Monday, 20 June 2016

ملک (ایک نابغہ شخصیت) ہونا آشنا ہمارا۔۔۔ اپنی بسیار خور طبع سے​ (قسط دوم)

3 comments
گزشتہ سے پیوستہ ہونا آشنا ہمارا۔۔۔ اپنی بسیار خور طبع سے​ یہ ایک روشن صبح تھی۔ ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آج قدرت ہم پر ہماری ہی بسیار خوری کا راز آشکار کر دے گی۔ عرفانِ ذات کا یہ مرحلہ اس قدر آسانی سے طے پا جائے گا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔ بے شک کاررواں کے درمیان آپ کی ذات کی کسی خامی کا یوں بیان کردینا کہ ماسوائے آپ کے کسی اور کو اس کی ہوا تک نہ لگے کسی ولی کامل ہی کا کام ہے۔ جمعہ کا مبارک دن اس کام کے لیے یوں بھی مناسب ہی تھا۔  ہم رند سرشت لہو و لعب میں ڈوبے...

Friday, 17 June 2016

ملک (ایک نابغہ شخصیت)

5 comments
ملک (ایک نابغہ شخصیت) تعارف: ==== السلام علیکم! "ہمارا نام لے کر" آپ ہی ہیں؟ وعلیکم السلام! جی میں ہی ہوں۔ ہم نے حیرانی سے اس نوجوان کو دیکھا جو ہماری میز کے پاس کھڑا  ہمارے علاوہ ہر طرف دیکھ رہا تھا۔ ملک : "میرا نام ملک ہے۔" آنے والے نے  ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا۔ راقم: "اوہ! آپ ہیں۔ کیسے ہیں آپ؟"  کل آپ کا تذکرہ ہوا تھا۔  ہم نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑے ہو کرمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ انہوں نے بھی ایک استخوانی پنجہ آگے بڑھا دیا۔   یہ ہماری ملک صاحب سے...

Friday, 10 June 2016

کاہلی پر اشعار

0 comments
اس موضوع میں کاہلی پر اشعار پیش کیے جائیں گے۔ تمام آلکسیوں سے حسب توفیق حصہ ملانے کی درخواست ہے۔۔۔۔ پہلے پہل کاہلی کا تذکرہ اساتذہ کی زباں سے۔۔۔ میر تقی میر۔۔۔ موضوع کے لحاظ سے تھکی تھکی میر نہ پڑھا جائے۔۔۔ اپنی مثنوی شکار نامہ میں فرماتے ہیں۔۔۔۔ میری بھی خاطر نشاں کچھ تو کیا چاہیے میؔر نہیں پیر تم کاہلی اللہ رے (مثنوی) اس کے بعد غالب کا ذکر ہی بنتا ہے۔۔۔۔ او ریہ ممکن نہیں کہ غالب نے کاہلی کا ذکر نہ کیا ہو۔۔۔ کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سے ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے پر افشاں ہوگئے...