Saturday, 29 December 2012

دلیر شاہ

6 comments
 دلیر شاہ سے میری پہلی ملاقات آج سے کوئی آٹھ سال قبل ہوئی تھی۔ وہ ہمارے اک انتہائی عزیز دوست  المعروف چوہدری کا دوست تھا۔ غائبانہ تعارف اس سے پہلے ہی سے تھا۔ ٹھہرئیے دلیر شاہ سے تعارف سے قبل اک واقعہ بزبان چوہدری سن لیجیئے۔
میں اپنے اک عزیز کے گھر آیا ہوا تھا۔ اب ٹھیک سے یاد نہیں شائد اسی دن یا اگلے دن شام کو اس نے کہا کہ  پاس ہی دوست رہتا ہے۔ اس سے ملتے ہیں۔ ذرا گپ شپ رہے گی۔ اور میں بھی ہوا خوری کے لالچ میں  ساتھ چل پڑا۔ مگر فلک نے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔ کچھ گلیوں سے ہوکر جب ہم نے اک گھر کے سامنے جا کر دستک دی۔ نکلنے والی شخصیت متاثر کن تھی۔ لمبا قد ۔ بعد میں پتہ چلا کہ موصوف کا قد چھ فٹ اک انچ ہے۔ سنہرے بڑے بڑے سلکی بال۔ اپنے علاقے میں اس رنگ کے بال دیکھ کر میں حیران ہو گیا۔ اور سفید رنگت۔ جو کہ ہم جیسے صحرا نشینوں کے لیئے یقینا باعث جلن تھی۔ باقاعدہ باڈی بلڈنگ سے تراشیدہ کسرتی بدن۔ جسم کی بناوٹ کو نمایاں کرنے کے لیئے شائد شاہ جی نے چھوٹے بھائی کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ انتہائی بلند آواز میں انہوں نے سلام کیا۔ ابھی کچھ ثانیے ہی گزرے ہونگے کہ گلی میں سات یا آٹھ لڑکے داخل ہوئے۔ اور  شاہ جی پر پل پڑے۔ میرا عزیز لڑائی میں شاہ جی کی طرف سے شامل ہوگیا۔ مجبوراً مجھے بھی اس شغل  میں کودنا پڑا۔ انکا پلڑا بھاری تھا۔ اور ہم برے نہیں تو شائد  اچھے طریقے سے پٹ رہے تھے۔ یکدم میرے حواس نے کام کیا تو دیکھا کہ میں اور عزیزم ہی پٹ رہے ہیں۔ شاہ جی غائب ہیں۔  میں نے فوراً ہاتھ اٹھائے اور نعرہ بلند کیا کہ میاں کس سے لڑائی ہے تم لوگوں کی۔اس پر وہ لڑکے بھی رک گئے۔ اور شاہ جی کو غائب پا کر بکتے جھکتے چلے گئے۔ ان کے جانے کے چند ہی پل بعد شاہ جی گھر سے کرکٹ کا بلا پکڑے نکلے۔ اور کچھ ناقابل اشاعت الفاظ کے ساتھ نعرہ بلند کیا۔ کدھر گئے؟ ہم نے عرض کی قبلہ ڈر کر چلے گئے ہیں۔ انکو پتہ چل گیا تھا کہ آپ  بہت مارنے والے ہیں۔  یہ ہماری دلیر شاہ سے پہلی ملاقات تھی۔
گرچہ یہ قصہ ہم نے پہلے ہی سن رکھا تھا۔ اس کے باوجود جب دلیر شاہ  ہمارے پاس رہنے کے لیئے آیا۔ اور ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو ہم بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اور چوہدری کی تمام باتوں کو خرافات گوئی ہی سے منسوب کیا۔ اپنی ہنسی مذاق کی عادت سے وہ بہت جلد ہم میں گھل مل گیا۔ اور ہم سب نے اسے سوہنے شاہ کا خطاب عطاء کیا جسے بعد میں دلیر شاہ سے بدل دیا گیا۔
دلیر شاہ کی کچھ نمایاں خصوصیات میں ہر پانچ منٹ بعد شیشے میں اپنے بازوؤں کے مسل دیکھنااور مدھم غنائیہ ہونا تھا۔ وہ سرگوشی بھی کرتے تو تین کمروں کے فلیٹ میں بیٹھا ہر شخص مستفید ہوتا۔ اس کا حل دلیر شاہ نے یہ نکالا کہ جس کے ساتھ کوئی خفیہ بات کرنی ہوتی اسے لے کر فلیٹ سے باہر چلے جاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دن کا بیشتر حصہ فلیٹ سے باہر گزارنے لگے۔  بعض متعصب لوگوں نے یہ بھی کہا کہ کئی بار فون پر بات کرتے ہوئے دوسری جانب سے کہا گیا ہے کہ فون بند کردو۔ آواز تو ویسے ہی آ رہی ہے۔ واللہ اعلم
دلیر شاہ کی زندگی یوں تو دلیری کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مگر چند اک آپ کے سامنے پیش ہیں۔  آپ چشم تصور سے ذرا لطف لیجئےاور سوچیئے کہ موجودہ دور میں اگر کوئی نجات دہندہ  ہوتا تو وہ دلیر شاہ ہی ہوتا۔
اک دن میں فلیٹ پر بیٹھا تھا۔ کہ کسی نے دروازہ پیٹ ڈالا۔ اٹھ کر دیکھا تو دلیر شاہ تھا۔ پسینے میں بھیگا ہوا۔ بال بکھرے ہوئے ۔ مجھے دروازہ بند کرنے کا کہتے ہوئے بھاگ کر اندر کے کمرے میں گھس گیا اور اندر سے کنڈی لگا لی۔ میں حیران و پریشان اس حالت کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف۔ تھوڑا وقت گزرنے کے بعد میں نے کمرے پر دستک دی اور کہا شاہ جی سب خیر ہے نا۔  دلیر  شاہ نے بڑا ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔ اور کہا کہ باہر کوئی آیا تو نہیں۔ میں نے کہا نہیں۔ یہ سنکر دلیر کی جان میں جان آئی اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے پانی لانے کو کہا۔ میں پانی کا گلاس لے آیا تو اک ہی سانس میں چڑھا گئے۔ اور سانس بحال ہونے کے بعد مجھے کہا کہ یار اب تمہیں واقعہ بتاتا ہوں۔ پر شرط یہ ہے کہ گل شہروں بار نہ جائے۔  لاہور کے بڑھتے ہوئے جغرافیے کے مدّنظر میں نے  فورا حامی بھر لی۔ اب دلیر شاہ نے  واقعہ بیان کیا کہ میں پیدل سامنے سڑک کراس کر کے آرہا تھا کہ نظر چند لڑکوں پر پڑی۔ ان سب کے کاندھوں پر بیگ تھے۔ اور منہ اٹھا کر سڑک پر لگے بورڈز پڑھ رہے تھے۔ مجھے پتہ نہیں کیا سوجھی۔ میں نے کہا۔ اوئے پینڈؤوشہر بتیاں ویکھن آئے او۔ یہ سنکر اک لڑکے نے کہا۔ پھڑ لو انوں۔۔۔ اور وہ سارے میرے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے۔ بڑی مشکل سے جان بچا کر یہاں پہنچا ہوں۔ رات کھانے پر تمام احباب کے سامنے یہ واقعہ رکھا گیا۔ اور ان لوگوں کی بزدلی کو خوب زیربحث لایا گیا کہ سب نے ملکر ایک پر حملہ کی کوشش کی۔ یعنی حد ہے۔ اکیلے اکیلے آتے۔  حسب وعدہ صرف لوگ شہرسے باہر گئے پر بات شہر ہی میں رہی۔
دوسرا واقعہ دلیری کا تب ہوا جب   ہم اک میوزک شو میں زبردستی گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ دلیر نے  لاٹھی چارج کے دوران پولیس والے کے ہاتھ سے لاٹھی چھین لی۔ اور اس کو مارنے کی بجائے لاٹھی اٹھا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس بھاگم بھاگ میں دلیر شاہ کا اک جوتا بھی وہیں رہ گیا۔  لیکن جوتے کی یہ قربانی  بھی دلیری کی مسند پر نہ بٹھا سکی۔  مگر پھر وہ   واقعہ پیش آیا جس کی بدولت دلیر شاہ کو دلیر شاہ کا خطاب ملا۔ بلاشبہ یہ اک معجزنما اور عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر بات تھی۔
ہمارا فلیٹ تین کمروں پر مشتمل تھا۔ جس میں  دو  کمروں میں بڑے بڑے شیشے کھڑکی کے نام پر نصب تھے۔ زمانہ طالبعلمی اور پردیس میں ہوتے ہوئے ہم کہاں پردوں کی عیاشی کے متحمل ہو سکتے تھے۔ سو بازار سے گفٹ پیپر لا کر گوند کے ساتھ شیشوں پر چپکا دیا۔ امتداد زمانہ کے باعث سامنے داخلی دروازے کے ساتھ کھڑکی سے تھوڑا سا  پیپر اک طرف سے پھٹ چکا تھا۔ مگر چونکہ ہمیں بے پردگی کا کوئی ایسا ڈر نہ تھا لہذا کسی نے بھی اس پر توجہ دینا وقت اور کچھ روپے کا ضیاع سمجھا۔ عید کے دن قریب آنے پر حسب معمول ہم لوگ نصف رمضان سے ہی گھروں کا رخ کر گئے۔ دلیر ان دنوں چونکہ برسرروزگار تھا سو چھٹی نہ ملنے کے سبب اسکو تنہا رکنا پڑا۔ یہ تنہائی کس قدر اذیت ناک ہو سکتی ہے۔ بارہا مہینہ مہینہ تنہا رہنے کے باوجود مجھے اسکا درک نہ تھا۔ جب تک کہ دلیر کے ساتھ یہ وقوعہ نہ ہوا۔
سب سے پہلے میری واپسی ہوئی اور داخل ہوتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ کھڑکی کے اوپر اک تولیہ بندھا ہوا ہے۔  مگر نہ تجسس کوئی بیدار ہوا اور نہ ہی میں نے اس تولیے سے پوچھا کہ ائے تولیے تو ادھر کیوں لٹکا ہوا ہے۔ تجھے کون باندھ گیا ہے یہاں۔ کچھ دنوں میں سب احباب جمع ہوگئے سوائے دلیر کے جو عید کے بعد چھٹیاں کر کے عید منا رہا تھا۔ ہر کسی نے تولیے کے اس طرح باندھے جانے پر حیرانگی کا اظہار تو ضرور کیا۔ مگر کسی نے اسے اتارا نہیں۔ آخر وہ دن بھی آن پہنچا جس دن دلیر شاہ صاحب کی ذات بابرکت کی تشریف آوری ہوئی۔ رات کھانے کے دوران یونہی باتوں باتوں میں تولیے کا ذکر نکل آیا۔ اور سب نے استدعا کی کہ شاہ صاحب اب اس راز سے پردہ اٹھا دیجیئے۔ دلیر نے پہلے تو بہت ٹالا۔ کہ تم لوگ  مذاق اڑاؤ گے۔ مگر بعد میں ہمارے سدا بہار وعدے (گل شہروں بار نئیں جائے گی ) پر اعتبار کر کے قصہ تولیہ لٹکانا  کچھ اسطرح سنانا شروع کیا۔
یار تم لوگوں کے جانے بعد احساس تنہائی حد سے زیادہ ہوگیا۔ اور مجھے ڈر بھی لگنے لگا۔کہیں بھی یوں اکیلے رہنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ اس لیئے جوں جوں رات ہوتی گئی۔ میرا خوف بڑھتا چلا گیا۔ پہلے تو اونچی آواز میں میوزک چلا کر خوف کو کم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ سونے کی کوشش کی تو نیند بھی بہت مشکل سے آئی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہی آنکھ کھل گئی۔ اور اک عجیب خیال ذہن پر سوار ہوگیا۔ کہ کوئی مجھے تنہا دیکھ کر قتل کر دے گا۔ یہ خیال کا آنا تھا کہ میرا رہا سہا حوصلہ بھی جاتا رہا۔ اب میں نے تمام کھڑکیوں دروازوں کا جائزہ لیا کہ کون مجھے کہاں سے دیکھ سکتا ہے۔ مگر کوئی ایسی جگہ نہ ملی۔ ابھی لیٹا ہی تھا کہ ذہن میں آیا کہ یہ جو پیپر پھٹا ہوا ہے اس جگہ سے قاتل مجھے دیکھ لے گا کہ میں تنہا ہوں۔ بس سامنے کرسی پر یہ تولیہ پڑا تھا۔ میں نے فوراً اس سوراخ پر باندھ دیا۔
یہ کہانی سنکر ہمارا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔ اس رات ڈنر کے بعد باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں دلیر شاہ کو دلیر شاہ کا خطاب دیا گیا۔ اس فلیٹ میں اسکے بعد ہم تین سال رہے۔ اور وہ تولیہ وہیں اسی جگہ پر لٹکا رہا۔ کیوں کہ اسکی وجہ سے ہمارے اک دوست کی نامعلوم قاتل سے جان بچی تھی۔ اور دلیری کا تاج اسکے سر پر سجایا گیا تھا۔ واقعی میں اگر وہ تولیہ نہ ہوتا۔ تو آج دلیر شاہ ہمارے ساتھ نہ ہوتا۔ یا پھر اسکا نام دلیر شاہ نہ ہوتا۔ 

Sunday, 16 December 2012

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے

0 comments

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے
صرف اللہ کو اک جاننا ہی کافی ہے۔ یہ ایمان باقی سب سے رہائی دیتا ہے

اِک الفوں دو تِن چار ہوے
فر لکھ، کروڑ، ہزار ہوے
فر اوتھوں باجھ شمار ہوے
ایس الف دا نکتہ نیارا اے
اگرآپ اس عقیدے سے آگے نکلتے ہیں۔ تو بات پھر دو، تین چار سے ہوتی لاکھوں کروڑوں تک پہنچتی ہے۔اور یہی اس "الف" کی عمیق رمز ہے۔ میری نظرمیں بلہے شاہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو اس در کا بھکاری نہیں رہتا وہ پھر در در کا بھکاری بنتا ہے۔ بقول حضرت سلطان باہو
جنہاں حق نہ حاصل کیتا دوہیں جہانیں اُجڑے ہُو
غرق ہوئے وچ وحدت باہو ویکھ تِنہاں دے مُجرے ہُو


کیوں ہویائیں شکل جلاداں دی
کیوں پڑھنائیں گڈھ کتاباں دی
سر چانائیں پنڈ عذاباں دی
اگے پینڈا مشکل بھارا اے
کیوں چہرے پر علمیت کا رعب سجائے دوسروں پر تحقیری نگاہ ڈالتے ہو۔ کیوں کتابوں کو دماغ اندر سمو کر اپنے آپ کو عالم سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ تو عذاب ہے۔ تم اس سے بچو۔ کیوں کہ آگے آنے والی راہ بہت کٹھن ہے۔ اور اسقدر وزن کے ساتھ تم اس پر نہ چل پاؤ گے۔

بن حافظ حفظ قرآن کریں
پڑھ ھڑھ کے صاف زبان کریں
پر نعمت وچ دھیان کریں
من پھردا دیوں ہلکارا اے
حافظ بنکر اتراتے ہو۔ رٹ رٹ کر بنا معانی جانے تمہاری اس کو پڑھنے کی روانی بھی قابل دید ہے۔ تم اک قاصد کی مانند اسکو لیئے پھرتے ہو۔ اسکو سمجھنے سے قاصر ہو۔ یہاں پر اک بڑا لطیف نقطہ قاصد کی تشبیہ کا ہے۔ کہ جیسے قاصد خط لے کر پہنچا دیتا ہے۔ پر وہ خط کے اندر کی عبارت سے ناآشنا ہوتا ہے۔ تو حافظ قرآن بھی حفظ کر کے ساری عمر دوسروں کو تو سنا رکھتا ہے۔ مگر اس کے اصل مفہوم سے ناآشنا رہتا ہے۔ بلہے شاہ فرماتے ہیں کہ اس نعمت کے اندر دھیان کی ضرورت ہے۔ نہ کے اس کو محض رتبے کے لیئے استعمال کیا جائے۔

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے

عشق بلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے

0 comments

مرنڑ کولوں مینوں روک نہ ملّا مرنڑ دا شوق مٹاون دے
کنجری بنیا عزت نہ گھٹدی نچ کے یار مناون دے
مل جاوے دیدار تے نچنا پیندا اے
سامنڑے ہووے یار تے نچنا پیندا اے
عشق بلہے دے اندر وڑیا پانبڑ اندر مچدا
عشق دے گھنگرو پا کے بلہا یار دے ویڑے نچیا
عشق بلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے
جدوں مل جاوے دیدار تے نچنا پیندا اے
بُلہا پُلیا پیر ولوں جدوں دل وچ حیرت آئی
کیسا ڈھنگ ملن دا کراں جد ہووے رسوائی
پا لباس طوائفاں والا پہلی چانجر پائی
کنجری بنیا عزت نہ گھٹدی او نچ کے یار منائیں
عشق بلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے
سامنڑے ہووے یار تے نچنا پیندا اے

آ مل یارا سار لے میری

5 comments
آ مل یارا سار لے میری
میری جان دُکھاں نے گھیری
اے میرے دوست میری خبر گیری کو آؤ کہ میری جان غموں کے درمیان گھری ہوئی ہے
انسان جب خود کو بے بس محسوس کرتا ہے تو ایسے میں اسے رب کائنات کے علاوہ کوئی غمگسار نظر نہیں آتا۔ وہ بے اختیار اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے۔ کہ اللہ اب غموں کے اس پہاڑ نے جینا مشکل کر دیا ہے۔ اور تیری ہی ذات واحد ہے جو مجھے ان سے چھٹکارا دلا سکتی ہے

اندر خواب وچھوڑا ہویا، خبر نہ پیندی تیری
سنجی، بن وچ لُٹی سائیاں، چور شنگ نے گھیری
میرے خواب و خیال پر جدائی نےقبضہ کر رکھا ہے۔ اور تمہاری کوئی خیر خبر نہیں
سنسان ویران جنگل میں مجھے لوٹا گیا اور چوروں، ڈاکؤوں نے مجھے گھیر رکھا ہے
انسان جب کسی بھی مہم پر نکلتا ہے تو انجان راستے پر بار بار اسے رہنمائی کے لیئے راستے کے لوگوں پر اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ راستہ سمجھنا پڑتا ہے۔ مگر کچھ لوگ فریب منزل دے کر راہ سے بھٹکا دیتے ہیں۔ اور تمیز کرنا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے کہ اب کس پر اعتبار کیا جائے اور کس پر نہیں۔ کچھ رہنما تو اسقدر دھوکا دیتے ہیں کہ انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ اور اسے نئے سرے سے قصد سفر باندھنا پڑتا ہے۔ یہ راستے کے مصائب مصائب نہیں آزمائشیں ہیں۔ تو جو ان آزمائشوں اور مصائب کے فرق کو سمجھ جاتا ہے۔ کامیابی کیطرف گامزن رہتا ہے۔

ملاں قاضی راہ بتاون، دین بھرم دے پھیرے
ایہہ تاں ٹھگ جگت دے جھیور، لاون جال چوفیرے
ملا اور قاضی مجھے ایسا راستہ بتاتے ہیں جو مجھے دین کے احکامات میں الجھائے جاتا ہے
یہ زمانے کے مشہور ٹھگ چڑی ماروں کی طرح چاروں طرف جال بننے میں مصروف ہیں
اب مسافر پر لازم ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کو خوب سمجھے۔ ملا اک استعارہ ہے ان کے متعلق جو دین کے پیچیدہ مسائل کا درک نہیں رکھتے اور لکیر کے فقیر رہتے ہیں۔ ایسے لوگ مفہوم کو نت نئے کپڑے پہنا کر انسان کو عقائد کے گنجلک مسائل میں یوں الجھا دیتے ہیں کہ مقصد مطلق ذہن کے گوشوں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اور زندگی ان لوگوں کے بیان کردہ مسائل کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں ہی گذر جاتی ہے۔ بلہے شاہ نے ان ٹھگوں کو شکاریوں بلکہ چڑی ماروں سے تشبیہ دی ہے۔ جن کا کام بس جال لگا کر چڑیاں پکڑنا ہوتا ہے۔

کرم شرع دے دھرم بتاون، سنگل پاون پیریں
ذات مذہب ایہہ عشق نہ پچھدا، عشق شرع دا ویری
یہ شریعت میں موجود رعائیتوں کو ایمان کو جزو لازم بتا کر پیروں میں عقائد کی موٹی موٹی زنجیریں باندھ رہے ہیں
جبکہ عشق ذات اور مذہب سے بالاتر ہے اور اسکی شرع کے اس طریق سے دشمنی ہے
اسی تسلسل میں بات جاری ہے کہ یہ لوگ دین میں موجود رعائیتوں کو جزو لازم قرار دے کر معصوم اور انجان لوگوں کو یوں گھیر لیتے ہیں کہ وہ عقائد اور گناہ و ثواب کی زنجیروں میں پھنسے باقی کی زندگی نیکیاں گننے میں گزار دیتے ہیں۔ ان کے یہ جال اسقدر مضبوط اور کامل ہیں کہ اک بار پیروں میں پڑ جائیں تو ان سے نجات آسان نہیں۔ جبکہ اصل میں طریقت پر چلنے والے ان تمام باتوں سے بے نیاز ہیں۔ ان کو ذات، مسند کا لالچ نہیں ہوتا اور نہ وہ منصب پر فخر کرتے ہیں۔ انکے نزدیک کسی کی منصبیت اور علم وجہ تفاخر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناسمجھ لوگ اس طریق کو شرع کے متصادم سمجھتے ہیں۔

ندیوں پارملک سجن دا، لہر لوبھ نے گھیری
ستگوربیڑی پھڑی کھلوتے، تیں کیوں لائی دیری
محبوب کو ٹھکانہ ندی کے اس پار ہے جبکہ مجھے طمع و ہوس کی ہوا نے گھیر رکھا ہے
مرشد مجھے اس پار پہنچانے کے لیئے کوشاں ہے اور میں دیر کیئے جا رہا ہوں
محبوب کا ٹھکانہ ندی کے اس پار ہے سے مراد سرزمین پاک ہے اور درمیان میں سمندر حائل ہے۔ ہر مسلم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حج کرے مگر یہ عمل ہمارے یہاں وہ زیادہ تر اسوقت سر انجام دیتا ہے جب اسکے بقیہ دنیاوی کام اسکی نظر میں ختم ہونے کو ہوتے ہیں۔ بابا بلہے شاہ نے میری نظر میں اسی طرف طنز کیا ہے کہ سب یہاں حرص و طمع کی لہر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل کو آخری حد تک استعمال میں لا رہے ہیں۔ اگر اس کیطرف سے پکڑ نہیں تو ضروری نہیں کہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔

بلھا شاہ شوہ تینوں ملسی، دل نوں دے دلیری
پیتم پاس،تے ٹولنا کس نوں، بُھل گیوں شکر دوپہری
بلہے شاہ! مرشد تجھے لازمی ملے گا۔ تو بس ناامید نہ ہو اور اپنے حوصلے کو برقرار رکھ
جب محبوب پاس ہو تو پھر ڈھونڈنا کسے۔ کیوں روشن دوپہر میں پہچان نہیں پا رہے۔
بلہے شاہ تجھے ہدایت ضرور ملے گی۔ بس تجھے یقین کامل کی ضرورت ہے۔ یقین کامل ہی انسان کو اس منزل تک لے جا سکتا ہے۔ اللہ کی ذات پاک تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔اسے ڈھونڈنے کے لیئے نہ تو سفر کرنے ہیں نہ کہیں جانا ہے۔ پھر بھی انسان بھولا پھرتا ہے۔ بقول اشتیاق احمد صاحب (من چلے کا سودا) ! کہ بابو لوکا کدھر چلا گیا تھا۔ سفر تو منزلیں طے کرنے کے لیئے ہوتے ہیں۔ کہیں جانا تو ہے ہی نہیں۔ اسے تو یہاں دیکھنا ہے۔ شہ رگ کے پاس۔

نوٹ: یہ ترجمہ و تشریح میری سمجھ کے مطابق ہے۔ جس سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ لہذا ہر آدمی اپنی سمجھ کے مطابق ترجمہ و تشریح کر سکتا ہے۔ یہ اشعار میری ملکیت ہرگز نہیں ہیں

اٹھ جاگ کھڑاڑے مار نئیں، ایہہ سُوَن ترے درکار نئیں

0 comments

اٹھ جاگ کھڑاڑے مار نئیں، ایہہ سُوَن ترے درکار نئیں
کتھے ہے سلطان سکندر؟ موت نہ چھڈے پغمبر
سبے چھڈ چھڈ گئے اڈمبر، کوئی ایتھے پائدار نئیں
جو کجھ کر سیں، سو کجھ پاسیں، نئیں تے اوڑک پچھوں تا سیں
سوِنجی کونج ونگوں کرلاسیں، کھنباں باجھ اڈار نئیں
بلھا! شوہ بن کوئی ناہیں، ایتھے اوتھے دوئیں سرائیں
سنبھل سنبھل قدم ٹکائیں، پھیر آوَن دوجی وار نئیں
اٹھ جاگ کھڑاڑے مار نئیں، ایہہ سُوَن ترے درکار نئیں

ترجمہ:
اب اٹھنے کا وقت آ پہنچا ہے اور خراٹے مارنے کا وقت گزر چکا۔ اب تمہاری مزید نیند بیکار ہے۔
اٹھ کو ذرا غور کرو کہ سب سلطان سکندر موت کی نیند سو چکے ہیں۔ موت سے تو پیغمبر بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔
سب غرور کا لبادہ اوڑھنے والے موت کی اندھیرے میں ڈوبے پڑے ہیں۔ سوائے رب کائنات کے ہر چیز کو فنا ہے۔ اب تم جو کرو گے وہی کاٹو گے ورنہ عاقبت میں نامراد رہو گے۔
تنہا کونج کی مانند آہیں بھرو گے۔ کیوں کہ پروں کے بغیر تو اڑان ممکن ہی نہیں ہے۔
بلہے شاہ راستہ دکھانے والا مرشد بہت ضروری ہے۔ اسکے بناء تو دونوں جہانوں میں رسوائی ہے۔
اس ڈگر یعنی دنیا میں بہت سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس راستے سے کسی نے دوبارہ نہ گزرنا ہے۔
اب اٹھ کر عمل کا آغاز کر دو۔ کہ یونہی غفلت میں اس قیمتی وقت سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ہم لوگ۔

الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے

0 comments

الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے
جب میری توقعات کے برعکس کام ہونے لگے تو میں نے سچے رب کو پا لیا۔

کاں لگڑاں نوں ما رن لگے، چڑیاں جُرّے ڈھائے
گھوڑے چگن اوڑیاں تے، گدوں خوید پوائے
کوے زاغ کا شکار کھیلنے لگے ہیں اور چڑیوں نے باز اور شکرے مار گرائے ہیں
گھوڑوں نے گندگی کے ڈھیر چرنا شروع کر دیئے ہیں اور گدھ سر سبز گندم کے کھیتوں میں پھر رہے

آپنیں وچ الفت ناہیں، کی چاچے، کی تائے
پیو پتراں اتفاق نہ کوئی، دھیاں نال نہ مائے
اتحاد و محبت خاندان سے اٹھ گیا ہے اور بھائی بھائی سے بیزار ہے
باپ بیٹے گر آپس میں برسر پیکار ہیں تو ماں بھی بیٹیوں کے ساتھ نہیں ہے

سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، جھوٹے کول بہائے
اگلے ہو کنگالے بیٹھے، پچھلیاں فرش بچھائے
سچے لوگ دھتکارے جا رہے ہیں اور جھوٹ بولنے والوں کو عزت و تکریم سے نوازا جا رہا ہے
اسلاف تو بھوک کا شکار ہو گئے جبکہ بعد میں آنے والوں کی خودنمائی اور شان و شوکت کا اظہار قابل دید ہے

بھریاں والے راجے کیتے، راجیں بھیک منگائے
بُلھیا! حکم حضوروں آیا، تِس نوں کون ہٹائے
جو لوگ بوریاں لپیٹ کر سوتے تھے آج بادشاہ بنے پھرتے ہیں اور راجہ لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے
لیکن بلہے شاہ یہ تو تقدیر کے فیصلے ہیں ان کے آگے سرتابی کی مجال نہیں

آئی رُت شگوفیاں والی، چِڑیاں چگن آئیاں

0 comments

آئی رُت شگوفیاں والی، چِڑیاں چگن آئیاں
اکناں نُوں جرّیاں پھڑ کھاہدا، اکناں پھاہے لائیاں
اکنں آس مڑن دی آہے، اک سیخ کباب چڑھائیاں
بُلھے شاہ! کیہ وس اُناں دا جو مار تقدیر پھسائیاں

ترجمہ:
پھول کھلنے کی رت آنے پر چڑیاں دانہ دنگا چگنے آ پہنچی ہیں
کئی تو عقاب، باز شکرے جیسے شکاریوں کا شکار ہو گئیں اور کئی جال میں پھنس گئیں ہیں
کچھ کو یہ امید کہ وہ واپس پلٹ سکیں گی اور کچھ سیخ کباب کی نذر ہو گئیں
بلہے شاہ جس کو تقدیر گھیر لے پھر اسکے بس میں کیا رہتا ہے۔

Saturday, 15 December 2012

اماں بابے دی بھلیائی، اوہ ہُن کم اساڈے آئی

1 comments
اماں بابا چور دُھراں دے، پتر دی وڈیائی
دانے اُتوں گُت بگُتی، گَھر گَھر پَئی لڑائی
اساں قضیے تاہیں جالے، جد کنک اُنھاں ڑرکائی
کھائے خیرا، تے پھاٹیے جُما، اُلٹی دستک لائی
اماں بابے دی بھلیائی، اوہ ہُن کم اساڈے آئی

ترجمہ:
امی ابو ازل سے چور ہیں اور بیٹے کی بڑائیاں بیان ہو رہیں ہیں
اناج کے اوپر ہر گھر میں ایسے لڑائی ہو رہی ہے جیسے عورتیں اک دوسرے کے بال پکڑ کے گتھم گتھا ہو جاتی ہیں
ہم تو اس خرابی میں اس وقت پھنسے جب انہوں نے گندم کھائی تھی
کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی اور ہے۔ یہ اس زمانے کا عجب الٹا رواج ہے
امی ابو کے نیک کام کئے اب ہمارے کام آ رہے ہیں
تشریح:
اصل میں بابا بلھے شاہ نے اس میں حضرت آدم و حوا کو موضوع بنایا ہے۔ کہ چوری اور حکم عدولی ہماری گھٹی میں ہے۔ ہم کیسے مکمل ہو سکتے ہیں جب ہمارے ماں باپ ہی خام تھے۔ گھر گھر میں جو اناج پر لڑائیاں ہیں یہ اسی وجہ سے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نے منع کرنے کے باوجود گندم کھائی تھی۔ اور اسی کا خمیازہ آجتک ہم بھگت رہے ہیں۔ انکے کیئے کاموں کا صلہ آجتک ہمیں مل رہا ہے۔

نوٹ: یہ میری سمجھ کے مطابق ہے۔ اس میں آپ لوگوں کو یقینا اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ محض سمجھانے کے لئیے ہے۔ ہر آدمی اپنی سمجھ کے مطابق ترجمہ کر لے۔

اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

0 comments
پھڑ نقطہ، چھوڑ حِساباں نوں
چھڈ دوزخ، گور عذاباں نوں
کر بند، کُفر دیاں باباں نوں
کر صاف دِلے دیاں خواباں نوں

گل ایسے گھر وِچ ڈُھکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

ایویں متّھا زمیں گھسائی دا
پا لما محراب دکھائی دا
پڑھ کلمہ لوک ہسائی دا
دِل اندر سمج نہ لائی دا

کدی سچّی بات وی لُکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

اِک جنگل، بحریں جاندے نیں
اِک دانہ روز دا کھاندے نیں
بے سمجھ وجود تھکاندے نیں

چلیاں اندر جِند سُکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

کئی حاجی بن بن آئے جی
گل نیلے جامے پائے جی
حج ویچ ٹکے لَے کھائے جی
پر ایہہ گل کینوں بھائے جی

کِتے سچّی گل وی رُکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

Monday, 10 December 2012

بابا بلہے شاہ

2 comments

بلہے شاہ کا نام کم از کم برصغیر کے لوگوں کے لیئے کسی قسم کے تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اسکے باوجود احقر چند جملوں میں انکے تعارف کو سمونے کی کوشش کرے گا۔
پنجابی زبان کے یہ مشہور و معروف صوفی شاعر 1680 میں ضلع قصور کے اک گاؤں پانڈو میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شاہ محمد درویش تھا۔ اور ابتدائی تعلیم بھی اپنے باپ ہی سے حاصل کی۔ اسکے بعد کی تعلیم قصور شہر سے حاصل کی۔ وہاں ان کے اساتذہ کرام غلام مرتضیٰ اور محی الدین تھے۔ انکے مرشد کا نام شاہ عنایت تھا۔ آپ 1785 میں فوت ہوئے۔ 

بلہے شاہ کے کلام میں اس دور کے سیاسی رنگ کی گہری چھاپ ہے۔ اورنگزیب کے مرنے کے بعد مغل حکمرانوں کی حکومت آگئی۔ مرکزی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک میں امن و امان کی مخدوش صورتحال نے بگڑ کا خانہ جنگی کی کیفیت اختیار کر لی۔ یہ صورتحال کی خبر جب نادر شاہ تک پہنچی تو اس نے ہند پر حملہ کر دیا۔ 1739 میں دلّی پر نادر شاہ کے حملے سے بہت خون خرابہ ہوا۔ ابھی اس جنگ کے زخم تازہ تھے کہ 1761 میں نادر شاہ کے جانشین احمد شاہ ابدالی نے اک بار پھر ہند پر حملہ کر دیا۔ اور دلّی کو اک بار پھر خون کا غسل کرنا پڑا۔ اس کے بعد ملک کے اندرونی حالات خلفشار کا شکار ہو گئے۔ ایسے ہی موقع پر بلہے شاہ نے کہا
در کھلا حشر عذاب دا
برا حال ہویا پنجاب دا

شاعر تو پیدا ہوتے ہی شاعر ہوتا ہے۔ اور بنانے سے نہیں بنتا۔ اسی مثال کے عین مطابق آپ میں شاعری کا وصف بچپن سے ہی تھا۔

بلہا! کی جاناں میں کون؟

نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں
نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسیٰ نہ فرعون

نہ میں اندر بھید کتاباں
نہ بھنگاں نہ وچ شراباں
نہ وچ رنداں مست خرباں
نہ وچ جاگن وچ سون

نہ وچ شادی نہ غمناکی
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون

نہ میں عربی نہ لاہوری
نہ میں ہندی شہر نگوری
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ ميں ریندا وچ چندوَن

نہ میں بھید مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوا جایا
نہ میں اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون

اول آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھانا
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
بلہا اوہ کھڑا اے کون

اردو اور ہم

2 comments
اگر تھوڑی سی نظر تاریخ کے اوراق پر ڈالی جائے تو آپ دیکھیں گے کہ اردو کبھی بھی سرکاری زباں نہ تھی۔ ابھی صد سال ہی گزریں ہوں گے کہ رسائل و جرائد فارسی میں شائع ہوتے تھے۔ انگریزوں سے قبل فارسی زباں ہی زبان شاہان کا درجہ رکھتی تھی۔ انگریزوں نے اسکا زور توڑنے کے لیئے اردو کو تھوڑی سی ترویج دی مگر پھر انگریزی کا رنگ اس قوم پر چڑھا دیا۔ اب اسکے دو نقصانات ہوئے۔ پہلا تو یہ کہ ہمارا دینی و ادبی ورثہ جسکا دورانیہ تقریباً آٹھ صدیوں پر محیط ہے۔ وہ آئندہ نسلوں کے لیئے محض زبان غیر بن کر رہ گیا۔ دوسرا یہ کہ انگریز خود تو چلے گئے مگر اردو کو سوتیلا کر گئے۔ نتیجہ کے طور پر انڈیا میں‌جو اردو کے ساتھ سلوک ہوا اس پر ساحر جیسے شاعر کو بھی کہنا پڑا
ع - اردو پر ستم ڈھا کر غالب پر کرم کیوں ہے
اب جب ہم جیسے ناپختہ اذہان نے علم حاصل کرنے کا آغاز کیا تو تعلیمی نصاب سارا انگلش میں پایا۔ جو قوم 65 سال میں میٹرک سے اوپر کا نصاب اردو میں‌نہ ڈھال پائی وہ کیا کسی کو الزام دے گی۔ یہ تو اساتذہ اور شعبہ علم سے جڑے لوگوں کا کام تھا کہ دیکھو ہم نے اسے ڈھال دیا اب اسے رائج کرو نہ کہ کسی سیاست دان نے اسے رائج کرنا تھا۔ آخر میٹرک تک کا نصاب بھی تو اردو میں ہے نا!
اس دوراہے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے جیسا طالبعلم جو دسویں تک ویسےاردو پڑھتا رہا اور پھر اسے زبان فرنگ میں ہاتھ پاؤں مارنے پڑے تو وہ بیچارہ ویسے ہی ہر میدان میں پیچھے رہ گیا۔ نہ اسے اردو آئی اور نہ انگلش۔ فارسی اور عربی کے علم کی میراث تو اس تک پہنچی نہیں۔ 
اب آپ خود مجھے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کتنے نوجوان ہیں جو افکار اقبال سے آگاہ ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نسل جو بے ربط جملوں کو شعر کہتی ہے۔ جو بناء تحقیق ہر بات آگے چلا دیتی ہیں۔ کل جب اقدار کی مسندوں‌پر بیٹھے گی تو زبان اردو کی ترویج کا سبب بنے گی؟
میں یہ سمجھتا ہوں کہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ محض سوالات تو ہم عرصہ دراز سے پوچھ رہے ہیں۔ مگر دکھ یہ ہے کہ ان کے جوابات بھی تو ہم نے خود ہی تلاشنے ہیں۔ یاں اس کے لیئے بھی ہم کسی بیرونی مدد یا نظام کی راہ دیکھ رہے ہیں؟
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

Wednesday, 5 December 2012

دوا اور دعا

0 comments
ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے۔ اب کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ نوجوان کیوں۔ حکایت نہیں سننی تم لوگوں نے۔

شادی کے معاملات طے کرتے وقت تو اسکو باپ یاد نہ آیا۔ مگر جب وقت شہادت قریب آیا تو اک سیانے نے مشور ہ دیا 
کاکا بزرگوں کی دعا لے لے۔ بھلا ہو جائے گا۔

وہ اپنے والد کے پاس پہنچا کہ اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کی جائے۔ 
باپ نے پہلے تو تیوری چڑھا کر کہا۔ آگئی پیو دی یاد۔ کدھر کمیوں میں تو رشتہ نہیں طے کر آیا۔ 

اس پر اس نوجوان نے ہونے والی شریک حیات کے حسب نسب سے آگاہی دی۔ باپ اس خاندان کو جانتا تھا۔ اور معلوم تھا کہ لڑکی بہت ہی زبان دراز ہے۔ لیکن اب پدرانہ شفقت سے مجبور ہو کر کوئی ایسی نصیحت سوچنے لگا جس پر عمل سے اسکا بیٹا خوش رہے۔ 

با پ کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر بیٹے نے انتہائی مودب لہجے میں پوچھا۔
ابا جی خیر ہوئے۔ طبیعت ٹھیک ہے۔
اس پر والدنے اُس سے ایک کاغذ اور قلم کا تقاضا کیا۔ 

بیٹے نے جھٹ سے اپنا ٹیبلٹ نکالا اور کہا ابا جی حکم کریں۔

باپ کو غصہ آگیا اور کہا کر دیا نہ اتنے خوبصورت خیال کا بیڑا غرق۔ جا کاپی پینسل لے کر آ۔ اور خیال آنے پر دوبارہ آواز دے کر کہا، کہ کہیں جیل والا یا کوئی اور سیاہی والا پین نہ اٹھا لائیں۔ ڈئیر والوں کی کچی پینسل ہی لے کر آنا۔ بیٹا جب تھوڑی دور اور پہنچا تو پھر آواز دی کہ ساتھ میں ربر بھی لے آنا۔

لڑکا تپ کر واپس آکر بیٹھ گیا اور بولا،
نئیں پیلے تسی یاد کر لو منگانا کی کی ائے (نہیں آپ پہلے یاد کر لو، چاہیئے کیا کیا۔ )
باپ کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا
او جا کاکا، جو کام کہا ہے وہ کر۔

لڑکاکو پہلے ہی شک تھا کہ ابا حضور اب سٹھیا چکے ہیں۔ مگر صرف اس امید پر کہ شائد اب والد محترم کوئی کام کی بات کر لیں مطلوبہ سامان لینے نکل کھڑا ہوا۔ 
عرصہ دراز بعد پینسل کاپی ہاتھ میں لے کر وہ ماضی کی یادو ں میں کھو گیا۔ جب اسے بٹرفلائی کی پینسل پسند تھی اور باپ تب بھی ڈئیر کی پینسل ہی لا کر دیتا تھا۔

باپ نے اسے سوچوں میں ڈوبا دیکھکر کہا کاکا ارسطو نہ بن۔ لکھ 

بیٹا باپ کی جگت پر کھسیانہ ہوکر۔ کیا لکھوں 

باپ بیٹے کے لاجواب ہونے پر طنزیہ ادا کے ساتھ۔ جو تیرا دل کرے۔

نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے
"انسان حسن پرست ہے"

باپ شرمندہ ہو کر: اسلاف کی روایات نہ چھوڑنا، چل مٹا اسے
اب نوجوان کے چہرے پر خوشی۔ اور مٹا دیتا ہے۔

باپ : کچھ اورلکھو 
بیٹا : خدارا آپ کیا چاہتے ہیں ؟
باپ کہتا ہے : ٹھیک ہے اب اسے بھی مٹا دے۔


باپ : چل اب کچھ اورلکھو
بیٹا: میں یہاں دعا لینے آیا ہوں۔ خوشخطی کی کلاس لینے نہیں۔
باپ: نظر انداز کرتے ہوئے، می نویس۔۔۔ ۔
نوجوان لکھتا ہے :
عقل کے اجزاء بیان کرو
باپ اس جملے میں چھپے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے۔ اسے بھی مٹا دو اب۔

لڑکا مٹاتے ہوئے دل میں، یا اللہ میرا ابا پاگل ہو کر نہ مرے۔ آمین 

پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے :
بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے 
اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربرنہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو
اور اسی طرح اگر تمہاری بیوی کے پاس ربر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکے تو تم دونوں خود سوچو کہ کتنا باعث اذیت ہوگا۔ 
میں تمہاری ان بدتمیزیوں پر تمہیں کتنا مارتا تھا۔ اور نہیں چاہتا کہ اب بیگم سے بھی تم پٹو۔ 
بیٹا۔۔ اور اگر اس نے روز اک پینسل ختم کرنی شروع کر دی۔ یا پھر پارکر کی سیاہی کا استعمال ۔۔۔ 
والد غصے سے: ابھی میری بات نہیں ختم نہیں ہوئی۔ اگر تمہارے پاس ربر ہوگا تو ہی تم اسکی کوتاہیاں معاف کر سکو گے۔ وگرنہ تمہاری حیات کا صفحہ تمہارے مقدر اور منہ کی مانند تیرہ نصیب ہی رہے گا۔
بیٹا: اباجی وہ دعا کدھر گئی۔ جس کے لیئے میں نے اتنے پاپڑ بیلے ہیں۔
آپ کی یہ بیکار نصیحت تو آپ کی زندگی پر کارگر نہ ہوئی۔ اور ساری عمر ڈنڈا لیئے ہم لوگوں کو مارتے رہے۔ نتیجہ کے طور پر اب آپکی اولاد آپ سے دور ہے۔ اور جس ربر کی بات آپ کر رہے ہیں اس کی ہر انسان کو ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ اور آپکو اس ربر کا استعمال بہت پہلے سیکھ لینا چاہیئے تھا۔ 

اخلاقی سبق: کسی ربر کی ضرورت نہیں ہے۔ ظرف ہونا چاہیئے بندے کا اور بس۔ زندگی کے لکھے نہیں مٹتے۔ بس ان کے ساتھ جینے کے فن پر دسترس ہونی چاہیئے۔ اور جب کوئی دعا کا کہے تو صرف دعا کرو۔ دوا کا بندوبست کر کے اپنا اور اسکا وقت ضائع مت کرو۔