Tuesday, 17 February 2015

باکمال بزرگ - قسط ششم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

0 comments

ہم دوستوں کی مجلس میں ان بزدل ڈاکوؤں اور تایا جی کی دیدہ دلیلی کا بڑا تذکرہ رہا ۔ چند ایک احباب کا خیال تھا کہ بزرگ نے فقط زیب داستاں کے لیے بات بڑھا دی ہے۔ الغرض چاہے کسی کو یقین آیا یا نہیں لیکن سب بزرگ کے انداز گفتگو اور بیان کی چاشنی کے لطف میں کھوئے رہے۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی جب کہرا سرِشام ہی کھیتوں کو اپنے دبیز آنچل میں چھپانے لگا تو ہم سب یار دوست دوبارہ چوپال کا رخ کرنے لگے۔ ایسی ہی ایک شام میں عشاء کے بعد جب سب ایک انگھیٹی جلا کر اس کے گرد بیٹھے ہاتھ تاپ رہے تھے، مجلس یاراں میں مونگ پھلی اور گپ شپ سے دل بہلایا جا رہا تھا کہ اتنے میں بزرگ بھی چوپال میں تشریف لے آئے۔ ہم جوانوں نے فورا ان کے لیے جگہ خالی کی اور ان کو گھیر لیا۔ باتیں چلنی شروع ہوئیں تو گردش زمانہ کے باعث گرانی کا موضوع بھی زیرگفتگو آگیا۔ اس پر بزرگ نے کہا کہ میاں! یہ گرانی اشیاء صرف تمہارے دور کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ہر دور میں اس کا رونا رہا ہے۔ ہمارے اسلاف ہمیں کہا کرتے تھے کہ اب بہت مہنگائی ہو گئی ہے اور ہم یہ چیزیں ان ان قیمتوں میں خریدا کرتے تھے۔ اور ہماری حیرت دیدنی ہوا کرتی تھی بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے دور میں ضروریات زندگی کی قیمتیں سن کر تمہارے دیدہ حیراں قابل دید ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ ہمارے دنوں میں یوں نفسا نفسی کا عالم نہ تھا۔ بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا تھا۔ اس پر دوسرے بزرگ کے چہرے پر بڑی شرارتی سی مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ ایک نوجوان فوراً ان کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔ لگتا ہے آپ کو اس رضاکارانہ کام سے جڑا کوئی دلچسپ واقعہ یادآگیا ہے۔ تو وہ بزرگ ہنس پڑے۔ اور اس کے بعد انہوں نے پہلے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ مجھے اس کے رضاکارانہ کام سے جڑا ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ یاد آگیا ہے۔ پہلے بزرگ نے خالی نظروں سے انہیں دیکھا تو بزرگ نے اشارہ دینے کو کہا۔ یاد کر! جب وہ گورکن کا کام رضاکارانہ طور پر شروع کیا تھا۔ اس پر پہلے بزرگ قہقہے لگا لگا کر ہنسنا شروع ہوگئے۔ ہم سب کا تجسس بہت بڑھ چلا تھا سو ساری باتیں پس انداز کر کے اس واقعے کو سنانے کیفرمائش شروع کر دی گئی۔اس پر آخرِکار ان بزرگ کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور وہ واقعہ سنانے پر آمادہ ہوگئے۔

یہ واقعہ جو میں تم کو سنانے جا رہا ہوں یہ ہمار ے مکتب کے دور کی یاد ہے۔ میں اور یہ (دوسرے بزرگ کی طرف اشارہ کر تے ہوئے) نہم کلاس کے طلباء تھے۔ پڑھائی میں ہم درمیانے درجے کے تھے لیکن شرارتوں میں ہم اول درجے کے شیطان مشہور تھے۔ ہم دوستوں نے اس شہرت کا تفصیلی جائزہ لیا اور سوچا کہ ایسا کون سا کام کیا جائے جس سے یہ ساری شہرت ہماری نیک نامی میں بدل جائے۔ اس پر ایک نے کہا کہ گاؤں میں جب بھی کوئی فوت ہوجاتا ہے۔ تو قبر کھودنے کا مرحلہ کافی مسئلہ بن جاتا ہے سو اسی سلسلے میں ہم چار دوستوں نے مل کر ایک رضاکارانہ جماعت کی بنیاد رکھی کہ گاؤں میں کوئی بھی فوت ہوگا تو اس کی قبر ہم جا کر کھود آیا کریں گے۔ جب بھی کسی کے فوت ہونے کا اعلان گاؤں کی مسجد سے ہوتا ہم چاروں دوست بیلچہ کدال لے کر قبرستان کا رخ کرتے اور قبر کھود دیا کرتے تھے۔ ہمارے اس کام کو بڑے چھوٹے ہر کسی نے بہت سراہا جب تک یہ واقعہ نہ ہوا تھا۔

ہمارے ریاضی کے استاد بہت محنت اور لگن کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے لیکن تھے بہت سخت گیر۔ کام نہ کرنے پررتی برابر رعایت نہ کرتے اور روئی کی طرح دھنک دیا کرتے تھے۔ تمام طلباء بشمول ہمارے ان سے ڈرتے تھے۔ اور مکتب کے باہر اگر کبھی ان سے سامنا ہوجاتا تو آنکھ بچا کر نکل جانے میں ہی عافیت سمجھا کرتے تھے۔ ایک دن میرا استاد محترم کے گھر کے باہر سے گزرنا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کہرام سا مچا ہے۔ بہت سے لوگ گھر کے اندر آ جا رہے ہیں۔ میں نے ایک کو روک کر ماجرا پوچھا۔ تو اس نے کہا کہ استاد محترم کی طبیعت بہت خراب ہے۔ شاید ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے۔ یہاں تک رہتا تو بات ٹھیک تھی۔ لیکن اس ظالم نے مجھ سے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا خیال ہے اب بچ نہیں پائیں گے۔ میں نے فوراً اپنی رضاکارانہ جماعت کو اکھٹا کیا اور جا کر قبرستان میں ایک قبر کھود ڈالی۔ ادھر جب ہم قبر کھودنے میں مصروف تھے گاؤں کے لوگ کچھ سواری کا بندوبست کر کے استاد محترم کو قریبی ہسپتال لے گئے۔ بروقت طبی امداد نے زندگی بچانے میں مدد کی اور استاد محترم کچھ وقت کے بعد گھر واپس لوٹ آئے۔ ہمارا حال پوچھو تو ایسے کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ پورے گاؤں میں یہ بات پھیل گئی کہ ان چاروں نے تو قبر بھی کھود دی ہے۔ اور وہ تجزیہ نگار عین موقع پر یوں اپنی بات سے پھر گیا جیسے الیکشن جیتنے کے بعد نو منتخب وزیر اعظم پھر جاتا ہے۔ اس کے بعد استاد محترم کافی عرصہ تک حیات رہے لیکن جتنا عرصہ بھی حیات رہے ہم کو ایسی منتقمانہ نگاہوں سے گھورتے رہے جیسے وہ ہماری قبر کھود کر اپنی منتقم حس کی تسکین کا سامان کرنا چاہتے ہوں۔

Thursday, 1 January 2015

سالِ رفتہ

5 comments
ایک اور سال اختتام پذیر ہوگیا۔ ابھی کل ہی کی بات لگ رہی ہے کہ میں کہروا لکھ رہا تھا۔ کہ ابھی ایک اور دھند میرے روز و شب پر چھائی جاتی ہے۔ کہار اس سال کی ڈولی کو اٹھانے آپہنچے ہیں۔ ان کے لبوں پر وہی وقت کے اڑتے جانے کے گیت ہیں اور میں اس سوچ میں گم ہوں کہ یہ سال کیسا رہا۔ اچھا یا برا؟
آغاز سال تو مجھے یاد نہیں۔ شاید ایسی کوئی جنوری کی صبح ہوگی۔ پہلے چند مہینے بھی یاد نہیں۔ پتا نہیں میں ان مہینوں میں زندہ بھی تھا یا نہیں۔ بس گزر گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے پاس ان کی ایک پرچھائیں تک نہیں۔ ہاں میری دادی امی کی وفات کا دن مجھے یاد ہے۔ میں جنازے پر نہ پہنچ پایا۔ یہ بھی یاد ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو قبر پر پھول بکھرے تھے۔ اور گیلی مٹی کی خوشبو بتا رہی تھی  کہ ایک نیک روح نے اس کے اندر اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ 
سیاسی رہنماؤں کی بدعنوانی اور بدکرداری تو خیر اس سال نئی نہ تھی۔ وہی چند کھال نوچنے والے بھیڑیے جو ہم پر مسلط رہے اور رہیں گے۔ بس فرق صرف یہ پڑا کہ اس سال ان بھیڑیوں نے جو اپنی بھیڑ کی کھالیں پہن رکھی تھیں۔ وہ اتار لیں۔ لاہور میں جامع منہاج پر ظلم کرنے والوں کی ڈھٹائی اور بےغیرتی تو پوری قوم نے دیکھی ہی۔ تھر میں بچوں کے مرنے پر  نامعلوم افراد کے ایک پسر افضل کا بیان دیکھنے والا تھا۔ 
مجموعی طور پر یہ سال غم کا سال رہا۔پہلے سانحہ لاہور پھر   غزہ پر بربریت کی خبریں۔ پھر نام نہاد مسلمانوں کی پاکستانی بچوں پر ظلم کی خبریں۔ ایک دلیر بچہ اعزاز حسین ۔۔۔ جس نے خودکش بمبار کو معصوموں کی جان سے نہ کھیلنے دیا۔ اور اس کے بعد چند کتوں بھیڑیوں سے بدتر انسان نامی مخلوق نے پشاور میں جو ہلاکو و چنگیز و فرعون کی روحوں کو شرما دیا۔ اسی شام یمن میں معصوم بچیوں کو دھماکے سے اڑانے والا جانور بھی دیکھنے میں آیا۔  
الغرض یہ ایک ایسا سال تھا جس میں قوم کے پاس بیدار ہوجانے کے بےا نتہا مواقع تھے۔ الحاد کا پیراہن اتار پھینکنے کے بےشمار بہانے تھے۔ لیکن ہائے افسوس کاررواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ وہی بدحالی وہی بدامنی اور وہی بدعنوانی اپنے جبڑے کھولے نئے سال کے روز وشب نگلنے کو ہے۔ راستی تلاش کرنے والوں کے پاس سر ریت میں دبانے کے علاوہ کوئی اور راہ نہیں رہی ہے۔ اور ہم یعنی عوام  ان مسائل کا ادراک کیے بغیر اپنی اپنی مسلکی و سیاسی وابستگیوں کے پیش نظر فی سبیل اللہ فساد کے لئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ 
میں اس نئے سال میں اس ملک و قوم کے لئے وہی ایک رٹی رٹائی دعا دہرانے کو ہوں۔ جو ہر کوئی اسی بد دلی سے ہر سال دہرا دیتا ہے۔ لیکن میری خواہش ہے کہ اس سال ہم بس دعاؤں کو ہاتھ اٹھاتے ہی نہ رہیں۔ ہم کوئی کام بھی کریں۔ اپنے اپنے دائرے میں بہتری لائیں۔ تمام لسانی، مسلکی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اس ملک کی بھلائی کی کوشش کریں۔ صرف یہ ہی ایک واحد حل ہے جس سے ہم اس نئے سال سے مرہم کا کام لے سکتے ہیں۔ وگرنہ اگلے سال جنوری میں پھر حزن و ملال کی تصویر بنے اسی ناختم ہونے والی سیاہ شب کی داستان پھر سے لبوں پر ہوگی۔

Monday, 22 December 2014

کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے

5 comments
میں گزشتہ  دنوں سے غم و غصے کی جس کیفیت میں ہوں شاید میں اس کو الفاظ میں کبھی بھی نہ ڈھال سکوں۔ خدا گواہ ہے کہ جب میں سوشل میڈیا پر انا للہ و انا الیہ راجعون لکھ رہا تھا تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ایک لہر تھی جو میرے پورے وجود میں دوڑ رہی تھی۔ میں اس کو غم سمجھ رہا تھا۔ لیکن مجھے احساس ہوا  کہ یہ نفرت کی لہر تھی۔ جو میرے پورے احساسات اور وجود پر حاوی ہو گئی تھی۔ نفرت اور اس قدر شدید نفرت۔ مجھے اپنے آپ سے الجھن ہو رہی تھی۔ اپنی حلیم طبع مجھے بار محسوس ہو رہی تھی۔ میری مروت اخلاق لحاظ داری سب کچھ ایک جھٹکے میں اتر چکا تھا۔ میں ہذیان بک رہا تھا۔ اور بکے چلے جا رہا تھا۔ لعنت و ملامت کا جو دورہ مجھے پڑا تھا اس سے مجھے چھٹکارے کی کوئی صورت ابھی تک نظر نہیں آرہی۔ خود پر ملامت، ان اہلکاروں پر ملامت جو اپنی مصروفیتوں میں اس قدر مگن تھے کہ انہیں خبر نہ ہوئی۔
 لوگ کہتے ہیں کہ اور قیامت کس کو کہتے ہیں۔ کیسی ہوگی قیامت۔ مگر مجھے لگ رہا   کہ قیامت کہ دن تو کوئی کسی کو نہ مارے گا۔ کوئی بھی نہ مرے گا۔ سب زندہ کیے جائیں گے۔ تو پھر یہ کیسی قیامت ہے کہ جس میں لوگ مارے جا رہے ہیں۔ نہتے بچوں پر کچھ بیسواؤں کی اولادیں اپنی نشانہ بازی کی مشقیں کر رہی  ہیں۔ عورتوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ شیطان کے پجاری ننگا ناچ رہے ہیں۔ 
دفتر میں روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھے ہم کہ چائے پینے جب کیفے میں آئے تو سامنے ٹی وی پر دردناک مناظر نظر آنے لگے۔ اس کے بعد خبریں ملنا شروع ہوئیں۔ اور دل کا وہ عالم ہواکہ "اشکوں سے بحر ہوگیا صحرا نہیں رہا"۔ اس کے بعد کام میں دل نہ لگا۔ شام کو گھر آتے ہی نصف بہتر کو دیکھا جو اپنے باورچی خانہ  کے کاموں میں الجھی تھی۔ دونوں بچے سب سے بےفکر ایک دوسرے سے لڑائی میں مصروف تھے۔ کبھی ایک کھلونے پر لڑائی جاری ہے۔ تو کبھی دوسرے پر۔ میں نے نصف بہتر سے کہا کہ آج پشاور میں جو کچھ گزرا ہے۔ قیامت کا لفظ بھی مجھے چھوٹا لگ رہا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیا ہوا۔ مجھے تو آج پورا دن ٹی وی دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا،  کیا ہوا ہے؟ تفصیل بتائیں۔ آپ بچوں کو سنبھالیں اب۔ یہ سن کر میرا درد اور بھی بڑھ گیا۔ کتنی ہی مائیں ہوں گی جو اپنے بچوں کو اس دن اسکول بھیج کر مطمئن ہو گئی ہوں گی۔ اپنے کام کاج میں پتا نہیں انہیں خبر بھی ملی ہوگی کہ نہیں کہ ان کا لخت جگر کچھ انسان صورت کتوں کے ہاتھوں شہید ہوچکا ہے۔ پتا نہیں کب انہوں نے بھی ٹی وی چلایا ہوگا۔ شاید کسی ہمسائے نے آکر بتایا ہو کہ آج اس اسکول پر یہ قیامت گزر گئی۔ لوگ کیسے بھاگے ہوں گے۔ باپ بھاگا ہوگا۔ میرا بچہ بھی تو وہیں پڑھتا ہے۔ میں دیکھوں۔ اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی۔ کبھی ایک بچے کو دیکھتا۔ کبھی دوسرے کو۔ میری آنکھوں کی روشنی ان سے ہے۔ میرے والدین کی آنکھوں کی روشنی مجھ سے ہے۔ کیسے کوئی ظالم ہوگا جو ان روشنیوں کو بجھا دے گا۔ اولاد تو سرمایہ ہے۔ روشنی ہے۔ راستہ ہے۔   دل کٹتا جاتا ہے۔ جتنا سوچتا ہوں تلافی ممکن نہیں نظر آتی۔ کتابوں میں پڑھا تھا کہ فرعون بڑا ظالم تھا۔ بچے مار دیتا تھا۔ ہلاکو خان چنگیز خان نے سب کو مارا۔ لیکن یوں بھی کسی نے کبھی مارا ہوگا۔ مجھے تو ان طوائف زادوں میں سے کسی کا نام بھی نہیں آتا، کہ فرعون ، ہلاکو خان اور  چنگیز خان کے مقابل پیش کر سکوں۔ دیکھو اسی بات پر تم اتراتے تھے کہ تم سے زیادہ ظالم کوئی تاریخ میں نہ آئے گا۔ آج چند افراد اٹھے ہیں جنہوں نے تمہارے ظلم کو دھندلا دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ مجھے ان کے نام نہیں آتے۔ وگرنہ میں لکھتا اور اپنی آنے والی نسلوں کو تاکید کر کے جاتا کہ دیکھو ان ناموں میں کوئی نام اپنے آنے والے بچوں کہ نہ رکھ دینا۔ کہ ان سے منسوب انسان نما جانوروں پر تمام قوم کی لعنت ہے۔ 
وقت تو یہ ہے کہ ہم سب ہتھیار اٹھا لیں   ان جنونی درندوں کتوں کی مخالفت میں۔ جو نہ صرف انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں۔ بلکہ جنہوں نے مذہب کو بھی اس قدر بدنام کر دیا ہے کہ لوگ اب خود کو مسلم کہتے ہوئے سر جھکا لیتے ہیں۔ ان پیسے کے لئے بکنے والے کتوں نے نہ انسانیت کا پاس رکھا اور نہ مذہب کا۔ مذہب سے تو خیر ان کا تعلق تھا ہی نہیں لیکن انسانیت تو سب کے لئے ایک جیسی رہتی ہے۔ اس سے بھی منہ موڑ لیا۔ 
ہمارا یہاں دل پھٹ گیا ہے۔ لوگ ابھی تک غم و غصے اور نفرت کی لہر سے باہر نہیں آئے۔ تو وہ گھرانے جن پر یہ قیامت بیت گئی۔ جو ان  خون آشام درندوں کی درندگی کا شکار ہوگئے۔ وہاں کیسی صف ماتم بچھی ہوگی۔ دیکھنے کی ہمت نہیں۔ سننے کی تاب نہیں۔ کاش شتر مرغ ہوتے ہم ۔ کاش ہم بھی ریت میں سر دبا لیتے۔ کاش۔ کاش کاش۔۔۔۔۔ اب تو بس ایک ہی خواہش ہےکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے یہ تمام شیطان کے کارندے اپنے انجام کو پہنچیں۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکے۔۔۔

Wednesday, 10 December 2014

اوّلیں چند دسمبر کے (محترم و مکرم امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ)

8 comments
اوّلیں چند دسمبر کے 
(امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ)

اوّلیں چند دسمبر کے
ہربرس ہی عجب گزرتے ہیں
انٹرنٹ کے نگار خانے سے
کیسے کیسے ہنر گزرتے ہیں
بے تکے بےوزن کلاموں کی
محفلیں کئی ایک سجتی ہیں
میڈیا کے سماج سے دن بھر
کیسی پوسٹیں پکارتی ہیں مجھے
"جن میں مربوط بےنوا گھنٹی"
ہر نئی اطلاع پہ بجتی ہے 
کس قدر پیارےپیارے لوگوں کے 
بد شکل بد قماش کچھ مصرعے
ٹائم لائن پہ پھیل جاتے ہیں
شاعروں کے مزار پر جیسے
فن کے سوکھے ہوئے نشانوں پر
بدوضع شعر ہنہناتے ہیں 
پھر دسمبر کے پہلے دن ہیں اور
"ہر برس کی طرح سے اب کے بھی"
بے طرب صفیں باندھتے ہیں یہ
"کیا خبر اس برس کے آخر تک"
شعر اور بےوزن سے مصرعوں سے
کتنے دل اب کے کٹ گئے ہوں گے
کتنے شعراء اپنی قبروں میں
پھڑ پھڑا کر اکڑ گئے ہوں گے
بےبحر شاعری کے جنگل میں
کس قدر ظلم ہوگئے ہوں گے
"ہر دسمبر یہ سوچتا ہوں میں"
"اک دن ایسا بھی تو ہونا ہے"
شاعری کے ہنر کو سونا ہے
بےبحر بے طرب یہ سارے شعر
کب عروض و بحر سمجھتے ہیں
بس دسمبر کی رٹ لگائے ہوئے 
سماجی میڈیا کو بھر دیا ہوگا
اور کچھ بےتکے سےمصرعوں سے
ایک دیوان چھپ گیا ہوگا

+Muhammad Ahmed  بھائی کا خاص شکریہ اس کو نکھارنے میں مدد کرنے کا۔ :)

Wednesday, 3 December 2014

پنجابی محاورات کی شرح۔۔۔ ایک عزیزی کے استفسار پر

3 comments


 آلکسیاں دے پنڈ وکھرے نئیں ہندے۔۔۔۔

یہ ایک ایسا محاورہ ہے جس میں زندگی کی بڑی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔چاہے طنز ہی کی صورت ، کہ سست لوگ بھی دیکھنے میں عام لوگوں جیسے لگتے ہیں۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ یہ چنے ہوئے افراد ہوتے ہیں۔ جو کہ کسی بھی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ سست اور کاہل لوگ سدا سے دوسروں کے لئے باعث حسد و رشک رہے ہیں۔ لوگ چاہ کر بھی سستی نہیں کر پاتے۔ کیوں کہ اس کے لئے جس حوصلہ برداشت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے عموماً وہ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا جب جب کسی آلکسی سے آشنا ہوتی ہے اس کو سمجھتی ہے شاید یہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہے۔ وگرنہ اس قدر حوصلہ ہمت و برداشت اللہ اللہ۔۔۔ "یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔" دوسری طرف وہ لوگ جو اپنی برق رفتاری پر نازاں ہوتے ہیں وہ اس مصرعہ کی صورت "پہلے تھے تیزروی پر نازاں اب منزل پر تنہا ہیں" خود کو محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ سچا آلکسی کبھی بھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ کاررواں کے اس معتبر اور ذمہ دار شخص کی طرح ہوتا ہے جو کہپیچھے پیچھے آتا کہ اگر کسی کی کوئی چیز رہ گئی ہو اور اپنی برق رفتاری میں کچھ عوامل کو نظرانداز کر گیا ہو تو اس کو احساس دلا سکے۔ لیکن بےلوث خدمت کے جذبے کودنیا کہاں سمجھتی ہے۔ امتیازی سلوک کر کے ہر قدم پر ان کو احساس دلاتی ہے کہ تم سست ہو۔ اور یہ بھول جاتی ہے کہ دنیا تو وجود ہی سستوں سے ہے۔ کیا ایک تیزرفتار مکھی ایک کچھوے کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ کہاں کچھوے کی عمر رواں، کہاں سمندر سمندر خشکی خشکی کے تجربات اور کہاں چند دنوں کی ایک زندگی جس کا ہرکام بنا سوچے عجلت میں۔
ہمارے ایک محترم دوست کا فرمانا ہے کہ کیا دنیا میں کاہلی سے بڑا بھی کوئی سچ ہے۔ حضور کی اس بات سے ہم اسقدر متاثر ہوئے تھے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک کوچہ آلکساں کی بنیاد رکھیں گے۔جو کہ عرصہ پہلے ہم نے رکھ بھی دی تھی۔ اور اس محاورے کو غلط ثابت کریں گے۔ دنیا کو بتائیں گے کہ ہر آدمی سست نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ آپ کے درمیان رہتا ہے۔ تو قدر کیجیے کہ بجائے اس کے وہ کوچہ آلکساں میں جابسے اور تمہاری بستیاں محض عجلت کی تصویر بن کر رہ جائیں۔اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ عجلت کن لوگوں کا کام ہوتا ہے۔

 آٹے دی بلی بناواں میاؤں کون کرے ۔۔۔۔

دھوکا دینا اور دھوکا کھانا انسان کی فطرت ہے۔ ہر دور انسانی میں انسان نے کچھ ایسے ہتھکنڈے ضرور ایجاد کئے رکھے ہیں جس سے وہ معصوم اور بھولے بھالے لوگوں کو بیوقوف بنا سکے۔ درج بالا محاورہ بھی ایک ایسے ہی دور کی ایجاد ہے جب انسانی عقل شعور کے کچھ مراحل طے کر چکی تھی۔ اور لوگ ظاہراً ہر بات دیکھ کر اس پر یقین نہ کیا کرتے تھے۔ بلکہ اس کے دیگر عوامل کے بارے میں سوالات کر لیا کرتے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب نقادی کے فن نے زور پکڑا اور ہر قسم کے کام کے لئے اس کے کچھ اصول وضع کر لئے گئے تھے۔
جس دور میں محاورہ ایجاد ہوا اس دور میں ٹھگی بہت عروج پر تھی۔ اور لوگ بہت ہی چھوٹی سی چیز کو بھی بڑی بتا کر عوام کو ٹھگ لیا کرتے تھے۔ لیکن محاورہ بنانے والے کے ذہن کے پاس سے بھی یہ بات نہ گزری کہ بلی گونگی بھی ہو سکتی ہے۔ بعد کے لوگوں نے جب گونگی بلیوں پر تحقیق کی تو اس کے بعد سے اس محاورے کی شہرت میں خاطر خواہ کمی آئی۔ چونکہ یہ محاورہ ٹھگی کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنے کے لئے بنایا گیا تھا کہ جب کچھ دھوکے کا کام کرو تو اس کے بنیادیلوازمات پورے کر لو۔ اور اس کا اطلاق عہد حاضر کی جدید ٹھگیوں پر نہیں ہوتا۔ جہاں پر ایک بات پر لوگ تیس تیس سال ایک ہی جماعت کو حکمران رکھتے ہیں۔ جبکہ نہ اس کے پاس بلی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ میاؤں کرتی ہے۔

 آئی موج فقیر دی لائی جھگی نوں اگ

عملی زندگی میں آپ کا بارہا ایسے لوگوں سے سامنا ہوتا ہے جو خوشی ہو یا غم نقصان اپنا ہی کرتے ہیں۔ سیاست کی زبان میں ان کو عوام کہتے ہیں۔ جبکہ کتابی زبانمیں اس کو موج میں آیا فقیر کہتے ہیں۔ دونوں صورت میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ عوام قرض و امداد کے ٹکڑوں پر پلتی ہے اور فقیر ان ٹکڑوں پر پلنے والوں کےٹکڑوں پر۔ لہذا دونوں جب خوش ہوں تو ایک ہوائی فائرنگ کر کر کے آتش بازی کر کر کے اپنے ہی گھر جلا لیتا ہے۔ دوسرا جس کے پاس کچھ خریدنے کو نہیں ہوتاوہ کہیں سے ماچس خرید کر آتش بازی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ گھاس پھونس ہی تو ہے دوبارہ جمع کر لوں گا۔ قصہ مختصر یہ ایک انتہائی عملی محاورہ ہے۔جس میںہمارے معاشرتی رویوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

 آدمیاں نوں آدمی ملدے نیں تے کھواں نوں کھو

اپنی طرف سے اس محاورے میں بہت ہی بڑا انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا مکافات عمل ہے۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ یہ تمام کتابیباتیں ہیں۔ بعض لوگ ساری عمر دھوکا دیتے ہیں اور پھر بھی وہ بیچارے جلاوطنی کی زندگی کے نام پر ہیرو رہتے ہیں۔کچھ بیویوں کے مقروض رہتے ہیں جبکہ ان کیبیوی کا کوئی کاروبار ہی نہیں ہوتا۔ بعض بیچارے اتنے غریب ہوتے ہیں کہ اپنے ملک میں مساجد میں بیٹھے رہتے ہیں۔ لیکن کاروبار باہر کے ممالک میں کرتے ہیںتاکہ اس ملک میں تبدیلی کا عمل شروع ہو سکے۔ اور تمام "آدمی" ان کنووں سے پانی نکلنے کی آس میں ان کے اردگرد جمع رہتے ہیں۔ الغرض یہ ایک ایسا بیکارمحاورہ ہے۔ جس کی عملی مثالیں عہد حاضر میں ڈھونڈنا بہت ہی مشکل ہے۔

Sunday, 9 November 2014

عدل زنجیری

9 comments
عدل زنجیری
(عدل و انصاف کی تاریخ، مثالوں کے جھروکوں سے)

پرانے دور کی بات ہے۔جب ملوکیت کا رواج عام تھا۔ ویسے تو آج کل بھی ملوکیت ہے۔ خاندان در خاندان حکومت چلتی ہے۔ لیکن اس دور میں خاندان بھی نہ بدلا جاتا تھا۔ اور ایک ہی خاندان حکومت میں رہتا تھا۔ ملوکیت بڑی ظالم چیز ہوتی تھی۔شہزادوں کی چالاکی اور سازباز کاامتحان ہوتی تھی۔ چاہے بادشاہت میں کسی کو دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ لیکن بادشاہ بننا بہت ضروری ہوتا تھا کیوں کہ یہ زندگی کی ضمانت تھا۔ یہ روایت بھی تھی اور ضرورت بھی، سو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایکبار ایک شہزادے نے والد یعنی بادشاہ کے مرنے کے بعد اپنے بھائی سے بہت کہا کہ مجھے بادشاہت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن بڑے بھائی نے کہا کہ دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ میں پرکھو ں کی روایت سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ اور یہ کہہ کر چھوٹے بھائی کا منہ اس کی کمر کی طرف موڑ دیا۔ جبکہ بعض روایات کے مطابق یہ کوئی سوچا سمجھا قتل نہ تھا بلکہ چھوٹا بھائی کمزور تھا۔ جب یہ بات سن کر بڑے بھائی نے خوشی سے اس کو بھینچا تو اس کی ناتواں پسلیوں نے بھی آپس میں معانقہ کر لیا۔ واللہ اعلم

ہاں تو روایت و ولایت پسندی کے اس دور میں ایک شہزادہ  تھا۔ بہت نیک، دیندار اور محنتی۔ حقوق العباد میں قرابت داروں اور والدین کے حقوق کو چھوڑ کر باقی سب پر انتہائی سختی سے عمل پیرا رہا کرتا تھا۔ بادشاہ بننے کا شوق تھا، اورچونکہ تاریخ کا یعنی اپنے ہی خاندان کا مطالعہ وسیع تھا؛ اس لیے اس بات سے بھی آشنا تھا کہ اگر لمبی عمر چاہتے ہو تو بھائیوں کی عمر مختصر کردو۔ لیکن اس کی زندگی میں ایک اور بڑا مسئلہ تھا۔ اور وہ تھا کہ اس کے باپ کے نہ مرنے کا۔ شہزادہ اس غم میں دبلا ہو رہا تھا کہ اگر باپ یوں ہی زندہ رہا تو وہ خود ضرور علیل ہو کر دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔آخر دن رات کی عبادات رنگ لائیں اور خبر ملی کہ باپ بہت علیل ہے۔ دل غم سے اور ذہن باقی بھائیوں کے خاتمے کے متعلق منصوبوں سے بھر گیا۔ اُدھر  بڑا بھائی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے لگا، یہ دیکھ کر دل بھر آیا۔ اور اپنے ایک ہم نوا سے کہا کہ  دین کی سربلندی کے لئے اور بہتر امور مملکت چلانے کے لیے بھائی کو چند مشورے دینے بہت ضروری ہو گئے ہیں۔ چند احباب کے ساتھ جب بھائی کو ملنے پہنچا تو وہ کم فہم اسے کوئی سازش سمجھا اور اس کو خود پر لشکرکشی تصور کیا۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے اس نے صفیں درست کر لیں جس کی وجہ سے مجبوراً لڑائی کا ماحول بن گیا۔ احباب کچھ زیادہ تھے سو چھوٹے بھائی کو فتح نصیب ہوگئی۔ اس چھوٹی سی لڑائی کے بعد جب دارالحکومت پہنچا  تو کیا دیکھتا ہے کہ باپ تو ابھی زندہ سلامت ہے۔ جوان بھائی موت اخترامی کا زخم ابھی تازہ تھا کہ  باپ  کی  نربل حالت دیکھ کر دل اور آزردہ  ہوگیا۔ یہ رنجور غم سے مخمور  سہہ نہ پایا۔ اور کہا کہ باپ کو آنکھوں سے دور لے جاؤ۔ موقع پرستوں نے اس کو زندان میں ڈال دیا۔ اور اس کو کہہ دیا کہ اب وہ آپ کے سامنے نہ آئے پائے گا۔ بعد میں آنے والے مؤرخوں نے اس واقعے پر بہت زبان درازی کی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بادشاہ کو تو معلوم بھی نہ تھا۔تاہم بعد میں جب اس کو باپ کے شغیل رکیک کی بابت علم ہوا تو موقع پرستوں کی دور اندیشی کی داد  دی۔

عوام کے حالات سے باخبر رہنے کے لیے بھیس بدل کر سفید ہاتھی پر بازاروں میں گھوما کرتا تھا۔ بادشاہ سلامت ایک دن ایسے ہی بھیس بدل کر بازار میں گھوم پھر رہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں۔ ایک بڑھیا زاورقطار ہنس رہی ہے۔ بادشاہ نے ماجرا پوچھا۔ تو لوگوں نے بتایا کہ اس کا بیٹا مر گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ زاروقطار ہنستی رہتی ہے۔ معاملے کی تحقیقات کرنے پر اس لڑکے کے قتل میں چند بااثر افراد ملوث پائے گئے۔ اور مزید پتا چلا کہ بڑھیا نے بہت کوشش کی دربار تک رسائی کی۔ لیکن نہ پہنچ سکی۔ یہاں تک کہ دماغی توازن کھو بیٹھی۔ اس واقعے کا بادشاہ پر بہت اثر ہوا۔ اور اس نے سوچا کہ ایسی ترکیب سوچی جائے کہ ہر عام و خاص کی رسائی بادشاہ تک ممکن ہو سکے۔ سو تاریخ کا دوبارہ مطالعہ کرنے سے پتا چلا کہ پہلے ایک بزرگ بادشاہ گزرے ہیں۔ جنہوں نے ایک زنجیر لٹکا رکھی تھی۔ اور اس تک ہر خاص وعام کی رسائی تھی۔ لہذا زنجیر کو جدت بخشتے ہوئے اس نے ایک ساڑھے تین کلومیٹر لمبی سونے کی زنجیر بنوائی۔ جس پر اہل دربار کو گماں گزرا کہ بادشاہ بھی توازن سے گزر گیا ہے۔ آج کا دور ہوتا تو روز دو دو کڑیاں چوری چوری ہوتے ہوتے زنجیر ساڑھے تین میٹر بھی نہ رہتی۔ لیکن وہ انصاف پسند بادشاہ کا دور حکومت تھا جس میں پرندہ پر اور درندہ در تک نہیں مار سکتا تھا۔ اب معاملہ تھا اس کو بجانے کا۔ عام آدمی بجانا تو درکنار اس کو ہلانے سے بھی قاصر تھا۔ لہذا انصاف کی راہ میں ایک تین کلومیٹر زنجیر حائل ہوگئی۔ لیکن بادشاہ بڑا سیانا تھا۔ اس نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ زنجیر کو بڑے بڑے ستون بنوا کر اس کے ساتھ معلق کر دیا گیا۔  بعض غیر مستند روایات کے مطابق یہ چھوٹی چھوٹی زنجیریں تھیں۔ جو ساڑھے تین کلومیٹر کے دائرہ میں لگائی گئی تھیں۔جب بھی کوئی شخص ہلاتا۔ ناقوس بج اٹھتے۔ لیکن اس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ منطق کے پجاری کہتے کہ اس طرح تو گھنٹیاں دن رات ہوا سے بجتی ہوں گی۔ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ "Chimes" کا رواج اس کے بعد ہی پڑا تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ حسن دیکھنے والی کی آنکھ، سر سننے والے کے کان اور انصاف کرنے والے کی نیت میں چھپا ہوتا ہے۔ لہذا یہاں جملہ "اعمال کا نیتوں پر دارومدار" ہی سب کا منہ بند کرنے کے لیے کافی ہے۔ بلندی کی خاص خیال رکھا گیا۔ تاکہ چھوٹے قد کے لوگ کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر انصاف تک اپنی رسائی کو ممکن بنا سکیں۔ یہاں یہ پہلو بڑا قابل غور ہے کہ اس دور میں بچے شرارتی نہیں ہوتے تھے وگرنہ بادشاہ کا پورا دن تو گھنٹی بجانے والے کی تلاش ہی میں گزر جاتا۔مظلوم آتے اور اگر گھنٹی بجانے میں کامیاب ہوجاتے تو انصاف بھی پاتے۔ ایک دن بادشاہ سلامت محوِ استراحت تھے کہ زنجیر سے اٹھنے والا بےادب شور کسی بیگم مسلسل کی طرح بجنے لگا۔ بادشاہ سلامت فوراً بستر کو خیر آباد کہہ کر مظلوم کی داد رسی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ چلتے چلتے ساڑھے تین کلومیٹر محل سے دور آگئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بیل کے سینگوں سے زنجیر الجھی ہے۔ اور بیچارہ اس سے جان نہیں چھڑا پا رہا۔ بیل کی حالت دیکھی تو دل غم و غصے سے بھر گیا۔ جس بیل سے ایک سونے کی زنجیر نہ ٹوٹے وہ کاہے کا بیل ہوا۔ فوراً اس کے مالک کو بلا بھیجا۔ اور جانوروں کے حقوق ادا نہ کرنے پر اس کی  خوب  درگت بنوائی۔ بیل کو چارہ پانی ڈالا۔ اور واپس آگئے۔ ایک انگریز شکاری جو اس وقت وہاں شکار کے لیے آیا ہوا تھا۔  یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ کہتے ہیں کہ جانوروں کے تحفظ کی تنظیمیں بھی اس کے بعد وجود میں آئی تھیں۔

انصاف کا یہ عالم تھا کہ شہزادوں کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہ تھا۔ہر کوئی اپنے کیے کی سزا پاتا۔ایک دن بادشاہ کا بیٹا ہاتھی پر بیٹھ کر شہر کی گلیوں سے گزر رہا تھا کہ ایک چھت پر اسے ایک لڑکی نہاتی نظر آئی۔ شہزادے  نے جوانی کے نشے میں اس کو ایک پھول دے مارا۔ لڑکی نے روتے سارا ماجرا اپنے باپ کو سنایا۔ باپ بیچارہ اس زنجیر کے پاس پہنچا۔ اور ہلانے کی کوشش کرتا کرتا دہرا ہوگیا۔ آخر کار کسی صورت اس کو بجانے میں کامیاب ہوگیا۔ اور بادشاہ کے دربار تک رسائی ممکن ہوئی۔ وہاں سارا ماجرا بادشاہ کے سامنے کہا اور عرض کی۔ کہ حضور کا اقبال بلند ہو یہ حقیر اب انصاف کا طلبگار ہے۔ بادشاہ جو کہ پیکر انصاف تھا۔ اس واقعے کو سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ درباری بھی حیران پریشان کہ یاخیر، اب کیا معاملہ ہوگا! آخر بادشاہ نے بڑی دیر بعد سر اٹھایا اور کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان۔ لہذا اس معاملے کا فیصلہ بھی انصاف اور قصاص کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ شہزادہ  اب اسی چھت پر نہائے گا۔ اور لڑکی ہاتھی پر بیٹھ کر وہاں سے گزرے گی۔ اور نہاتے شہزادے کو پھول مارے گی۔ عدل وانصاف کا یہ منظر دیکھ کر اس آدمی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اور اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ  میں بدلہ لینے سے انکار کرتا ہوں۔ بادشاہ نے اس پر اس کو انعام و کرام سے نواز کر رخصت کیا۔

متعصب مؤرخین نے اس واقعے کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ جب کہ حقیقت میں فیصلہ صرف انصاف کے اصولوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا تھا۔

اخلاقی سبق: ہمیشہ انصاف کرنا ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔

Monday, 27 October 2014

ہن تے ناپیا گیا اے

9 comments
بچپن سے پنجابی کا ایک لطیفہ سنتا آرہا ہوں۔ اس سے پہلے بات شروع کروں۔ ضروری ہے کہ احباب بھی اس لطیفے سے آشنا ہوجائیں۔

ایک آدمی تھا۔ اس کو بہت لمبی لمبی گپیں ہانکنے کا شوق تھا۔ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتا  تو ایسا کہ ذی شعور تو ایک طرف ناداں بھی اس پر یقین نہ کرے۔ ایک دن اس کے ایک خیرخواہ نے سمجھایا  کہ یار تم ہاتھ ہلکا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپیں مارتے ہو۔ لوگ ہنستے ہیں۔ تمہارا مذاق بناتے ہیں۔ اس آدمی نے کہا۔ بات تمہاری ٹھیک ہے۔ اگلی بار جب میں کوئی کہانی یا قصہ شروع کروں۔ اور تمہیں لگے کہ یہ بات گپ ہے۔ تو ذرا سا کھانس لینا۔ وہ متفق ہوگیا۔

اب کسی دن یونہی  دوستوں کی مجلس میں بیٹھے ایک واقعہ سنانا شروع کیا کہ میں ایک بار جنگل میں جا رہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا سانپ ہے۔ مجھے لگا کہ سانپ کوئی 140 فٹ لمبا ہے۔ اس پر اس کے خیر خواہ نے ذرا سا کھانسا۔ وہ آدمی بڑا جزبز ہوا۔ مگر اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ کہ میرے ذہن میں آیا اتنا بڑا سانپ تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ قریب جا کر دیکھنا چاہیے۔ سو میں قریب پہنچ کر غور کیا تو اندازہ لگایا کہ کوئی 110 فٹ کے لگ بھگ ہوگا۔ اس پر دوست دوبارہ کھانسا۔

آدمی نے خشمگیں نگاہوں سے اس کو دیکھا اور قصہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 110 فٹ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ اس کو مار کر ہی اصل لمبائی کا پتا چل سکتا ہے۔ سو میں نے جب سانپ مارا  اور مرے کا بغور جائزہ لیا تو  خیال آیا کہ 90فٹ تو کہیں نہیں گئے۔ اس پر دوست دوبارہ زور سے کھانسا۔

آدمی نے بے چینی سے  پہلو بدلتے ہوئے کہا کہ بھئی دوستو! بات پرکھنے کو ضروری تھا کہ میں اس کی لمبائی ناپتا۔ مرا سانپ سامنے تھا۔ سو میں نے اپنے اندازے کی سچائی پرکھنے کو جب اس کو ناپا تو وہ 70 فٹ نکلا۔ اس پر خیرخواہ دوست زور سے کھانسا۔ تو وہ قصہ گو پلٹ کر کہنے لگا۔

"ہن کوئی فیدہ نئیں۔۔۔ ہن تے ناپیا گیا اے" (اب کوئی فائدہ نہیں۔ اب تو ناپا گیا ہے۔)

اس سمٹے فاصلوں کے دور میں میری سماعتیں جس صدا سے  زیادہ آشنا ہیں۔ وہ یہی بازگشت ہے۔ "ہن تے ناپیا گیا اے۔ہن تے  ناپیا گیا اے"۔

عہد حاضر کی ایجادات سے انسان جتنا زیادہ فیض یاب ہوا ہے اس کا نقصان بھی اتنا ہی اٹھایا گیا ہے۔ پرانے زمانے میں ایسے کردار خال خال ہوا کرتے تھے۔ لیکن سوشل میڈیا اور ترقی کے اس دور میں ہر صدا "ہن تے نپیا گیا اے" کی بازگشت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ادھورے علم، ادھورے سچ، ادھورے مشاہدے اور ادھورے بیانیوں نے ہم سے برداشت صبر اور تحمل چھین لیا ہے۔ ہم سب چوہدری ہیں۔ ہمارا حرف حرفِ آخر ہے۔ ہم جو بات کرتے ہیں۔ وہ اٹل ہے۔ اس کے آگے اب بہتری کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ اب وہ لوح  پر محفوظ ہوگئی ہے۔ اگر کوئی اس لوح میں ردوبدل کی کوشش کرتا ہے تو وہ احمق ہے۔ بیوقوف ہے۔ نکتہ چین ہے۔ جاہل ہے۔ ایک آنکھ کا انسان ہے۔ جس کو نظر ہی نہیں آتا۔  وہ بہرا ہے کیوں کہ وہ اس "ہن تے ناپیا گیا اے" کی صدا پر کان نہیں دھر رہا۔ اور جب اس کے اعصاب شل ہوجائیں گے۔ وہ پکار پکار کر تھک جائے گا۔ تو پھر  پہلے سے آنے والی بازگشتوں میں ایک اور بازگشت کا اضافہ ہوجائے گا۔ یوں وہ بھی مکمل ہوجائے گا۔

ہمارا دوسرا مسئلہ ہر بار "ہن تے ناپیا گیا اے" کی صدا لگانے کے ساتھ اس میں کچھ اضافہ کرنے کا ہے۔ اس پر مجھے ایک اور لطیفہ یاد آگیا کہ "بات بڑھتی کیسے ہے"

محلے میں ایک  صاحب کے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس پر تعزیت کے لیے احباب کا مجمع لگا ہے۔ فاتحہ پڑھنے کے بعدکسی نے  پوچھا۔

جی کیا ہوا؟ کیسے  فوت ہوئے؟

بتانے والا۔  بس جی کیا بتائیں۔ اچھے بھلے دکان پر بیٹھے تھے۔ مجھے کہنے لگے کہ یار طبیعت بگڑ رہی ہے۔ میں نے فوراً ملازم کو "پندرہ روپے " دیے اور کہا کہ بھاگ کر جوس لاؤ۔ لیکن اس کے واپس آنے سے پہلے چل بسے۔

کچھ اور لوگ آتے ہیں۔ فاتحہ کے بعد ایک پوچھتا ہے۔

جی کیا ہوا تھا؟ کیسے ایکا ایکی چل بسے؟

بتانے والا۔  بس جی کیا بتائیں۔ اچھے بھلے دکان پر بیٹھے تھے۔ مجھے کہنے لگے کہ یار طبیعت بگڑ رہی ہے۔ میں نے فوراً ملازم کو" تیس  روپے"  دیے اور کہا کہ بھاگ کر جوس لاؤ۔ لیکن اس کے واپس آنے سے پہلے چل بسے۔

پھر کچھ لوگوں کی آمد اور وہی واقعہ۔ وہی روپے میں اضافہ۔ باقی ساری بات وہی۔ جب دوپہر کے قریب کچھ لوگ تعزیت کے لیے آئے۔ فاتحہ کے بعد ان میں سے پھر ایک بولا۔

اپنی تو سمجھ سے باہر ہے۔ ابھی کل صبح تو میری ملاقات ہوئی تھی۔ کہہ رہے تھے۔ حاجی اب ملاقات نہ ہوگی۔ میں سمجھا مذاق کر رہے ہیں۔ لیکن اللہ کے بندوں کو تو پتا ہی ہوتا ہے۔ معاملہ کیا ہوا؟

بتانے والا۔ بس جی کیا بتاؤں! دکان پر بیٹھے  تھے۔ طبیعت پر گرانی تھی مگر اتنی بھی نہیں۔ یکا یک کہنے لگے کہ یار طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے۔ میں نے فوراً ملازم کو "تین سو روپے" دیے اور کہا بھاگ کر سامنے سے تازہ اناروں کو گلاس نکلوا کر لا۔ لیکن اس کے واپس آنے سے پہلے ہی بس۔۔۔۔ تمام لوگوں پر سوگ طاری۔


اس لطیفے سے مجھے ایک سچا واقعہ بھی یاد آگیا۔ ذرا وہ بھی سنتے جائیں۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب  میں لاہور ایک دفتر میں ملازم تھا۔ میرا دفتر ایف آئی  اے کی بلڈنگ کے بہت پاس تو نہ تھا۔ لیکن بہرحال اس کے قریب ضرور تھا۔ ایک دن صبح  کو جب میں دفتر پہنچا تو تھوڑی دیر بعد بہت زور دار دھماکے کی آواز آئی اور ہماری پوری عمارت لرز کر رہ گئی۔ کچھ شیشے بھی ٹوٹے تھے یا نہیں۔ یہ مجھے یاد نہیں۔ خیر اس دھماکے نے ایف آئی اے کی بلڈنگ زمین بوس کر دی۔ اور گردونواح کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جانی نقصان تو خیر ہوا ہی ہوا۔ لیکن اس کے دو دن بعد میں معمول کے مطابق بس سٹاپ سے  روٹ کی ویگن میں سوار ہوا۔ مجھے مزنگ تک جانا تھا۔ اور مزنگ سے میں دوسری بس پکڑ کر دفتر جایا کرتا تھا۔ کہ ویگن کے مسافروں کے درمیان اسی دھماکے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔ میرے سے اگلی سیٹ پر جو صاحب تھے۔ وہ بڑے جوش و جذبے سے بتانے لگے کہ جناب کیا بتاؤں۔ کیسا وحشت ناک دھماکہ تھا۔ الاماں والحفیظ۔ بقیہ تفصیلات طوالت کے ڈر سے مختصر کر کے سیدھا مدعا کی بات پر آتا ہوں۔ وہ  یہ کہ "پوری پانچ منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔" ابھی ایک سٹاپ ہی ویگن چلی ہوگی کہ کسی مسافر نے لقمہ دیا۔ کہ یہ دھماکہ کس وقت ہوا؟ وہی صاحب پھر نئے سرے سے شروع ہوئے۔ اور جملے کا اختتام کیا کہ "پوری چھے منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔" آگے ایک سٹاپ سے سواری اتری اور دوسری بیٹھی۔ تو اس نے بھی پہلے سے جاری موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ابھی تک معلوم نہیں ہوا مجھے کہ دھماکہ کہاں ہوا تھا؟ کسی کو معلوم ہے؟ تو وہی صاحب نئے جذبے سے شروع ہوئے اور  اختتام تک تباہ عمارت  سات منزلہ ہو چکی تھی۔ جب اچھرہ سٹاپ پر عمارت آٹھ منزلہ ہوئی تو راقم الحروف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اور عرض کی کہ جناب! قینچی سٹاپ سے اچھرہ تک عمارت آٹھ منزلہ ہو چکی ہے۔ کچھ تو رحم کریں۔ تو اس پر وہ صاحب تنک کر بولے۔ میں نے کون سا وہ عمارت دیکھی ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی پانچ کہتا ہے کوئی آٹھ۔ اب آدمی کس کی سنے کس کی نہ سنے۔ ان کے تیور دیکھ کر میری ہمت نہ ہوئی کہ کہوں جناب پہلے سٹاپ سے یہاں تک ایک ہی منہ ہے۔ لیکن باتیں بہت زیادہ کر رہا ہے۔

بات سچی ہو یا نہ۔ ہم لوگ اس میں زیب داستاں کے لیے، یا کسی اندر کے قصہ گو کی تسکین کے لیے ہر بار کچھ بڑھا دیتے ہیں۔ آخر کیوں؟ کیوں ہم اپنی طرف سے بات بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ اور پھر اس کو ناپ بھی دیتے ہیں،  گویا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی خیال اگر ذہن میں آگیا ہے تو یہ سوچنا کہ میں ہی دنیا کو وہ واحد آدمی ہوں جو یہ سوچ سکتا ہے۔ اور کسی کی ذہنی اسطاعت نہ تھی۔ یہ کج بحثی و کج روی ہمارے اندر یوں سرایت کر گئی ہے کہ ہم اس کو عیب سمجھنے سے ہی قاصر ہوگئے ہیں۔ ہمارے لئے یہ فن ہے۔ گفتار کا ایک بہت اہم خاصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری عملیت پسندی  روایت پسندی، مروت، رواداری گزشتہ چند دہائیوں سے آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ اور جو حالات میں دیکھتا ہوں اس کے مطابق یہ زیادہ دیر زندہ رہتے نظر نہیں آتیں۔ چند ایک بنیادی چیزیں جن پر اسلاف کو فخر ہوتا تھا پہلے سے ہی عالم سکرات میں ہیں۔ اور جو چند ایک پر نزع کا عالم طاری ہے۔ معاشرے میں رائج اقدار ان کی مشکل بھی جلد ہی آسان کرتے نظر آتے ہیں۔ ہماری اخلاقی اقدار، روایات معاشرتی اکائیاں تنزلی کی طرف جا نہیں رہیں بلکہ دوڑ رہی ہیں۔ ہم کھائی میں اتر نہیں رہے گر رہے ہیں۔ اور اگر یہی رویے یہی تربیت آنے والی نسلوں کا بیج ٹھہری تو آنے والے  سالوں میں اس سرزمین سے صرف بانجھ، خود سر اور ضدی قوم اگے گی۔ جو علم و عمل اور مثبت مباحث کے نام سے بھی واقف نہ ہوگی۔ اور اس کے انجام کے بارے میں کسی کو بھی شکوک و شبہات نہ ہوں گے۔