Thursday, 30 July 2015

کون اب پیار سے پوچھے گا، میاں کیسے ہو!

7 comments
اکادمی ادبیات میں شاکر القادری صاحب کے اعزاز میں دی گئی تقریب میں تلمیذ سر سے پہلی ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد فون پر رابطہ رہنے لگا۔ پنجابی کے حوالے سے مجھے جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوتا۔ میں فوراً اصغر صاحب سے رابطہ کرتا۔ اکثر فون آتا تو سلام کے بعد ان کے مخصوص انداز میں یہی جملہ ہوتا۔ "نین صااب کیہ حال نیں۔ عشبہ کیسی اے؟" پھر محمد زین العابدین کی پیدائش کے بعد اس کو بھی کبھی نہیں بھولے۔ گزشتہ تین سالوں میں مہینے میں کم سے کم بھی دو بار تو لازماً ان سے بات ہوا کرتی تھی۔

ایک بار کچھ عرصہ گزرا اور ان کا فون نہ آیا۔ مجھے کسی سبب سے پتا چلا کہ آنکھ کا آپریشن ہوا ہے۔ میں نے جب فون پر گلہ کیا تو ہنسنے لگ پڑے۔ کہتے "اوہ یار بس اے معاملات تے چلدے ای رہندے نیں۔ " جبکہ خود ہر وقت دوسروں کا خیال رکھتے۔ ایک دن مجھے فون کر کے کہنے لگے کہ آپ کی عاطف بٹ سے کتنا عرصہ ہوا بات نہیں ہوئی۔ میں نے عرض کیا سر، کافی عرصہ ہوگیا۔ بتانے لگے ، اس کا بیٹا بیمار ہے اور ہسپتال داخل ہے۔ ایک دوسرے کےحالات پوچھتے رہا کرو۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قلم کی مشقت کو نہ چھوڑا اور کام کو جاری رکھا۔ کبھی برائی کی بات پر توجہ نہیں کی۔ ان سے کتنی ہی ملاقاتوں میں کبھی ان کے منہ سے کسی کی برائی نہیں سنی۔ ہمیشہ کسی کی مثبت بات کی تعریف کرتے ہی دیکھا۔ صاحب علم لوگوں کی قدر کرتے۔ اور خود بھی اس قدر علمی شخصیت ہونے کے باوجود اس پر کبھی غرور نہ کرتے تھے۔ یہ رسمی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اس شخصیت  کے سچے پہلو ہیں۔ 

سید زبیر صاحب کے گھر ان سے دو بار ملاقات ہوئی۔ ان دونوں کی آپس کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھا۔ اس بار بھی رمضان کے شروع میں فون آیا۔ تھوڑی سی گپ شپ ہوئی۔ عید پر سر کا فون نہیں آیا۔ مجھے انتظار تھا۔ لیکن کچھ مصروفیت ایسی ہوئی کہ میں چاہ کر بھی فون نہ کر سکا۔ ایک بار کوشش کی لیکن بھلا ہو ہمارے ملک میں اعلیٰ نیٹ ورک سروسز کا۔ دوسرے دن یہ خبر ملی کہ اصغر سر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ موت برحق ہے۔ ہم سب نے اس دنیا سے جانا ہے۔ لیکن اپنے پیاروں عزیزوں کی کمی سے جو خلا بن جاتا ہے۔ وہ کبھی پر نہیں ہوتا۔ تلمیذ سر کی محبت ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ میں جانتا ہوں کہ وہ اب کبھی نہیں آئیں گے۔ اب ان کا کوئی بھی تبصرہ مجھے پڑھنے کو نہیں ملے گا۔ لیکن جانے کیوں ابھی تک اس بات پر یقین نہیں آرہا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے۔ اور ان کی آرام گاہ کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنا دے۔ آمین
انا للہ وانا الیہ راجعون

Sunday, 5 July 2015

چوہدری اور افطار

0 comments
چوہدری اور افطار

احباب کے مابین رمضان کریم میں افطار پارٹیوں کا عروج نصف رمضان گزرنے کے بعد ہی شروع ہو تاتھا۔ لیکن چوہدری کو افطار  پر بلانے سے چڑ تھی۔ افطار پر جاتے تو سہی لیکن بلاتے کبھی نہ تھے۔ کہتے میاں میں ایک نیک آدمی ہوں۔ لہذا میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو بھی مجھے افطار کروائے میرے اس دن کے روزے کا ثواب جس کا کوئی شمار ہی نہیں ہوتا اس کو بھی ملے۔ یوں سمجھو کہ اگر میں افطار پر جاتا ہوں تو احسان کرتا ہوں۔ اپنے اس دن کی تمام نیکیاں ان لوگوں کے نامۂ اعمال میں لکھوا آتا ہوں جن کی زندگی میں شاید دو چار ہی نیکیاں ہوں۔ ہم نے دست بستہ عرض کی اگر آپ لوگوں کو افطار پر بلائیں گے تو ان  کی نیکیاں آپ کو ملیں گی۔ آخر آپ نیکیوں پر حریص کیوں نہیں۔ تو ایک عارفانہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر نمو دار ہو گئی۔ یہ مسکراہٹ اکثر ان کے چہرے پر تب نمودار ہوتی تھی جب ان کے ذہن پر خون سوار ہو جاتا تھا۔ ایسے میں ہر چیز ان کو سرخ دکھائی دینے لگتی۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے بے چینی سے پہلو بدلا اور مکمل طور پر خاکسار کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ دیکھو! کیا تمہیں؟ کیا تمہیں افطار پر بلاؤں میں۔ اور اس کے بعد بقیہ  احباب کی طرف اشارہ کرکے فرمانے لگے یا پھر ان لونڈوں لپاڑوں کو بلاؤں ؟ کیاتمہیں لگتا ہے کہ تمہارے روزے قبول بھی ہوتے ہیں! تمہارے اندر نیکی کی کوئی رمق بھی باقی ہے؟  اور ملک کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے ، یہ  اس کی طرف دیکھو؛  اس کی شکل دیکھ کر کیا تمہیں لگتا نہیں کہ یہ روزہ خور ہے۔ بخدا میں تمہیں بتاؤں کہ مجھے تو تمہارے روزوں پر ہی شبہ ہے کجا یہ کہ میں تم  کو افطار کروا کر کسی نیکی کی امید رکھوں۔

چوہدری کی اس بات سے ہمارا دل ٹوٹ گیا تھا۔ ہم نے احباب کے درمیان باہمی مشاورت سے منصوبہ بنایا کہ دنیا اِدھر سے اُدھر  ہو جائے لیکن اس رمضان میں چوہدری سے افطاری کھائے بغیر نہیں ٹلیں گے۔ اس سلسلے میں اگر ہمیں کوئی معتبر ہستی جس کی بات چوہدری نہ ٹال سکے کو بھی درمیان میں گھسیٹنا پڑا تو ہم گھسیٹ لیں گے۔ اب ان احباب کی فہرست تیار کرنی شروع کی جن کی بات کے آگے چوہدری  کوئی بات نہ کیا کرتے تھے، تو مرد حضرات میں سے ایک ہی نام برآمد ہوا۔  صنف مخالف کا ذکر کر کے ہم یہاں چوہدری کی دشمنی مول نہیں لینا چاہتے  سو فہرست جو کہ صرف ایک ہی نام پر مشتمل تھی اس کو کثیر اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔  باقی تمام باتیں جن کی وجہ سے چوہدری  آخرِکار ایک عدد دعوت نما افطاری کھلانے پر رضامند ہوگئے ان کو راقم الحروف بخوف طوالت زیر قلم لانے سے گریزاں ہے۔

لیکن چوہدری بھی کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلے تھے۔ لہذا جونہی چوہدری نے دیکھا کہ اب کی بار افطاری کروائے بغیر کوئی چارہ نہیں تو انہوں نے اپنا پرانا ہتھیار بیماری کو اوڑھا۔ چوہدری کو بیمار ہونے پر دسترس حاصل تھی۔  ان کی بیماری  سدا بہار تھی۔ آپ سال کے کسی دن کسی موسم میں کسی وقت ان سے حال پوچھیں۔ وہ اپناکوئی نہ کوئی کل پرزہ ضرور ایسا نکال لیتے تھے جس کو کسی دوا کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ عمومی طور پر گلا خراب کا بہانہ کر کے ایک چھوٹی  سی شیشی جس پر پہلی نظر میں کسی دوائی کا گمان ہوتا تھا اس میں الکوحل بھر کر رکھ لیا کرتے تھے۔ آنے جانے والوں کو خوب مغلظات بکتے اور اگر کوئی کافر پلٹ کر یہ کہہ دیتا کہ میاں کیا کہے جا رہے ہو تو فوراً اپنی شیشی اٹھا کر کہتے کہ ڈاکٹر نے دوائی کے نام پر دیکھ کیا دے رکھا ہے۔ خود بھی احساس نہیں رہتا کہ کس کو کیا کہہ رہا ہوں۔ البتہ قریبی احباب کو بغیر نشے کے بہانے کے بھی گالیوں سے نوازا کرتے تھے۔ اور وجہ وہی کہ سر پر خون سوار رہتا تھا جس کی لپیٹ میں ہمیشہ قریبی احباب ہی آیا کرتے تھے۔ لیکن  اس بار چوہدری نے بالکل نئی طرز  پر راہِ فرار اختیار کی۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی زندگی آسان بنانے کی کوشش کرتے ہوئے  کہا کہ آج ہی پاؤں کا ایک آپریشن ہوا ہے فصد کھلوا لایا ہوں۔ اور آپریشن سے پیداکردہ تفنگی سوراخ کی تصاویر  ارسال کر دیں۔ تاہم ان تصاویر میں زاویہ ایسا تھا کہ غور کرنے پر بھی پاؤں معلوم نہ ہوتا تھا۔ جب ایک دو گستاخوں نے اس بارے دبے دبے الفاظ میں اشارہ کیا تو پھر چوہدری کے سر پر خون سوار ہوگیا۔ بولے کل دفتر آؤں گا تو اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھ لینا۔

اگلے دن چوہدری جب دفتر تشریف لائے تو چال ہی بدلی ہوئی تھی۔ بایاں پاؤں اٹھاتے تو ایک عربی رقاصہ کی طرح لہرا جاتے جب کہ دایاں پاؤں اٹھاتے تو یوں لگتا کہ چلتے چلتے گاڑی کی ایک سائیڈ کی کمانی ٹوٹ گئی ہے۔ احباب کا خیال تھا کہ یہ چوہدری کی راہِ فرار حاصل کرنے کی آخری کوشش ہے۔ جبکہ ہمارا یہ ماننا تھا کہ پہلی بھی یہی ہے۔ چوہدری اس معاملے میں دو چالیں چل کر رسوا نہیں ہونا چاہتے۔ اس پر ایک دوست کا فرمانا تھا کہ چالیں تو وہ کئی چل رہے ہیں آپ ذرا ان کی چال تو دیکھیں۔ چال  کی اس لڑکھڑاہٹ پر اعتراض سن کر چوہدری آگ بگولا ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم خود بتاؤ کہ اس حال میں کوئی بھی انسان کس طرح کہیں پر جا سکتا ہے۔ احباب کے دل پسیج گئے۔ قریب تھا کہ ایک دو گلے لگ کر رونا شروع کر دیتے کہ ایک گستاخ نے زبان کھولی ، یہاں دفتر تک کس طرح آئے ہو۔ اس کے جواب میں  فرمانے لگے؛  گاڑی ڈرائیو کر کے۔ اس پر وہی گستاخ دوبارہ بولا یہ کون سی گاڑی ہے جو آٹھویں منزل تک بےچوں و چراں کیے چلی آتی ہے۔ اس پر چوہدری  کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور تمام منظر انہیں دوبارہ سے سرخ نظر آنے لگا۔ کچھ دیر خود پر ضبط کی کوشش کرتے رہے اور آخر فرمانے لگے کہ میں کہیں بھاگا نہیں جا رہا۔ چند دن صبر کر لو۔ صحت یاب ہوتے ہی ایک بڑی سی افطار کا انتظام کروں گا گرچہ مجھے یقین کامل ہے کہ تم لوگوں کا روزہ کھلوا کر مجھے رتی برابر بھی ثواب نہ ملے گا۔

چوہدری کے اس لارے سے احباب خاموش ہوگئے۔  لیکن برا ہو چوہدری کا خود  کہ اسی شام اپنے گھر سے میلوں دور افطاری کرتے پائے گئے۔ قصہ یہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے بعد ایک مشہور خریداری مرکز کے اندر کچھ ایسے کام کرتے بھی پائے گئے جو کہ اوائل بلوغت میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ چوہدری کی اس حرکت سے دل دکھ گیا تھا۔ آخر ہمارے ساتھ ہی افطار کرتے کیا موت پڑتی تھی۔

تمام احباب شکوہ کناں تھے۔ موسم بہار میں خزاں کا مطلب ہم تمام اب سمجھے تھے۔ لیکن چوہدری نے ان تمام باتوں کے جوابات میں یہ ثابت کیا کہ وہ میلوں دور افطار کرنے پیدل نہیں گئے تھے اور خریداری مرکز کے اندر بھی وہ۔۔۔۔ ہمارے منہ میں خاک۔ دعا ہے کہ اللہ چوہدری کو صحت و تندرستی دے اور وہ جلد از جلد صحت یاب ہو کر ہمارے افطار کا بندوبست بھی کر سکیں گرچہ ان کے اس ضمن میں حالات و واقعات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قوم یہود کے گائے کی قربانی کرنے پر تھے۔