Friday, 28 September 2018

نہ قاصد سے بیاں ہو گی نہ قاصد سے بیاں ہو گا

2 comments
شمارندی آغوشیے  (لیپ ٹاپ) کے مسائل حل ہو چکے تھے۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ پر بہت خوبصورتی سے چل رہی تھی اور ہمیں  یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ زندگی اب ان بدرنگ، بدہیئت اور بدصورت  شمارندی آغوشیوں سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن ہماری یہ خوشی دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔ نہیں نہیں آپ بالکل غلط سمجھے ہیں، اس بار تو ہمیں ذہنی اذیت سے دوچار کرنے کے لیےقدرت نے ایک اور ہی رنگ اختیار کیا تھا۔
روزانہ کی طرح دفتری معاملات نبٹانے کی خاطر برقی خطوط  کا مطالعہ جاری تھا کہ ایک منفرد سے برقی خط پر نظر ٹھہر گئی۔ عنوان تھا "موبائل فون"۔ اللہ یہ کیسا برقی خط ہے۔ باہر ہمارے افسر اعلی کا نام جگمگا رہا تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا اور اندر لکھی عبارت پڑھنے کی کوشش کی۔ 
"کچھ ایسے برقی خطوط ہوتے ہیں جو فوری توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ،اور جواب میں تاخیر سے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس معاملے کے حل کے لیے آپ کو ایک عدد "موبائل فون" دیا جائے گا تاکہ آپ ایسے تمام برقی خطوط پر نظر رکھ سکیں۔ مزید یہ کہ آپ سے اس پر ہر وقت رابطہ رکھا جا سکے۔"
ہم نے جواب لکھنا شروع کیا۔ 
"نہیں ہمیں  نہیں چاہیے۔ ہم  دفتری اوقات سے الگ جو وقت گزارتےہیں،  اس میں زہر مت گھولا جائے۔ "
صفحہ  پھاڑ دیا۔ 
نیا جواب لکھا۔ " یہ ہماری  ضرورت نہیں ہے۔ ہم اسے لیکر کیا کریں گے۔ "
پھر صفحہ پھاڑ دیا اور نیا جواب لکھنے لگے۔ 
"ہمارا یہ خیال ہے کہ ہم  ایسے تمام خطوط پر یوں بھی نظر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ  دفتری لیپ ٹاپ ہمیشہ ہی موجود رہتا ہے۔ سو ذاتی نمبر پر رابطہ کیا جائے تو جلد یا بدیر جواب دیا ہی جا سکتا ہے۔ "
پھریہ لکھا مٹا دیا ، گہری سانس لی۔ ایک گلاس پانی حلق میں انڈیلا اور اس کے بعد لکھا۔ 
" ہم  بھی شدت سے اس چیز کی کمی محسوس کر رہے تھے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ کمپنی ضروریات کے تقاضے پورے کرنے کی خاطر ہمیں یہ سہولت مہیا کر رہی ہے۔ اس سے یقینی طور پر مراسلت میں برق رفتاری آئے گی۔ آپ کا بہت شکریہ۔"
جواب بھیج کر پیشانی پر سوچ کی لکیریں ابھر آئیں۔ پریشانی یہ نہیں تھی کہ فون ملے گا۔ پریشانی یہ تھی کہ کیسا ملے گا۔ عمومی طور پر ہمارے ہاتھ کوئی نایاب سی چیز ہی آتی ہے۔ 
چند دن گزر گئے اور ہمارے ذہن سے یہ فون والا معاملہ محو ہوگیا۔ ایک دن کام کے دوران تھکاوٹ کا احساس ہوا۔ ذرا دیر کرسی کی پشت سے سر  ٹکا کر ٹانگیں دراز کر کے آنکھیں بند کیں۔ چند دقیقے بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ہمیں اپنا نام سنائی دیا۔ آنکھیں کھولی ہی تھیں کہ بالکل سامنے "آئی ٹی  انتظامی امور" کے شعبے کا ایک نوجوان چہرے پر مسکراہٹ لیے کھڑا نظر آیا۔ 
کیسے ہو؟ ہم نے آغاز گفتگو کیا۔ 
اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔ ٹھیک ہوں۔ آپ کے لیے فون لایا ہوں۔ 
فون، کون سا فون؟ ہم نے چونکتے ہوئے پوچھا۔ 
دفتر کی طرف سے آپ کو فون دیا جا رہا ہے۔ وہی فون۔ وہ ہماری معلومات میں  کوئی اضافہ تو نہ کر سکا پر ہم کو وہ بھولا خط یاد آگیا۔ 
اوہ اچھا۔۔۔۔ ہاں میاں۔۔ دکھاؤ تو کیا لائے ہو۔ 
اس نے ہاتھ سامنے کیا تو اس پر  چاندی رنگ میں مستطیلی شکل کا ایک فون پڑا تھا۔ حیرت! ہم نے سنا ہے کمپنی سب کو "آئی فون" دیتی ہے۔ تو ہمارے ساتھ کیا معاملہ الٹ ہے؟ ہم نے حیرانی سے پوچھا۔ 
غور سے دیکھیے حضور! یہ آئی فون ہی ہے۔اور یہ رہا اس کا چارجر اور تار۔  اس نے پرسکون انداز میں سب  سامان میز پر دھرتے ہوئے کہا۔ 
اور ہاں۔ وہ میں ابھی آپ کو ایک برقی خط بھیجوں گا، اس پر تصدیق کر دیجیے گا کہ فون موصول ہوا۔ اس نے مڑتے ہوئے کہا۔ 
ابھی ہم میز پر پڑے اس فون کو میز پر پڑا پڑا ہی دیکھ رہے تھے کہ ایک دفتری ساتھی نے فون اٹھاتے ہوئے کہا۔
 ارے واہ!  یہ کیا چیز ہے؟
آپ کو کیا لگ رہا ہے؟ ہم  نے پوچھا۔
فون لگ رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک سیب بھی مٹ رہا ہے۔ آئی فون  ہے کیا؟
فون ہی ہے۔  واپس رکھو۔ ہم نے سنجیدگی سے کہا۔ "سیب بھی مٹ رہا ہے۔ بڑا آیا۔" ہم نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ 
اس کے جانے کے بعد ہم نے فون کو اٹھایا۔ تھا تو وہ فون ہی۔ اس پر پلاسٹک کا چڑھا کور بہت عجیب لگ رہا تھا۔ شکل پر جابجا زخموں کے نشان تھے۔ ایک طویل نشان پیشانی سے لیکر ٹانگ تک مطلب اوپر سے لیکر نیچے تک موجود تھا۔ یقینی طور پر یہ فون ، موبائل فونز کی دنیا کا بدمعاش رہا ہوگا۔  خیر چونکہ فون آچکا تھا،  سو اس پر برقی خطوط کی آمدورفت کے لیے قاصد بھی متعین کر دیا۔ 
 ایک دن   وہی نوجوان ہمیں   راہداری میں ملا جو دھوکے سے فون ہمیں دے گیا تھا۔ 
فون کیسا چل رہا ہے؟ اس نے پوچھا۔ ہم باوجود کوشش کے یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہے یہ واقعتاً سنجیدگی سے پوچھ رہا ہے یا چسکے لے رہا ہے۔ 
اچھا چل رہا ہے۔ بڑا پیارا فون ہے۔ چھوٹا سا۔ ایسا آئی فون پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کوئی "سپیشل ایڈیشن" لگتا ہے۔ ہماری بات سن کر وہ ہنسنے لگا۔ 
اچھا اس پر پلاسٹک کا کور کیوں چڑھایا ہے؟ ہم نے پوچھا۔ 
کون سا پلاسٹک کاکور؟ اس نے حیرانی سے پوچھا۔ ہم نے اس کو کور دکھایا۔ تو ہنسنے لگا۔ 
ہنس کیوں رہے ہو؟ 
اتار کر دیکھ لو۔ اس نے کہا۔ اگر فون بکھر جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کب کے اتار چکے ہوتے۔ ہم نے کہا۔ اس پر وہ پھر کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔  ہم خاموشی سے وہاں کھسک لیے۔
 دن گزرتے گئے۔ فون کو ہم یا تو گھر ہی چھوڑ دیا کرتے تھے۔ یا پھر وہ دفتر بھول جاتے تھے۔ اس پر آنے والی کالز اکثر ہم سنتے ہی نہ تھے اور نہ ہی اس فون کا نمبر ہمیں یاد تھا۔سوشل میڈیا اس پر استعمال ہو سکتا تھا لیکن ہوتا نہیں تھا۔ ۔   وٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب اور وقت ضائع کرنے والے ایسے تمام دیگر پھندے آپ کے پاس ہوتے ہوئے بھی آپ ان کو استعمال نہیں کر سکتے کیوں کہ جتنی دیر میں کھل کر سامنے آئیں گے آپ یقینی طور پر لاہور سے اسلام آباد پہنچ چکے ہوں گے۔ برقی خطوط اس پر پڑھنا مشکل اور ان کا جواب لکھنا زبان دکنی میں جواب لکھنے سے زیادہ مشکل تھا۔  کئی بار ایسا ہوا کہ بیٹری ختم ہونے کی صورت میں وہ فون بند ہوجاتا اور ہم کو پتا ہی نہ چلتا کہ فون بند ہوچکا ہے۔ ہمارے اتنا خیال رکھنے کے باوجود اس فون کی صحت روز بروز گرنے لگی تھی۔ ہم نے آج تک کوئی فون "بُھرتے" نہیں دیکھتا تھا۔ مگر اس فون کے ساتھ معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ سکرین ایک طرف سے کٹاؤ کے عمل کا شکار تھی اور اس کے چھوٹے چھوٹے ذرے پکڑنے پر انگلیوں پر لگے رہ جاتے تھے۔  برق بذریعہ تار فون میں منتقل ہو رہی ہو تو کال سننے کی صورت میں آپ کو ایک زبردست قسم کا جھٹکا لگے گا۔ سکرین کے اوپر سے بنا چھوئے بھی ہاتھ گزاریں تو سکرین بند ہوجاتی تھی۔  "پراکسمٹی سنسر" کا خیال سائنسدانوں کو شاید اسی فون سے آیا ہوگا۔
ہمارے ایک دوست کا فرمانا تھا کہ جو شخص اپنی زندگی میں مطمئن ہے اس کو یہ فون تھما دینا چاہیے۔ چیز کے دسترس میں ہونے کے باوجود بھی اس سے بےنیاز ہوجانا درویشی صفت ہے اور یہ فون یہی صفت انسان میں بیدار کرتا ہے  اس فون کے زندگی میں آنے سے برقی مواصلات سے ایک طرح کی بیزاری سی چھا گئی تھی ۔ اب حالت یہ تھی کہ ہم اپنا فون بھی کم کم ہی استعمال کرنے لگے تھے۔ ہمارا خیال ہے کہ  جو لوگ بہت زیادہ فون استعمال کرنے کے عادی ہیں ان کو کم سے کم ہفتہ بھر کے لیے یہ فون دیا جانا چاہیے۔ بلکہ اگر آئندہ مستقبل میں "ادارہ بحالی برائے مریضگان سوشل میڈیا" کا وجود عمل میں لایا گیا تو یہ فون ابتدائی "تھراپی" میں  ایسے مریضوں کو سوشل میڈیا سے   بیزار کرنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ 

Tuesday, 11 September 2018

خرگوش جادوگر

0 comments

خرگوش جادوگر
چنا اور منا بہت شرارتی بھائی تھے۔ یوں تو ان کی شرارتیں سب کو بھاتی تھیں مگر بعض دفعہ وہ ایسی شرارت بھی کر جاتے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچتا تھا۔ جیسے ایک دن کلاس میں گڑیا کی پینسل چھپا دی۔ جب معلم نے سب کو سبق لکھوایا تو گڑیا کے پاس پینسل نہ تھی۔ سزا کے طور پر معلم نے گڑیا کو کھڑا کر دیا۔ اور وہ رونے لگی۔ مگر یہ دونوں بہت خوش ہو رہے تھے۔ کبھی کسی کی کتاب چھپا دیتے۔ تو کبھی کسی کا لنچ نکال کر کھا جاتے۔ ان کے اساتذہ اور گھر والے ان کو بہت سمجھاتے کہ دیکھو بچو! شرارت ایسی ہو جس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ دونوں یہ ساری باتیں ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے۔ کسی بھی سرزنش کا ان پر اثر نہ تھا۔ماں باپ کے سامنے توبہ کر لیتے۔ مگر اگلے ہی پل سے پھر وہی سب شروع۔
ان کے گھر کے پاس ایک جھیل تھی، جہاں دونوں اکثر شام کو کھیلنے جایا کرتے تھے۔ اس دن شام کو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں ایک خرگوش کو دیکھا۔ جس کے ہاتھ میں دور بین تھی۔ دونوں گھبرا گئے اور چھپ کر خرگوش کو دیکھنے لگے۔ خرگوش جو اصل میں ایک جادوگر تھا وہاں ان کی موجودگی سے باخبر تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ دونوں بچے اس سے ڈر کر ابھی تک چھپے ہوئے ہیں تو وہ خود ہی چپکے سے اٹھ کر ان کے پیچھے پہنچ گیا۔ اور ان کو کہنے لگا۔ پیارے بچو! کیا بات ہے؟ تم مجھ سے گھبرا کیوں رہے ہو؟ خرگوش جادوگر کی شفقت اور پیار بھرے انداز نے دونوں کا خوف کم کرنے میں مدد کی۔ اور وہ خرگوش جادوگر سے باتیں کرنے لگے۔
چنا نے خرگوش جادوگر کی دوربین اٹھانے کی کوشش کی تو خرگوش جادوگر نے کہا، بیٹا! یہ عام دور بین نہیں ہے۔ یہ بہت خاص دور بین ہے۔ اس میں تم اپنی شرارتوں کا انجام دیکھ سکتے ہو۔ اور اپنا مستقبل بھی دیکھ سکتے ہو۔
منا نے خرگوش جادوگر سے کہا کہ وہ اس دوربین میں اپنی کچھ شرارتوں کا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔
خرگوش جادوگر نے دور بین اس کے سامنے کر دی، تو انہوں نے دیکھا کہ گڑیا کو اس کی والدہ سے بہت زورکی ڈانٹ پڑ رہی ہے۔ اس کی والدہ کہہ رہی ہیں کہ تم روز پینسل گم کر کے آجاتی ہو۔ اب تم کو نئی پینسل نہیں ملے گی۔ تمہاری سزا یہی ہے کہ تمہیں روز معلم سے سزا ملے۔
اگلے منظر میں ببلو کو اس کی والدہ سے ڈانٹ پڑ رہی تھی ۔ یہ تیسرا لنچ باکس ہے جو تم نے اس مہینے گم کیا ہے۔ اب تم کو کل لنچ نہیں ملے گا۔ جب بھوکے رہو گے تو خود ہی حفاظت کرنے لگو گے۔
یہ مناظر دیکھ کر دونوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ خرگوش جادوگر نے کہا بچو! کیا تم اپنا مستقبل دیکھنا چاہو گے۔
ان دونوں نے شرمندہ انداز میں اثبات میں سر ہلایا۔
خرگوش جادوگر نے دوربین پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور پھر ان کو منظر دیکھنے کا کہا۔
دونوں نے دیکھا کہ اسکول میں کوئی بھی ان کا دوست بننے پر تیار نہ تھا۔ سب ان کو آتا دیکھ کر وہاں سے کھسک جاتے۔ اساتذہ بھی ان کی شرارتوں سے تنگ آکر ایک رپورٹ گھر بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے۔
خرگوش جادوگر نے سمجھایا کہ پیارے بچو! ابھی بھی وقت ہے۔ اپنی شرارتوں سے باز آجاؤ۔ ایسی شرارت جس میں کسی کا نقصان ہو اچھی نہیں ہوتی۔ اور پول کھلنے پر سب پر سے آپ کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ان دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ اب بہت اچھے بچے بن کر رہیں گے اور شرارت میں بھی کبھی کسی کا نقصان نہیں کریں گے۔
اگلے دن انہوں نے گڑیا کی سب پینسل اس کو واپس کر دی اور ببلو کا لنچ باکس بھی اس کو واپس کر دیا۔ اب وہ کلاس میں سب کے اچھے دوست بن چکے تھے اور اساتذہ کے پسندیدہ بچوں کی فہرست میں شامل تھے۔


از قلم نیرنگ خیال

Wednesday, 16 May 2018

ایجنڈا برائے سوشل میڈیا دوران رمضان

1 comments
ایجنڈا برائے سوشل میڈیا دوران رمضان


رمضان کریم کی آمد ہو چکی ہے۔ بازاروں میں رونق ہے۔ لوگ کھجوریں اور کپڑے خرید رہے ہیں۔ کسی بڑے شاپنگ مال میں کھڑے ہو کر "سیلفی" بھی لے رہے ہیں کہ روزے کی خریداری کرتے ہوئے۔ الحمداللہ۔
الحمداللہ کے بغیر جملہ ادھورا ہے۔ اس سے ایک نیکی کا "ٹچ" آجاتا ہے۔ مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔ اس بار میں نے بھی سوچا ہے کہ صبح فجر کے وقت مسجد کے باہر سیلفی لوں گا۔ عنوان دوں گا۔ اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوں میں۔ نہیں۔ یہ عنوان ٹھیک نہیں۔ یہ عنوان کیسا رہے گا۔ "اس کو کیا جانیں یہ دو رکعت کے امام"۔ واہ واہ۔ اقبال کی جے ہو۔ نہیں، یہ عنوان بھی ٹھیک نہیں۔ اس سے خود پرستی کی بو آتی ہے۔ تکبر اور میں۔ معاذاللہ۔ یہ خیال اگر میرے ذہن میں آگیا ہے تو کسی او رکے ذہن میں بھی آسکتا ہے۔ یہ عنوان نہیں رکھوں گا۔ اچھا کوئی اور سوچتا ہوں۔ پہلے دن سیلفی نہیں لینی۔ دوسرے تیسرے دن جب نمازیوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ تب تصویر لوں گا۔ تاکہ پتا چلے اس منافق دنیا کو۔ ہم چند دن کے بیوپاری نہیں۔ پورا مہینہ ہی نماز چلائیں گے۔ ہاں عنوان آگیا ذہن میں۔ "ادھی لعنت دنیا تے، تے ادھی دنیا داراں ہو" واہ۔۔ دل اپنے اس عنوان پر جھوم اٹھا۔ یہ تو روحانیت اور تصوف کو بھی "ٹچ" کر رہا ہے۔ کیسا زبردست عنوان ہے۔ بس فائنل
اب باقی معاملات کی طرف بھی توجہ کروں۔ رمضان میں شاعری کیسی ہونی چاہیے۔ صرف مسلمان شعرا کی شاعری ہی ہونی چاہیے۔ ہاں یہ یہ یہ مسلک کا بھی نہ ہو۔ صرف صوفیانہ شاعری پر توجہ دوں تو؟ موضوعات اسلامی رہیں تو بہتر ہے۔ گوگل! اسلامی شاعری میں کیا کیا آتا ہے؟
حمد، نعت، منقبت، نوحے وغیرہ وغیرہ۔ نوحے تو محرم میں سنوں گا نا۔ یہ منقبت کیا ہوتی ہے۔ اس کو تلاش کرتا ہوں۔ نئی چیز ہوئی تو بلے بلے۔ اچھا تمہید کیسے باندھوں۔؟ ہاں!
ماہ مبارک کے مقدس دنوں میں آپ کے لیے ایک خوبصورت کلام لیکر حاضر ہوا ہوں۔ جس سے روح جھوم اٹھے گی۔ طبیعت شاداب ہوجائے گی۔ اور روزے کی ساری پیاس مٹ جائے گی۔ اللہ اللہ۔ واہ واہ۔۔۔ کیا ابتدائی سطر لکھی ہے۔ اس کے بعد تو کلام میں دم نہ بھی ہوا مارکیٹ میں "ہٹ" جائے گا۔ ہوہوہوہوہوہو
ہاں سب سے ضروری چیز۔ نماز کے اوقات میں سوشل میڈیا استعمال نہیں کرنا۔ مبادا کوئی سمجھے یہ نماز نہیں پڑھ رہا۔ ویسے میں کہہ دوں گا ہماری مسجد میں جلدی ہوجاتی ہے۔ تم ادھر کیا کر رہے ہو۔ ہاں جوابات تو سوچ کر رکھنے چاہیے نا۔ اچھا۔ اور سوچو! کیا کیا بات ہو سکتی ہے۔ نہیں ابھی میرے ذہن میں کچھ نہیں آرہا۔ اچھا فی البدیہہ دیکھیں گے۔تراویح کی تو خیر ہے۔ شکر ہے اس وقت میں اپنی ملازمت پر ہوتا ہوں۔ ورنہ تو ایک یا دو کیفیت ناموں خاطر۔۔۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ اللہ سب کو ریاکاری سے محفوظ رکھے۔


اچھا قرآن پڑھتے ہوئے بھی ایک تصویر ہونی چاہیے۔ پر خود تو ایسی نمود سے نفرت ہے۔ خاندان کے کسی فرد کو ایسے بین السطور ترغیب دوں گا۔ ہو سکتا ہے وہ خود ہی ایسی کوئی تصویر کھینچ لیں۔ امی ابو ساتھ بھی ایک تصویر تو ہونی چاہیے۔ افطاری کی تصویر نہیں لگاؤں گا۔ اس سے نمائش کی بو آتی ہے۔ کیا بندہ شوہدوں کی طرح سب کو بتائے کیا کیا کھایا ہے۔ یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہوتی ہے۔ ویسے کبھی باتوں میں یا تبصروں میں بات ہوجائےتو الگ بات ہے۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ کسی بھی خریداری پر جا کر میں وہاں کی تصاویر نہیں لگاؤں گا۔ ورنہ باقیوں اور مجھ میں فرق کیا رہے گا۔
اللہ ہم سب کو اس رمضان نیک کام کرنے اور دوسروں کو ان کی ترغیب دینے کی توفیق دے۔ آمین


خود کلامی از نیرنگ خیال
16 مئی 2018

Wednesday, 7 March 2018

وزیراعظم (ایک آنکھوں دیکھا کانوں سنا مکالمہ)

0 comments
وزیراعظم
(ایک آنکھوں دیکھا کانوں سنا مکالمہ(
آج ایک بیگ خریدنے کی نیت سے ٹاؤن شپ بازار جانا ہوا۔ مختلف دکانوں سے ہوتا ہوا ایک دکان میں داخل ہوا۔ دکان میں پہلے سے ایک خاتون دو لڑکیوں سمیت موجود تھی۔ میں خاموشی سے دکاندار کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ دکاندار ان خواتین سے بحث میں مصروف تھا۔ جو گفتگو  میں نے سنی ،  پیش خدمت ہے۔
لڑکی: یہ بیگ کتنے کا ہے؟
دکاندار: یہ سات سو کا ہے۔
خاتون: سات سو؟ زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی سو کا بیگ لگتا ہے۔ 
دکاندار: نہیں ! یہ بیگ سات سو کا ہی ہے۔
لڑکی: یہ بیگ ہمیں تین سو میں دے دو۔
دکاندار: نہیں بی بی! یہ سات سے کم نہیں ہوگا۔ 
دوسری لڑکی: ہم نے پہلے بھی تمہاری دکان سے ایک بیگ ڈھائی سو کا لیا تھا۔ وہ سارا خراب ہوگیا۔ 
دکاندار: کب لیا تھا؟
لڑکی: گزشتہ سال
دکاندار: اوہ بی بی! گزشتہ سال کا تو وزیراعظم اس سال تک نہیں چلا۔ تم بیگ چلانے کی بات کرتی ہو۔ 

نیرنگ خیال
7 مارچ 2018


Monday, 19 February 2018

حل

2 comments
حل
پس منظر:
چند سال قبل فارغ التحصیل طلبا کے لیے حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے جات میں مبتدی کے طور پر بھرتی کیے جانے کی پالیسی منظر عام پر آئی تھی۔ اس میں طلبا کو ماہانہ مشاہرہ دیا جاتا اور وہ پہلے سے کام کر رہے اداروں میں اپنے متعلقہ شعبے میں ایک سال کے لیے بطور مبتدی بھرتی کیے جاتے۔ جہاں ان کو عملی طور پر رہنمائی میسر ہوتی تھی۔ گزشتہ چند سال سے یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ اس پالیسی میں مالی بدعنوانی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ مستحق طلبا کی بجائے چند مفت خورے بھی اس میں شامل ہوجاتے۔ مزید یہ بھی سننے میں آیا کہ بڑی تعداد میں "جعلی مبتدیوں" کا اندراج کیا جاتا اور یوں ایک خطیر رقم بالا بالا ہی عالم بالا کو سدھار جاتی۔ اس مالی بدعنوانی کو روکنے کے لیے قوم کے خادم نے فوری اجلاس طلب کر لیا۔


منظر:
پالیسی بنانے والے قوم کے خادم کے سامنے سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ چند سال قبل فارغ التحصیل طلبا کے لیے مختلف شعبہ ہائے جات میں مبتدی بھرتی کرنے اور ان کو عملی ماحول سے روشناس کروانے کے لیے جو پالیسی وضع کی گئی تھی۔ اس کے متعلق بات کی جانے والی تھی۔


مکالمہ:
خادم: میرا یہ خیال ہے، بلکہ میں ایسا سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس منصوبے کو فوراً! سے پیشتر داخل دفتر کر دینا چاہیے۔ اور اس منصوبے کو لمحہ ضائع کیے بغیر بند کر دینا چاہیے۔ غضب دیکھو! ملک و قوم کے معماروں کی بھلائی کے لیے جو منصوبہ شروع کیا تھا۔ اس میں ہی مالی بدعنوانی کی خبریں ہیں۔
ایک رکن: سر! جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔ اس منصوبے سے بہت سے مستحق طلبا کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
خادم: بالکل پہنچ رہا ہے اور یہی تو اس منصوبے کی روح تھی۔ اپنی انگلی "جالبانہ" انداز میں لہراتے ہوئے۔ مگر ان مالی بدعنوانیوں کا کیا کیا جائے۔ آگے کم مسائل ہیں جو ایک نیا محاذ بھی کھول لیا جائے۔
ایک اور رکن: سر! لیکن یہ تو مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں ان عناصر کی سرکوبی کرنی چاہیے نہ کہ اس منصوبے کو "پنج سالہ منصوبے" میں شامل کرنا چاہیے۔
خادم: قہقہہ لگاتے ہوئے۔ لئو دسو یار! اب ہم چٹھہ صاحب کو کہیں کہ مالی بدعنوانیاں مت کریں۔ یا پھر اپنے بٹ صاحب کو اس کام سے منع کریں۔یار شرم آتی ہے یاروں سے ایسی باتیں کرتے۔ چھوڑو یار، پروگرام ہی بند کرو۔ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔
اراکین مجلس بیک زباں ہو کر: واہ واہ۔ کیا دور اندیشی ہے۔
پیچھے پس منظر میں ہلکی سی دھن پر گیت چل رہا ہے۔
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
توہےمہرِ صبح نو
تیرے بعد رات ہے



از قلم نیرنگ خیال
19 فروری 2018


Monday, 15 January 2018

تتلیاں

0 comments

ہمارے گھر کے باہر کافی کثیر تعداد میں درخت اور پودے موجود تھے۔ انہی پودوں اور پھولوں پر رنگ برنگی تتلیاں منڈلایا کرتی تھیں، اور ہم انہیں پکڑا کرتے تھے۔ کبھی تتلی پکڑ کر چھوڑ دیتے۔ اور کبھی وہ ہماری گرفت کی تاب نہ لا کر چل بستی۔ گو کہ ہم بہت احتیاط سے کام لیتے تھے مگر اجل پر کس کا زور ہے۔ تتلیوں کے رنگ ہمارے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی پر رہ جایا کرتے تھے۔ اور وہی ہماری ٹرافی ہوا کرتی تھی۔ بدقسمتی سے لاہور شہر میں تتلیاں بہت کم نظر آتی ہیں۔ بلکہ شاید دھواں، آلودہ فضا اور کٹتے درختوں نے یوں بھی پرندوں اور ایسی خوبصورت مخلوق کو شہر سے باہر دھکیل دیا ہے۔ اسی سلسلے میں جلو بوٹینیکل گارڈن جانے کا پروگرام بنایا کہ کچھ تتلیاں اور کچھ پودے اکھٹے ایک جگہ دیکھ لیے جائیں۔

شدید حبس کا موسم تھا۔ آسمان بادلوں نے گھیر رکھا تھا مگر بارش کے قطروں کی پہلے آپ پہلے آپ کی بحث ابھی جاری تھی۔ درخت یوں ساکن تھے گویا بت ہوں۔ کبھی کسی درخت پر پرندوں کے بیٹھنے اور اڑنے سے کچھ پتے ہل جاتے، تو باقی پتے ان کو یوں حیرت سے تکتے محسوس ہوتے جیسے کسی ایک بچے کی شرارت پر باقی بچے اس کو دیکھتے ہیں، گویا کہہ رہے ہوں، اب تمہاری وجہ سے سب کو ڈانٹ پڑ سکتی ہے۔ اکا دکا منڈلاتی تتلیاں نظر آئیں تو کیا کیا زمانے یاد آئے۔ میں راہ میں چلتے ہوئے  دوسرے اور اپنے بچوں کو دیکھنے لگا۔جن کے لیے پھولوں پر تتلیوں کے بیٹھنے کے منظر میں کوئی دلچسپی و دلکشی نہ تھی۔ وہ بالکل بڑوں کی طرح وہاں سے گزرتے جاتے تھے۔ بغیر متوجہ ہوئے۔میں چاہتا تھا میرے بچے تتلیوں کے پیچھے بھاگیں۔ مگر یہ خواہش میرے گلے میں کہیں گھٹ گئی تھی۔ کتنی سنجیدگی بھرتی جاتی ہے۔ جاذبیت اب بےنام رنگوں اور جعلی مناظر تک محدود ہوگئی ہے۔

یوں ہی چھوٹے چھوٹے باغیچوں سے گزرتے گزرتے ایک چھوٹے سے بچے نے میری توجہ کھینچ لی۔ وہ ایک شوخ رنگ کی تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ایک بوڑھے بزرگ جو انداز سے اس کے دادا معلوم ہوتے تھے اس کے پیچھے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ وہ بچہ گردوپیش سے بےخبر اس تتلی کو پکڑنے میں مصروف تھا۔ تتلی کبھی ایک پودے پر بیٹھتی کبھی دوسرے پر۔ بچہ اس کے پیچھے گھات لگائے جاتا مگر قریب پہنچنے پر وہ اڑ جاتی۔ بچے کے دادا بچے کے کھیل سے شاید اکتاہٹ محسوس کرنے لگے تھے۔ آخر انہوں نے بچے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ “آؤ چلیں! اس بیکار کام سے کچھ حاصل نہیں۔ تم اگر اس کو پکڑ بھی لو گے تو ہاتھ پر ایک کچے رنگ کے سوا کچھ نہ رہے گا۔” بچہ مایوس سا ہو کر بزرگ کے پاس آگیا۔ اس کے معصوم منظر پر بزرگ کی اس بات نے سیاہ رنگ کر دیا ہوگا۔

ہم جب بوٹینیکل گارڈن سے باہر نکلنے لگے تو بارش چھما چھم برسنے لگی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے دل و دماغ کو ایک تازگی دے دی تھی۔ پودے اور درخت دھل رہے تھے۔ پتے بارش اور ہوا کا لمس پا کر دائیں بائیں شرارت سے جھوم رہے تھے۔ شاید برستی بارش نے ان پر مستی کی کیفیت طاری کر دی تھی۔ اور میں ان برستے قطروں میں سے وہ پہلا قطرہ ڈھونڈنا چاہ رہا تھا جو “پہلے آپ ” کی بحث سے اکتا کر نیچے کو چل پڑا تھا۔

آج نئے سال کے پہلے دن مجھے وہ بچہ یاد آرہا ہے جو رنگین تتلیوں کے پیچھے بھاگتا پھرتا تھا۔ ان کا لمس پا کر خوش ہوتا اور ان کے کچے رنگ کو اپنی پوروں پر دیکھتے پہروں نہیں تھکتا تھا۔ مگر پھر عمرِ رواں نے اس منظر میں مزید منہمک نہ رہنے دیا۔ نئی عمر کی تتلیاں، نئے رنگوں کے ساتھ آموجود ہوئیں۔ ان کا لمس، ان کے رنگ، بچپن کی تتلیوں سے کہیں زیادہ دلفریب لگتے تھے۔ ڈھلتی عمر اور بالوں میں بڑھتی چاندی لیے، میں اسی سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں کہ ایک سال گزر گیا۔ کچھ رنگ پوروں پر جمے ہیں۔ کچھ ادھ موئی خواہشات طاقچوں میں دھری ہیں۔ کچھ تتلیاں دور کتنے خوبصورت باغ میں پھر رہی ہیں۔ خواہش ہے کہ آگے بڑھ کر ان کو چھو لوں۔ ان کو پکڑ لوں۔ ہر عمر، ہر دور کی اپنی تتلیاں ہیں۔ ان کے اپنے منظر ہیں، اور اپنی کشش ہے۔ مگر ان سارے مناظر میں، ان ساری تتلیوں میں سب سے خوبصورت اور دلفریب بچپن کی تتلیاں ہیں۔گزرتی عمر کے ساتھ ساتھ انسان جن تتلیوں کے پیچھے بھاگتا ہے وہ حاصل ہونے پر کریہہ الصورت اور بدنما محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے رنگ پیشانی پر لکیروں کی صورت چمکنے لگتے ہیں۔ ہر کوئی حقیقت سے باخبر ہونے کے باوجود اپنے اپنے منظر میں اپنی تتلیوں کو چھو لینے کی آس لیے ان کے پیچھے بھاگتا پھرتا ہے اور خود اس کے پاس ہر دوسرے شخص کے مناظر اور خواہشوں کے لیے ایک ہی فقرہ ہے۔ اسی بوڑھے کا فقرہ۔

Monday, 25 December 2017

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

2 comments
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا


دور جدید کا ایک بڑا خسارہ برداشت کا جنازہ ہے۔ چند اہل علم و ہنر اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مروت، محبت اور رواداری قریب المرگ ضرور ہیں مگر ابھی جنازہ نہیں اٹھا۔ بعض کے ہاں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ سکرات طاری ہے مگر ممکن ہےکہ پھر سے صحت پائیں۔ میں ان پرامید لوگوں کی شمع امید گل کرنا نہیں چاہتا مگر ان سے یہ سوال ضرور پوچھ لیتا ہوں کہ قریب المرگ ہے تو کب تک سرہانے سے لگے اس کو دیکھو گے؟سکرات طاری ہے تو وینٹیلیٹرز کب تک کام کریں گے؟
موجودہ معاشرے میں جہاں ایک "فارورڈ" کے بٹن نے تحقیق کا گریباں چاک کیا ہے وہیں "کاپی پیسٹ" جیسی سہولت تعمیری اور مدلل گفتگو کے لیے پھانسی کا پھندا ثابت ہوئی ہے۔ آپ اپنا نکتہ نظر سمجھائیں۔ مخالف آپ کو پلوٹو ، سقراط یا پھر کسی اور ایسے ہی بڑے دانش ور کا قول ا س زور سے مارے گا کہ آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے۔ آپ کہیں گے کہ میاں اس بات کے سیاق و سباق کچھ اور ہیں۔ تو وہ جواب میں کسی اور دانش ور کا کوئی اور اقتباس لا مارے گا۔ اب آپ اس سے کہیں گے کہ بھئی تمہاری رائے کیا ہے؟ تو وہ آپ کو جواب دے گا کہ "جب تم اتنے بڑے لوگوں کی بات سمجھنے سے قاصر ہو تو میری رائے کہاں سمجھو گے؟" یا حیرت! یعنی موصوف کی رائے ان دانش وروں سے بھی بڑی ہے؟ بزعم خود ذہین اور عالم ہونے کی جو غلط فہمی تیز رفتاری سے پرورش پارہی ہے وہ موجودہ صورتحال میں بڑی زہریلی اور مہلک ہے۔
پچیس دسمبر کو قائد کی سالگرہ مبارک کے پیغامات کے ساتھ ساتھ کفر کے کتنے فتوے بھی ہواؤں میں داغ دیے جاتے ہیں۔ سو ہمیشہ کی طرح آج بھی چند پیغامات رقصاں تھے کہ " میری کرسمس کا مطلب ہے۔ اللہ نے بیٹا جنا (نعوذ باللہ)۔ اور ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ اور آگے ایک طویل اصلاحی مکالمہ" میں اس آدھے سچ اور آدھے جھوٹ میں سچ والے حصے سے متفق ہوں۔ کہ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے، اور ترجمے سے اختلاف رکھتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے اور میرا ذاتی خیال ہے کہ تمام اہل اسلام عیسائیوں کو مسلمان سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ تو پھر جھگڑا کیا ہے؟ ڈیڑھ چلو پانی میں آپ کا ایمان نہیں بہتا۔ جھوٹ بولنے سے آپ کو حیا نہیں آتی۔ ملاوٹ کرنے سے بھی ایمان میں خلل واقع نہیں ہوتا۔ کلمہ پڑھ کر دو نمبر چیزیں فروخت کرنے میں رتی برابر شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اور تو اور من گھڑت باتیں قرون اولیٰ کے لوگوں سے منسوب کر کے پھیلاتے وقت بھی آپ کا دل نہیں کانپتا۔ تو پھر یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کو ان کے عقائد کے مطابق ان کے تہوار کی مبارک دے دینا آپ کو خارج از اسلام کیسے کر دیتا ہے؟ ماسوائے یہ کہ آپ اس عقیدے کے باقاعدہ پیروکار ہوجائیں۔میں نے جب میسج بھیجنے والے سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب میں ایک اور تصویر شکل کا اقتباس میرے منہ پر دے مارا۔ جو شاید کسی پرائمری پاس (اس حسنِ گماں پر معذرت) ماجھے گامے کا ڈیزائن کیا ہوا تھا۔میں نے عرض کی اگر تکفیری فتوی جات کی ہی بات ہو تو اہل اسلام میں کوئی مسلم نہ بچے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے شدید بیزاری کا اظہار کیا۔
خدا را اپنے ذہنوں کو زحمت دیجیے۔ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ دنیا میں استعمال کر لیجیے۔ اور اگر نیا غیر استعمال شدہ "ڈبا پیک" دماغ روز محشر میں لے جانے پر کوئی انعام و اکرام مقرر ہے تو ہمیں بھی بتائیے۔ اور اگر ایسا کوئی انعام مقرر نہیں تو اپنے اندر بھرتی نفرتوں کو ملک عدم کی راہ دکھائیے۔ معاشرتی اور سماجی سطح پر اس برداشت، رواداری اور مروت کا عملی مظاہرہ کیجیے جس کا اسلام آپ سے تقاضا کرتا ہے۔غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیے۔ نہ کہ یاوہ گوئی اور خرافات بکنے تک محدود ہوجائیے۔ ورنہ یقین کیجیے کہ وہ دن دور نہیں جب اپنے لکھے کے نیچے لوگ "بقلم خود" کی جگہ "بگالم خود" لکھا کریں گے اور اس پر فخر محسوس کریں گے۔


از قلم نیرنگ خیال
25 دسمبر 2017