Wednesday, 16 May 2018

ایجنڈا برائے سوشل میڈیا دوران رمضان

1 comments
ایجنڈا برائے سوشل میڈیا دوران رمضان


رمضان کریم کی آمد ہو چکی ہے۔ بازاروں میں رونق ہے۔ لوگ کھجوریں اور کپڑے خرید رہے ہیں۔ کسی بڑے شاپنگ مال میں کھڑے ہو کر "سیلفی" بھی لے رہے ہیں کہ روزے کی خریداری کرتے ہوئے۔ الحمداللہ۔
الحمداللہ کے بغیر جملہ ادھورا ہے۔ اس سے ایک نیکی کا "ٹچ" آجاتا ہے۔ مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔ اس بار میں نے بھی سوچا ہے کہ صبح فجر کے وقت مسجد کے باہر سیلفی لوں گا۔ عنوان دوں گا۔ اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوں میں۔ نہیں۔ یہ عنوان ٹھیک نہیں۔ یہ عنوان کیسا رہے گا۔ "اس کو کیا جانیں یہ دو رکعت کے امام"۔ واہ واہ۔ اقبال کی جے ہو۔ نہیں، یہ عنوان بھی ٹھیک نہیں۔ اس سے خود پرستی کی بو آتی ہے۔ تکبر اور میں۔ معاذاللہ۔ یہ خیال اگر میرے ذہن میں آگیا ہے تو کسی او رکے ذہن میں بھی آسکتا ہے۔ یہ عنوان نہیں رکھوں گا۔ اچھا کوئی اور سوچتا ہوں۔ پہلے دن سیلفی نہیں لینی۔ دوسرے تیسرے دن جب نمازیوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ تب تصویر لوں گا۔ تاکہ پتا چلے اس منافق دنیا کو۔ ہم چند دن کے بیوپاری نہیں۔ پورا مہینہ ہی نماز چلائیں گے۔ ہاں عنوان آگیا ذہن میں۔ "ادھی لعنت دنیا تے، تے ادھی دنیا داراں ہو" واہ۔۔ دل اپنے اس عنوان پر جھوم اٹھا۔ یہ تو روحانیت اور تصوف کو بھی "ٹچ" کر رہا ہے۔ کیسا زبردست عنوان ہے۔ بس فائنل
اب باقی معاملات کی طرف بھی توجہ کروں۔ رمضان میں شاعری کیسی ہونی چاہیے۔ صرف مسلمان شعرا کی شاعری ہی ہونی چاہیے۔ ہاں یہ یہ یہ مسلک کا بھی نہ ہو۔ صرف صوفیانہ شاعری پر توجہ دوں تو؟ موضوعات اسلامی رہیں تو بہتر ہے۔ گوگل! اسلامی شاعری میں کیا کیا آتا ہے؟
حمد، نعت، منقبت، نوحے وغیرہ وغیرہ۔ نوحے تو محرم میں سنوں گا نا۔ یہ منقبت کیا ہوتی ہے۔ اس کو تلاش کرتا ہوں۔ نئی چیز ہوئی تو بلے بلے۔ اچھا تمہید کیسے باندھوں۔؟ ہاں!
ماہ مبارک کے مقدس دنوں میں آپ کے لیے ایک خوبصورت کلام لیکر حاضر ہوا ہوں۔ جس سے روح جھوم اٹھے گی۔ طبیعت شاداب ہوجائے گی۔ اور روزے کی ساری پیاس مٹ جائے گی۔ اللہ اللہ۔ واہ واہ۔۔۔ کیا ابتدائی سطر لکھی ہے۔ اس کے بعد تو کلام میں دم نہ بھی ہوا مارکیٹ میں "ہٹ" جائے گا۔ ہوہوہوہوہوہو
ہاں سب سے ضروری چیز۔ نماز کے اوقات میں سوشل میڈیا استعمال نہیں کرنا۔ مبادا کوئی سمجھے یہ نماز نہیں پڑھ رہا۔ ویسے میں کہہ دوں گا ہماری مسجد میں جلدی ہوجاتی ہے۔ تم ادھر کیا کر رہے ہو۔ ہاں جوابات تو سوچ کر رکھنے چاہیے نا۔ اچھا۔ اور سوچو! کیا کیا بات ہو سکتی ہے۔ نہیں ابھی میرے ذہن میں کچھ نہیں آرہا۔ اچھا فی البدیہہ دیکھیں گے۔تراویح کی تو خیر ہے۔ شکر ہے اس وقت میں اپنی ملازمت پر ہوتا ہوں۔ ورنہ تو ایک یا دو کیفیت ناموں خاطر۔۔۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ اللہ سب کو ریاکاری سے محفوظ رکھے۔


اچھا قرآن پڑھتے ہوئے بھی ایک تصویر ہونی چاہیے۔ پر خود تو ایسی نمود سے نفرت ہے۔ خاندان کے کسی فرد کو ایسے بین السطور ترغیب دوں گا۔ ہو سکتا ہے وہ خود ہی ایسی کوئی تصویر کھینچ لیں۔ امی ابو ساتھ بھی ایک تصویر تو ہونی چاہیے۔ افطاری کی تصویر نہیں لگاؤں گا۔ اس سے نمائش کی بو آتی ہے۔ کیا بندہ شوہدوں کی طرح سب کو بتائے کیا کیا کھایا ہے۔ یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہوتی ہے۔ ویسے کبھی باتوں میں یا تبصروں میں بات ہوجائےتو الگ بات ہے۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ کسی بھی خریداری پر جا کر میں وہاں کی تصاویر نہیں لگاؤں گا۔ ورنہ باقیوں اور مجھ میں فرق کیا رہے گا۔
اللہ ہم سب کو اس رمضان نیک کام کرنے اور دوسروں کو ان کی ترغیب دینے کی توفیق دے۔ آمین


خود کلامی از نیرنگ خیال
16 مئی 2018

1 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔