Thursday, 25 August 2016

ملک (ایک نابغہ شخصیت) جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔​ (قسط سوئم: حصہ دوم)

0 comments
جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔
حصہ دوم
ہم جب بھی ملک صاحب کے ساتھ کہیں جاتے تو اکثر بہت چوکنا  ہو کر بیٹھا کرتے تھے۔ کیوں کہ ملک صاحب دائیں کا اشارہ کرکے ہمیشہ بائیں کا لفظ استعمال کرتے۔ جنوب کا کہہ کر شمال کی طرف مڑ جاتے۔  اللہ تعالی کی طرف سے جو جی پی ایس  ڈیوائس لگی ہوئی آئی تھی وہ شاید ہم سے ملاقات سے قبل کام چھوڑ چکی تھی۔ لہذا جب ملک صاحب دائیں اشارہ کر کے کہتے اس طرف  تو تمام رمز شناس بائیں جانب ہی دیکھا کرتے تھے۔ ہم نے ان کو واللہ کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا ورنہ یہاں ہم لازما بتاتے کہ ملک صاحب کا مغرب کس طرف بنتا ہے۔ ایک مرتبہ ہم نے یوں ہی ازراہ تفنن پوچھ لیا۔ ملک صاحب آج جمعہ کس طرف پڑھا ہے تو برجستہ فرمایا کہ جس طرف سب نے منہ کر کے پڑھا ہے۔ ایک دن ایک مشہور سڑ ک کے اوپر کھڑے ہو کر ہم سے ایک گھنٹہ بحث کی کہ یہ وہ والی سڑک نہیں ہے جو کہ ہے۔ بلکہ یہ وہ والی سڑک ہے جو یہ نہیں ہے۔ آخر جب ہم نے تھک کر یہ کہا کہ جو سڑک کنارے بورڈ ہے اس پر لکھا نام پڑھ لیں تو تنک کر بولے کہ ایسا بورڈ تو اس سڑک کے دوسرے سرے پر بھی لگا ہے اور وہاں پر بھی یہی نام لکھا ہے۔ ہم نے ہار مان لی۔ اس دلیل کے بعد تو ہمارے پاس منطقی استدلال کی بھی کوئی وجہ نہ رہی تھی۔ خیر تو میں بات کر رہا تھا کہ ہم ملک صاحب کی کار میں بیٹھے دفتر سے نکلے۔ ابھی کچھ فرلانگ ہی کار چلی ہوگی کہ راستے میں ایک مارکیٹ آگئی۔ راستے میں کوئی بھی مارکیٹ آجائے تو ملک صاحب کار روک لیا کرتے تھے۔ اتر کر اِدھر  اُدھر دیکھتے اور پھر آگے جایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوران ڈرائیونگ اِدھر اُدھر دیکھنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن آج ملک صاحب نے نظریں سینکنے کی بجائے سامنے پھلوں کی دکان کا رخ کیا اور دو سیب خرید ڈالے۔ اس کے بعد گاڑی گھر کی طرف موڑ لی۔ گھر جا کر لباس تبدیل کیا۔ سیب  کا ملک شیک پیا۔ اس کے بعد کہا۔ اٹھو بھئی۔ جم جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ ہم جو سوچ رہے تھے کہ آج شاید ملک صاحب ٹال مٹول کے چکر میں ہیں۔ خوش ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ خوشی بھی زیادہ دیر نہ رہی جب ملک صاحب نے جم کے سامنے پہنچ کر اندر جانے کی بجائے ساتھ چائے سگریٹ کے سٹال  کا رخ کر لیا۔ وہاں سے ایک بوتل منرل واٹر خریدی۔ ہمارے استفسار پر انہوں نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میاں دوران ورزش ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے میں پانی کی بوتل ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں۔ اس سے ہمیں اتنا اندازہ تو بہرحال ہوگیا کہ ملک صاحب کم از کم اتنی ہل جل تو کر ہی لیتے ہیں کہ ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ان کو لاحق ہے۔
جم کے اندر داخل ہونے کا راستہ ایسا تھا جیسے غلطی سے بن گیا ہو۔ دو دکانوں کے بیچ ایک نہ نظر آنے والا راستہ نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ اور اس راستے کی لمبائی چوڑائی کو دیکھ کر ہمیں ان جاسوسی فلموں کے مناظر یاد آگئے جس میں اس طرح کی تنگ و تاریک گلیوں میں جرم کے بازار گرم ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ملک صاحب کی "شر""آفت" پر ہمیں کوئی شبہ نہ تھا لہذا پریشان ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ دروازے سے گزرتے ہی خود کو ایک وسیع گودام نما ہال کے اندر کھڑے پایا جس میں ہر طرف جسمانی کسرت کی مشینیں  اور اوزار موجود تھے۔ ملک صاحب نے جاتے ہی  لگا تار دو چھلانگیں اس طرح ماریں کہ ہمیں جنگل کا وہ بادشاہ یاد آگیا جوکہا کرتا تھا۔ "کرنا میں نے کیا ہے۔ بس تم میری آنی جانی دیکھو"۔  اس کے بعد "PushUps"  لگانے شروع کر دیے۔ ملک صاحب کے پش اپس نکالنے کا انداز بہت حد تک تیراکی سے ملتا تھا۔ جس طرح ایک ماہر پیراک پیراکی کرتے ہوئے  بازو سے پانی ہٹا کر سر نیچے لے جاتا ہے۔ اور پھر اسی ترتیب سے واپس اوپر آ کر دوبارہ یہی عمل دہراتا ہے۔ ملک صاحب کے پش اپس نکالنے کا انداز بھی تقریبا سو نہیں تو ننانوے فیصد ایسا ہی تھا۔  البتہ اس میں فرق صرف یہ تھا کہ ملک صاحب کا صرف سر ہی نیچے آتا جاتا تھ جبکہ بقیہ جسم وہیں  کا وہیں جما رہتا تھا۔ اس کے بعد ملک صاحب نے  ایک ایک کلو کے باٹ اٹھا لیے۔ اور  بازوؤں کی مچھلیاں" پھڑکانے" لگے۔ اتنا  وزن اٹھاتے دیکھ کر تو سمندر کی مچھلیاں پھڑک جاتیں۔ "بائی سپ" کی خوب خبر لینے کے بعد ملک صاحب نے کاندھوں اور سینے کی  ورزش کی۔ کاندھوں والی ورزش تو کچھ ایسی تھی کہ جیسے پہلوان  اکھاڑے میں اترنے سے پہلے  ڈنڈ پیلتا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے ڈنڈ  پیلنے کا درمیانی وقفہ ہموار ہوتا  جبکہ  ملک صاحب کے ڈنڈ پیلنے کے درمیانی وقفے کا اگر گراف بنایا جاتا تو شاید بلند فشار خون رکھنے والے مریض کی ای سی جی جیسا بنتا۔
اس بےتحاشہ ورزش کے دوران انہوں نے آدھا لیٹر پانی کی بوتل بھی خالی کر دی۔ جم سے فارغ ہونے کے بعد ملک صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ روز اسی طرح کی ورزش کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم نے پوچھا کہ اگر ہم بھی اسی طرح ورزش کریں تو کیا ہمارا جسم بھی اتنا ہی دبلا اور پلپلا ہو جائے گا تو مسکرا دیے۔ ہم نے جب اپنا وار خالی جاتے دیکھا تو کہا کہ کل ہم نے اپنے دو دوستوں کو جب آپ کی جسمانی کسرتوں کے بارے میں بتایا تو وہ یقین نہیں کر رہے تھے۔ اس پر ملک صاحب  نے  استعجابیہ    انداز میں پوچھا۔ اچھا کیا  وہ کیا کہہ رہے تھے؟ ملک صاحب کے اس انداز معصومیت پر ہمیں پورا واقعہ ان کے گوش گزار کرنا پڑا۔
ہوا یوں کہ کل ہم دو دوستوں کے ساتھ تھے۔ باتوں باتوں میں کول مین اور آرنلڈ کا ذکر آگیا۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ باڈی بلڈر حضرات کا ذکر ہو اور ملک صاحب کا تذکرہ رہ جائے۔ سو ہم نے فوراً  کہا کہ باڈی بلڈنگ تو اپنے ملک صاحب بھی کرتے ہیں۔ اس پر بجائے وہ گستاخ یہ پوچھتے کہ کب سے کر رہے ہیں؟ اچھا! ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ملک روز ورزش کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ گفتگو کچھ یوں آگے بڑھی۔
پہلا: "بکواس نہ کر! مذاق کر رہا ہے نا؟"
دوسرا: "واقعی؟  انہیں  دیکھ کر لگتا نہیں کبھی جم کے باہر سے بھی گزرے ہیں۔"
پہلا: "یہ بس ان کو بےعزت کرنے کے لیے ایسی ہانک رہا ہے۔"
دوسرا: "مذاق برطرف۔ تمہاری  کیا دشمنی ہے جو ان کے بارے میں ایسی افواہیں اڑا رہے ہو؟"
راقم: "بھئی! میں کیوں بےپر کی اڑاؤں گا۔ یہ بات درست ہے کہ ملک صاحب گزشتہ آٹھ برس سے کسرت کر رہے ہیں۔"
پہلا: ہاتھ جھٹک کر۔ "ابے چل! ہمیں الو سمجھا ہے۔ یا ہم نے کبھی آٹھ برس تک لگاتار باڈی بلڈنگ کرنے والے دیکھے نہیں ہیں۔"
دوسرا: "یار! دیکھ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو میں سیدھا جا کر ملک صاحب کو کہہ دوں گا کہ آپ کے بارے میں اناپ شناپ بول رہا تھا۔"
راقم: "حد ہوگئی یار! تم لوگ اب خود ہی ملک سے پوچھ لینا۔"
ابھی ہم  مکالمہ سنا رہے تھے  کہ ملک صاحب نے ہاتھ اٹھا کر ہمیں بات کرنے سے روک دیا۔ فرمانے لگے۔ بس ! اب ان سے پنجہ لڑانا ہی پڑے گا۔ یہ لوگ ایسے نہیں مانیں گے۔

(جاری ہے۔)

Saturday, 20 August 2016

نوحہ

2 comments
بنسری توڑ دی گڈریے نے
اور چپکے سے شہر جا کر
کارخانے میں نوکری کر لی

کچھ احباب نے مجھ سے پوچھا کہ اسلم کولسری نے یہاں ایسی کیا بات کی ہے کہ آپ نے اس کو اپنا صفحے کی تفصیلات میں رکھا ہوا ہے۔ ایک آدھے سے بڑھ  کر بات جب چند لوگوں نے کی تو میں نے سوچا کہ اپنے تئیں اس کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے۔ یوں تو خاکم بدہن کسی قابل نہیں اور پھر" المعانی فی البطن الشاعر" کہہ کر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن جو میں سمجھتا ہوں۔ اس کو کہنے میں کیا ہرج ہے، اساتذہ موجود ہیں۔ کہیں کوئی کمی کوتاہی ہوئی تو وہ نشاندہی کر کے اور درستی فرما کر سرفراز فرمائیں گے۔

یہ جس کا عنوان نوحہ ہے۔ حقیقت میں نوحہ ہی ہے۔ یہ سادگی سے تصنع کی طرف منتقلی کا نوحہ ہے۔ آزادی سے غلامی کی طرف جانے کا نوحہ ہے۔ نخلستان چھوڑ کر سراب کے پیچھے بھاگنے کا نوحہ ہے۔ مضبوط اقدار سے فرار کا نوحہ ہے۔ الغرض ایک مکمل معاشرے کا دوسرے معاشرے میں ڈھل جانے کا نوحہ ہے۔شاعر کو بہت سہولت حاصل ہوتی ہے۔ وہ بہت کم الفاظ میں بہت زیادہ کیفیات، رشتے اور وقت بلکہ صدیوں کا سفر سمیٹ جاتا ہے۔

انسان اصل میں کسی چیز کو جب توڑتا ہے تو وہ اس وقت،  جب وہ اس کے لیے بیکار ہوجاتی ہے۔ یہ ایک عام رویہ میرے مشاہدے میں ہے کہ ہم کسی چیز کو بیکار ہونے کے بعد اس کو اکثر یوں نہیں پھینک دیتے۔ بلکہ اس کو توڑ دیتے ہیں۔ کاغذ ہے تو اس کو پھینکنے سے پہلے پھاڑ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی کسی چھڑی کو پھینکتا ہے تو اس کو بھی پھینکنے سے پہلے توڑنا نہیں بھولتا۔ بانسری جو کہ ایک روایتی ثقافت کی امین ہے۔ اس سے کئی داستانیں منسوب ہیں۔ کئی قصے جڑے ہیں۔ کتنی ہیروں کے دلوں کے تار اس کی دھن سے کبھی چھڑا کرتے تھے۔ وہ اب متروک ٹھہری ہے۔ اب اس کی سریلی دھن کہیں سننے کو نہیں ملتی۔ اب قدم بانسری کی آواز سن کر رکتےنہیں ہیں۔ اب رات کے سناٹے میں کبھی کوئی سریلی دھنیں نہیں بکھیرتا ہے۔ گڈریا  سادگی کی علامت ہے۔ قناعت کی علامت ہے۔ تصنع سے پاک ہے۔ وہ اپنے دل کی دھڑکن، اپنی باتیں سروں کی صورت ہوا میں بکھیر دیتا ہے۔ سماعتیں ان سروں سے لطف لیتی ہیں۔ جتنی سندر بات اس کے من میں ہوتی ہے۔ اتنا سندر سر اس کی بانسری سے پھوٹتا ہے۔ لے پہچاننے والے جانتے ہیں کہ خوشی اور غم کے سر سب کیسے اس بانسری سے جنم لے کر ہوا میں بکھرتے چلے جاتے تھے۔ 
اور یہی سے اس نوحے کا ذکر ہوتا ہے جو کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ اب ان سروں کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ بانسری جس سے دل کی دھنیں ہوا میں بکھرتی تھیں۔ جن میں ایک تال میل ہوتا تھا۔ وہ ٹوٹ گئی ہے۔ بلکہ توڑ دی گئی ہے۔ وہ گڈریا جو کہ سادگی کی علامت تھا۔ جس میں تصنع نام کو نہ تھا۔ وہ بھی "چپکے" سے اس جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس کوبھی چھپنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کس سے چھپنے کی۔ اس معاشرے کی بدلتی قدروں نے اس کو احساس دلایا ہے کہ یہ اب دنیا تیری نہیں ہے۔ اگر جینا ہے رہنا ہے تو ان دھنوں کو  مشینوں کے شور سے بدلنا ہوگا۔ اس آزادی کو ساہوکار کے پاس گروی رکھنا ہوگا۔ اب سُر کی جگہ شور سننا ہوگا۔ اب دل کی آواز مشینوں کی آواز میں کہیں دب جائے گی۔ اب ہوا اس موسقیت سے محروم ہوجائے گی۔ اور یہی تو نوحہ ہے۔ جہاں بےساختگی چھین لی جائے۔ جہاں زمانے میں کامیابی کا تناسب تصنع و بناوٹ ہوجائے۔ رشتے کمزور ہو کر قریب المرگ ہوجائیں۔ چوپالین سنسان اور اقدار بےآبرو ہوجائے۔ تو پھر ایسے میں شام کے ڈھلتے سایوں میں گڈریے اپنے ریوڑ چھوڑ کر بانسری توڑ کر کارخانوں کے شور میں نہ دب جائیں تو کیا کریں۔ پورا معاشرہ اپنی مضبوط بنیادیں چھوڑ کر ریت پر بنی عمارتوں میں منتقل ہوجائے تو اس کو نوحہ نہ کہیں تو کیا کہیں۔ 

Monday, 15 August 2016

ملک (ایک نابغہ شخصیت) جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔​ (قسط سوئم: حصہ اول)

6 comments
جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔
حصہ اوّل​

رفتہ رفتہ ہم ملک صاحب سے اورملک صاحب ہم پر کھلتے چلے گئے۔ ہم ان کی مجلس میں بیٹھتے لیکن زبان نہ کھولتے، کیوں کہ ہمارے پیش نظر علم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ ملک صاحب اپنی ترنگ میں اس دن کے کھیل پر روشنی ڈالا کرتے تھے۔ اب قبل اس کے کوئی گستاخ پوچھے کہ "اس دن کے کھیل" سے کیا مراد ہے؟ تو ہم خود ہی بتلائے دیتے ہیں کہ ملک صاحب ہمہ کھیل قسم کے کھلاڑی تھے۔ لہذا جو کھیل ایک بار کھیلتے کئی دن تک اس کی دوبارہ باری نہ آتی۔ لیکن سبحان اللہ ذرا دسترس ملاحظہ کیجیے کہ مہارت میں کوئی فرق نہ آتا۔ سوائے کسرت کے جو باقاعدگی سے فرمایا کرتے تھے۔ ان کا خود فرمانا تھا کہ باڈی بلڈنگ میری سرشت میں شامل ہے۔ میں چاہ کر بھی اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ یوں تو ہم زندگی میں بہت کم ہی گستاخی پر مائل ہوئے ہیں، اور اگر کبھی ہوئے بھی ہیں تو کوشش ہمیشہ یہی کہ ہے کہ جوان کو پیر کا استاد نہ کیا جائے۔ بڑے بوڑھے ہمیں باادب بانصیب کہہ کر بہت سے کاموں سے روک گئے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس دن ہماری زبان لڑکھڑا ہی گئی۔ وجہ اس کی یہ نہ تھی کہ ہمیں کسی کے باڈی بلڈر ہونے پر اعتراض تھا۔ بلکہ ملک صاحب کا ڈیل ڈول ہمارے لیے حیرانی کا باعث تھا۔ کیوں کہ ملک صاحب ایک اوسط مقامی آدمی جتنی طوالت رکھتے تھے۔ جسم چھریرا، بازو اتنے سیدھے اور دبلے تھے کہ کسی بھی حسینہ کو ان پر رشک ہو سکتا تھا۔ چھاتی اتنی تھی کہ صاف پتا چل جاتا تھا کہ چھاتی ہے۔ لیکن کمر کے بارے میں وہی زبان زد عام بات کہ سنتے ہیں کہ تمہاری بھی کمر ہے کہاں کدھر ہے۔ 
" کیا آپ واقعی باڈی بلڈنگ کرتے ہیں؟ "
"کرتا کیا مطلب؟ بھائی میرا جم جائے بنا گزاراہ نہیں۔" ملک صاحب نے ہم کو یوں گھورا جیسے ہمارے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
"نہیں !جم جانا اور بات ہے اور ورزش کرنا دوسری بات"۔ ہم نے اپنی بے تکی بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
ملک صاحب کچھ دیر تو ہم کو گھورتے رہے کہ شاید ہم ان سے یہ تمام باتیں ازراہِ تفنن کر رہے ہیں۔ اور ابھی ہم طالبان کی طرح اعلان کر دیں کہ "میں مذاق کر رہا تھا۔ وگرنہ کول مین کے بعد دنیا میں کوئی باڈی بلڈر آیا ہے تو وہ ملک صاحب ہیں۔" لیکن جب ہم نے اپنا انداز نہ بدلا اور سوالیہ نگاہوں سے ملک صاحب کو جوابی گھورنا جاری رکھا۔ تو انہوں نے ایک لمبا سانس کھینچا۔ ایسا سانس وہ عموماً تب کھینچا کرتے تھے جب انہوں نے اپنی ذات کے ان رازوں سے پردہ اٹھانا ہوتا تھا جو عام طور پر لوگوں کو معلوم ہی ہوتے تھے۔
"میں گزشتہ آٹھ برس سے باڈی بلڈنگ کر رہا ہوں۔ جم میں ہر آدمی مجھے دیکھ کر رشک کرتا ہے۔ خاص طور پر جب میں بائی سپ اور سینے کی ورزش کرتا ہوں تو کچھ لوگوں کی آنکھیں تو پھٹنے والی ہوجاتی ہیں۔ ایک دن بائی سپ ٹرائی سپ اور سینہ کی ورزش کرتا ہوں۔ اگلے دن پیٹ اور کاندھوں کی اور اگلے دن۔۔۔۔۔ " ملک صاحب نے فخریہ انداز میں ہماری معلومات میں شدید قسم کا اضافہ کرتے ہوئے ہمیں مکمل شیڈول سے بھی آگاہی دی۔
ہم نے حیرت سے ان کے بائی سپ کو دیکھا جو سائز میں کسی حسینہ کے بائی سپ جتنا تھا، اور پھر ان کے سینے کو دیکھا جو کسی بھی حسینہ جیسا نہ تھا۔ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا۔ مگر پھر بند کر لیا۔​
تمہیں یقین نہیں آرہا۔ چلو آج میرے ساتھ جم چلنا۔ تمہیں اپنے کمالات دکھائیں گے۔ اور شام کو ہم ملک صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھے جم کی طرف روانہ ہوئے۔

(جاری ہے)

Tuesday, 19 July 2016

افسانچہ: تیری صبح کہہ رہی ہے۔۔۔۔

5 comments
دوستوں کی مجلس میں وہ اکیلا ہی خاموش بت بنا بیٹھا تھا۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ لیکن وہ خالی خالی نگاہوں سے سب کو گھور رہا تھا۔ پیشانی پر سلوٹیں بہت گہری تھیں اور آنکھوں کے گرد حلقے بہت گہرے نظر آرہے تھے۔بار بار گردن کو دائیں بائیں ہلاتا جیسے درد کی وجہ سے پٹھوں کو آرام دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ آنکھوں کی سرخی سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گزشتہ کئی دن سے سو نہیں پایا۔  کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب برخلافِ طبیعت اس کی طرف سے کچھ جملہ کسی بھی موضوع پر سننے کو نہ ملا تو احباب اپنی گفتگو ترک کر کے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
 کیا مسئلہ ہے تجھے؟ پہلے نے ایک گہری نگاہ اس کے سراپے پر ڈال کر پوچھا۔
یہ تیری آنکھوں کے گرد حلقے اتنے گہرے کیوں ہیں؟ کس کا غم سوہان روح بنا ہے؟ دوسرے نے سوال اٹھایا۔
بول بھی!  کیا زبان گروی رکھ دی ہے؟ تیسرے نے جملہ چست کیا۔
خدا کے واسطے! اب یہ نہ کہہ دینا کہ تجھے اس عمر میں عشق ہوگیا ہے کسی مٹیار سے، جب تیرا ایک پاؤں قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے۔ ایک نے جھلا کر کہا۔
پھر سب چپ ہوگئے۔ اس نے سب پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ اور پھر آہستہ سے بولا۔
میں آجکل نائٹ شفٹ کر رہا ہوں۔ 

نوٹ: پتا نہیں اس کو افسانچہ بھی کہنا چاہیے کہ نہیں۔۔۔ خیر جو بھی ہے۔ 

Thursday, 7 July 2016

ایک عادت

7 comments
کہتے سنتے آئے ہیں کہ پرانی عادتیں بھی پاؤں کی زنجیر ہوتی ہیں۔ انسان ان سے جان چھڑانے کی جتنی بھی کوشش کرے، صورت حال "چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی" والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریٹائر بزرگ  گھر کے اندر اور بےروزگار نوجوان گھر کے  باہر ہر کسی کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ خیر ہمارا  بزرگ افراد اور بےروزگار نوجوان، دونوں سے بیک وقت محاذ آرائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ شام کی مصروفیات پر گفتگو کا ارادہ ہے جن کے بارے میں ہم ہمیشہ سے ایک احساس کمتری کا شکار رہے ہیں۔ یہ احساس کمتری اور بھی بڑھ جاتا جب ہم لوگوں کو نصف نصف شب سردیوں کے چاند کی مانند آوارہ پھرتے دیکھتے۔اب  اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ گرمیوں کا چاند کیا آوارہ نہیں ہوتا۔ تو بھئی! ایک تو سردیوں کا چاند ذرا شاعرانہ سی اصطلاح ہے۔ اور بلاوجہ ایک رومانویت کا احساس ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف گرمیوں کا چاند ہم چولستانیوں کو چولستان کے گرمی یاد دلاتا ہے۔ اور جو گرمی وہاں پڑتی ہے اس میں تو چاند کی مت ماری گئی ہوتی ہے۔ رومانویت کا پہلو کیا خاک نکلے گا۔ بہرحال ہمیں  ماں باپ نے سرکس کے شیر کی طرح ایسا سدھایا کہ جس عمر میں ہمارے ہم عمر شب خون مارنے کے منصوبے بنایا کرتے تھے ہم اپنے بستر میں لیٹے خوداحتسابی جیسے قبل مسیح کے بیکار شغل سے دل بہلایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے شام کی بجائے صبح کی آوارہ گردی کو اپنا شعار بنایا۔ یہ الگ بات ہے کہ صبح  وقت ہمارا سامنا کبھی بھی کسی حسین و مہ جبیں سے نہ ہوا۔ اور اگر کبھی کوئی نظر آئی بھی ہوگی تو یقینی طور پر ایسی ہوگی کہ ہم کو صبح کا منظر ہی زیادہ بھلا معلوم ہوا ہوگا۔  یوں بھی بقول شفیق الرحمٰن عشق اتارنے کا مجرب نسخہ یہ ہے کہ لڑکی صبح کو دکھائی جائے۔  ہماری  خود ساختہ نیکی اور شرافت کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی  ہو سکتی ہے۔ یہ وجہ  ہمیں خود ابھی ابھی یہ  سطور  لکھتے ہوئے معلوم ہوئی ہے۔
قصہ مختصر بچپن میں   گھر سے زیادہ دور تک جانےکی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی۔ مغرب کے بعد ماں کی بڑی سخت تاکید ہوا کرتی تھی کہ اگر باہر نکلنا بھی ہے تو گھر سے دور نہیں جانا۔ چھوٹے ہوتے ہم اس کو ماں کا پیار سمجھتے تھے۔ پھر پتا چلا کہ ماں  نفسیات داں ہے۔ اس  کو ڈر ہے مغرب کے بعد لوگ ہمیں1 دیکھ کر ڈر نہ جائیں سو احتیاطً اپنے پاس رہنے کا کہا کرتی تھی مبادا  لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے بچے کی نفسیات پر برا اثر نہ پڑے۔صبح کو آج تک ہم سے کوئی نہیں ڈرا۔ یہ ہمارا ذاتی تجربہ ہے۔
  لیکن آج جب ہم مدتوں گھر کا رخ نہیں کرتے۔ تو کبھی گلی کوچوں سے گزرتے کسی دروازے  سے جھانکتی ماں کو دیکھتے ہیں۔ جو گلی میں کھیلتے اپنے بچے کو کہہ رہی ہوتی ہے کہ "مغرب ہوگئی۔ اب اندر آجاؤ۔" توماں کے بعد ہمارا خیال چوہدری کی طرف جاتا ہے۔ چوہدری بھی  آج بھی دن چڑھے دس بجے سے پہلے  اور غروب آفتاب کے بعد گھر سے باہر  نہیں   نکلتا۔ اگر کبھی دوستوں کے اصرار پر گھر سے نکلنا پڑ ہی جائے تو اپنے گھر کے سامنے بنے پارک سے آگے نہیں جاتا۔ہم چونکہ اپنی اس کمی کا علی الاعلان اعتراف کر چکے تھے اور تجدید بھی کرتے رہتے ہیں سو احباب نے ہمیں ہماری اس کمی سمیت قبول کر لیا ہے۔ بلکہ ہماری  اس خامی میں بہتری لانے کی  کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف   چوہدری صاحب اس بات کو ماننے سے بھی انکاری تھے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ دو لوگو ں کا آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایک وہ جو نہر کے دوسرے کنارے کھڑا ہو کر آپ کو گالی دے دے۔ دوسرا وہ جو منہ پر مکر جائے۔ چانچہ جب  بارہا بار  ثبوت فراہم کرنے کے بعد بھی چوہدری  کا کوا سفید ہی رہا تو احباب نے الجھنا چھوڑ دیا۔ ایک دن کچھ دفتری مصروفیات کے سبب تاخیر ہوگئی۔ واپسی پر  عشاء  کے قریب   ہم  چوہدری کے گھر کے باہر سے گزرے۔ لیکن انہی عادات کے سبب ان کے آرام میں مخل ہونا مناسب نہ سمجھا۔ اگلے دن باتوں باتوں میں چوہدری کو بتایاکہ کل اس طرح تمہارے گھر کے پاس سے گزرے تو چوہدری نے فوراً کہا۔ عجیب آدمی ہو تم۔ آجاتے۔ گھر کے باہر بیٹھ کر خوب گپیں مارتے۔ ہم دل ہی دل میں اپنے  گزشتہ شب کے  فیصلے کو خوب داد دی۔   رمضان میں افطاری پر احباب بلا لیں تو اس کے گھر کے گرد پانچ سو میٹر کے دائر میں ہوٹل  ہو تو ٹھیک ورنہ کوئی حیلہ بہانا کر کے ٹرخا دیا کرتا۔ اب اگر ہم یہ بات کہیں کہ جیسی شکل ہماری بچپن میں تھی ویسی چوہدری کی اب  ہے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ اس پر کبھی کوئی مولوی جیسا مزاج شناس یہ کہہ دیتا کہ اس کو ماں نہیں بھابھی کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو چوہدری یوں شرما جاتا تھا جیسے کسی کنواری لڑکی کو اس کی سہیلیاں سہاگ کا جوڑا دکھا کر چھیڑ رہی ہوں۔ لیکن جو بات سمجھ سے بالاتر تھی وہ یہ کہ  سب کو بہلا کر کسی ایک دوست کے ساتھ خفیہ افطاری اپنے گھر کے سامنے بنے ہوٹل میں کر لیا کرتا  اور بعد میں چوپال میں دوستوں کو تصاویر دکھا کر کہتا۔ دیکھو! تم ناحق مجھ پر الزام لگاتے ہو۔ کل بھی افطاری باہر کی تھی۔ اکثر احباب اس مخصوص ہوٹل کےمیز و کرسیاں اور  ٹشو پیپر پر بنے مونو گرام تک  پہچانتے تھے۔ اس ضمن میں کئی سوالات بھی اٹھائے جا چکے تھے۔ کہ صرف کسی ایک دوست کے ساتھ ہی کیوں جایا جاتا ہے؟ شہر اقتدار میں  ہوٹل ختم ہوگئے ہیں؟ کسی اور جگہ افطاری نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ لیکن پہلی بات یہ کہ چوہدری ان سب کو بیک جنبش لب ایک فلسفیانہ جملہ ادا کر کے ختم کردیتا کہ انسان اس دنیا میں سب کو خوش نہیں کر سکتا۔میں سونے کا بھی بن جاؤں تو بھی تمہارے اعتراضات ایسے ہی رہیں گے۔اور دوسری یہ کہ ہم بھی اپنی آئندہ زندگی کے کسی رمضان میں اس عزت کے حقدار ٹھہریں گے۔اب تو فہرست میں ہمارا نمبر بھی آیا ہی چاہتا ہوگا۔  یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ہمیں چوہدری کے بارے میں کسی بھی قسم کے بیان جاری کرنے سے روک دیتی ہے۔ 

Monday, 20 June 2016

ملک (ایک نابغہ شخصیت) ہونا آشنا ہمارا۔۔۔ اپنی بسیار خور طبع سے​ (قسط دوم)

2 comments
ہونا آشنا ہمارا۔۔۔ اپنی بسیار خور طبع سے
یہ ایک روشن صبح تھی۔ ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آج قدرت ہم پر ہماری ہی بسیار خوری کا راز آشکار کر دے گی۔ عرفانِ ذات کا یہ مرحلہ اس قدر آسانی سے طے پا جائے گا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔ بے شک کاررواں کے درمیان آپ کی ذات کی کسی خامی کا یوں بیان کردینا کہ ماسوائے آپ کے کسی اور کو اس کی ہوا تک نہ لگے کسی ولی کامل ہی کا کام ہے۔ جمعہ کا مبارک دن اس کام کے لیے یوں بھی مناسب ہی تھا۔  ہم رند سرشت لہو و لعب میں ڈوبے دنیاوی وسائل کی فکر میں کھوئے تھے کہ ہمارے کانوں میں ملک صاحب کی شگفتہ آواز  نے رس گھول دیا۔
" آپ نے نماز جمعہ کے بعد کھانے کا کچھ مناسب انتظام کیا ہے؟" یہ ان بھلے دنوں کی یاد ہے جب ملک صاحب ہمیں اور ہم ان کو آپ آپ کر کے پکارا کرتے تھے۔
"جی! ابھی تک کچھ نہیں۔ آج کام کچھ زیادہ ہے۔ میں جمعہ پڑھ کر واپس آجاؤں گا۔" ہم نے تفصیلی جواب دینا ضروری خیال کرتے ہوئے کہا۔
"اوہ اچھا! ایسا ہے کہ میں جمعہ کے بعد کچھ احباب کے ساتھ باہر کھانا کھانے جاؤں گا۔ اگر آپ کچھ منگوانا چاہیں تو میں بخوشی لے آؤں گا۔" ملک صاحب نے ہم کو معلومات دینے  کے ساتھ ساتھ اپنی مہربان صفت سے بھی آشنا کرواتے ہوئے کہا۔
"زبردست! " ہمارے دل نے خوشی سے قلابازی لگائی۔ "آپ کھانا کھانے کدھر جا رہے ہیں؟ " ہماری بھوک صرف کھانے پر جانے کا نام سن کر چمک اٹھی تھی۔
"ہم سب کا پراٹھا رول کھانے کا  ارادہ ہے۔" ملک صاحب نے اپنے اور اپنے غائبانہ احباب کے منصوبے سے آگاہی دی۔
ہمیں بےاختیار لاہور یاد آگیا۔ لبرٹی کے مشہور پراٹھا رول۔ منہ میں پانی بھر آیا۔ فوراً جی میں آیا کہ کہیں تین پراٹھے رول میرے لیے بھی لے آئیے گا، لیکن ملک صاحب کی کرینہ کپور جیسی صحت دیکھ کر ہمیں خیال آیا کہ کہیں یہ تین پراٹھا رول کو خود پر طنز نہ سمجھ لیں اور وہاں پر کوئی پانچ چھے پراٹھے رول کھا کر ادھ  موئے ہو جائیں، تو کیوں نہ صرف دو ہی کہہ دیا جائے۔ سو دل پر پتھر رکھ کر کہا کہ "دو پراٹھا رول میرے لیے بھی لے آئیے گا۔"
"دو!" ملک صاحب نے زیر لب دہرایا۔ اور پھر ہمارے جثے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ "آپ کے لیے دو زیادہ ہوجائیں گے۔ ایک جمبو رول لے آؤں گا۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے وہ کتنا بڑا ہوتا ہے۔ میرے جیسا بسیار خور بھی بمشکل ایک ہی کھا پاتا ہے۔ "
ملک صاحب کا اپنی ذات کے لیے بسیار خور کالفظ استعمال کرنا دیکھ کر ایک بار تو ہمارا دل بھر آیا۔ عین ممکن تھا کہ ہم اٹھ کر کسی قریبی ستون سے لپٹ جاتے اور دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیتے ۔ بہرحال  کسی طرح ہم نے اپنے دل پر قابو پا ہی  لیا۔
"ٹھیک ہے جیسے آپ کو مناسب لگے۔" ہم نے شکرگزار انداز میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
جمعہ کی نماز کے بعد ہم دوبارہ آ کر کام میں جٹ گئے۔ لیکن ہائے یہ اشتہا۔ بار بار ذہن میں پراٹھے رول گھومنے لگیں۔  جوں جوں ہماری اشتہا بڑھتی گئی وقت کی نبض اور سست چلنے لگی۔ ہم بے چینی سے   اٹھ کر دوسرے کمروں کا چکر لگاتے اور کبھی واپس آ کر کام میں دھیان لگانے کی کوشش کرنے لگتے۔ وقت دیکھا تو چار بجنے والے  تھے۔ آخر   مایوس ہو کر ہم نے  جب اپنے پیٹ کا آخری تسلی دے دی کہ اب شام کو ہوٹل واپس جا کر کھانا ملے گا تو ملک صاحب کی آمد ہوگئی۔ اپنی مخصوص شگفتہ مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے کہا کہ آئیں چلیں کیفے چلتے ہیں۔ یہ ملک صاحب کا بڑا پن تھا۔ اگرچہ وہ کھانا کھا آئے تھے لیکن مروت میں ہمارے ساتھ بیٹھنے پر بھی ازخود  رضامند  تھے کہ کہیں ہم بوریت کا شکار نہ ہوجائیں۔  کیفے میں کرسی سنبھالتے ہی ہم نے بےچینی سے لفافہ کھولا جس میں ایک بوتل اور ایک جمبو سائز پراٹھا رول ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن لفافہ کھلنے پر ہمارے ارمانوں پر یوں اوس پڑ گئی ۔   کریم رول کے سائز کا کچھ ایک ریپر میں لپٹا تھا اور اس کے ساتھ ایک  چھوٹی سی کیچپ کی پڑیا اور ایک بوتل۔ ہم نے جمبو سائز پراٹھا رول اٹھایا  جائزہ لیا اور پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ شاید ہمارے ہاتھ کچھ بڑے ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے یہ پراٹھا رول چھوٹا لگ رہا ہے۔ لیکن جب کوئی بھی چیز ایسی نہ ملی جس پر الزام دھرا جائے تو ہم نے ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ جو چہرے پر ایک سنجیدگی سجائے  ہمیں یوں دیکھ رہے تھے گویا ہم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔  
"آپ نے جمبو سائز کا فرمایا تھا۔ " آخر ہم سے ضبط نہ ہو سکا۔
"جی یہی تو جمبو سائز ہے۔ اففف ! ایک کھا لے آدمی تو پھٹنے والا ہو جاتا ہے۔" ملک صاحب ہماری دلی کیفیات سے بےخبر اپنا تجربہ بیان کر رہے تھے اور ہم دل ہی دل میں خود کو موٹو، پیٹو اور پتا نہیں کن کن القابات سے نواز رہے تھے ۔

Friday, 17 June 2016

ملک (ایک نابغہ شخصیت)

4 comments
ملک (ایک نابغہ شخصیت)
تعارف:
====
السلام علیکم! "ہمارا نام لے کر" آپ ہی ہیں؟
وعلیکم السلام! جی میں ہی ہوں۔ ہم نے حیرانی سے اس نوجوان کو دیکھا جو ہماری میز کے پاس کھڑا  ہمارے علاوہ ہر طرف دیکھ رہا تھا۔
ملک : "میرا نام ملک ہے۔" آنے والے نے  ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا۔
راقم: "اوہ! آپ ہیں۔ کیسے ہیں آپ؟"  کل آپ کا تذکرہ ہوا تھا۔  ہم نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑے ہو کرمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ انہوں نے بھی ایک استخوانی پنجہ آگے بڑھا دیا۔   یہ ہماری ملک صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔
ملک کے لفظ سے ہمیں ہمیشہ ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ کالج کا پہلا دن تھا ۔ کلاس میں مستقبل کے سب مہندسین ایک دوسرے کو اجنبی اجنبی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ہر مدرس آتا کلاس سے اپنا تعارف کرواتا۔ طلباء کا تعارف سنتا۔ یوں یہ تعارفی دن اپنے اختتام کی طرف گامزن تھا کہ اردو کے پروفیسر صاحب کی کلاس میں آمد ہوئی۔ انہوں نے اپنا تعارف کروایا  اور اس کے بعد تمام لڑکوں سے کہا کہ باری باری اپنا تعارف کرواتے جائیں۔ ایک لڑکے نے کھڑے  ہو کر اپنا نام "ملک" کے لاحقے کے ساتھ بتایا۔ تو پروفیسر صاحب فوراً اس کی طرف منہ کر کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے۔ "پتر! ملک کوئی ذات نئیں ہندی، سیدھی طرح  دس، تیلی ایں کہ اعوان ایں؟"۔ اس پر پوری کلاس میں ایک فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔
یہاں بطور سند یہ بتانا چاہوں گا کہ راقم نے ملک صاحب سے کبھی یہ سوال نہیں کیا  ۔ یوں بھی "اعوان" گیارھویں صدی میں وجود میں آئے تھے۔ اس سے قبل  یہ کیا  کہلاتے تھے۔ اس پر مؤرخ خاموش ہے۔ اور جب مؤرخ خاموش ہوجائے تو دورِ جدید کے فتنہ سازوں کو ایسے نکات پر بحث نہیں کرنی چاہیے جن کے جوابات کے لیے  ان لوگوں سے تصدیق درکار ہو جو کسی بھی تصدیق و تردید  سے قبل  عیسیٰ سے مسیحائی چاہیں۔

ہمہ جہت شخصیت:
=========
یوں تو ہم نے شاید ہی کبھی زندگی میں جسمانی کھیلوں کے میدان میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دیا ہو، لیکن خدا  گواہ ہے کہ ہم ان لوگوں کا دل سے احترام کرتے ہیں جو ایسے کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کام پر اکساتے ہیں۔ زندگی بھر ہم نے جس کو بھی دیکھا کسی ایک ہی کھیل میں مستعد پایا۔ جو  کوئی کرکٹ کا کھلاڑی ہے تو اس کا علم  و عمل بھی کرکٹ کی حد تک ہی محدود ہے۔ فٹ بال کا کھلاڑی یا شوقین کسی اور کھیل کے بارے میں معلومات رکھنا اپنی ہتک سمجھتا  ہے تو ٹینس کا کھلاڑی ٹینس کو دنیا کا سب سے مشکل کھیل سمجھتا ہے۔ جسمانی کسرت کے شوقین لوگوں کے آگے اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز ہی نہیں اور باقی سب  کو وہ وقت کا ضیاع گردانتے ہیں۔  ہمارا بھی اول دن سے اس بات پر پختہ یقین تھا کہ کھلاڑی وہی ہے جو کسی ایک کھیل پر مکمل دسترس رکھتا ہے لیکن انسانوں  کے  غوروفکر اور تدبر کی صلاحیت کو جلا بخشنے کے لیے قدرت اپنے کرشمے دکھاتی رہتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو انسان کی سوچ میں یکسانیت آجائے۔ ہمارے اس خیال سے بھی شاید قدرت کو اختلاف تھا سو وسائل ایسے پیدا ہوئے کہ ہماری ملاقات ملک صاحب سے ہوگئی۔  صرف ملک صاحب کی  ذات بابرکات  سے ہی بےشمار کرامات منسوب نہ تھیں بلکہ زیادہ تر لوگوں کا فرمانا تھا کہ وہ خود ایک معجز نما ہیں۔
لیکن ان کے ذات نے ہمیں کن کن پہلوؤں سے متاثر کیا وہ ہم یقینی طور پر بیان کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔ بلاشبہ آج اگر  ہم کھیلوں کے بغیر ایک صحتمند زندگی گزار رہے ہیں تو یہ ملک صاحب ہی کی نظر کرم کی کرامت ہے۔
"انسان بھی عجیب چیز ہے۔ جن خوبیوں  کو وہ خود اپنے اندر دیکھنا چاہتا ہے وہی کسی غیر میں نظر آ جائیں تو مرید ہو جاتا ہے۔  " ملک صاحب نے آئینے کے سامنے بیٹھے عکس کو گھورتے ہوئے کہا۔ ہم نے ایک نظر آئینے پر اور دوسری ملک صاحب پر ڈالی۔ "بے شک پس آئینہ ایسی ہی شخصیت ہے کہ مرید ہوا جائے"۔ ہم نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے اضافہ کیا۔

(جاری ہے)