Saturday, 2 December 2017

موسیا آداب داناں دیگر اند

3 comments
موسیا آداب داناں دیگر اند

زندگی ایک حیرت کدہ ہے ۔جہاں عجائب کی کمی نہیں۔ یہ دیکھنے والے کی آنکھ پر منحصر ہے کہ وہ کیا دیکھتا ہے۔ ایک منظر کسی کے لیے بار بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس جگہ پر وہی منظر کسی دوسرے کے لیے دلچسپی کا سامان ہو سکتا ہے۔ شوگران جاتے وقت ماسوائے برفیلے راستوں اور یخ بستہ ہواؤں کے اور کچھ ذہن میں نہ تھا۔ صبح سویرے آٹھ بجے جب واپسی کا سفر باندھا تو ذہن کے کسی گوشے میں  آنے والے تکلیف دہ حالات و واقعات کا ایک عکس تک نہ تھا۔ ہاں  جب مانسہرہ سے نکل کر ایبٹ آباد داخل ہونے سے پہلے راستے میں موٹر سائیکلوں پر نوجوان دین و ایمان کے جھنڈے اٹھائے ڈنڈے لہراتے نظر آئے تو توجہ اس طرف گئی۔ بےاختیار ساتھ والے سے پوچھا۔
وہ اسلام آباد دھرنا کہاں تک پہنچا؟
کوئی خبر نہیں۔ اس نے جواب دیا۔
مجھے خود اپنے بیوقوفانہ سوال پر حیرت ہوئی۔ نہ موبائل، نہ سگنل، نہ انٹرنیٹ، ظاہر ہے اس کے پاس بھی کیا خبریں ہوں گی۔ بہرحال شہر میں داخل ہوئے تو موبائل فون پر اطلاعات موصول ہونے لگیں۔ آپریشن شروع ہوگیا ہے۔ شیلنگ جاری ہے۔ ایسے میں انسان کا ذہن فطری طور پر سب سے پہلے منزل کی طرف جاتا ہے کہ جتنا جلد ہو سکتے منزل تک پہنچا جا سکے۔ کیوں کہ ایک تو انتشار اور پھر مذہبی انتشار، یہ ایک ایسی صف ہے جس میں محمود و ایاز کی تفریق نہیں۔ حسن ابدال سے موٹروے پر داخل ہوئے تو بظاہر کوئی مسئلہ نظر نہ آیا۔ ساڑھے چار کے قریب جب لاہور کے لیے ایم ٹو پر داخل ہونے لگے تو گاڑیوں کی ایک طویل قطار نظار آئی۔ داخلہ بند تھا۔ معلوم ہوا کہ ایک گروہ نے چکری پر موٹروے بند کر رکھی ہے۔ اور آنے جانے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی صورتحال میں مشتعل گروہ کے پاس جانا تو کوئی عقلمندی کی بات نہ تھی۔ انتظار کرتے کرتے نصف رات ہوگئی۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ اب یہیں پر مزید رکا جائے۔ اور کچھ دیر میں موٹر وے کھل جائے گی۔ مشتعل ہجوم تھک ہار کر گھر کی راہ لے گا۔ تو ہم رات کے اندھیرے میں نکل جائیں گے۔ مگر یہ سب خیالات خیال ہی ثابت ہوئے۔
طے یہ پایا کہ حسن ابدال واپس جایا جائے جہاں ہمارے ساتھ کی باقی دو  کوسٹر  انتظار میں ہیں۔ اور ان کے ساتھ ملکر منصوبہ بنایا جائے۔ گو کہ میں اس منصوبے کا ظاہری و باطنی ہر حالت میں مخالف تھا مگر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ ہم وہاں سے نکل کر حسن ابدال آگئے۔ اور باقی افراد کے ساتھ چہلیں کرنے لگے۔ موٹر وے کا نہ کھلنا تھا نہ کھلی۔ رات  کوسٹر کی سیٹ پر کاٹی۔ صبح نکلتے نکلتے یار لوگوں نے پھر نو  بجا دیے۔ سب کچھ دوبارہ بند ہوچکا تھا۔ خبر ملی تھی کہ رات کسی لمحے موٹر وے کھلی رہی ہے۔ مگر اب وہ دوبارہ بند ہو چکی ہے۔ جی ٹی روڈ تو ظاہر ہے یوں بھی ایسے حالات میں مظاہرین کی رہائش گاہ کا  کام کیا کرتی تھی۔ فتح جنگ روڈ سے جانے کا ارادہ کیا۔ مگر وہ بھی بند تھا۔ ایسے میں خبر ملی  کہ ٹرین کا ٹریک کھلا ہے۔ اور وہاں سے جایا جا سکتا ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹرین عام دنوں میں بھی ایک خطرہ مول لینے والی بات ہی ہے۔ اور پھر ایسے حالات میں۔ لیکن بظاہر کوئی اور صورت بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ سو چاروناچار ٹرین کی راہ تکنے لگے۔ عوام ایکسپریس صرف نام ہی کی نہیں ہر طرح سے عوامی ٹرین ہے۔ حسن ابدال کے چھوٹے سے سٹیشن پر جب ٹرین میں سوار ہونے کا مرحلہ آیا تو یہ ایک دشوار کام ثابت ہوا۔ کسی نہ کسی طرح ہم ٹرین میں سوار ہوگئے۔ اور دروازے کے اندر ہی ہم کو پاؤں ٹکانے کی جگہ بھی مل گئی۔ مگر اگلے سٹیشن سے لاتعداد مسافر اور سوار ہوئے۔ اور یوں ہمارا سانس لینا بھی محال ہوگیا۔ پنڈی تک یہ صورتحال تھی کہ میں صرف ایک پاؤں پر کھڑا تھا۔ اور دوسرا پاؤں دیوار کے ساتھ ہلکا سا ٹکا رکھا تھا۔ گرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
راولپنڈی سٹیشن سے ایک کثیر تعداد اور سوار ہوگئی۔ اور ہم لوگ یوں تھے جیسے مکئی کے دانے کسی جار میں بند کیے ہوں۔ کوئی ایک بھی نکلے تو اس کے پیچھے کئی لڑھک جائیں۔ ٹرین راولپنڈی سے چل تو پڑی اور محاورۃً نہیں حقیقتاً تل دھرنے کی جگہ باقی نہ رہی تھی۔ ہمیں یوسفی کا وہ معروف جملہ بےاختیار یاد آیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ "اندرون لاہور کی کچھ گلیاں تو اتنی تنگ ہیں کہ ایک طرف سے مرد اور دوسری طرف سے عورت آجائے تو بیچ میں صرف نکاح کی صورت نکلتی ہے۔" یقینی طور پر یوسفی کا واسطہ ایسی صورتحال سے نہ پڑا ہوگا وگرنہ وہ ٹرین سے  اترنے والے ہر ایک کو ست رنگی جھنڈے اٹھانے کا مشورہ ضرور دیتے۔حالات یہ تھے کہ کسی سٹیشن پر ٹرین رکتی تو باہر سے اندر کسی نے خاک آنا تھا، اندر سے باہر جانا بھی معرکے سے کم نہ تھا۔اس معرکے میں وہی فتحیاب ہوتا جو دھکوں کے ساتھ ساتھ "دھرنے کی زبان" بھی استعمال کرنے میں ماہر ہوتا۔ ٹرین جہلم رک گئی۔ اور کافی دیر رکی رہی۔ سواریاں اتر کر دائیں بائیں دیکھنے لگیں۔ہم نے بھی جب اسٹیشن پر پاؤں رکھا تو احساس ہوا کہ دوسری ٹانگ ہنوز اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ شکرانے کا نعرہ مستانہ زبان سے بلند ہوا۔ اسٹیشن کی  انتظامیہ سے معلوم ہوا کہ تاحکم ثانی ٹرین یہیں رکی رہے گی۔ ہم اتر کر سامنے رکھے بینچ پر بیٹھ گئے۔ حالت یہ تھی کہ چائے پینے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ جو احباب ہمیں جانتے ہیں وہ ہمارے اس جملے سے ہماری حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ٹرین ایکا ایکی بغیر کوئی ہارن دیے چل پڑی۔بشمول ہمارے ایک خلقت دروازوں کی طرف لپکی۔  ٹرین پر سوار ہونا تیسری جنگ عظیم سے کم نہ تھا ۔  ٹرین پر سوار ہو کر ہمیں احساس ہوا  کہ اس طرح تو پانی بھی راستہ نہ بنا پایا ہوگا جس طرح ہم دروازے پر موجود دیوار انساں سے راستہ بنا کر نکلے ہیں۔ خود کو داد دی اور ان لمحات کو کوسا جب ہم  نے پیشہ سپہ سالاری پر شمارندی مہندس بننے کو ترجیح دی تھی۔ بلاشبہ دنیا کو ہم نے پیش قدمی کے لیے ایک بہترین حکمت عملی طے کرنے  والے سپہ سالار سے محروم کر دیا تھا۔ ہائے ہائے۔۔۔۔
ٹرین چلی ہی تھی کہ دوبارہ ٹھہر گئی۔ معلوم ہوا کہ لالہ موسیٰ کا اسٹیشن آگیا ہے۔ اسٹیشن پر اعلان جاری تھا کہ لاہور جانے والے مسافر اتر جائیں۔ ٹرین براستہ سرگودھا سیدھا خانیوال جائے گی۔ ٹرین سے اترے   اور سب سے پہلے چائے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ چائے پی کر احساس ہوا کہ کل رات سے بھوکے بھی ہیں۔ سو بھوکوں کی طرح  ایک نان پر ایک کباب رکھ کر نوش فرمایا گیا۔ اس کے بعدباقی احباب سے ملاقات پر معلوم ہوا  کہ اب چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہو کر لاہور تک پہنچا جائے۔ اسٹیشن سے چند احباب کے ساتھ باہر نکلے اور ایک موٹرسائیکل رکشہ (چنگچی) کے ساتھ گجرات پہنچنے تک کے بارے میں بات کی۔ گجرات پہنچ کر جلوس سے گزر کر دوسری طرف پہنچے۔ جہاں سے اگلی منزل تک کے لیے کوئی اور سواری ڈھونڈنی تھی۔ جلسے میں اکثریت نوعمر لڑکوں کی تھی جن کی مسیں ابھی نہیں بھیگی تھیں۔ اور انہوں نے اپنے سے زیادہ بڑے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے۔ تقریر کرتے ہوئے مولانا انتہائی  اخلاق سوز زبان میں حکومتی انتظامیہ کی شان بیان کر رہے تھے۔ وقفے وقفے سے "لبیک یا رسول اللہ" کے نعرے بھی جاری تھے۔ جلسے کے بیچوں بیچ کچھ لوگ "سیلفی" بنا رہے تھے۔ یہ منظر بےحد کربناک تھا۔گجرات سے ہمیں ایک ٹویاٹا گجرانوالہ تک لے آیا۔ گجرانوالہ پہنچ کر دوبارہ اک چنگچی  لیا۔ جو براستہ کامونکی اور مرید کے سے ہوتا ہوا ہم احباب کو امامیہ کالونی تک لے آیا۔ مرید کے اور کامونکی کے جلسے بھی ہم نے پیدل اتر کر پار کیے جبکہ رکشے والا کسی طرح سے گھما پھرا کر رکشہ جلوس کے دوسری طرف لے آیا۔
کامونکی کے جلسے میں ایک حضرت خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ "یہ چوہدری نسوار ، یہ پٹھانوں کی نسوار یہ مرنے لگا تھا کل۔ بکتر بند گاڑی والے بچا کر لے گئے اسے۔ کوئی بات نہیں۔ دوبارہ مار دیں گے۔"
مرید کے کے جلسے میں ایک حضرت جوش بیان میں "چند انتہائی اعلیٰ گالیوں" سے نوازنے کے بعد فرمانے لگے۔ ان "کتوں، خنریروں اور ڈیش ڈیش" نے عشاق رسول کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ پورا مجمع بہ آواز بلند چلایا۔ "لبیک یا رسول اللہ"۔ اللہ اکبر۔۔۔۔ مجھے لگا کہ یہ آزمائش مسلمانوں کی نہیں اسلام کی ہے۔ایک دلچسپ بات جس کا مشاہدہ میں نے کیا کہ لالہ موسیٰ سے لاہور تک کسی بھی جلسے اور جلوس کے پاس کوئی ایک پولیس والا بھی نہ تھا۔ یہ ایک بہت ہی عجیب بات تھی کیوں کہ میں نے جلوس کے دائیں بائیں پولیس کو ہمیشہ موجود پایا ہے چاہے ان  کی حثیت ایک تماشائی سے زیادہ نہ ہو۔ 
امامیہ کالونی سے دوبارہ ایک چنگچی پکڑا اور شاہدرہ موڑ تک آگئے۔ پل پیدل کراس کرنے کے بعد دوبارہ رکشہ لیا اور گھر پہنچے۔ یوں تقریباً چالیس گھنٹوں پر محیط یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ 

Tuesday, 21 November 2017

شمارندی آغوشیے (لیپ ٹاپ) کے نفسیاتی علاج معالجے کے لیے درخواست

6 comments
کچھ دن قبل ایک عجیب مشاہدہ ہوا۔ لیپ ٹاپ کو ری سٹارٹ یا شٹ ڈاؤن کرو تو ری سٹارٹ یا بند نہیں ہوتا تھا۔ پاور کے بٹن سے ہی آف آن کرنا پڑتا۔ اس کیفیت میں مجھ سے یہ درخواست سرزرد ہوگئی۔


شمارندی آغوشیے (لیپ ٹاپ) کے نفسیاتی علاج معالجے کے لیے درخواست


السلام علیکم تیکنیکی بھائیو!
بعد از سلام بصد احترام آپ بھائیوں کی خیریت مطلوب ہے۔ بھائیو! میرا مسئلہ بہت پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ وہ شمارندی آغوشیہ جس سے آپ مکرمین نے مجھے نواز رکھا ہے۔ مدتوں سے سو نہیں پاتا۔ جب کبھی نیند کی جھپکی دلانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تو ایک عدد ضرب اس کی سر پر لگانی پڑتی ہے۔ جس سے وہ بیہوشی کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر دوسری ضرب پر دوبارہ جاگ اٹھتاہے۔ نیند سے ایسی بیزاری یا تو عشاق کا خاصہ رہی ہے یا اس کو بزرگوں سے نسبت رہی ہے۔ اب اس روشنی میں شمارندی آغوشیے کو دیکھیں تو اس کو عاشق سے زیادہ بزرگ پاتے ہیں۔
عرض مدعا یہ ہے کہ اس کا مناسب نفسیاتی علاج کر کے اس نیند بیزاری کی کیفیت کو ہمیشہ کے لیےختم کیا جائے۔ تاکہ مناسب وقت پر نیند لینے سے کی جسمانی و روحانی حالت درست رہے اور یہ روزمرہ کے معمولات بروقت انجام دے سکے۔
نوازش ہوگی
العارض
ایک مہندس
از قلم نیرنگ خیال

Monday, 14 August 2017

آزادی مبارک

0 comments
"صرف مشترکہ کوششوں اور مقدر پر یقین کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔"
(محمد علی جناح)

 میں جانتا ہوں کہ آپ سب کو  لفظ آزادی کے مفہوم کی تجدید کی ضرورت  نہیں ہے ۔ میں اسی خوش گمانی کو قائم رکھنا چاہتا ہوں کہ  تمام افرادِ پاکستان آزادی کے تصور اور اس کی قدر و قیمت سے بخوبی آشنا ہیں۔ مگر کیا کروں کہ میرے سامنے جب سماجی، معاشرتی اور سیاسی واقعات آتے ہیں تو میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ لفظ آزادی کے معانی اور قدروقیمت کا تو ذکر ہی کیا، شاید ابھی تک میرے ملک کے لوگ اس لفظ سے ہی آشنا نہیں۔ ہمارے  گزرے ستر برس اس بات کے  غماز ہیں کہ ہم نے اپنے لیڈر کے آخری الفاظ کو بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ ان ستر برس کی داستاں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے مشترکہ کوشش اور مقدر پر یقین تو کیا کرنا تھا، ہم نے خواب دیکھنے ہی چھوڑ دیے۔ ہماری گفتگو زبانی جمع خرچ تک محدود ہوتی چلی گئی اور عملی طور پر ہر آنے والا دن ہمارے لئے بےیقینی کا سورج لایا،  جس کی شامیں یاس و ناامیدی کی شفق لیے ہیں۔ ہر سال ہم بحثیت قوم اس دن ارادے تو باندھتے ہیں۔ خود سے وعدے بھی کرتے ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ ان میں صداقت نہیں ہوتی۔ مگر گزرتے دن ان وعدوں پر وقت کی دھول ڈال دیتے ہیں اور یوں یہ سب طاق نسیاں میں دھرا رہ جاتا ہے۔ اگلے سال ان وعدوں اور ارادوں کو اٹھا کر جھاڑا جاتا ہے۔ انہی وعدوں ارادوں کی نئے لفظوں نئے لہجوں سے آرائش کی جاتی ہے۔

 میں مایوسی نہیں لکھنا چاہتا۔ میں قنوطیت کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا   لیکن ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کہ کیا واقعی سچ میں آپ نے کبھی اس معاشرے کی فکر کی ہے؟ ایسا کوئی کام کیا ہے جو معاشرے میں بہتری لانے کا سبب ہو۔  کبھی کسی غمگیں کے آنسو پونجھے ہو؟ کبھی کسی بھوکے کے منہ میں نوالا ڈالا ہو۔ یوں ہی کبھی آپ کسی انجان جنازے میں شامل ہوگئے ہوں۔ کبھی آپ نے سڑک کنارے کسی چھوٹے سے بچے کو ہاتھ میں غبارے و کھلونے لیے بیٹھا دیکھ کر اپنی سواری روکی ہو۔ اور اس سے پوچھا ہو کہ ہاں بیٹا! تم بیچنے لائے ہو تو ایک طرف اداس کیوں بیٹھے ہو۔ غربت اپنی جگہ، مگر ایسی اداسی نے کیوں آن گھیرا ہے؟ یوں چپ چاپ کیوں بیٹھے ہو؟کبھی یوں ہی بے سبب کسی ہسپتال میں جا کر آپ نے موت سے لڑتے ہوئے مریضوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہو یا پھر تھیلیسما کے مریض بچوں کے پاس جا کر کوئی دن گزارا ہو؟

ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ   سب ایک اچھی زندگی کے خواہاں ہیں۔ ایک ایسی زندگی جس میں آپ کی ، آپ کے   بچوں کی اور  گھر والوں کی ہر خوشی شامل ہو۔ مگر بدقسمتی سے مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں ملک کا نام نظر نہیں آتا۔ مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں وہ اداس چہرے کہیں نظر نہیں آتے جو دن بھر کسی غیبی مدد کی آس لئے رات کے بوجھل قدموں تلے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  سیاسی آزادی نظر نہیں آتی۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  اخلاقی آزادی نظر نہیں آتی۔ آپ کی سمت دوسرے متعین کرتے ہیں۔ آپ کا معیارِ سچ جھوٹ کی تکرار ہے۔  ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ دن میں دس اچھی پوسٹس بھی شئیر کرتے ہیں۔ حوصلہ بڑھانے والی ویڈیوز اور تصاویر  بہت خوشی سے سب کو دکھاتے ہیں۔ احادیث اور قرآنی آیات آگے بڑھانے میں بھی آپ کا  دامن تنگ نہیں۔ اور یوم آزادی پر تو جھنڈے بھی پہنے پھرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا کہ نعرے بھی بخوشی لگا لیتے ہیں۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ گزشتہ عرصہ  سے،  میں محض  بکواس پڑھ اور سن رہا ہوں۔ ایک دوسرے کے لیے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کو کسی بھی طرح سے اشرافیہ کی زبان نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک دوسرے کے لیے زہر اگلا جا رہا ہے۔فضا نفرت سے تعفن زدہ ہے۔ رویوں نے اظہار کو مسموم کر رکھا ہے۔ ایسے میں اچھے کام، اچھے رویے اور اچھے لوگ خلائی مخلوق محسوس ہونے  لگے ہیں۔ کس کو سراہا جائے۔ کس کی تعریف کی جائے۔ کس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے۔ معاشرے سے زندہ مثالیں ڈھونڈے نہیں ملتیں۔ اور اگر بدقسمتی سے کوئی اچھا شخص زندہ ہی ہے تو اس کے مرنے کا انتظار جاری ہے تاکہ بعد از مرگ اس کی تعریف کی جا سکے، اس کو سراہا جا سکے۔ اس ریا کے تماشے میں وہی افضل ہے جو ننگا ہے۔

مجھے مسائل کا حل پیش نہیں کرنا۔ دانشور چلا چلا کر اپنے گلے چھیل چکے ہیں۔ مجھے تم سے یہ نہیں کہنا خدارا محبتوں کو فروغ دو، کیوں کہ  کسی چیز کی ترغیب دینا اس کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔میں کیا کہوں، کیا لکھوں، کیا سمجھاؤں کہ میں خود اسی تعفن زدہ معاشرے کا جزو ہوں جس کے سوچ وخیالات نے اس فضا کو خوشگوار بنانے میں ابھی تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ 

میں ناامیدی کی ناؤ میں  دہشت و خوف کے منجدھار میں پھنسی، نفرتوں کے بیج بوتی، محبتوں کے جنازے اٹھاتی، تشدد کے پھل کاٹتی اور زہر کے دریا بہاتی   قوم کو ملک کی سترھویں سالگرہ پر مبارک دیتا ہوں۔ اور اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اب غیب سے اسباب پیدا کر۔ اب اس رات کی سحر کر۔ اب بےیقینی کے سائے اٹھا دے مولا۔  اس گمان و یاس کی دھند سے امید کا سورج طلوع کر۔ ہم پر اپنی پہچان آسان کر دے۔
 آمین یا رب العالمین  

Sunday, 30 July 2017

اشعار کی فکاہیہ تشریح

1 comments
جون کے دو اشعار کی تشریح، ایک دوست کی فرمائش پر۔۔۔۔

آپ مجھ کو بہت پسند آئیں
آپ میری قمیص سیجیے گا
کہتے ہیں کہ چھپ کر محبت کرنا عورت کا کام ہے۔ مرد کو ببانگ دہل یہ کالک منہ پر ملنی چاہیے۔ یہاں پر شاعر نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کوچہ جاناں میں جب رسوا و ذلیلہونے کے بعد دامن تار تار ہوگیا تو شاعر پھر بھی اپنی روش سے باز نہ آیا اور کہاکہ یہ جو مار کھاتے کھاتے میری قمیص پھٹ گئی ہے۔ اب یہ آپ کو ہی سینی پڑے گی۔ ایسا اعلی" پروپوز "کرنے کا اندازاور ایسی ڈھٹائی تو کبھی کسی فلم میں بھی نہیں دیکھا۔ کیا کہنے۔ شاعر چھا گیا ہے۔

مجھ سے میری کمائی کا سرِ شام
پائی پائی حساب لیجیے گا
شاعر نے اسی موضوع یعنی اپنے "پروپوزل" میں مزید کشش پیدا کرنے کی خاطر دلربا کو لالچ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں جو بھی کما کر لاؤں گا ایک اچھے اور فرماں بردار شوہر کی طرحاس کا حساب پیش کروں گا۔ لیکن یہاں جس طرح شاعر کی بیویات کے موضوع پر کم علمی کھل کر سامنے آئی ہے وہیں یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ شاعر مزدور آدمی ہے۔ اور دیہاڑی دار
ہے۔ اگر تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتا تو مہینے کی بات کرتا۔ شام کی نہیں۔ اس سے قبل کے کوئی دریدہ دہن شاعر کو "دکاندار" کہہ کر ہمیں خاموش کروانے کی کوشش کرے ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر شاعر "سیلف ایمپلائیڈ" ہوتا تو اس کی توجہ اپنی دکانداری میں ہوتی یوں کوچہ جاناں میں رسوا نہ ہو رہا ہوتا۔
اشعار کی فکاہیہ تشریح
از قلم نیرنگ خیال
28 جنوری 2016

Tuesday, 25 July 2017

باکمال بزرگ - قسط ہفتم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

0 comments
گزشتہ سے پیوستہ:

شدید حبس کے موسم میں جب سانس لینا بھی دشوار ہوا تھا اور جسم سے پسینہ یوں خارج ہوتا تھا جیسے حکومت کے پانی کی ترسیل کے پائپ ہوں۔ جن میں چھوٹے چھوٹے جابجا سوراخوں کے سبب اتنا پانی پائپ کے اندر نہیں ہوتا جتنا باہر کی سطح پر ہوتا ہے اور اسی سبب  رسنے کی جگہ کا اندازہ لگانا بھی ناممکن رہتا ہے۔ ہمارا جسم بھی جب "لوں لوں دے مڈھ لکھ لکھ چشمہ" کی صورت اختیار کر گیا تو دوستوں کے ساتھ طے پایا کہ چل کر ٹیوب ویل پر نیم تلے پانی میں بیٹھا جائے۔ ایک دوست نے حقہ اٹھا لیا اور دوسرے نے آموں کا تھیلا۔

آموں کا تھیلا ٹیوب ویل کے سامنے بنی حودی میں پھینک دیا گیا تاکہ آم ٹھنڈے پانی سے نہا کر ٹھنڈے ہو رہیں۔ قمیصیں اتار کر نیم کی ٹہنیوں کے ساتھ ٹانک دی گئیں اور شلواریں کو گھٹنوں تک چڑھا کر جانگیے  بنا لیا گیا۔ پانی میں نہاتے اچھلتے کودتے، آم کھاتے ہمیں احساس ہی نہیں ہوا کہ کب دونوں بزرگ اپنا حقہ اٹھائے ٹیوب ویل کے پاس ہی  پڑی چارپائی پر آبیٹھے۔ جب ہماری توجہ ان کی طرف گئی تو ہم نے حوض سے ہی ان کو بھی آم کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے شفقت اور پیار سے انکار کیا۔ اور آپس میں باتیں کرنے لگے۔ 

کچھ دیر بعد ہمیں ان بزرگوں کا قہقہہ سنائی دیا۔ ہم سب نے پلٹ کر دیکھا تو وہ دونوں بےاختیار ہنس رہے تھے۔ ہم سب نے بزرگوں کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ اور ہنسنے کی وجہ پوچھنے لگے۔ بزرگ فرمانے لگے۔ تم لوگوں کو نہاتا اور اٹکھیلیاں کرتا  دیکھ کر ہمیں اپنا ایک واقعہ یاد آگیا تھا۔ سو اس کو یاد کر کے ہنس رہے تھے۔ ہم نے عرض کی کہ یوں بھی مدت بیتی آپ نے کوئی پرانا واقعہ نہیں سنایا لہذا ہم کو بھی یہ واقعہ سنایا جائے۔ اس پر بزرگ نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور یوں گویا ہوئے۔

جس طرح آج تم لڑکے بالے یہاں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہو،اسی طرح یہ واقعہ بھی تب کا ہے جب ہم تمہاری عمر میں تھے۔ ہم چاروں،  میں، یہ (سامنے والے بزرگ کی طرف اشارہ کرکے)، زنگی اور فیضو(جسے ہم ڈھور کہا کرتے تھے) نہر سے نکلنے والے ایک چھوٹے کھال میں پاؤں ڈبوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ڈھور اپنے ابے کا حقہ چوری چھپے اٹھا لایا تھا  جب کہ زنگی کہیں سے کچھ مدک  چرا لایا تھا۔ مدک کو چلم پر دہکا کر حقے کے جو کش لگے تو   ملنگی ماحول بن گیا۔ جگہ ایسی چنی گئی جہاں سے ہم کسی کو نظر نہ آئیں لیکن کوئی بھی کھیتوں کا رخ کرے تو ہم باآسانی اسے دیکھ سکیں۔ طریقہ یہ طے پایا کہ ہر کوئی اپنے سامنے والی سمت کا خیال رکھے گا، تاکہ چاروں اطراف پر نظر رکھی جا سکے اور رنگے ہاتھوں پکڑے نہ جائیں۔ زمین و آسمان کی سمت کو ہم نے کاندھوں پر بیٹھے فرشتوں کے حوالے کر دیا کیوں کہ یہاں سے جو بھی آتا اس کو صرف وہی دیکھ پاتے۔ ہماری اتنی تاب کہاں تھی۔ چھوٹے چھوٹے قصوں سے شروع ہوئی یہ بیٹھک باقاعدہ بڑھک بازی تک جا پہنچی اور اب ہم چاروں مدک باز ایک جھوٹے قصوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

انہی بڑھک بازیوں میں سب کی توجہ اطراف سے بالکل ہٹ گئی اور ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب ڈھور کا باپ ہمارے سروں پر آن پہنچا۔ زمین تو پھٹی نہیں تھی ورنہ ہم لازمی باخبر ہوتے۔ شاید آسمان سے نازل ہوا  لیکن ان فرشتوں کا کیا کریں کہ یہ آج تک نہیں بتاتے وہ کہاں سے آیا تھا۔ بہرحال قصہ مختصر ہمیں ہوش تب آیا جب ڈھور کو چند گالیوں کے ساتھ اوپر تلے پانچ چھے اعلیٰ قسم کے تھپڑ پڑے۔ اُس دن ڈھور کو پتا نہیں کیا ہوا، وہ پہلے بھی ہمارے سامنے کئی بار پٹا تھا لیکن شاید آج اس کی انا آڑے آگئی اور وہ اپنے باپ سے الجھ پڑا اور کہتا اب میں یہاں نہیں رہوں گا، میں شہر چلا جاؤں گا۔ یہ دھمکی ڈھور پہلے بھی کئی بار اپنے باپ کو دے چکا تھا، مگر اس دن وہ  لاری  اڈےکی طرف چل پڑا۔ اس کا ابا اس کے پیچھے اور ہم اس کے ابے کے پیچھے پیچھے ہولئے۔ ہمیں یہ ڈر تھا کہ ڈھور  کا ابا کہیں لاٹھی سے اس کی ٹھکائی نہ شروع کر دے۔ جب اڈے پر پہنچے تو وہاں شہر جانے کے لئےلاری  تیار تھی۔ ڈھور ایک طرف ہو کر کھڑا ہوگیا۔ جب اس نے دیکھا کہ باپ پیچھے پیچھے آرہا ہے،  تو بس کے دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا مگر بس میں سوار نہ ہوا۔ ڈھور کا ابا اس کے پیچھے پہنچا تو وہ جیبیں ٹٹولنے کی اداکاری کرنے لگا۔ ہم بھی پاس پہنچ چکے تھے۔ ڈھور کی نظر جب ہم پر پڑی تو اور بھی مچل اٹھا اور  اپنے باپ سے یوں مخاطب ہوا۔
ڈھور: میں گھر کائی نہ ویساں (میں اب گھر نہیں جاؤں گا۔ )
اس کا باپ بہت پرسکون انداز میں: کتھاں ویسیں؟ (کہاں جاؤں گے؟)
ڈھورابرو اچکاتے ہوئے: شہر ویساں۔ (میں شہر جاؤں گا۔)
ڈھور کا باپ اسی پرسکون انداز میں: پیسے ہن ؟ (پیسے ہیں تمہارے پاس)
ڈھور سر نیچے جھکا کر: نہ سئیں، پیسے کائی نئیں (نہیں سائیں! پیسے نہیں ہیں۔ )
اس کے باپ نے  جیب میں ہاتھ ڈال کر مڑے تڑے کچھ نوٹ نکالے اور اس کو تھما کر کہنے لگا۔ ایہو گھن پیسے، تے ترے  مہینے گھر کائی نئیں آونا ورنہ لتاں بھن ڈے ساں۔ (یہ لو پیسے، اور تین مہینے گھر نہیں آنا، ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا۔)

Wednesday, 19 July 2017

دوسرا رخ

3 comments
پس منظر:
میرے بھانجے خزیمہ (عمر تقریباً ایک سال) کی ہفتہ بھر کے لئے آمد۔ اس دوران زین العابدین اور عشبہ کی اس سے دوستی ہوگئی، اور تینوں بچے ملکر خوب کھیلتے تھے۔ ہفتہ بعد خزیمہ کی واپسی ہوگئی۔

منظر:
میں، بیگم اور بچے بیٹھے ہیں۔
مکالمہ:
بیگم: یہ خزیمہ ہمیں اداس کر کے چلا گیا ہے۔
زین العابدین: نہیں مما! وہ ہمیں اداس کر کے نہیں خوش کر کے گیا ہے۔

نیرنگ خیال
#زینیات

Tuesday, 4 July 2017

آپ نے آکر پشیمان تمنا کر دیا

4 comments
آپ نے آکر پشیمان تمنا کر دیا

پرانی بات ہے،  جب میری عمر کوئی دس سال کے قریب تھی۔ان دنوں    نیکی کا نشہ سا چڑھا رہتا تھا۔ یہ نیکی کا نشہ بھی عجیب تھا۔ فجر ہو کہ عشاء، کوشش ہوتی تھی کہ نماز مسجد میں پڑھی جائے اور اذان بھی خود دی جائے۔ کتنی ہی بار صرف اس لیے گھنٹہ پہلے مسجد پہنچ جاتا کہ اذان دوں گا۔ انہی دنوں مسجد میں ایک آدمی کا آنا شروع ہوا۔ اس کی شاید ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی۔ بہرحال اس کی آنکھ کے ساتھ کچھ مسئلہ تھا۔ اور مجھے اس سے بہت سارے مسائل تھے۔ ایک تو وہ مجھے  اذان نہیں دینے دیتا تھا۔ خود دیتا تھا۔ اور دوسرا جب نماز کے لیے صفیں باندھی جاتیں تو وہ ہم بچوں کو پچھلی صف میں کھڑا ہونے کا حکم دیتا۔ ہم جو اس مسجد کو اپنا سمجھا کرتے تھے۔ اس رویے سے بےحد شاکی تھے۔ اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھایا کرتے۔ پھر ایک دن کرنا یہ ہوا کہ امام صاحب کسی وجہ سے غائب تھے ، اور ان کے غائب ہونے کا ان موصوف نے فائدہ اٹھایا اور بھاگ کر امامت کی مسند پر جلوہ افروز ہوگئے۔ اس کے بعد تو یہ کھیل ہی بن گیا۔ امام صاحب کبھی نہ ہوتے یہ موصوف امامت کرواتے۔چونکہ یہ ہم بچوں کو شور کرنے پر ڈانٹتے اور نہ اذان دینے دیتے اور نہ ہی اگلی صف میں کھڑا ہونے دیتے تھے تو   وقت کے ساتھ  ہماری ان سے سرد جنگ بڑھتی چلی گئی۔ اچھا ایک دلچسپ بات جو میں نے نوٹ کی کہ جب موصوف امامت کرواتے تو رکوع و سجود میں جاتے وقت “اللہ اکبر” انتہائی گلوگیر سی آواز میں ادا کرتے گویا رو رہے ہیں۔

ایک دن ایسا ہوا کہ میں اذان دینے لگا تو اس شخص نے مجھے ہٹا دیا اور خود اذان دی۔ مجھے بہت برا لگا۔ تھوڑی دیر بعد جب جماعت کھڑی ہونے لگی تو  ہم سب بچوں کو پچھلی صف میں بھی کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا۔امام صاحب موجود نہیں تھے تو یہ صاحب بھاگ کر امامت کروانے کو بھی کھڑے ہوگئے۔ یوں تو مجھے شرارتی ہونے کا ایسا کوئی دعویٰ نہیں اور میں بڑا سیدھا اور شریف سا بچہ ہوتا تھا ۔تاہم ، ایک تو وہ یک چشم گُل دوسرا  ہم بالکل اور تیسرا ان کی روتی ہوئی آواز۔ ہمارے ذہن میں شیطان کا مجسم ہوجانا  کچھ اچھنبے کی بات نہ تھی۔  اب جو رکوع میں جانے لگے تو میں نے انتہائی روتے انداز میں بہ آواز بلند “اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کر دیا۔ میرے ساتھ صف میں موجود بچے “کھی کھی کھی” کرنے لگے۔ میں نے رکوع سے دائیں بائیں دیکھا اور انہیں بلند آواز میں ہنسنے سے منع کیا۔ پھر سجدے کی باری آئی تو پھر یہی حرکت۔ عصر کی جماعت تھی۔ دوسری رکعت تک پہنچتے پہنچتے تمام نمازی حضرات بھی مسکرانے اور ہنسنے لگے۔ مسجد میں دبی دبی ہنسی گونجنے لگی۔ تیسری رکعت تک تو ہم باقاعدہ کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور یوں ہی آوازیں لگانے لگے۔  ایسے بھی بچے نہیں تھے کہ یہ اندازہ نہ ہو کہ بعد از جماعت کیا ہوگا۔ سو تیسری رکعت سے جیسے ہی چوتھی کے لیے جماعت قیام میں کھڑی ہوئی۔ ہم تمام کے تمام بچے وہاں سے کھسک لیے اوراپنے اپنے  گھر آگئے۔ اس کے بعد کتنے ہی دن میں اس مسجد میں نہیں گیا۔ مسجد بدل لی۔ اور پھر کبھی جانا بھی ہوتا تو ابو کے ساتھ جاتا۔ یہ واقعہ میرے ذہن سے محو ہو ہی چلا تھا کہ ایف ایس سی کے دوران اسی مسجد میں جانا ہوا۔ جماعت کھڑی ہوچکی تھی۔ بھاگم بھاگ جو جماعت کے ساتھ ملا تو ایک مانوس سی روتی ہوئی آواز میں “اللہ اکبر”، “سمع اللہ لمن حمدہ” سنا۔ بےاختیار نماز میں ہی مسکراہٹ  نے آن گھیرا اور بقیہ نماز اسی واقعہ کی جزئیات یاد کرتے کرتے مکمل کی۔ چور آنکھوں سے حضرت کو دیکھا۔ اور پھر گھر آگیا۔ گھر والوں کو یہ قصہ سنایا۔ اور بہت لطف لیا۔

لاہور  کے ابتدائی قیام کے دوران ایک دن بابا نے بتایا کہ یار وہ فلاں شخص فوت ہوگیا ہے۔ میرے ذہن میں وہ آدمی موجود نہ تھا تو بابا نے نشانی کے طور پر بتایا کہ یار وہ کبھی کبھار امامت بھی کرواتا تھا ا وراذان بھی دے دیا  کرتا تھا۔ یہ سننا تھا کہ  سر شرمندگی سے جھک گیا۔ تو وہ یک چشم گُل گزر گیا۔ احساس ندامت نے آن گھیرا۔ پہلی بار  سوچ بیدار ہوئی ، اس سے معافی ہی مانگ لیتا۔ وہ بچپن کی نادانی سمجھ کر معاف کر دیتا۔ موقع گنوا دیا تو نے۔ دل نے بہت ملامت کی۔ اب آپ احباب اگر یہ سمجھیں کہ میں اس بات سے سدھر گیا اور جا کر اس کی قبر پر معافیاں مانگنے لگا تو آپ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ بس تبدیلی یہ آئی کہ جب میں کسی کو یہ واقعہ سناتا تو آخر میں ایک سنجیدہ سی شکل بنا کر یہ بھی کہتا ، یار، اور آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا۔ اگرچہ کبھی کبھار مجھے لگتا کہ اس شرارت پرمجھے  کوئی ندامت نہیں ہے۔

گزشتہ سال چھوٹی عید کی بات جب ہم سب عید نماز کے لیے مسجد پہنچے۔ بابا امام سے عید ملے بغیر مسجد سے نہیں نکلتے سو اس دن ہم ایک خلقت سے بغلگیر ہوتے ہیں۔ یہ بغل گیر ہونے کا عمل بھی ایسا ہوتا ہے کہ پتا نہیں چلتا کس کس سے عید مل لی ہے۔ سب سے ملتے ملتے جب  محراب تک پہنچے تو امام صاحب سے عید ملنے سے  پہلے مجھے ایک شخص بڑی گرمجوشی سے عید ملا۔ میں نے  بزرگ کو دیکھا تو ان کی آنکھ کو کوئی مسئلہ تھا۔ وہ بڑی گرمجوشی سے مجھے کہنے لگے۔ کیسے ہو؟ اسلام آباد ہی ہوتے ہو؟ میں ان سے کہا جی، ابھی چند دن قبل لاہور منتقل ہوا ہوں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ مسجد سے نکلتے ہی میرا اور بابا کا مکالمہ کچھ یو ں ہوا۔

میں: بابا! یہ شخص تو فوت ہو چکا تھا؟
بابا: یہ کب کی بات ہے؟
میں: آپ نے مجھے بتایا تھا۔
بابا: تمہیں دھوکا ہوا ہے۔
میں: میں اتنے عرصے سے ہر کسی کو کہہ رہا ہوں کہ یہ فوت ہوچکا ہے۔ اور اگر یہ زندہ ہوتا تو میں اس سے معافی مانگ لیتا۔
بابا: عجیب آدمی ہو تم۔۔۔۔۔ (ہنستے ہوئے) ۔۔۔ پتا نہیں کس کی قبر میں کس کو لٹا رکھا ہے۔
  چھوٹے بھائیوں کا ایک مشترکہ فلک شگاف قہقہہ۔
اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ اب کسی کو واقعہ سناتے وقت کیسے کہوں گا، "یار! اگر آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا۔"