Tuesday, 27 November 2012

خط! اک دوست کے نام

2 comments
ریاض میں مقیم عمرے پر جانے والے اک دوست کے نام

السلام و علیکم!
میاں کیسے ہو؟ آخری اطلاعات تک تو بالکل ٹھیک تھے۔ مگر آخری خط سے ذہنی طبیعت رواں نہیں لگتی۔ یہ چوکور ڈبہ بھی بھئی کمال کی چیز ہے۔ کہاں ہم گھنٹوں خطابت میں سر کھپاتے۔ ورق کے انتخاب پر دماغ و دل مناظرے کرتے۔ پھر قاصد کے نخرے الگ۔ مگر میاں یہ موٹا بھائی نے تو اس سے روشناس کرا کر کمال کر دیا ہے۔ اک جھاڑو سا پکڑ کر ساری لائنوں پر پھیر دو تو بس خطاطی اور۔ ایسا برق رفتا ر خطاط تو کبھی نہ دیکھا تھا نہ سنا ۔ اور قاصد کی برق رفتاری تو دیکھنے لائق۔ ادھر مراسلہ لکھا ادھر ویسے چوکور ڈبے میں پہنچا۔ اور مزہ یہ کہ رازداری شرط۔ بھئی بہت خوب۔ اللہ بھلا کرے ہمارےموٹے بھائی کا۔ اس چیز کا استعمال سکھا کر سیدھا جنت والے پلاٹ سے ۱۰ مرلہ زمین کے حقدار ٹھہرے۔
میاں وہ مکہ کا کیا چکر ہے ؟ ہم نے تو یہاں صوفیاء کی شاعری میں ہمیشہ یہی پڑھا کہ
مکے دے وال اوہی جاندے کم جنہاں دے ٹوٹی
اب اس مصرعہ کی روشنی میں دیکھیں تو تمہیں اچھا بھلا شریف پاتے ہیں۔ پھر ادھر جانا چہ معنی دارد؟ اور اوپر سے تمہاری عمر ہی کیا ہے۔ کؤے سے تو کوئی ۴ سال چھوٹے ہی رہے ہوگے تم۔ اس بھری جوانی میں دیدار کعبہ! نہ میاں نہ۔۔۔ دیکھو ایسا نہ کرنا۔ یہ نہ ہو وہاں جا کر کوئی نیک ہونے کی کوئی دعا مانگ بیٹھو۔ اور وہ ذات بےنیاز تمہیں خالی ہاتھ نہ لوٹائے۔ جب یہ جوانی ڈھلے گی تو توبہ بھی کر لینا۔غم نہ کر عمر پڑی ہے ابھی۔ سنا ہے زیارات کا بھی ارادہ کر رکھا ہے۔ تمہیں وہاں مال مڈی جمع کرنے بھیجا ہے کہ سیر و سیاحت کرنے۔ زیارات کا اتنا ہی شوق تھا۔ تو یہاں بتاتے۔ صرف ملتان اور اچ شریف میں ہی تمہیں اتنی زیارات دکھا دیتے کہ سوچ ہے تمہاری۔ ابلیس بھی تمہاری اس حرکت سے سخت پریشاں ہے۔ اور یہی شعر پڑھتا پھرتا ہے
یہ عمرے پر جانے کا کیا تذکرہ ہے
تمہارے سوا کوئی اپنا نہیں ہے
اچھا اب جا ہی رہے ہو تو دل کو درد سے نہ بھر لینا۔ جیسے گئے ہو ویسے ہی واپس آنا۔ میں نے سنا ہے کہ وہاں جا کر طبیعت بڑی نیکی کی طرف مائل ہوتی ہے۔ بڑے بڑے ہل جاتے ہیں۔ اور کچھ ظالم تو خوف خدا سے رو دھو بھی لیتے ہیں۔ اپنے محلے کے حاجی صاحب کو دیکھتا ہوں تو اور بھی رونا آتا ہے۔ کیسے آزاد مرد تھے۔ کبھی تو دختر انگور کے عشق میں مجذوب ہو کر صرف زیر جامہ میں ہی سڑکوں پر نکل آتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ میاں پردہ دیکھنے والے کی آنکھ کا ہوتا ہے۔ مگر اب دیکھو توانگور سے بھی شرماتے ہیں۔ ہر وقت چہرے پر اک رقت طاری رہتی ہے۔ ظلم یہ کہ لوگ اسکو نیکی پر محمول کرتے ہیں۔ لو بھئی یہ کون سی نیکی ہے کہ اچھا بھلا ہنستا کھیلتا آدمی روتا پھرے اور لوگ اسے حاجی صاحب حاجی صاحب کہیں۔ بس یار دل کانپتا ہے آشیاں کو آشیاں کہتے۔ تم ننھی جان، خدا نخواستہ اس طرح الجھ گئے تو ہم ۔۔۔ ۔شش شش میرے منہ میں خاک۔۔ ویسے بھی تمہارے چہرے پر نورانیت بڑی عجیب سی لگے گی۔
اچھا سنو! میرے لیئے تبرکات میں کھجور لے آنا۔ تجھے پتہ یہی وہ تبرک ہے جس پر مجھے سب سے زیادہ خوشی ہوتی۔ یہ اپنے محلے کے ہی باؤ جی جب گئے تھے۔ تو میرے لیئے جائے نماز اٹھا لائے۔ کہنے لگے میاں میں اسے ادھر بچھا کر نماز پڑھا کرتا تھا۔ میں نے کہا قبلہ آپ نے پڑھی۔ پر مجھےکیا فائدہ۔ مجھے تو کھجور لا دیتے۔ ڈر کے مارے اس پر نماز نہیں پڑھتا کہ کہیں اثرانداز نہ ہو جائے۔ آخر کو احتیاط بہتر ہے۔
اب آخر میں نصیحت بھی سنتے جاؤ۔ اگر کوئی دلگداز واقعات سنانے شروع کرے تو فورا دل کو ادھر ادھر مائل کرنے کی کوشش کرنا۔ ان لوگوں میں عیب ڈھونڈنا تا کہ اندر کی نیکی کو حاوی ہونے کا موقع نہ ملے۔ اور کبھی کبھی تو ٹھیک ہے مگر کثرت سے ایسی جگہوں پر نہ جانا۔ آگے ہی کل کے خط میں تم نے یہ بات لکھ کر ڈرا دیا ہے کہ نمازوں میں باقاعدگی آگئی ہے۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔