Monday, 13 May 2013

دھاندلی کیا ہے!!!

1 comments
دھاندلی ہے کیا؟ سب سے پہلے تو ہمیں اس کے لغوی مطلب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سنسکرت  کے لفظ دوند سے ماخوذ اردو میں دھاند "ل" اضافے دھاندل کے ساتھ "ی" بطور لاحقہ لگانے سے دھاندلی کا لفظ وجود میں آیا۔ اس کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔ لغت کے حوالوں سے شاید 1922 کو "گوشۂ عافیت" میں تحریرا مستعمل ملتا ہے۔ اور معانی ہیں۔۔ اصل بات کو چھپانے کا عمل، مکروفریب، بےایمانی، دھوکااب آپ سوچیں گے کہ یہ بات تو ہم سب پہلے سے جانتے تھے۔ عام سا لفظ ہے۔ ہمارے لیے اس میں کچھ بھی نیا نہیں۔ تو میں بھی یہی عرض کرنے والا...

خود احتسابی کیسے ہو!

0 comments
مراسلہ از دوست: میرے خیال میں خود احتسابی کا موقع ہر کسی کو ہی ملتا ہے۔ آپ نے ایک معصوم روح (بچے) سے فرعون بننے تک کا سفر بتا دیا، تو دیکھیں؛ فرعون کے پاس بھی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہدایت لے کر پہنچ گئے تھے۔ ہم لوگ تو فرعون سے بہت بہتر، ایک بہت عظیم امت کے اراکین ہیں۔ ہمیں تو جگہ جگہ ہدایت کے مواقع ملتے ہیں۔ ہاں، کچھ لوگوں کے دلوں پر مہر لگی ہو، تو وہ رب کا حکم! کوشش یہی کرنی چاہیے کہ خود احتسابی کی سولی پر سب سے پہلے خودی کو کھڑا کیا جائے۔ ہر عمل میں دیکھ لیا جائے کہ وہ ملک کے لیے نقصان دہ...

Sunday, 12 May 2013

تبدیلی کیوں نہیں آتی

0 comments
اندر کی تبدیلی چاہیے۔۔ مگر وہ کرپشن جو رگ رگ میں رچی ہے۔۔ آپ کو اک بات بتاتا ہوںپرانے دور میں مغل بادشاہوں کے لیے اک کھانا بنا کرتا تھا۔۔۔ اس کا نام شاید دم پخت تھا۔ یا کچھ اور۔۔ لیکن اس کے نام سے کچھ ایسا خاص لینا دینا نہیں۔ وہ مرغے کو جب انڈے سے نکلتا تو اس کو زعفران، بادام اور پستے کھلائے جاتے۔۔ عرق گلاب میں ڈبو ڈبو کر خوراک دی جاتی۔۔ جب وہ مرغا بڑا ہوتا۔ تو اسکا پیٹ چیرچاول بھر کر ہلکی آنچ پر پکایا جاتا۔ تو زعفران اور عرق گلاب کی خوشبو سے وہ چاول مہک اٹھتے اور بادشاہ سلامت اس مرغے کے ذائقہ دار...

Thursday, 9 May 2013

بھوک ڈھل نہیں سکتی۔۔۔

0 comments
یہ شہر سے باہر جانے والی سڑک تھی۔ شہر سے نکلتے ہی اسی سڑک کے ساتھ ساتھ خانہ بدوشوں کی بے شمار جھونپڑیاں تھیں۔ وہیں پر بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ کوئی کم سن بچہ کسی کار کے نیچے آکر کچلا گیا تھا۔ مغرب کے قریب کا وقت تھا۔ اور بچہ جھونپڑیوں سے نکل کر ایکا ایکی کار کے سامنے آگیا۔ نتیجہ کے طور پر جو ہوا سب کے سامنے تھا۔ کار والا بے بسی سے ہاتھ مل رہا تھا۔ وہ شکل و صورت سے کسی متمول گھرانے کا فرد لگتا تھا۔ بے انتہا کوشش کے باوجود وہ اس ننھے کی جان نہ بچا سکا تھا۔ سب لوگ یہی کہہ رہے تھے کہ کار والے کا قصور نہیں۔...

الف نون اور الیکشن

2 comments
نون سیٹی بجاتا جیسے ہی گلی کا موڑ مڑا اسے الف اک سائیڈ پر کسی سند سافتہ نشئی کی طرح گلی میں تقریبا لیٹا دکھائی دیا۔ اس نے اپنی بے ڈھنگی اور بے تحاشہ لمبی ٹانگیں یوں پھیلا رکھی تھیں کہ راستہ آدھا بند ہوچکا تھا۔ اور اسکا سر اس کے شانوں پر ڈھلکا ہوا تھا۔ پہلی نظر میں تو نون کو گماں گزرا کہ شاید گماں کے گزرنے کے ساتھ ساتھ الف بھی گزر گیا۔ سیٹی رک گئی۔ ابرو اوپر چڑھائے۔۔ غور سے دیکھا۔۔ اور پھر اپنے منحوس خیال کو صحیح ثابت کرنے کو وہ بھاگا بھاگا الف کے پاس پہنچا۔ تین چار آوازیں دیں۔ پرالف کے کان پر جوں...