگم: یہ خزیمہ ہمیں اداس کر کے چلا گیا ہے۔
زین العابدین: نہیں مما! وہ ہمیں اداس کر کے نہیں خوش کر کے گیا ہے۔

نیرنگ خیال
#زینیات

Tuesday, 4 July 2017

آپ نے آکر پشیمان تمنا کر دیا

4 comments
آپ نے آکر پشیمان تمنا کر دیا

پرانی بات ہے،  جب میری عمر کوئی دس سال کے قریب تھی۔ان دنوں    نیکی کا نشہ سا چڑھا رہتا تھا۔ یہ نیکی کا نشہ بھی عجیب تھا۔ فجر ہو کہ عشاء، کوشش ہوتی تھی کہ نماز مسجد میں پڑھی جائے اور اذان بھی خود دی جائے۔ کتنی ہی بار صرف اس لیے گھنٹہ پہلے مسجد پہنچ جاتا کہ اذان دوں گا۔ انہی دنوں مسجد میں ایک آدمی کا آنا شروع ہوا۔ اس کی شاید ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی۔ بہرحال اس کی آنکھ کے ساتھ کچھ مسئلہ تھا۔ اور مجھے اس سے بہت سارے مسائل تھے۔ ایک تو وہ مجھے  اذان نہیں دینے دیتا تھا۔ خود دیتا تھا۔ اور دوسرا جب نماز کے لیے صفیں باندھی جاتیں تو وہ ہم بچوں کو پچھلی صف میں کھڑا ہونے کا حکم دیتا۔ ہم جو اس مسجد کو اپنا سمجھا کرتے تھے۔ اس رویے سے بےحد شاکی تھے۔ اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھایا کرتے۔ پھر ایک دن کرنا یہ ہوا کہ امام صاحب کسی وجہ سے غائب تھے ، اور ان کے غائب ہونے کا ان موصوف نے فائدہ اٹھایا اور بھاگ کر امامت کی مسند پر جلوہ افروز ہوگئے۔ اس کے بعد تو یہ کھیل ہی بن گیا۔ امام صاحب کبھی نہ ہوتے یہ موصوف امامت کرواتے۔چونکہ یہ ہم بچوں کو شور کرنے پر ڈانٹتے اور نہ اذان دینے دیتے اور نہ ہی اگلی صف میں کھڑا ہونے دیتے تھے تو   وقت کے ساتھ  ہماری ان سے سرد جنگ بڑھتی چلی گئی۔ اچھا ایک دلچسپ بات جو میں نے نوٹ کی کہ جب موصوف امامت کرواتے تو رکوع و سجود میں جاتے وقت “اللہ اکبر” انتہائی گلوگیر سی آواز میں ادا کرتے گویا رو رہے ہیں۔

ایک دن ایسا ہوا کہ میں اذان دینے لگا تو اس شخص نے مجھے ہٹا دیا اور خود اذان دی۔ مجھے بہت برا لگا۔ تھوڑی دیر بعد جب جماعت کھڑی ہونے لگی تو  ہم سب بچوں کو پچھلی صف میں بھی کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا۔امام صاحب موجود نہیں تھے تو یہ صاحب بھاگ کر امامت کروانے کو بھی کھڑے ہوگئے۔ یوں تو مجھے شرارتی ہونے کا ایسا کوئی دعویٰ نہیں اور میں بڑا سیدھا اور شریف سا بچہ ہوتا تھا ۔تاہم ، ایک تو وہ یک چشم گُل دوسرا  ہم بالکل اور تیسرا ان کی روتی ہوئی آواز۔ ہمارے ذہن میں شیطان کا مجسم ہوجانا  کچھ اچھنبے کی بات نہ تھی۔  اب جو رکوع میں جانے لگے تو میں نے انتہائی روتے انداز میں بہ آواز بلند “اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کر دیا۔ میرے ساتھ صف میں موجود بچے “کھی کھی کھی” کرنے لگے۔ میں نے رکوع سے دائیں بائیں دیکھا اور انہیں بلند آواز میں ہنسنے سے منع کیا۔ پھر سجدے کی باری آئی تو پھر یہی حرکت۔ عصر کی جماعت تھی۔ دوسری رکعت تک پہنچتے پہنچتے تمام نمازی حضرات بھی مسکرانے اور ہنسنے لگے۔ مسجد میں دبی دبی ہنسی گونجنے لگی۔ تیسری رکعت تک تو ہم باقاعدہ کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور یوں ہی آوازیں لگانے لگے۔  ایسے بھی بچے نہیں تھے کہ یہ اندازہ نہ ہو کہ بعد از جماعت کیا ہوگا۔ سو تیسری رکعت سے جیسے ہی چوتھی کے لیے جماعت قیام میں کھڑی ہوئی۔ ہم تمام کے تمام بچے وہاں سے کھسک لیے اوراپنے اپنے  گھر آگئے۔ اس کے بعد کتنے ہی دن میں اس مسجد میں نہیں گیا۔ مسجد بدل لی۔ اور پھر کبھی جانا بھی ہوتا تو ابو کے ساتھ جاتا۔ یہ واقعہ میرے ذہن سے محو ہو ہی چلا تھا کہ ایف ایس سی کے دوران اسی مسجد میں جانا ہوا۔ جماعت کھڑی ہوچکی تھی۔ بھاگم بھاگ جو جماعت کے ساتھ ملا تو ایک مانوس سی روتی ہوئی آواز میں “اللہ اکبر”، “سمع اللہ لمن حمدہ” سنا۔ بےاختیار نماز میں ہی مسکراہٹ  نے آن گھیرا اور بقیہ نماز اسی واقعہ کی جزئیات یاد کرتے کرتے مکمل کی۔ چور آنکھوں سے حضرت کو دیکھا۔ اور پھر گھر آگیا۔ گھر والوں کو یہ قصہ سنایا۔ اور بہت لطف لیا۔

لاہور  کے ابتدائی قیام کے دوران ایک دن بابا نے بتایا کہ یار وہ فلاں شخص فوت ہوگیا ہے۔ میرے ذہن میں وہ آدمی موجود نہ تھا تو بابا نے نشانی کے طور پر بتایا کہ یار وہ کبھی کبھار امامت بھی کرواتا تھا ا وراذان بھی دے دیا  کرتا تھا۔ یہ سننا تھا کہ  سر شرمندگی سے جھک گیا۔ تو وہ یک چشم گُل گزر گیا۔ احساس ندامت نے آن گھیرا۔ پہلی بار  سوچ بیدار ہوئی ، اس سے معافی ہی مانگ لیتا۔ وہ بچپن کی نادانی سمجھ کر معاف کر دیتا۔ موقع گنوا دیا تو نے۔ دل نے بہت ملامت کی۔ اب آپ احباب اگر یہ سمجھیں کہ میں اس بات سے سدھر گیا اور جا کر اس کی قبر پر معافیاں مانگنے لگا تو آپ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ بس تبدیلی یہ آئی کہ جب میں کسی کو یہ واقعہ سناتا تو آخر میں ایک سنجیدہ سی شکل بنا کر یہ بھی کہتا ، یار، اور آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا۔ اگرچہ کبھی کبھار مجھے لگتا کہ اس شرارت پرمجھے  کوئی ندامت نہیں ہے۔

گزشتہ سال چھوٹی عید کی بات جب ہم سب عید نماز کے لیے مسجد پہنچے۔ بابا امام سے عید ملے بغیر مسجد سے نہیں نکلتے سو اس دن ہم ایک خلقت سے بغلگیر ہوتے ہیں۔ یہ بغل گیر ہونے کا عمل بھی ایسا ہوتا ہے کہ پتا نہیں چلتا کس کس سے عید مل لی ہے۔ سب سے ملتے ملتے جب  محراب تک پہنچے تو امام صاحب سے عید ملنے سے  پہلے مجھے ایک شخص بڑی گرمجوشی سے عید ملا۔ میں نے  بزرگ کو دیکھا تو ان کی آنکھ کو کوئی مسئلہ تھا۔ وہ بڑی گرمجوشی سے مجھے کہنے لگے۔ کیسے ہو؟ اسلام آباد ہی ہوتے ہو؟ میں ان سے کہا جی، ابھی چند دن قبل لاہور منتقل ہوا ہوں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ مسجد سے نکلتے ہی میرا اور بابا کا مکالمہ کچھ یو ں ہوا۔

میں: بابا! یہ شخص تو فوت ہو چکا تھا؟
بابا: یہ کب کی بات ہے؟
میں: آپ نے مجھے بتایا تھا۔
بابا: تمہیں دھوکا ہوا ہے۔
میں: میں اتنے عرصے سے ہر کسی کو کہہ رہا ہوں کہ یہ فوت ہوچکا ہے۔ اور اگر یہ زندہ ہوتا تو میں اس سے معافی مانگ لیتا۔
بابا: عجیب آدمی ہو تم۔۔۔۔۔ (ہنستے ہوئے) ۔۔۔ پتا نہیں کس کی قبر میں کس کو لٹا رکھا ہے۔
  چھوٹے بھائیوں کا ایک مشترکہ فلک شگاف قہقہہ۔
اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ اب کسی کو واقعہ سناتے وقت کیسے کہوں گا، "یار! اگر آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا۔"

Thursday, 15 June 2017

بلاعنوان

2 comments
کچھ عرصہ قبل لاہور ایکسپو سینٹر میں ایک عالمی کتاب میلے کا انعقاد ہوا۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے راقم کو بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا اور کافی سارے روپے ان کتابوں پر ضائع بھی کر بیٹھا۔ اللہ مجھے ہدایت دے۔ وہیں پر ان آنکھوں نے کچھ ایسے مناظر دیکھے کہ روح سرشار اور دل باغ باغ ہوگیا۔ داخل ہوا تو ہر طرف کتابیں ہی کتابیں اور ان کتابوں کے ساتھ سیلفیاں بناتے لوگ۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ ایک آدھی تصویر میں بھی کھینچوں گا مگر احساس ہوا کہ یہاں کتابوں کا نہیں سیلفیوں کا عالمی میلہ لگا ہے تو اپنے ارادے کو ترک کر دیا۔ دل کو تسلی دی کہ کسی نہ کسی کی سیلفی میں شاید پیچھے سے گزرتا ہوا یا کھڑا میں بھی آگیا ہوں گا۔ سو اب چنداں ضرورت نہیں رہی۔ خیر یہ قصہ نہ تو سیلفیوں کا ہے اور نہ ہی اس عالمی  میلے کی روداد لکھنا میرا  مقصد۔
ہوا یوں جب میں اس کتاب میلے سے واپس جانے کو تھا تو جناب امیر نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔ اور پھر ان کے ساتھ  کتب سٹالز کا طواف نئے سرے سے شروع کیا۔اس طواف کے دوران امیر صاحب ایک سٹال کے اندر گھس گئے۔ اور لگے کتابیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے۔ میں چونکہ پہلے ہی طواف کر چکا تھا اور اپنی دلچسپی کی کتب خرید چکا تھا اس لیے سٹال کے سامنے کھڑا  اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ اسی اثناء میں اس سٹال پر ایک نازک اندام اپنی والدہ کے ہمراہ جلوہ افروز ہوئی۔ اور کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ سٹال پر سامنے ہی کشف المحجوب ایک مقدس کتاب کی طرح پلاسٹک کی تھیلی میں بند تھی۔ شاید صاحبِ سٹال کا خیال ہو کہ گھٹن کی وجہ سے یہ کتاب یہاں سے بھاگ نہ جائے۔ ورنہ باقی کتابوں کو اس طرح قید نہ کیا گیا تھا۔ کتاب پر واضح الفاظ میں "کشف المحجوب" لکھا نظر آرہا تھا۔ اور نیچے "حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ"  جگمگا رہا تھا۔ اس لڑکی نے کتاب کو اٹھایا  اور صاحب سٹال کی طرف کرتے ہوئے۔ کیا میں اس کو باہر نکال کر دیکھ سکتی ہوں۔ صاحبِ سٹال نے کمال فراخدلی سے کور سے باہر نکال کر محترمہ کے آگے کی۔ محترمہ نے اپنی والدہ سے کہا۔ "عجیب سا ہی نام ہے۔  " اور درمیان سے کھول کر دیکھنے لگی۔ اس کی والدہ نے جواباً کچھ کہا جو راقم کی سماعتوں کو سرفراز نہ کر سکا۔ بہرحال لڑکی نے بمشکل چند سیکنڈ کتاب دیکھی۔ اور پھرانتہائی حقارت بھرے انداز میں  کہا۔ "عجیب ہی کتاب لگ رہی  ہے۔" اورواپس رکھ کر  عہد حاضر کا ایک معروف تین کلوگرام وزنی ناول اٹھا لیا۔

Tuesday, 30 May 2017

عدم دلچسپی

3 comments
منظر:
میں دفترجانے کے لیے جوتے پہن رہا ہوں۔
میرا بیٹا "محمد زین العابدین" صوفے پر بیٹھا اپنی نئی کھلونا کار کو انتہائی انہماک سے دیکھ رہا ہے۔

مکالمہ:
میں: زین بیٹا! کیا  کر رہے ہو؟
زین العابدین: صوفے سے اٹھ کر میرے پاس آتے ہوئے۔ پاپا! آپ کو پتا ہے؟
میں: کیا بیٹے؟
زین العابدین: ہم جو بھی چیز لیتے ہیں۔ وہ دو تین دن میں پرانی ہوجاتی ہے۔ 
مجھے اس  بات کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ سو وقتی طور پر میں فوری جواب نہ دے سکا۔ 
مجھے خاموش دیکھ کر زین العابدین نے اپنی گاڑی میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ پاپا! میری ساری گاڑیاں پرانی ہوجاتی ہیں۔میں چاہتا ہوں  یہ کبھی پرانی نہ ہوں۔ 

22 مئی 2017


Tuesday, 23 May 2017

سوشل میڈیائی لطائف اور ہم

0 comments
ایک کام میں مصروف تھے کہ میز پر پڑا فون کپکپا اٹھا۔ اب معلوم نہیں کہ کپکپاہٹ سے خوف نمایاں تھا کہ یہ خوشی کی لہر تھی۔ فون اٹھایا تو دیکھا ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک لطیفہ بھیجا تھا۔ لطیفہ اچھا تھا۔ سو ہم نے جواباً "ہاہاہاہاہا" کا میسج اس کو بھیج دیا۔ تاکہ سند رہے لطیفہ وصول پایا ہے اور پڑھنے والے نے اس سے حظ بھی اٹھایا ہے۔ ابھی چند ثانیے ہی گزرے تھے کہ فون دوبارہ کپکپا اٹھا۔ دیکھا وہی لطیفہ کسی نے ایک وٹس ایپ گروپ میں شئیر کر رکھا تھا۔ مروتاً ایک دانت نکالتا ہوا شتونگڑہ وہاں رسید کیا ۔ ابھی فون واپس نہ رکھا تھا کہ ایک اور گروپ ٹمٹما اٹھا۔ دیکھا تو اس گروپ میں ایک حسین و مہ جبیں نے وہی لطیفہ پھینکا تھا۔ حسن کونظر انداز کرنا جتنی بڑی گستاخی ہے اس کے ہم ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ سو فوراً سے پیشتر دو چار ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے شتونگڑے باقاعدہ اقتباس لے کر رسید کیے تاکہ کوئی اور بدمذاق یہ نہ سمجھے ہمیں اس کی بات پر ہنسی آئی ہے۔ ہنسی بہ حق دار رسید ۔
کام سے فارغ ہو کر سوچا کہ کچھ دیر آستانہ فیس بک پر حاضری دے لی جاوے۔ ابھی اطلاعاتی صفحہ پر لوگوں کی کارستانیاں ابھرنی شروع ہوئی تھیں کہ ایک پرانا لطیفہ نئے سنجیدہ لطائف کے درمیان جگمگاتا نظر آیا۔ اس لطیفے سے جڑی کئی یادیں آگئیں۔ ہم نے بےاختیار ہو کر "ہاہاہا" کا شتونگڑہ رسید کیا۔ اور آگے کو چل دیے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی لطیفہ ایک اور پرانے دوست نے بھی شیئر کر رکھا ہے۔ فوراً  لعن طعن کی۔
"یہ کیا حرکت ہے؟ کبھی کوئی سنجیدہ بات بھی کر لیا کر۔ یہاں تم لوگوں نے تھیٹر لگایا ہوا۔ اور قبل مسیح کے لطائف سنا کر ہنسانے کی کوشش کرتے ہو۔"
اس کو ڈانٹ پلا کر ایک فخر کا احساس جاگا۔ شرم آرہی ہوگی اب اسے۔ دل میں شرمندہ ہو رہا ہوگا۔ کہ واقعی کتنا پرانا لطیفہ شئیر کیا ہے۔ اپنے آپ کو داد دیتے ہوئے ذرا سا صفحہ آگے بڑھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ کسی انجان حسینہ نے ایک فیس بکی گروپ میں وہی لطیفہ تازہ تازہ ارسال فرمایا ہے۔ تصویریں دھوکا ہیں۔ ان پر اعتبار مت کیجیو۔ مگر ہائے۔۔۔۔ دل ہی تھا پگھل گیا۔ کئی الٹے سیدھے شتونگڑے بنائے۔ اور عرض کی۔
" کیا کمال لطیفہ شریک کیا ہے۔ واہ واہ۔۔۔ بھئی لوگ بھی کیا سوچتے ہیں۔۔۔ ہاہاہاہا۔ آج ہی پڑھا۔ بلے بلے۔۔۔"
داد و تحسین کے ڈونگرے برسا کر ابھی واپس بھی نہ پلٹے تھے کہ انہی موصوفہ نے ہمارے تبصرے پر ایک لال سرخ سہاگن قسم کا  "دل" ارسال کر دیا۔ بس بےارادہ ہی  آئندہ سے ہمیشہ اس حسینہ کے لطیفوں پر ہنسنے کا ارادہ فرما لیا تھا۔
فیس بک سے فارغ ہو کر سوچا پیر ٹوئٹر شریف کے درشن کیے بھی مدتیں بیت گئی ہیں۔ وہاں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک دوست نے وہی لطیفہ تصویری شکل میں لگا رکھا تھا۔ ہنہ۔ ہم نے ہنکارہ بھرا۔ نظرانداز کر کے آگے بڑھے تو پھر ایک حسینہ کی طرف سے وہی تصویر نظر آئی۔۔۔۔۔۔اطلاعاتی صفحہ وہیں ٹھہر گیا۔۔۔۔۔۔  و علی ہذا لقیاس

Wednesday, 3 May 2017

یکے از خواجگان

3 comments
شہرِ اقتدار سے شہر زندہ  دلان بسلسلہ روزگار منتقلی نے مجھے  شب کا مسافر بنا دیا تھا۔ اور اس شاہراہ پر میرے ساتھ بہت کم ہی مسافر تھے۔ یوں سمجھیے ،  راقم القصورہی ان اولیں لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ادارہ مذکورہ میں شب بیداری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اور سفرِ شب کے رموز و فوائد  آشکار کیے۔ طلب سچی اور راہ سیدھی ہو تو کارواں بنتے دیر کب لگتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان شب بیداری کے اس سفر میں ہمسفر بننے لگے۔ رات کو دن کا سماں رہنے لگا۔ انہی دنوں میری  ملاقات خواجہ صاحب سے ہوگئی۔" خواجہ" لفظ سے میری  عقیدت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔بزرگان دین کے ناموں کے ساتھ لگے اس لفظ نے  ذہن پر ایک ان دیکھی سی چادر تان رکھی تھی۔ پردہ تصور اس لفظ سے   ہمیشہ   سادگی و انکساری کا  پیکر ابھرتا۔ چشم تصور میں اس لفظ کے ساتھ ہی نیکی، انسانیت اور محبت کے ایک ایسے وجود کی تصویر ابھرتی، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ لیکن بھلا ہو یکے بعد دیگرے ملنے والے خواجوں کا۔ جنہوں نے اس تصور کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ پہلے پہل تو ایک آدھے "خواجہ" کو اپنے خیالی تصور سے یکسر مخالف سمت میں پایا تو یہ کہہ کر دل کو تسلی دی  "پسر نوح بابداں بہ نشست خاندان نبوتش گم شد" ۔ لیکن بات جب ایک دو سے بڑھ چلی تو محسوس ہوا ،  جانے انجانے یہ عقیدت اس لفظ سے کم سے ہو چلی ہے۔
چھوٹے قد، چھوٹے بالوں میں، چھوٹا  چہرہ لیے،چھوٹے سے  خواجہ صاحب کو جب راقم نےپہلی بار  دیکھا تو دل میں یہ خیال آیا کہ وہ "خواجہ" جن کا وجود آج کے گمراہ دور میں خیال ٹھہرا ہے؛ مجسم ہو کر ہمارے سامنے آگیا ہے۔پرانے چند ناخوشگوار واقعات کے سبب  عقیدت نے ہماری آنکھوں پر پٹی نہیں باندھی لیکن دل نے ایک تھپکی ضرور دی۔ مورکھ! دیکھ کیا رہا ہے۔ پائے لاگو کر لے۔ دل کو کسی طور سمجھا لیا۔ کہ چند دن، چند دن ۔ خواجہ صاحب سے کچھ دل کی باتیں کریں۔ مرشد کامل ہوا تو ہم نے پلہ کیوں چھوڑنا۔ ارادت مندوں میں تو زبردستی شامل ہوجائیں گے۔ ہائے۔۔۔۔ یہ گناہ گار ذہن اور معاشرے کا چلن۔ کیسے نیک نیک لوگوں کے بارے میں کیسے کیسے گمان ذہن  میں آجاتے ہیں۔
خواجہ صاحب تشریف لاتے۔ ایک چادر میز کے کونے پر ٹکاتے۔ ایک ٹوپی بھی تھی شاید۔ جو کسی نے خواجہ صاحب کو بھلے وقتوں میں پہنا دی تھی اور خواجہ صاحب اس یاد کو سر پر سجائے رکھتے تھے۔ سیٹ پر تشریف رکھتے۔ ایک ادائے بےنیازانہ سے اپنے کام کا آغاز کرتے۔ ہم جیسے راندہ درگاہ قسم کے لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے ہیڈ فون لگا لیتے۔ کچھ منقبت وغیرہ سنتے ہوں گے۔ اللہ لوگوں کے بھید کون کھول پایا ہے۔ رات کا پہلا پہر ڈھلنے کے بعد تشریف لاتے۔ اور دوسرا پہر ڈھلنے سے قبل   غائب ہوجاتے۔ چادر بھی غائب ہوجاتی۔ کیا منظر ہوتا تھا۔ اللہ اللہ ۔ مدتوں  اسی کافرانہ گمان کا شکار رہے کہ کسی خالی کمرے میں جا کر چادر اوڑھ کر سوجاتے ہوں گے۔ یہ خیال ایسا کوئی ذاتی بھی نہ تھا۔ لوگ کہتے ہیں تو کیا بے سبب کہتے ہوں گے مصداق ہم نے اس پر کچھ کچھ یقین بھی کر لیا مگر بغیر تحقیق کیے ایسے کافرانہ خیالات رکھنا یقینی طور پر ایک قابل گرفت عمل ہے۔ اور راقم الحروف تو بزرگی کے منصب پر بھی  فائز نہیں تھا کہ یہی کہہ کر جان چھڑا لے خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔
یوں تو خواجہ صاحب سے آتے جاتے ہم چونچیں لڑایا ہی کرتے تھے مگر جب وہ مصروف ہوں تو اس وقت ان کو چھیڑنے کا ایک الگ سے لطف ہوتا تھا۔ ایک دن جب خواجہ صاحب کام میں گھٹنوں گھٹنوں مصروف تھے راقم نے ہمت کر کےگفتگو کا آغاز کیا ا ور خواجہ صاحب سے ان کی دنیااور اس کے بعد پھر اس ادارے میں آمد کے متعلق سوال پوچھا۔ جواب میں خواجہ صاحب نے پنجابی ایک فصیح و بلیغ گالی سے نوازا۔ایسا نہیں کہ زندگی میں مجھے کسی نے گالی نہیں دی مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ کام بہت بےتکلف دوست ہی کیا کرتے  تھے۔ ٹھنڈے دل سے  جملے میں جب الفاظ و گالیوں کے تناسب پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ یہ گالیاں جملے میں اثر انگیزی کے لیے ٹانکی گئی ہیں۔ تاہم کچھ اس قدر زیادہ تعداد میں ٹانک دی گئی تھیں کہ اصل جملہ قریب غائب ہو چکا تھا اور صرف اثر انگیزی رہ گئی تھی۔ مجھے احمد اقبال صاحب کا جملہ بےاختیار یاد آگیا۔ کہ "اگر بھورے ماموں کی دھوتی کے سوراخوں کا رقبہ جمع کیا جائے تو دھوتی غائب ہوجاتی ہے۔" مختصر گفتگو فرماتے۔ مختصر سے مراد یہ ہے کہ جملہ تو کافی طویل ہوتا۔ تاہم اس میں اصل عبارت بےحد مختصر ہوا کرتی تھی۔   ہر قسم کے قومی نظریے کے مخالف تھے اور خود کو قوم پرست بھی سمجھتے تھے۔ یہ ایک عجیب تضاد تھا جس کا راز آج تک راقم پر نہیں کھلا۔ خود ہی نیشنلزم، کیپٹلزم  اور سوشلزم پر درس دیتے۔ خود ہی سوال کر کے جواب دیا کرتے تھے۔ اور پھر خود ہی ان نظریات کو رد کر کے کہہ دیا کرتے تھے کہ خطیب کیسا بیوقوف آدمی ہے۔ اور ہمارے پاس سوائے  ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔رفتہ رفتہ میں خواجہ صاحب کو اور خواجہ صاحب  مجھے سمجھنے لگے۔
ایک دن جوش خطابت میں مسلم حملہ آوروں کو برا بھلاکہہ رہے تھے۔ دورانِ خطاب فرمانے لگے یار دیکھو ہمارے اسلاف کی معصومیت۔ اچھے بھلے اونچی ذات کے برہمن تھے۔ مسلم ہو کر شودر ہوگئے۔ ہم نے عرض کی حضور، آپ کے اسلاف کو بھی چاہیے تھا کہ بحث کرتے۔ کہتے ادھر سے مندر چھوڑیں گے تو ادھر پیری کی مسند پر بیٹھیں گے۔ سر جھٹک کر فرمانے لگے۔ اس وقت یہ راز کب کھولے تھے انہوں نے۔ یہ رمزیں تو کہیں بعد جا کر پتا چلیں۔ دھوکے سے لٹ گئے۔اس سے احباب اگر یہ اندازہ لگائیں کہ خواجہ صاحب پرانے مذہب کے لیے کوئی نرم جذبات رکھتے تھے تو آپ سراسر غلطی پر ہوں گے۔ مذہب و غیر مذہب الغرض تمام حلقوں کے لیے ان کا رویہ ایک ہی تھا۔ ایک دن عالم وجد میں راقم سے فرمانے لگے۔ بھلے مانس! زندگی میں کبھی کسی مولوی کی بات پر اعتبار نہ کرنا۔ عرض کی۔ سیدی! آپ کے بارے میں کیا حکم ہے۔ تو ایک عارفانہ ہنسی کے ساتھ بولے۔ خدا گواہ ہے کہ تم میری کسی بات کا یقین نہیں کرتے۔ راقم نے عقیدت میں اس بات سے بھی انکار نہ کیا۔لیکن مدعا عرض کیا کہ روحِ سوال یہ تھی "خودرافصیحت، دیگران رانصیحت"۔ تو ہنستے ہوئے کہنے لگے "ہرکس سلیقہ ای دارد" ۔ ہم کج فہم بھی ہنس پڑے۔ بھید نہ پا سکے۔
خواجہ صاحب ہر اس بات کے خلاف تھے جو ایک عامی کےمعیارِ عقل و شعور   پر پوری اترتی تھی۔ پہلے پہل راقم کو خیال گزرا کہ شاید یہ مخالفت بہت زیادہ علم و عملیات کے سبب ہے۔ تاہم خواجہ صاحب نے اس خوش فہمی میں بھی زیادہ عرصہ نہ رہنے دیا۔ ایک دن گفتگو کے دوران ایک معروف کتاب پر بحث چھڑ گئی۔ لائبریری میں وہ الماری، جس میں کتاب دھری تھی،  اس کے سامنے سے راقم کا بارہا گزر ہوا تھا۔ ادھر خواجہ صاحب  کے ایک دوست نے وہ کتاب باقاعدہ پڑھ رکھی تھی۔ الغرض دونوں ان مسائل پر بہت دیر تک بات کرتے رہے جن کا اس مصنف کو کما حقہ ادراک نہ تھا۔  ایک دن فرمانے  لگے۔ مجھے دو قسم کے لوگ بہت برے لگتے ہیں۔ ایک وہ جو سرِورق دیکھ کر کتاب کے بارے میں ثقیل و طویل تبصرے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ  سوشل میڈیائی  جو قول کا ذائقہ چکھ کر کتاب کے بارے میں بےلاگ تبصرہ فرماتے ہیں۔ راقم نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ درحقیقت آپ ایک ہی قسم کے لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تو کہنے لگے۔ نہیں میاں! دو مختلف باتیں ہیں۔ تم کو غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے کافی غور کیا مگر کوئی خاص فرق معلوم کرنے سے قاصر رہے۔ تادم است غم است۔
مالِ دنیا کے مآل سے واقف تھے سو ظاہری ہیئت کی چنداں پرواہ نہ کیا کرتے۔ ایک جینز اور ٹی شرٹ جو میلی ہوتی تو الٹی کر کے پہن لیتے۔ فرماتے میاں ! مالِ دنیا چرک دست است۔ راقم نے عرض کی تو ساری میل ہاتھ پر ہی جمع رکھیں گے۔ کچھ اتار بھی پھینکیے۔ اس پر غصہ میں آگئے۔ بڑی دیر غصہ رہے۔ لیکن اگلے دن بھی اسی حلیے میں دیکھ کر عرض کی کل کے غصے کا کیا ہوا۔ فرمانے لگے کہ تمہارا غصہ ان بےجان چیزوں پر کیوں اتاروں۔ ان کو خود سے دور کیونکر کروں۔ شاعر آدمی تھے اور پیٹر تخلص کرتے تھے ۔ مخطوطات بھی زبانِ فرنگ ہی میں تھے۔ جن میں اکثریت بنیادی اخلاقیات کے لیے زہر قاتل تھے۔ خود فرماتے تھے کہ میری گزارشات  ناپختہ ذہن کے لیے موت ہیں  اور پختہ کے لیے مخطور۔ واللہ کیا کیا راز کھولا کرتے تھے۔ ایک دن راقم نے پوچھ ہی لیا کہ "پیٹر" ہی کیوں۔ کہنے لگے ایک تو اس سے "انٹیلکچوئل پُنے" کا گمان ہوتا ہے دوسرا اس لیے کہ دیار فرنگ کے بےشمار ناموں سے ہمارے ہاں یہی معروف ہے۔ توجیہ اچھی تھی راقم نے بھی اعتراض نہ کیا۔ خود اپنی جان سے ہاتھ دھونے  کا اندیشہ نہ ہوتا تو ان کا کوئی مخطوطہ  "فی سبیل اللہ فساد" کے لیے ضرور شریک کرتے۔ بلکہ تحریر کیا۔ ان کا تو ایک آدھا قول ہی ہمیں وجود سے عدم کی طرف منتقل کرنے کو کافی ہے۔ 
خواجہ صاحب کی ذات باکمال کے متعلق بالا گفتگو تو مشے نمونے از خروارے ہے۔  زندگی رہی تو خواجہ صاحب کی رمز بھری زندگی سے کچھ سنہرے واقعات عوام کی ہدایت اورعبرت کے لیے کبھی پیش کیے جائیں گے۔

نوٹ: اس خاکے کے تمام کردار تخیلاتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی سو فیصد مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔