Tuesday, 27 November 2012

ذرائع ابلاغ کا عدل جہانگیری

2 comments
پاکستانی میڈیا کا کردار گذشتہ چند ہفتوں میں جسقدر موضوع سخن رہا ہے شائد اتنا تو کسی کا محبوب بھی اسکی یادوں کا محور نہ رہا ہوگا۔ اب اسکا کردار مثبت رہا یا منفی اسکا فیصلہ تو آپ کے ہاتھ میں ہے مگر در حقیقت یہ منٹو کے قول کی تصویر نظر آتا ہے کہ میں تہذیب و شرافت میں لپٹی اس قوم کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے ہی ننگی ہے۔ منٹو آج زندہ ہوتے تو شائد شدت احساس سے ہی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ چند دن پہلے اپنے اس باضمیر ذرائع ابلاغ کا اک ایسا کارہائے نمایاں نظروں سے گزرا کے دل خوشی کے مارے پہلو سے نکلا ہی چاہتا تھا۔ ہاتھ سے دبا کر دوبارہ سینے میں واپس بھیجا کہ بھائی ابھی باہر کا موسم تجھے راس نہ آئے گا۔ مگر قلقاریاں تھیں کہ تھمنے میں نہ تھیں، کہ دیکھو چوربازاری اور ٹھگی بازی کے اس دور میں کوئی تو ایسا ہے جو عوام الناس کے درد کو دل میں سموئے ہوئے ہے، جس کی راتیں اس فکر میں غلطاں ہیں کہ کس طرح سے مہنگائی اور لٹیروں کے ہاتھوں خواب پروتی اس قوم کو اسکا حق دلایا جائے۔ اور ان تمام عناصر کی بازپرس کی جائے جو ان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں۔
ہمیشہ کی طرح اک محب الوطن چینل نے قتیل شفائی کے مصرعہ کی مثل
کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں
اس مشکل کام کا بیڑا اٹھایا اور آغاز کیا ماہ مقدس میں پھل اور سبزیوں کی قیمت بڑھانے والے ملک دشمن عناصر کے احتساب کا۔ احترام صیام سے چُور، چہروں پر نور، خدمت کے جذبے سے معمور یہ ٹیم پولیس کو ہمراہ لیئے جب ان لٹیروں سے حساب کرنے نکلی تو پہلے قدم پر ہی اک مجرم کو پکڑ لیا۔ ظالم حکومت کے مقرر کردہ نرخوں سے ۶ روپے مہنگا آم بیچ رہا تھا۔ جی ھاں جناب! ۶روپے کھا رہا تھا وہ ظالم۔ اور وہ ظالم تھا فضلو پھل فروش۔ اور جب کیمرے کی آنکھ کے سامنے اس من مانی کی وجہ پوچھی گئی تو شہر کے معزز آڑھتیوں کو مورد الزام ٹھہرانے لگا۔ لو دسو یار اپنے حاجی صاحب ایسا کام کر سکتے ہیں بھلا؟ اک نوجوان نے جذبہ کیمرالوطنی سے معمور ہو کر لقمہ دیا کہ اسی طرح لوٹ مار کر کے اسنے اپنی ریڑھی بھی ذاتی بنا لی ہے۔ بس جرم ثابت ہو چکا تھا۔ مجرم کے پاس جائے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا۔ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسٹریٹ صاحب نے فورا مجرم کو موقع پر سزا سنائی۔ تمام ریڑھی پر لدا مال ضبط کر لیا گیا۔ اور اس لٹیرے کو بھاری جرمانہ لگا دیا گیا۔ جو اسنے لوٹ کے مال سے ادا کرنا تھا۔ آپکی اور میری محافظ پولیس نے اٹھا کر اسے اپنا ہمرکاب کیا تا کہ بقیہ سزا اسے مہمان خانہ لے جا کر دی جائے۔ عدل جہانگیری کا یہ منظر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس عظیم ہستی کے رخسار مبارک پر ایسا بوسہ عقیدت دینے کا دل کیا جسکا نشاں مدتوں انکے گال پر رہے۔ مگر ذہن کی حکمت آڑے آگئی اور دل و دماغ کی اس جنگ میں فتح دماغ کی ہوئی۔
اس دن نجانے کتنے شیدے، فضلو اور بالے کو جرمانے عائد کیئے گئے۔ کچھ معترضین کو انصاف کا یہ رنگ نہ بھایا، کہنے لگے کہ سارا ضبط شدہ مال یہ خود افطار میں اڑائیں گے اور کچھ معصوم استفسار کرنے لگے کے کیا یہ اب بڑے بڑے ذخیرہ اندوزوں کیطرف بھی جائیں گے اور انکے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔ تو احقر نے اپنی ناقص رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ بالکل انکے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا پر کیا ہے نہ ،آج یہ گروہ خوارزمی بہت تھک گیا ہے۔ تو وہ والا کام انشاءاللہ کسی اور دن انجام پائے گا۔ اب اک ہی دن تو نہیں نہ سارے لٹیروں پر ہاتھ ڈالا جا سکتا۔ لوگ بھی بس صبر سے کام نہیں لیتے۔ آپ انکے بھلے کے لیئے بیشک الٹے لٹک جاؤ مگر یہ نقطہ چینی کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال ہی لیں گے۔ اب آپ خود فیصلہ کیجیئے کہ لوگ میڈیا اس نیک کام کو بھی برائی پر محمول کرتے ہیں اور بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کو کہتے ہیں۔ انکی تمنا ہے کہ سب کو اک جیسی سزا دی جائے۔ پتہ نہیں قرون اولی کے کس دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔