Sunday, 5 July 2015

چوہدری اور افطار

0 comments
چوہدری اور افطار

احباب کے مابین رمضان کریم میں افطار پارٹیوں کا عروج نصف رمضان گزرنے کے بعد ہی شروع ہو تاتھا۔ لیکن چوہدری کو افطار  پر بلانے سے چڑ تھی۔ افطار پر جاتے تو سہی لیکن بلاتے کبھی نہ تھے۔ کہتے میاں میں ایک نیک آدمی ہوں۔ لہذا میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو بھی مجھے افطار کروائے میرے اس دن کے روزے کا ثواب جس کا کوئی شمار ہی نہیں ہوتا اس کو بھی ملے۔ یوں سمجھو کہ اگر میں افطار پر جاتا ہوں تو احسان کرتا ہوں۔ اپنے اس دن کی تمام نیکیاں ان لوگوں کے نامۂ اعمال میں لکھوا آتا ہوں جن کی زندگی میں شاید دو چار ہی نیکیاں ہوں۔ ہم نے دست بستہ عرض کی اگر آپ لوگوں کو افطار پر بلائیں گے تو ان  کی نیکیاں آپ کو ملیں گی۔ آخر آپ نیکیوں پر حریص کیوں نہیں۔ تو ایک عارفانہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر نمو دار ہو گئی۔ یہ مسکراہٹ اکثر ان کے چہرے پر تب نمودار ہوتی تھی جب ان کے ذہن پر خون سوار ہو جاتا تھا۔ ایسے میں ہر چیز ان کو سرخ دکھائی دینے لگتی۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے بے چینی سے پہلو بدلا اور مکمل طور پر خاکسار کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ دیکھو! کیا تمہیں؟ کیا تمہیں افطار پر بلاؤں میں۔ اور اس کے بعد بقیہ  احباب کی طرف اشارہ کرکے فرمانے لگے یا پھر ان لونڈوں لپاڑوں کو بلاؤں ؟ کیاتمہیں لگتا ہے کہ تمہارے روزے قبول بھی ہوتے ہیں! تمہارے اندر نیکی کی کوئی رمق بھی باقی ہے؟  اور ملک کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے ، یہ  اس کی طرف دیکھو؛  اس کی شکل دیکھ کر کیا تمہیں لگتا نہیں کہ یہ روزہ خور ہے۔ بخدا میں تمہیں بتاؤں کہ مجھے تو تمہارے روزوں پر ہی شبہ ہے کجا یہ کہ میں تم  کو افطار کروا کر کسی نیکی کی امید رکھوں۔

چوہدری کی اس بات سے ہمارا دل ٹوٹ گیا تھا۔ ہم نے احباب کے درمیان باہمی مشاورت سے منصوبہ بنایا کہ دنیا اِدھر سے اُدھر  ہو جائے لیکن اس رمضان میں چوہدری سے افطاری کھائے بغیر نہیں ٹلیں گے۔ اس سلسلے میں اگر ہمیں کوئی معتبر ہستی جس کی بات چوہدری نہ ٹال سکے کو بھی درمیان میں گھسیٹنا پڑا تو ہم گھسیٹ لیں گے۔ اب ان احباب کی فہرست تیار کرنی شروع کی جن کی بات کے آگے چوہدری  کوئی بات نہ کیا کرتے تھے، تو مرد حضرات میں سے ایک ہی نام برآمد ہوا۔  صنف مخالف کا ذکر کر کے ہم یہاں چوہدری کی دشمنی مول نہیں لینا چاہتے  سو فہرست جو کہ صرف ایک ہی نام پر مشتمل تھی اس کو کثیر اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔  باقی تمام باتیں جن کی وجہ سے چوہدری  آخرِکار ایک عدد دعوت نما افطاری کھلانے پر رضامند ہوگئے ان کو راقم الحروف بخوف طوالت زیر قلم لانے سے گریزاں ہے۔

لیکن چوہدری بھی کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلے تھے۔ لہذا جونہی چوہدری نے دیکھا کہ اب کی بار افطاری کروائے بغیر کوئی چارہ نہیں تو انہوں نے اپنا پرانا ہتھیار بیماری کو اوڑھا۔ چوہدری کو بیمار ہونے پر دسترس حاصل تھی۔  ان کی بیماری  سدا بہار تھی۔ آپ سال کے کسی دن کسی موسم میں کسی وقت ان سے حال پوچھیں۔ وہ اپناکوئی نہ کوئی کل پرزہ ضرور ایسا نکال لیتے تھے جس کو کسی دوا کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ عمومی طور پر گلا خراب کا بہانہ کر کے ایک چھوٹی  سی شیشی جس پر پہلی نظر میں کسی دوائی کا گمان ہوتا تھا اس میں الکوحل بھر کر رکھ لیا کرتے تھے۔ آنے جانے والوں کو خوب مغلظات بکتے اور اگر کوئی کافر پلٹ کر یہ کہہ دیتا کہ میاں کیا کہے جا رہے ہو تو فوراً اپنی شیشی اٹھا کر کہتے کہ ڈاکٹر نے دوائی کے نام پر دیکھ کیا دے رکھا ہے۔ خود بھی احساس نہیں رہتا کہ کس کو کیا کہہ رہا ہوں۔ البتہ قریبی احباب کو بغیر نشے کے بہانے کے بھی گالیوں سے نوازا کرتے تھے۔ اور وجہ وہی کہ سر پر خون سوار رہتا تھا جس کی لپیٹ میں ہمیشہ قریبی احباب ہی آیا کرتے تھے۔ لیکن  اس بار چوہدری نے بالکل نئی طرز  پر راہِ فرار اختیار کی۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی زندگی آسان بنانے کی کوشش کرتے ہوئے  کہا کہ آج ہی پاؤں کا ایک آپریشن ہوا ہے فصد کھلوا لایا ہوں۔ اور آپریشن سے پیداکردہ تفنگی سوراخ کی تصاویر  ارسال کر دیں۔ تاہم ان تصاویر میں زاویہ ایسا تھا کہ غور کرنے پر بھی پاؤں معلوم نہ ہوتا تھا۔ جب ایک دو گستاخوں نے اس بارے دبے دبے الفاظ میں اشارہ کیا تو پھر چوہدری کے سر پر خون سوار ہوگیا۔ بولے کل دفتر آؤں گا تو اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھ لینا۔

اگلے دن چوہدری جب دفتر تشریف لائے تو چال ہی بدلی ہوئی تھی۔ بایاں پاؤں اٹھاتے تو ایک عربی رقاصہ کی طرح لہرا جاتے جب کہ دایاں پاؤں اٹھاتے تو یوں لگتا کہ چلتے چلتے گاڑی کی ایک سائیڈ کی کمانی ٹوٹ گئی ہے۔ احباب کا خیال تھا کہ یہ چوہدری کی راہِ فرار حاصل کرنے کی آخری کوشش ہے۔ جبکہ ہمارا یہ ماننا تھا کہ پہلی بھی یہی ہے۔ چوہدری اس معاملے میں دو چالیں چل کر رسوا نہیں ہونا چاہتے۔ اس پر ایک دوست کا فرمانا تھا کہ چالیں تو وہ کئی چل رہے ہیں آپ ذرا ان کی چال تو دیکھیں۔ چال  کی اس لڑکھڑاہٹ پر اعتراض سن کر چوہدری آگ بگولا ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم خود بتاؤ کہ اس حال میں کوئی بھی انسان کس طرح کہیں پر جا سکتا ہے۔ احباب کے دل پسیج گئے۔ قریب تھا کہ ایک دو گلے لگ کر رونا شروع کر دیتے کہ ایک گستاخ نے زبان کھولی ، یہاں دفتر تک کس طرح آئے ہو۔ اس کے جواب میں  فرمانے لگے؛  گاڑی ڈرائیو کر کے۔ اس پر وہی گستاخ دوبارہ بولا یہ کون سی گاڑی ہے جو آٹھویں منزل تک بےچوں و چراں کیے چلی آتی ہے۔ اس پر چوہدری  کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور تمام منظر انہیں دوبارہ سے سرخ نظر آنے لگا۔ کچھ دیر خود پر ضبط کی کوشش کرتے رہے اور آخر فرمانے لگے کہ میں کہیں بھاگا نہیں جا رہا۔ چند دن صبر کر لو۔ صحت یاب ہوتے ہی ایک بڑی سی افطار کا انتظام کروں گا گرچہ مجھے یقین کامل ہے کہ تم لوگوں کا روزہ کھلوا کر مجھے رتی برابر بھی ثواب نہ ملے گا۔

چوہدری کے اس لارے سے احباب خاموش ہوگئے۔  لیکن برا ہو چوہدری کا خود  کہ اسی شام اپنے گھر سے میلوں دور افطاری کرتے پائے گئے۔ قصہ یہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے بعد ایک مشہور خریداری مرکز کے اندر کچھ ایسے کام کرتے بھی پائے گئے جو کہ اوائل بلوغت میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ چوہدری کی اس حرکت سے دل دکھ گیا تھا۔ آخر ہمارے ساتھ ہی افطار کرتے کیا موت پڑتی تھی۔

تمام احباب شکوہ کناں تھے۔ موسم بہار میں خزاں کا مطلب ہم تمام اب سمجھے تھے۔ لیکن چوہدری نے ان تمام باتوں کے جوابات میں یہ ثابت کیا کہ وہ میلوں دور افطار کرنے پیدل نہیں گئے تھے اور خریداری مرکز کے اندر بھی وہ۔۔۔۔ ہمارے منہ میں خاک۔ دعا ہے کہ اللہ چوہدری کو صحت و تندرستی دے اور وہ جلد از جلد صحت یاب ہو کر ہمارے افطار کا بندوبست بھی کر سکیں گرچہ ان کے اس ضمن میں حالات و واقعات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قوم یہود کے گائے کی قربانی کرنے پر تھے۔

Wednesday, 25 March 2015

بیمار کا حال اچھا ہے۔

8 comments
تیمار داری ہماری معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی اقدار میں بہت اہم درجہ رکھتی ہے۔ بچپن میں جب ہمارے بڑے کسی کی تیمارداری کرنے کو جایا کرتے تھے تو کبھی ہمیں بھی ساتھ لے جاتے۔ ہماری حاضری  اس پورے قصے میں ایک خاموش تماشائی سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔   مریض چاہے کوئی ہو،  منظر عمومی طور پر ایک جیسا ہی ہوتا تھا۔ موسم کے مطابق اس میں چند ضروری تبدیلیاں ہوتی تھیں،  باقی چیزیں یکسانیت کا ہی شکار ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر ہر منظر میں بیمار  لیٹا ہوا ہوتا  تھا۔آپ کہیں گے لیٹا ہی کیوں، بیٹھا ہوا کیوں نہیں؟ تو خدا لگتی یہی ہے کہ اوائل عمری میں ہم نے کبھی بیٹھا ہوا بیمار دیکھا ہی نہ تھا۔ یا شاید ہمارے ذہن میں یہ بات سما گئی تھی کہ جو اٹھ کر بیٹھا سکتا ہے وہ کاہے کا بیمار۔ سردیاں ہوتیں تو اس کی چارپائی کے نیچے ایک انگیٹھی دہک رہی ہوتی تھی۔ ایک آدھ آدمی اس کا سر یا پاؤں دبانے پر مامور ہوتا۔ گرمیاں ہوتیں تو پانی پٹی کا بندوبست ہوتا اور وہی خدمت پر مامور آدمی دبانے کا فریضہ چھوڑ کر پٹیاں کرنے پر مامو ر ہوتا تھا۔ مریض عمومی باتوں کے جوابات خود دیتا اور تشخیص کے متعلق جوابات کے لیے خدمت پر مامور آدمی کو زبان  ہلانے  کا اشارہ کر دیتا۔ درجہ حرارت چاہے سو ہی مشکل سے ہو مریض وقفے وقفے سے ہائے ہائے کے نعرے بلند کرتا رہتا۔ یہ ہائے ہائے بھی موسمی اثرات کے زیر اثر ہی ہوتی تھی۔ مثلاً اگر زکام یا کھانسی کا موسم ہے تو وقفے وقفے سے کھانسا جاتا رہے گا۔ ابکائی کو بہت اہمیت حاصل تھی تاہم اگر ابکائی کے لیے الٹا ہوجانے پر بھی ابکائی نہیں آتی تو خدمت پر مامور آدمی کا یہ بھی فریضہ ہوتا تھا کہ وہ کہتا رہے  کچھ کھایا تو ہے نہیں دو دن سے، ابکائی کہاں آئے گی۔ یرقان کی صورت میں مریض آپ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھے گا کہ آپ اس کی آنکھوں کا پیلا پن دیکھ سکیں۔ جبکہ ضعفِ معدہ کی شکایت کی  صورت میں ایک ہاتھ مستقل طور پر پیٹ پر دھرا رہے گا۔   نیلی پیلی دوائیاں اکثر چارپائی پر سرہانے کے ساتھ ہی دھری ہوتی تھیں۔  کسی بھی تیمار دار کی آمد پر مریض یہ ضرور بتاتا تھا کہ فلاں دوا بےحد کڑوی ہے اور اس کے باعث اس کا حلق ایسا  کڑوا ہے کہ شہد بھی کڑوا محسوس ہوتا ہے۔ تیمار دار بزرگ ہر بیماری کو معدے کی خرابی کا ہی شاخسانہ سمجھتے اور چند دیسی نسخے  لازمی بتاتے جن کو اختیار کر کے معدے کی بیماریوں کو زیر زمین  دفنایا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کہ بیماری دفنانے کی بات ہو رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ اکثر ایسے نسخے ہی ہوا کرتے تھے جن کا نتیجہ "مریض رہے نہ رہے مرض نہیں رہے گا" کی صورت ہی نکلتا تھا۔  ہماری دلچسپی بزرگوں کی دوسروں کے لیے تجویز کردہ دوائیوں کی بجائے  ان کی اپنی دوائیوں میں ہوا کرتی تھی۔  کسی بزرگ کو حکیم نے خمیرہ گاؤ زبان صبح شام کھانے کی تاکید کی ہوتی تھی تو کوئی آلو بخارے کا شربت شکر گھول کر پیا کرتا تھا۔ کسی کے پاس گلقند سے گندھی ہوئی چاندی کے اوراق میں کوئی معجون ہوتی تو کوئی مزے دار قسم کی حریرہ جات کھا کر اپنی بیماری کو سکون پہنچایا کرتا تھا۔ اور ہم اکثر ان دوائیوں کی قزاقی اپنا فرض سمجھتے جن کی بزرگ  اپنے مرض سے بھی زیادہ حفاظت کیا کرتے تھے۔   ہمیں وہ ساری باتیں یاد نہیں رہیں جو بڑے اور مریض آپس میں کیا کرتے تھے۔ وہ ہوا لشافی کے نعرے اور رندھی ہوئی آواز میں دعائیں، سب کچھ ذہن  سے محو ہوتا گیا ،  البتہ تیمار داری کا جذبہ جوں کا توں قائم رہا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے محسوس کیا کہ ایک تیمار دار ہمارے اندر ناصرف زندہ ہے بلکہ انتہائی شدت سے زندہ ہے۔ اگر کبھی کچھ عرصہ کسی کی تیمارداری نہ کرتے تو یوں محسوس ہوتا کہ نشہ ٹوٹ رہا ہے، روزوشب میں ایک کمی سی ہے۔ لیکن دنیا نے اپنے طور طریقے بدل لیے ہیں۔ رویوں میں تبدیلی آنے کے سبب تیمارداری کی روایت بھی اپنی اکھڑی سانسوں کے ساتھ اپنے وجود کو قائم  رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اوّل تو وہ بیماری کا بتانے اورتیمارداری کے لیے جانا ایک طرز کہن ٹھہرا تھا۔ تاہم اگرکبھی ہم  تیمارداری کرنے پر تل ہی جاتے تو مریض ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ وہ مریض نہ رہے تھے جو ہر بات میں تین سے چار بار کھانس کر اپنا حال بتلایا کرتے تھے۔ کسی کا بازو بھی ٹوٹا ہوتا تو اپنے بازو ٹوٹنے کا قصہ بلغم زدہ آواز ہی میں سنایا کرتا تھا۔ بلکہ اس کے برعکس عموماً مریض بھلا چنگا ہوتا تھا۔ بلکہ اکثر اوقات تو اس کی صحت اور آواز کا کڑک  پن ہمارے اپنے لئے بھی قابل رشک ہوا کرتا تھا۔ تیمارداری کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔ اکثر اوقات تو اللہ شفا دینے والا ہے کہہ کر ہی تیمارداری ختم ہو جایا کرتی ہے۔

ایسے میں وہ حکیم و ڈاکٹر سے ملاقات و مرض کی تشخیص کا مشکل مرحلہ سنے ہوئے بھی مدتیں گزر جاتیں ہیں۔ کہاں کوئی روایتی مریض ملے اور کہاں ہماری تیماردار حس کی تسکین کا کوئی وسیلہ بنے۔ اس چکر میں ہم نے ہر کسی سے حال و احوال دریافت کرنا شروع کیا۔ گلی میں سبزی بیچنے کے لئے آنے والے ریڑھی بان سے لے کر دفتر میں اعلی عہدیدار تک۔ لیکن ہر جگہ سے ایک ہی جواب اللہ کا کرم ہے یا پھر ہلکا سا گلا خراب تھا؛ اب بہتر ہوں کی صدائیں سن سن کر مایوسی  اور تیماردار حس کی تشنگی  بڑھتی چلی جاتی۔ ہائے وہ منظر وہ بیمار اور وہ تیماردار۔ کیسے مزے تھے ہمارے آباء کے۔

بچپن میں ہم  اگر کبھی خاندان کی ایک  بزرگ خاتون  جو کہ  جوڑوں کی مریضہ تھیں  سے ان کا حال و احوال پوچھتے تو  ان کا بیان اس قدر مفصل و جامع ہوا کرتا تھا کہ وہ اکثر اس درد سے گزرنے والی کیفیات اور پٹھوں کے درد سے دیگر عضلات کی کارگردگی متاثر ہونے کا بھی بیان فرمایا کرتی تھیں۔ لیکن وائے ستم ہائے روزگار کہ فکر معاش نے اس قدر دور لا کھڑا کیا مدتوں ان سے ملاقات نہ ہوتی اور تیماردار حس یوں ہی تشنہ رہتی ۔ بارہا  دل کرتا کہ سب مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کرہفتہ بھر کی چھٹیاں لے کر ان کے پاس جایا جائے اور تیمارداری حس کو ابدی نیند سلا کر ہی واپس آیا جائے مگر گردش زمانہ کہاں کس کو اتنا وقت دیتی ہے۔ سو یہ حسرت بھی حسرت ہی  رہی اور  دوسری وجہ جو اس سفر میں حائل رہی وہ یہ  کہ اگر اس سے بھی تیماردار حس کو افاقہ نہ ہوا تو آخری امید کی ڈوری بھی ٹوٹ جائے گی۔ سو یوں ہی جعلی قسم کے مریضوں کا حال پوچھ پوچھ کر اپنے اندر کے تیماردار کی تسکین کا سامان کرتے رہے۔

جعلی قسم سے مراد ہماری یہ نہیں کہ مریض خدانخواستہ جھوٹا ہوتا ہوگا بلکہ انداز مریضائی سے ہے۔ کسی کا حال پوچھنے جو گئے تو وہ ہٹا کٹا اپنے گھر کے لان میں بیٹھا موسمی پھلوں سے دل بہلا رہا ہوتا تھا۔ یا پھر ہمارے ساتھ ہی چائے نوش فرما لیتا جو کہ سراسر آدابِ مرض کے خلاف ہے۔

آواز میں کھنک کسی عام صحت مند سے زیادہ ہوا کرتی اور چہرے پر ایک بشاشت کا تاثر پایا جاتا جو کہ ہر صورت میں تیماردار کے لئے ناقابل قبول ہے۔ موسمی پھلوں کے ہم مخالف نہیں لیکن ہمارے ہاں  دورانِ بیماری  پرہیزی روایات کے مطابق بیمار عموماً سیب ہی سے دل بہلاتا تھا یا بہت لطف لیا تو گاجر کے جوس میں ایک آدھا کینو مالٹا ڈال کر پی لیا۔ لیکن یہاں تو اس روایت کا پاس رکھنے والے بھی نہیں  رہ گئے۔ لاہور قیام کے دوران جب  ہم کچھ احباب کے ساتھ رہائش رکھتے تھے تو انہی دنوں ایک دوست بیمار ہوگئے۔ دل کو تسلی ہوئی کہ اب ہائے ہائے کے نعرے لگیں گے۔ گرمیوں کے دن تھے  سو موسم   کے حوالے سے دارو پٹی کا سامان مکمل کرنے کا سوچا۔ ایسے میں وہ مریض موصوف انتہائی گرج دار آواز میں بولے کہ میرا خیال ہے کہ فلاں و فلاں و فلاں دوائی کھانے سے مجھے آرام آجائے گا۔ اس بات سے ہماری بڑی دل شکنی ہوئی۔ کہاں وہ حکیم و ڈاکٹر کے پاس جاتے، کہاں خود کو یہ حکیم جالینوس سمجھ بیٹھے ہیں۔ ابھی یہ دھچکا ہی کم نہ تھا کہ دوبارہ حکم دیا مجھے آم لا کر دیے جائیں۔ بس معاملہ ہماری برداشت سے بہت اوپر ہو چلا تھا۔ ہم نے کہا یہ کون سا مریض ہے جو سیب کی بجائے آم کی فرمائش کر رہا ہے۔ اس کی بیماری ہی جھوٹی ہے اور اس کی نیت خراب ہے۔ گو کہ نیتوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے لیکن ایسے موقعوں پر ہم نیتوں کا حال پرکھنے کا اپنا فن ضرور استعمال کیا کرتے تھے۔ اس واقعے سے تیماردار طبع کو کافی زک پہنچی اور مدتوں کسی کی تیمارداری کرنے کو دل نہ چاہا۔

بعض اوقات ایسا ہوتا کہ کسی دفتری ساتھی کی ناسازی طبیعت کے بارے میں علم ہوتا تو ہم فوراً فون کر لیتے۔ لیکن دوسری طرف سے ایک ہشاش بشاش آواز  سن کر اپنی طبیعت کی ناسازی کا گمان  ہوجاتا۔ ایسے میں ایک بار ایک دفتری ساتھی جب ہفتہ بھر دفتر سے  غائب رہا  تو دل کو یک گونہ اطمینان ہوا کہ شاید اب ہی وہ موقع ہے،  اب تیمارداری بنتی ہے۔ سو  اس کو فون کیا تو دوسری طرف سے ایک کھانستی اور بلغم زدہ آواز سنائی دی۔ حال پوچھنے پر جواب ملا مر رہا ہوں۔ لیکن ہائے تف ہے اس دنیا دار دل پر۔  جس نے اس کو ایک تماشا سمجھا اور اس کی بیماری کو ڈھونگ۔ ایسی آواز تو میں بھی نکال سکتا ہوں۔ ہم نے بیماری کی حقیقت جاننے کو حملہ کیا۔ اس پر وہ غضب ناک ہوگیا۔ لیکن آواز میں بلغم و کھانسی بدستور قائم رہی۔ بہت ہی پکا ڈرامہ باز تھا۔ واللہ اعلم ۔

شانِ نزول ڈرامہ بازی والی بات کی یہ ہے  کہ مشار الیہ ایک دن بیمار تھے۔ دفتری احباب کے توسط پتا چلا کہ آج تو بےحد بیمار ہیں۔ ہم حیران ہوگئے کیوں کہ ہر چیز ایک حد میں اچھی لگتی ہے،  اور بےحد والی چیزو ں میں کہیں بھی بیماری  کا تذکرہ  ہم نے نہ سنا اور نہ کہیں کبھی پڑھا تھا۔ اسی  شام کو ایک محفلِ یاراں کا بھی بندوبست تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ عشائیہ کے ساتھ پتے کھیلے جائیں گے، فلم  دیکھی جائے گی اور دورِ جدید کا حقہ بھی دستیاب ہوگا۔ متعین مقام پر جب ہم پہنچے تو  حیرت کا جھٹکا  لگا کہ جن صاحب سے عشائیے کی میز پر سامنا ہوا وہ کوئی اور نہیں وہی "بےحد بیمار" تھے۔ بیماری پیشانی سے بہہ کر باہر  برآمدے  تک جا رہی تھی۔ کچھ دیر اور بہتی رہتی تو شاید ایک آدھا صحت مند بھی اس دھارے میں لڑھک جاتا۔ ہم نے مؤدبانہ عرض کی۔
سنتے تھے وہ جو  آپ کی بیماری کیا ہوئی
کہنے لگے کہ بعدِ سحر کچھ سنبھل گئی
ہم نے کہا کہ کھائیے گا کیا جنابِ من
کہنے لگے  منگائیے ، پرہیز کچھ نہیں

آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس اذیت ناک جواب سے ہماری تیماردارانہ حس کو جو ٹھیس پہنچی ہوگی۔ ہمارا اعتبار دنیا کے ہر مریض سے اٹھ گیا تھا اور  ہم نے سوچ لیا کہ اب کسی سے حال و احوال پوچھا نہ کریں گے،  لیکن  پھر وہی بات کہ  " جس کو ہوبےحسی عزیز تیماردار کہلائے کیوں"۔

اسی قحطِ  مریضاں کے پرآشوب دور میں جب ہمارے اندر کا تیماردار خود بیمار ہو کر اس حال میں آپہنچا تھا کہ "مریض ہو سچا یا جھوٹا" تو خبر ملی کے ایک عزیز دوست بےحد بیمار ہیں۔ گاؤں سے تعلق ہونے کی وجہ سے یقین واثق تھا کہ یہ بیمار اب بیماری سے جڑی روایات کی مکمل پاسداری کرے گا لیکن میلوں دور ہونے کی وجہ سے صرف  نادیدہ تیماردای ہی ممکن تھی، سو خط کی طرح فون کو بھی آدھی تیمارداری پر محمول کیا۔  تیماردار حس کو جگایا۔ وہ تمام باتیں ذہن پر زور دے کر دہرائیں کہ اب ایسے ایسے کیا کیا بات ہوگی، کیا منظر ہوگا۔  ہمارا دوست  ایک کمرے میں بستر پر ہائے وائے پکار رہا ہوگا۔ سردیاں ہیں تو ایک انگیٹھی بستر کے نیچے دہک رہی  ہوگی  یا پھر شاید کوئی گیس کا ہیٹر جل رہا ہوگا۔  سرہانے کچھ نیلی پیلی دوائیوں کا ہجوم لگا ہوگا، جن سے مریض کو شبہ رہتا ہے کہ ان دوائیوں کی وجہ سے وہ نہیں بخار تندرست ہو رہا ہے۔

ایک مکالمہ سا ذہن میں بنتا چلا گیا
راقم: السلام علیکم
رائے :  وع لی کم ال سل ام
راقم: تمہاری بیماری کے بارے میں  سُنا، کہو کیسی طبیعت ہے؟
رائے : مجھے  شک تھا کہ تمہارا ہی فون ہوگا۔ بس کچھ نہ پوچھو، مر رہا ہوں۔
راقم: اوہ تمہاری آواز سے بیماری کی شدت کا اندازہ ہورہا ہے۔ بخارکیا ٹوٹنے میں نہیں آرہا۔
رائے : بس کہتے ہیں کہ بیماری سے گناہ جھڑتے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ ٹنڈ درخت ہی رہ جائے گا اور  سب گناہ جھڑ جائیں گے۔
راقم: گویا حاجی ہونے لگے ہو۔
رائے:  ہائے کافر۔۔۔ مجھے یہاں فرشتے نظر آرہے ہیں۔ اور تجھے شوخیاں سوجھ رہیں ہیں۔ اللہ دشمن کو بھی تجھ سا دوست نہ دے۔
راقم: دل چھوٹا مت کر، اللہ شفا دینے والا ہے۔
رائے: اللہ ہی شفا دے تو دے، ڈاکٹروں حکیموں کے بس کی بات تو نہیں لگتی۔
راقم: تم گئے تھے ڈاکٹر کے پاس؟ کیا کہتا؟
رائے:میاں وہ تو خود دوراہے کا شکار ہے۔ کبھی کہتا ٹائیفائیڈ ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ نمونیا ہے۔ اب اللہ ہی جانے۔ کبھی کوئی دوائی تھما دیتا ہے تو کبھی کوئی۔ ایک یہی فقیر ذات ملی تھی اس کلموہے کو اپنے تجربات کے لئے۔
راقم: پریشان نہ ہو  میں نماز جمعہ کے بعد واعظ کو خاص دعا کرنے کے لیے کہوں گا۔
رائے: ہاں  ضرور۔ لیکن بڑی مسجد سے ہی دعا کروانا،  وہ مینار والی سے۔ یہ چھوٹے محلے کی مسجد کا مولوی بھی چھوٹا ہے۔ جس دن سے دعا کا کہا ہے اور بیمار ہوگیا ہوں۔ لگتا  ہے اس کےگناہ بھی میری بیماری سے ہی جھڑیں گے۔
لیکن ہائے حوادثِ زمانہ۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔ ہمارے دوست کو بھی شہر کی شہری ہوا نے تمام پرانی قدروں کا باغی بنا دیا تھا ۔ آواز تو ایک طرف اس کافر نے تو ہمیں ایسا مایوس کیا کہ گویا آداب مریضاں سے بھی ناواقف  تھا۔ ہائے ہائے۔ دوڑو بیمار چال عزین بولٹ کی چل گیا۔

فون جو کیا تو دوسری طرف سے  کراری سی آواز سنائی دی۔
وعلیکم السلام:
راقم: حیران ہو کر! تمہاری  بیماری کے متعلق اطلاع ملی تھی۔
رائے ایک ہی سانس میں: ہاں وہ کچھ بیمار رہا تھا؛  اب ٹھیک ہوں،  تو سنا کدھر موجیں مار رہا ہے۔
راقم: کیا تشخیص کیا ڈاکٹر نے؟
رائے: چند ٹیسٹ لکھ کر دیے اور پھر کہا ٹائیفائیڈ ہے، کچھ سٹیرائیڈز بھی لکھ  کر دیے تھے۔ اب سب اللہ کا کرم ہے۔
راقم: کچھ نقاہت محسوس ہوئی یا پرہیز کر رہے ہیں؟
رائے : اوہ نہیں یار۔ میں تو یہاں گَلی میں لڑکوں کو گُلی ڈنڈا کھیلتے دیکھ رہا ہوں۔ اس کھیل کو دیکھنا بھی بہت صحت مندانہ اقدام ہے۔

ہمارے اندر کے تیماردار پر سکرات طاری ہو گئی۔

Tuesday, 17 February 2015

باکمال بزرگ - قسط ششم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

0 comments

ہم دوستوں کی مجلس میں ان بزدل ڈاکوؤں اور تایا جی کی دیدہ دلیلی کا بڑا تذکرہ رہا ۔ چند ایک احباب کا خیال تھا کہ بزرگ نے فقط زیب داستاں کے لیے بات بڑھا دی ہے۔ الغرض چاہے کسی کو یقین آیا یا نہیں لیکن سب بزرگ کے انداز گفتگو اور بیان کی چاشنی کے لطف میں کھوئے رہے۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی جب کہرا سرِشام ہی کھیتوں کو اپنے دبیز آنچل میں چھپانے لگا تو ہم سب یار دوست دوبارہ چوپال کا رخ کرنے لگے۔ ایسی ہی ایک شام میں عشاء کے بعد جب سب ایک انگھیٹی جلا کر اس کے گرد بیٹھے ہاتھ تاپ رہے تھے، مجلس یاراں میں مونگ پھلی اور گپ شپ سے دل بہلایا جا رہا تھا کہ اتنے میں بزرگ بھی چوپال میں تشریف لے آئے۔ ہم جوانوں نے فورا ان کے لیے جگہ خالی کی اور ان کو گھیر لیا۔ باتیں چلنی شروع ہوئیں تو گردش زمانہ کے باعث گرانی کا موضوع بھی زیرگفتگو آگیا۔ اس پر بزرگ نے کہا کہ میاں! یہ گرانی اشیاء صرف تمہارے دور کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ہر دور میں اس کا رونا رہا ہے۔ ہمارے اسلاف ہمیں کہا کرتے تھے کہ اب بہت مہنگائی ہو گئی ہے اور ہم یہ چیزیں ان ان قیمتوں میں خریدا کرتے تھے۔ اور ہماری حیرت دیدنی ہوا کرتی تھی بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے دور میں ضروریات زندگی کی قیمتیں سن کر تمہارے دیدہ حیراں قابل دید ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ ہمارے دنوں میں یوں نفسا نفسی کا عالم نہ تھا۔ بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا تھا۔ اس پر دوسرے بزرگ کے چہرے پر بڑی شرارتی سی مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ ایک نوجوان فوراً ان کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔ لگتا ہے آپ کو اس رضاکارانہ کام سے جڑا کوئی دلچسپ واقعہ یادآگیا ہے۔ تو وہ بزرگ ہنس پڑے۔ اور اس کے بعد انہوں نے پہلے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ مجھے اس کے رضاکارانہ کام سے جڑا ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ یاد آگیا ہے۔ پہلے بزرگ نے خالی نظروں سے انہیں دیکھا تو بزرگ نے اشارہ دینے کو کہا۔ یاد کر! جب وہ گورکن کا کام رضاکارانہ طور پر شروع کیا تھا۔ اس پر پہلے بزرگ قہقہے لگا لگا کر ہنسنا شروع ہوگئے۔ ہم سب کا تجسس بہت بڑھ چلا تھا سو ساری باتیں پس انداز کر کے اس واقعے کو سنانے کیفرمائش شروع کر دی گئی۔اس پر آخرِکار ان بزرگ کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور وہ واقعہ سنانے پر آمادہ ہوگئے۔

یہ واقعہ جو میں تم کو سنانے جا رہا ہوں یہ ہمار ے مکتب کے دور کی یاد ہے۔ میں اور یہ (دوسرے بزرگ کی طرف اشارہ کر تے ہوئے) نہم کلاس کے طلباء تھے۔ پڑھائی میں ہم درمیانے درجے کے تھے لیکن شرارتوں میں ہم اول درجے کے شیطان مشہور تھے۔ ہم دوستوں نے اس شہرت کا تفصیلی جائزہ لیا اور سوچا کہ ایسا کون سا کام کیا جائے جس سے یہ ساری شہرت ہماری نیک نامی میں بدل جائے۔ اس پر ایک نے کہا کہ گاؤں میں جب بھی کوئی فوت ہوجاتا ہے۔ تو قبر کھودنے کا مرحلہ کافی مسئلہ بن جاتا ہے سو اسی سلسلے میں ہم چار دوستوں نے مل کر ایک رضاکارانہ جماعت کی بنیاد رکھی کہ گاؤں میں کوئی بھی فوت ہوگا تو اس کی قبر ہم جا کر کھود آیا کریں گے۔ جب بھی کسی کے فوت ہونے کا اعلان گاؤں کی مسجد سے ہوتا ہم چاروں دوست بیلچہ کدال لے کر قبرستان کا رخ کرتے اور قبر کھود دیا کرتے تھے۔ ہمارے اس کام کو بڑے چھوٹے ہر کسی نے بہت سراہا جب تک یہ واقعہ نہ ہوا تھا۔

ہمارے ریاضی کے استاد بہت محنت اور لگن کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے لیکن تھے بہت سخت گیر۔ کام نہ کرنے پررتی برابر رعایت نہ کرتے اور روئی کی طرح دھنک دیا کرتے تھے۔ تمام طلباء بشمول ہمارے ان سے ڈرتے تھے۔ اور مکتب کے باہر اگر کبھی ان سے سامنا ہوجاتا تو آنکھ بچا کر نکل جانے میں ہی عافیت سمجھا کرتے تھے۔ ایک دن میرا استاد محترم کے گھر کے باہر سے گزرنا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کہرام سا مچا ہے۔ بہت سے لوگ گھر کے اندر آ جا رہے ہیں۔ میں نے ایک کو روک کر ماجرا پوچھا۔ تو اس نے کہا کہ استاد محترم کی طبیعت بہت خراب ہے۔ شاید ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے۔ یہاں تک رہتا تو بات ٹھیک تھی۔ لیکن اس ظالم نے مجھ سے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا خیال ہے اب بچ نہیں پائیں گے۔ میں نے فوراً اپنی رضاکارانہ جماعت کو اکھٹا کیا اور جا کر قبرستان میں ایک قبر کھود ڈالی۔ ادھر جب ہم قبر کھودنے میں مصروف تھے گاؤں کے لوگ کچھ سواری کا بندوبست کر کے استاد محترم کو قریبی ہسپتال لے گئے۔ بروقت طبی امداد نے زندگی بچانے میں مدد کی اور استاد محترم کچھ وقت کے بعد گھر واپس لوٹ آئے۔ ہمارا حال پوچھو تو ایسے کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ پورے گاؤں میں یہ بات پھیل گئی کہ ان چاروں نے تو قبر بھی کھود دی ہے۔ اور وہ تجزیہ نگار عین موقع پر یوں اپنی بات سے پھر گیا جیسے الیکشن جیتنے کے بعد نو منتخب وزیر اعظم پھر جاتا ہے۔ اس کے بعد استاد محترم کافی عرصہ تک حیات رہے لیکن جتنا عرصہ بھی حیات رہے ہم کو ایسی منتقمانہ نگاہوں سے گھورتے رہے جیسے وہ ہماری قبر کھود کر اپنی منتقم حس کی تسکین کا سامان کرنا چاہتے ہوں۔

Thursday, 1 January 2015

سالِ رفتہ

5 comments
ایک اور سال اختتام پذیر ہوگیا۔ ابھی کل ہی کی بات لگ رہی ہے کہ میں کہروا لکھ رہا تھا۔ کہ ابھی ایک اور دھند میرے روز و شب پر چھائی جاتی ہے۔ کہار اس سال کی ڈولی کو اٹھانے آپہنچے ہیں۔ ان کے لبوں پر وہی وقت کے اڑتے جانے کے گیت ہیں اور میں اس سوچ میں گم ہوں کہ یہ سال کیسا رہا۔ اچھا یا برا؟
آغاز سال تو مجھے یاد نہیں۔ شاید ایسی کوئی جنوری کی صبح ہوگی۔ پہلے چند مہینے بھی یاد نہیں۔ پتا نہیں میں ان مہینوں میں زندہ بھی تھا یا نہیں۔ بس گزر گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے پاس ان کی ایک پرچھائیں تک نہیں۔ ہاں میری دادی امی کی وفات کا دن مجھے یاد ہے۔ میں جنازے پر نہ پہنچ پایا۔ یہ بھی یاد ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو قبر پر پھول بکھرے تھے۔ اور گیلی مٹی کی خوشبو بتا رہی تھی  کہ ایک نیک روح نے اس کے اندر اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ 
سیاسی رہنماؤں کی بدعنوانی اور بدکرداری تو خیر اس سال نئی نہ تھی۔ وہی چند کھال نوچنے والے بھیڑیے جو ہم پر مسلط رہے اور رہیں گے۔ بس فرق صرف یہ پڑا کہ اس سال ان بھیڑیوں نے جو اپنی بھیڑ کی کھالیں پہن رکھی تھیں۔ وہ اتار لیں۔ لاہور میں جامع منہاج پر ظلم کرنے والوں کی ڈھٹائی اور بےغیرتی تو پوری قوم نے دیکھی ہی۔ تھر میں بچوں کے مرنے پر  نامعلوم افراد کے ایک پسر افضل کا بیان دیکھنے والا تھا۔ 
مجموعی طور پر یہ سال غم کا سال رہا۔پہلے سانحہ لاہور پھر   غزہ پر بربریت کی خبریں۔ پھر نام نہاد مسلمانوں کی پاکستانی بچوں پر ظلم کی خبریں۔ ایک دلیر بچہ اعزاز حسین ۔۔۔ جس نے خودکش بمبار کو معصوموں کی جان سے نہ کھیلنے دیا۔ اور اس کے بعد چند کتوں بھیڑیوں سے بدتر انسان نامی مخلوق نے پشاور میں جو ہلاکو و چنگیز و فرعون کی روحوں کو شرما دیا۔ اسی شام یمن میں معصوم بچیوں کو دھماکے سے اڑانے والا جانور بھی دیکھنے میں آیا۔  
الغرض یہ ایک ایسا سال تھا جس میں قوم کے پاس بیدار ہوجانے کے بےا نتہا مواقع تھے۔ الحاد کا پیراہن اتار پھینکنے کے بےشمار بہانے تھے۔ لیکن ہائے افسوس کاررواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ وہی بدحالی وہی بدامنی اور وہی بدعنوانی اپنے جبڑے کھولے نئے سال کے روز وشب نگلنے کو ہے۔ راستی تلاش کرنے والوں کے پاس سر ریت میں دبانے کے علاوہ کوئی اور راہ نہیں رہی ہے۔ اور ہم یعنی عوام  ان مسائل کا ادراک کیے بغیر اپنی اپنی مسلکی و سیاسی وابستگیوں کے پیش نظر فی سبیل اللہ فساد کے لئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ 
میں اس نئے سال میں اس ملک و قوم کے لئے وہی ایک رٹی رٹائی دعا دہرانے کو ہوں۔ جو ہر کوئی اسی بد دلی سے ہر سال دہرا دیتا ہے۔ لیکن میری خواہش ہے کہ اس سال ہم بس دعاؤں کو ہاتھ اٹھاتے ہی نہ رہیں۔ ہم کوئی کام بھی کریں۔ اپنے اپنے دائرے میں بہتری لائیں۔ تمام لسانی، مسلکی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اس ملک کی بھلائی کی کوشش کریں۔ صرف یہ ہی ایک واحد حل ہے جس سے ہم اس نئے سال سے مرہم کا کام لے سکتے ہیں۔ وگرنہ اگلے سال جنوری میں پھر حزن و ملال کی تصویر بنے اسی ناختم ہونے والی سیاہ شب کی داستان پھر سے لبوں پر ہوگی۔

Monday, 22 December 2014

کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے

5 comments
میں گزشتہ  دنوں سے غم و غصے کی جس کیفیت میں ہوں شاید میں اس کو الفاظ میں کبھی بھی نہ ڈھال سکوں۔ خدا گواہ ہے کہ جب میں سوشل میڈیا پر انا للہ و انا الیہ راجعون لکھ رہا تھا تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ایک لہر تھی جو میرے پورے وجود میں دوڑ رہی تھی۔ میں اس کو غم سمجھ رہا تھا۔ لیکن مجھے احساس ہوا  کہ یہ نفرت کی لہر تھی۔ جو میرے پورے احساسات اور وجود پر حاوی ہو گئی تھی۔ نفرت اور اس قدر شدید نفرت۔ مجھے اپنے آپ سے الجھن ہو رہی تھی۔ اپنی حلیم طبع مجھے بار محسوس ہو رہی تھی۔ میری مروت اخلاق لحاظ داری سب کچھ ایک جھٹکے میں اتر چکا تھا۔ میں ہذیان بک رہا تھا۔ اور بکے چلے جا رہا تھا۔ لعنت و ملامت کا جو دورہ مجھے پڑا تھا اس سے مجھے چھٹکارے کی کوئی صورت ابھی تک نظر نہیں آرہی۔ خود پر ملامت، ان اہلکاروں پر ملامت جو اپنی مصروفیتوں میں اس قدر مگن تھے کہ انہیں خبر نہ ہوئی۔
 لوگ کہتے ہیں کہ اور قیامت کس کو کہتے ہیں۔ کیسی ہوگی قیامت۔ مگر مجھے لگ رہا   کہ قیامت کہ دن تو کوئی کسی کو نہ مارے گا۔ کوئی بھی نہ مرے گا۔ سب زندہ کیے جائیں گے۔ تو پھر یہ کیسی قیامت ہے کہ جس میں لوگ مارے جا رہے ہیں۔ نہتے بچوں پر کچھ بیسواؤں کی اولادیں اپنی نشانہ بازی کی مشقیں کر رہی  ہیں۔ عورتوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ شیطان کے پجاری ننگا ناچ رہے ہیں۔ 
دفتر میں روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھے ہم کہ چائے پینے جب کیفے میں آئے تو سامنے ٹی وی پر دردناک مناظر نظر آنے لگے۔ اس کے بعد خبریں ملنا شروع ہوئیں۔ اور دل کا وہ عالم ہواکہ "اشکوں سے بحر ہوگیا صحرا نہیں رہا"۔ اس کے بعد کام میں دل نہ لگا۔ شام کو گھر آتے ہی نصف بہتر کو دیکھا جو اپنے باورچی خانہ  کے کاموں میں الجھی تھی۔ دونوں بچے سب سے بےفکر ایک دوسرے سے لڑائی میں مصروف تھے۔ کبھی ایک کھلونے پر لڑائی جاری ہے۔ تو کبھی دوسرے پر۔ میں نے نصف بہتر سے کہا کہ آج پشاور میں جو کچھ گزرا ہے۔ قیامت کا لفظ بھی مجھے چھوٹا لگ رہا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیا ہوا۔ مجھے تو آج پورا دن ٹی وی دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا،  کیا ہوا ہے؟ تفصیل بتائیں۔ آپ بچوں کو سنبھالیں اب۔ یہ سن کر میرا درد اور بھی بڑھ گیا۔ کتنی ہی مائیں ہوں گی جو اپنے بچوں کو اس دن اسکول بھیج کر مطمئن ہو گئی ہوں گی۔ اپنے کام کاج میں پتا نہیں انہیں خبر بھی ملی ہوگی کہ نہیں کہ ان کا لخت جگر کچھ انسان صورت کتوں کے ہاتھوں شہید ہوچکا ہے۔ پتا نہیں کب انہوں نے بھی ٹی وی چلایا ہوگا۔ شاید کسی ہمسائے نے آکر بتایا ہو کہ آج اس اسکول پر یہ قیامت گزر گئی۔ لوگ کیسے بھاگے ہوں گے۔ باپ بھاگا ہوگا۔ میرا بچہ بھی تو وہیں پڑھتا ہے۔ میں دیکھوں۔ اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی۔ کبھی ایک بچے کو دیکھتا۔ کبھی دوسرے کو۔ میری آنکھوں کی روشنی ان سے ہے۔ میرے والدین کی آنکھوں کی روشنی مجھ سے ہے۔ کیسے کوئی ظالم ہوگا جو ان روشنیوں کو بجھا دے گا۔ اولاد تو سرمایہ ہے۔ روشنی ہے۔ راستہ ہے۔   دل کٹتا جاتا ہے۔ جتنا سوچتا ہوں تلافی ممکن نہیں نظر آتی۔ کتابوں میں پڑھا تھا کہ فرعون بڑا ظالم تھا۔ بچے مار دیتا تھا۔ ہلاکو خان چنگیز خان نے سب کو مارا۔ لیکن یوں بھی کسی نے کبھی مارا ہوگا۔ مجھے تو ان طوائف زادوں میں سے کسی کا نام بھی نہیں آتا، کہ فرعون ، ہلاکو خان اور  چنگیز خان کے مقابل پیش کر سکوں۔ دیکھو اسی بات پر تم اتراتے تھے کہ تم سے زیادہ ظالم کوئی تاریخ میں نہ آئے گا۔ آج چند افراد اٹھے ہیں جنہوں نے تمہارے ظلم کو دھندلا دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ مجھے ان کے نام نہیں آتے۔ وگرنہ میں لکھتا اور اپنی آنے والی نسلوں کو تاکید کر کے جاتا کہ دیکھو ان ناموں میں کوئی نام اپنے آنے والے بچوں کہ نہ رکھ دینا۔ کہ ان سے منسوب انسان نما جانوروں پر تمام قوم کی لعنت ہے۔ 
وقت تو یہ ہے کہ ہم سب ہتھیار اٹھا لیں   ان جنونی درندوں کتوں کی مخالفت میں۔ جو نہ صرف انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں۔ بلکہ جنہوں نے مذہب کو بھی اس قدر بدنام کر دیا ہے کہ لوگ اب خود کو مسلم کہتے ہوئے سر جھکا لیتے ہیں۔ ان پیسے کے لئے بکنے والے کتوں نے نہ انسانیت کا پاس رکھا اور نہ مذہب کا۔ مذہب سے تو خیر ان کا تعلق تھا ہی نہیں لیکن انسانیت تو سب کے لئے ایک جیسی رہتی ہے۔ اس سے بھی منہ موڑ لیا۔ 
ہمارا یہاں دل پھٹ گیا ہے۔ لوگ ابھی تک غم و غصے اور نفرت کی لہر سے باہر نہیں آئے۔ تو وہ گھرانے جن پر یہ قیامت بیت گئی۔ جو ان  خون آشام درندوں کی درندگی کا شکار ہوگئے۔ وہاں کیسی صف ماتم بچھی ہوگی۔ دیکھنے کی ہمت نہیں۔ سننے کی تاب نہیں۔ کاش شتر مرغ ہوتے ہم ۔ کاش ہم بھی ریت میں سر دبا لیتے۔ کاش۔ کاش کاش۔۔۔۔۔ اب تو بس ایک ہی خواہش ہےکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے یہ تمام شیطان کے کارندے اپنے انجام کو پہنچیں۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے۔۔۔

Wednesday, 10 December 2014

اوّلیں چند دسمبر کے (محترم و مکرم امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ)

8 comments
اوّلیں چند دسمبر کے 
(امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ)

اوّلیں چند دسمبر کے
ہربرس ہی عجب گزرتے ہیں
انٹرنٹ کے نگار خانے سے
کیسے کیسے ہنر گزرتے ہیں
بے تکے بےوزن کلاموں کی
محفلیں کئی ایک سجتی ہیں
میڈیا کے سماج سے دن بھر
کیسی پوسٹیں پکارتی ہیں مجھے
"جن میں مربوط بےنوا گھنٹی"
ہر نئی اطلاع پہ بجتی ہے 
کس قدر پیارےپیارے لوگوں کے 
بد شکل بد قماش کچھ مصرعے
ٹائم لائن پہ پھیل جاتے ہیں
شاعروں کے مزار پر جیسے
فن کے سوکھے ہوئے نشانوں پر
بدوضع شعر ہنہناتے ہیں 
پھر دسمبر کے پہلے دن ہیں اور
"ہر برس کی طرح سے اب کے بھی"
بے طرب صفیں باندھتے ہیں یہ
"کیا خبر اس برس کے آخر تک"
شعر اور بےوزن سے مصرعوں سے
کتنے دل اب کے کٹ گئے ہوں گے
کتنے شعراء اپنی قبروں میں
پھڑ پھڑا کر اکڑ گئے ہوں گے
بےبحر شاعری کے جنگل میں
کس قدر ظلم ہوگئے ہوں گے
"ہر دسمبر یہ سوچتا ہوں میں"
"اک دن ایسا بھی تو ہونا ہے"
شاعری کے ہنر کو سونا ہے
بےبحر بے طرب یہ سارے شعر
کب عروض و بحر سمجھتے ہیں
بس دسمبر کی رٹ لگائے ہوئے 
سماجی میڈیا کو بھر دیا ہوگا
اور کچھ بےتکے سےمصرعوں سے
ایک دیوان چھپ گیا ہوگا

+Muhammad Ahmed  بھائی کا خاص شکریہ اس کو نکھارنے میں مدد کرنے کا۔ :)

Wednesday, 3 December 2014

پنجابی محاورات کی شرح۔۔۔ ایک عزیزی کے استفسار پر

3 comments


 آلکسیاں دے پنڈ وکھرے نئیں ہندے۔۔۔۔

یہ ایک ایسا محاورہ ہے جس میں زندگی کی بڑی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔چاہے طنز ہی کی صورت ، کہ سست لوگ بھی دیکھنے میں عام لوگوں جیسے لگتے ہیں۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ یہ چنے ہوئے افراد ہوتے ہیں۔ جو کہ کسی بھی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ سست اور کاہل لوگ سدا سے دوسروں کے لئے باعث حسد و رشک رہے ہیں۔ لوگ چاہ کر بھی سستی نہیں کر پاتے۔ کیوں کہ اس کے لئے جس حوصلہ برداشت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے عموماً وہ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا جب جب کسی آلکسی سے آشنا ہوتی ہے اس کو سمجھتی ہے شاید یہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہے۔ وگرنہ اس قدر حوصلہ ہمت و برداشت اللہ اللہ۔۔۔ "یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔" دوسری طرف وہ لوگ جو اپنی برق رفتاری پر نازاں ہوتے ہیں وہ اس مصرعہ کی صورت "پہلے تھے تیزروی پر نازاں اب منزل پر تنہا ہیں" خود کو محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ سچا آلکسی کبھی بھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ کاررواں کے اس معتبر اور ذمہ دار شخص کی طرح ہوتا ہے جو کہپیچھے پیچھے آتا کہ اگر کسی کی کوئی چیز رہ گئی ہو اور اپنی برق رفتاری میں کچھ عوامل کو نظرانداز کر گیا ہو تو اس کو احساس دلا سکے۔ لیکن بےلوث خدمت کے جذبے کودنیا کہاں سمجھتی ہے۔ امتیازی سلوک کر کے ہر قدم پر ان کو احساس دلاتی ہے کہ تم سست ہو۔ اور یہ بھول جاتی ہے کہ دنیا تو وجود ہی سستوں سے ہے۔ کیا ایک تیزرفتار مکھی ایک کچھوے کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ کہاں کچھوے کی عمر رواں، کہاں سمندر سمندر خشکی خشکی کے تجربات اور کہاں چند دنوں کی ایک زندگی جس کا ہرکام بنا سوچے عجلت میں۔
ہمارے ایک محترم دوست کا فرمانا ہے کہ کیا دنیا میں کاہلی سے بڑا بھی کوئی سچ ہے۔ حضور کی اس بات سے ہم اسقدر متاثر ہوئے تھے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک کوچہ آلکساں کی بنیاد رکھیں گے۔جو کہ عرصہ پہلے ہم نے رکھ بھی دی تھی۔ اور اس محاورے کو غلط ثابت کریں گے۔ دنیا کو بتائیں گے کہ ہر آدمی سست نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ آپ کے درمیان رہتا ہے۔ تو قدر کیجیے کہ بجائے اس کے وہ کوچہ آلکساں میں جابسے اور تمہاری بستیاں محض عجلت کی تصویر بن کر رہ جائیں۔اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ عجلت کن لوگوں کا کام ہوتا ہے۔

 آٹے دی بلی بناواں میاؤں کون کرے ۔۔۔۔

دھوکا دینا اور دھوکا کھانا انسان کی فطرت ہے۔ ہر دور انسانی میں انسان نے کچھ ایسے ہتھکنڈے ضرور ایجاد کئے رکھے ہیں جس سے وہ معصوم اور بھولے بھالے لوگوں کو بیوقوف بنا سکے۔ درج بالا محاورہ بھی ایک ایسے ہی دور کی ایجاد ہے جب انسانی عقل شعور کے کچھ مراحل طے کر چکی تھی۔ اور لوگ ظاہراً ہر بات دیکھ کر اس پر یقین نہ کیا کرتے تھے۔ بلکہ اس کے دیگر عوامل کے بارے میں سوالات کر لیا کرتے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب نقادی کے فن نے زور پکڑا اور ہر قسم کے کام کے لئے اس کے کچھ اصول وضع کر لئے گئے تھے۔
جس دور میں محاورہ ایجاد ہوا اس دور میں ٹھگی بہت عروج پر تھی۔ اور لوگ بہت ہی چھوٹی سی چیز کو بھی بڑی بتا کر عوام کو ٹھگ لیا کرتے تھے۔ لیکن محاورہ بنانے والے کے ذہن کے پاس سے بھی یہ بات نہ گزری کہ بلی گونگی بھی ہو سکتی ہے۔ بعد کے لوگوں نے جب گونگی بلیوں پر تحقیق کی تو اس کے بعد سے اس محاورے کی شہرت میں خاطر خواہ کمی آئی۔ چونکہ یہ محاورہ ٹھگی کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنے کے لئے بنایا گیا تھا کہ جب کچھ دھوکے کا کام کرو تو اس کے بنیادیلوازمات پورے کر لو۔ اور اس کا اطلاق عہد حاضر کی جدید ٹھگیوں پر نہیں ہوتا۔ جہاں پر ایک بات پر لوگ تیس تیس سال ایک ہی جماعت کو حکمران رکھتے ہیں۔ جبکہ نہ اس کے پاس بلی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ میاؤں کرتی ہے۔

 آئی موج فقیر دی لائی جھگی نوں اگ

عملی زندگی میں آپ کا بارہا ایسے لوگوں سے سامنا ہوتا ہے جو خوشی ہو یا غم نقصان اپنا ہی کرتے ہیں۔ سیاست کی زبان میں ان کو عوام کہتے ہیں۔ جبکہ کتابی زبانمیں اس کو موج میں آیا فقیر کہتے ہیں۔ دونوں صورت میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ عوام قرض و امداد کے ٹکڑوں پر پلتی ہے اور فقیر ان ٹکڑوں پر پلنے والوں کےٹکڑوں پر۔ لہذا دونوں جب خوش ہوں تو ایک ہوائی فائرنگ کر کر کے آتش بازی کر کر کے اپنے ہی گھر جلا لیتا ہے۔ دوسرا جس کے پاس کچھ خریدنے کو نہیں ہوتاوہ کہیں سے ماچس خرید کر آتش بازی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ گھاس پھونس ہی تو ہے دوبارہ جمع کر لوں گا۔ قصہ مختصر یہ ایک انتہائی عملی محاورہ ہے۔جس میںہمارے معاشرتی رویوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

 آدمیاں نوں آدمی ملدے نیں تے کھواں نوں کھو

اپنی طرف سے اس محاورے میں بہت ہی بڑا انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا مکافات عمل ہے۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ یہ تمام کتابیباتیں ہیں۔ بعض لوگ ساری عمر دھوکا دیتے ہیں اور پھر بھی وہ بیچارے جلاوطنی کی زندگی کے نام پر ہیرو رہتے ہیں۔کچھ بیویوں کے مقروض رہتے ہیں جبکہ ان کیبیوی کا کوئی کاروبار ہی نہیں ہوتا۔ بعض بیچارے اتنے غریب ہوتے ہیں کہ اپنے ملک میں مساجد میں بیٹھے رہتے ہیں۔ لیکن کاروبار باہر کے ممالک میں کرتے ہیںتاکہ اس ملک میں تبدیلی کا عمل شروع ہو سکے۔ اور تمام "آدمی" ان کنووں سے پانی نکلنے کی آس میں ان کے اردگرد جمع رہتے ہیں۔ الغرض یہ ایک ایسا بیکارمحاورہ ہے۔ جس کی عملی مثالیں عہد حاضر میں ڈھونڈنا بہت ہی مشکل ہے۔