Tuesday, 19 August 2014

مچھلی پیڈیا

2 comments
ان صاحب کا تعارف لکھنے بیٹھوں تو صبح سے شام ہو جائے۔ بزرگ صورت جوان سیرت بہت دلچسپ آدمی ہیں۔ فرماتے مجھے دہرا فائدہ ہوتا ہے۔ بزرگوں کے سامنے چھوٹا اور جوانوں کے سامنے تجربہ کار کی حیثیت ہے۔ ہم نے جب عرض کیا کہ جملے میں جوانوں کے مقابلے بزرگ کا لفظ آنا چاہیے  تو گرم ہوگئے۔غصے سے کہنے لگے ابھی تو میں کڑیل جوان ہوں۔  ہمارے لئے یہ لفظ نیا تھا۔ ہم نے اس سے پہلے اڑیل اور مریل جیسے الفاظ ہی سن رکھے تھے۔ شکریہ ادا کیا کہ اگر کبھی شاعر بنے اور ان قوافی کے ساتھ شعر کہنے کا ارادہ ہوا تو تین اشعار میں تو قوافی درست ہی رہیں گے۔ اس  پر کہنے لگے غزل میں کم از کم بھی پانچ اشعار ہوتے ہیں اور  دو اور ہم قافیہ الفاظ بتائے۔ ہم نے کہا سرکار! ادب کے نام پر کیا کیا پڑھ رکھا ہے؟ تو ہنسنے لگے۔ کہتے چھوڑو سب جوانی کی باتیں ہیں۔ ہم نے عرض کی یعنی ابھی ابھی کی باتیں ہیں۔ تو ناراض ہوگئے۔ اور کہنے لگے بزرگوں کی باتوں پر گرفت کرتے ہو۔ ہم نے کہاحضور اتنی جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جتنی تیزی سے آپ جوان سے بزرگ اور بزرگ سے جوان ہوئے جاتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک معروف گانے کے بول آپ کو دیکھ کر لکھے گئے ہیں۔ تو کہنے لگے میاں! شرم کرو۔ ہم نے کبھی مجرا نہیں دیکھا۔ آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہماری یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ اگر دیکھا نہیں تو معلوم کیسے ہوا مجرے پر فلمایا گیا ہے۔ 
خیر یہ باتیں تو چلتی ہی رہیں گی لیکن موصوف کی زیادہ تر دلچسپی مچھلیوں میں دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ آج کے دور میں مچھلی اور اس کے شکار میں دلچسپی۔ بھئی جہاں لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کان کھجانے کو فرصت نہیں۔ اس کے لئے بھی الارم لگا رکھا ہے کہ کب کب کان کھجانا ہے۔ اس دور مصروف میں مچھلی کو تاڑنا ، پرکھنا  اور پھر شکار کھیلنا کافی وقت لینے والا کھیل ہے۔ ہم نے جب اس بابت استفسار کیا تو ہنس کر کہنے لگے۔ میاں یہ شکاری اور شکار کا رشتہ بڑا دلچسپ ہوتا ہے ۔ تم اس کو نہیں سمجھ سکتے جب تک شکار کرنا نہ جان لو۔ ہم نے کہا کہ دانہ ڈال کر چڑیاں تو ہم بھی پکڑتے رہے ہیں تو ہنس پڑے۔ کہتے میاں چڑیا کی عمر اور گوشت دونوں بہت کم ہوتے ہیں۔  ہم نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دو پروں والی چڑیا یہ جو اڑتی پھرتی ہے اس کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر بھی مسکراہٹ میں کمی نہ ہوئی تو ہم نے مزید وضاحت کرنے سے گریز کیا۔ کہ اتنی وضاحتیں دینے سے ہمیں خطاوار ہی نہ سمجھ لیا جائے۔
سنا ہے جوانی میں آپ بہت شکاری طبع آدمی تھے۔ ہم نے معلومات کی غرض سے پوچھا۔
نہیں بچہ! جوانی نہیں۔ بچپن سے۔ پتا ہے آٹھ سال کی عمر میں پہلا شکار کیا تھا۔
ہم حیران رہ گئے۔ آٹھ سال کی عمر میں؟ واقعی! ہم نے انگوٹھا بدنداں ہوتے ہوئے کہا۔
ہاں! اور پرلطف بات یہ کہ پہلا شکار ہی کامیاب رہا ورنہ میں بھی شاعر ہوتا۔مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
لیکن شادی تو آپ نے بہت  بعد میں کی تھی۔ ہمارا انداز استفہامیہ سا تھا۔
اس پر چونک اٹھے۔ کن خطوط پر سوچ رہے ہوں میاں! میں مچھلی کے شکار کی بات کر رہا ہوں۔
اوہ اچھا! ہم بھی اس انکشاف پر جوابی چونکے۔
موضوع پر واپس آتے ہوئے فرمانے لگے کہ مچھلی کو تاڑنا اور پرکھنا اضافی چیزیں ہیں۔ یہ شکاری کے بس میں نہیں ہوتیں۔ وہ عادت سے مجبور ہوتا ہے۔ اور اگر زیادہ دیر ہو جائے تو مچھلی کے نام پر کیکڑا پھنسنے  پر بھی  شکر بجا لاتا ہے۔ راقم نے عرض کی کہ اگر بس میں نہیں تو پھر شکار کیسے؟ کہنے لگے ارے بدھو! دیکھو! ایک ہوتی ہے کنڈی اور اس کے آگے لگانے کو بطور چارا کوئی کیچوا ہونا چاہیے۔ ہم نے عرض کی چارا تو ساگ ہونا چاہیے یا پھر پالک۔  کہنے لگے میاں! مچھلی پکڑنے اور پٹانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اس کو ہم نے بیان سے زیادہ اعتراف سمجھا۔عرض کی کہ اگر کوئی مچھلی نہ پکڑ میں آئے۔ تو کہنے لگے پکڑ میں آئے نہ آئے، جس کے پاس کنڈی ہو وہ لگاتا ضرور ہے۔ میں تمہیں شکار اور مچھلیوں کے متعلق تھوڑی سی معلومات دیتا ہوں۔ پھر شکار پر چلیں گے۔ ہمارے اثبات میں سر ہلانے پر مچھلیات  کی پٹاری کھولی گئی۔
اکثر مچھلیاں گوشت خور ہوتی ہیں۔ اسی مسلم فطرت کو سامنے رکھ کر ان کو حلال نہیں کرنا پڑتا۔ یعنی وہ حلال ہی ہوتی ہیں۔ کیا تمام مچھلیاں ہلال ہوتی ہیں۔ ہم نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔ تمام کا شکار تم نہیں کر سکتے۔ مچھلیوں کی بےتحاشہ اقسام ہیں۔سو جن کا شکار تم کر سکو۔ سمجھو وہی حلال ہوتی ہیں، لیکن ہم ان چند کا ہی تذکرہ کریں گے جو یہاں پکڑی جا سکتی ہیں۔ ڈولا مچھلی بغیر ڈولوں کے ہوتی ہیں۔ گفتگو کا آغاز کرتے  ہوئے فرمایا گیا۔
تو پھر اس کو ڈولا کیوں کہتے ہیں۔ ہم نے حیرت سے استفسار کیا۔
یار تم خود کو موسیٰ اور مجھے خضر مت سمجھو۔ اور بار بار سوال مت پوچھو،  خاموشی سے پوری بات سنو۔
اس کو ڈولا اس لیے نہیں کہتے کہ اس کے  بڑے بڑے ڈولے ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ڈولتی رہتی ہے۔  اگر تمہاری مچھلیوں  سے سلام دعا نہیں ہے تو اس  مچھلی سے   بچا کرو۔ اگر یہ مچھلی کنڈی میں پھنس جائے تو بہتر ہے ڈوری توڑ کر کنڈی کا نقصان کر لیا کرو۔ لیکن اس مچھلی سے جتنا ممکن ہو دور رہو۔ اس کا شکار کبھی نہ کرو۔ اس میں گوشت زیادہ اور ٹھوس ہوتا ہے۔اور زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے ہی مفید رہتا ہے۔ ہم بغیر کچھ سمجھے اپنا سر دائیں بائیں پنڈولم کی طرح ہلاتے رہے۔
جبکہ اس کے مقابلے میں پری مچھلی اس بامسمیٰ ہوتی ہے لیکن اس  مچھلی میں گوشت نہیں ہوتا۔ بس ذرا پھرتی اور چلبلی سی ہوتی ہے۔ بس کانٹے ہی کانٹے۔   یوں سمجھو کہ اگر ڈولا مچھلی تھیٹر کی ہیروئن ہے تو پری انڈین کرینہ۔ کترینہ کر لیں۔ ہم نے مچل کر کہا۔ اچھا چلو کترینہ ہی سہی۔ کیا یاد کرو گے۔ حاتم طائی کی قبر پر دعائے خیر کرتے ہوئے فرمانے لگے۔
کبھی شادی میں اگر تم پہلے میٹھا زردہ پلیٹ میں ڈال لاؤ۔ تو ساتھ والا تمہیں ویسے ہی بار بار پوچھتا رہے گا۔ زردہ اچھا بنا ہوا ہے۔ گلفام مچھلی بھی بالکل  زردے کی پلیٹ کی طرح توجہ کھینچتی ہے۔ پیلا سا رنگ ہوتا ہے۔ کچھ بدذوق اس کو یرقان زدہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ چال ڈھال پنجابی ہیروئن والی سمجھو۔ تازہ پلی ہوئی۔ لیکن جب منہ مارو۔ میرا مطلب ہے پکا کر کھاؤ تو مزا نہیں آتا۔ بس ایویں عادت پوری کرنے والی بات ہے۔
ذرا سانس لینے کو رکے اور پھر سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولے۔ کالکی صرف نام کی کالکی نہیں ہوتی۔ پکی حبشن ہے۔ کالے رنگ پر تو بڑے گانے ہیں ہم نے کہا۔ تو فرمانے لگے او بئی تم نے پنجابی کی مثل سنی ہے۔ "منہ نہ متھا، جن پہاڑوں لتھا"۔ بالکل اس پر صادق آتی ہے۔ بدصورت ایسی کہ بڑے تو بڑے بچے بھی ڈر جائیں۔ اور ایسا نہیں کہ صرف ظاہر کالا ہے۔ باطن بھی سیاہ۔ کاٹو تو گوشت ایسا سیاہ نکلتا ہے کہ الاماں ولحفیظ۔ اور زہریلی ایسی ظالم کہ اول تو کوئی کھاتا نہیں۔ اگر بیچارہ بھوک کا مارا تھوڑا بہت کھا بھی لے تو کئی کئی دن بخار ہی نہیں اترتا۔یا حیرت! جیسا نقشہ آپ نے کھینچا ہے اس کے بعد اس کو کوئی کھاتا بھی ہوگا۔ ہم نے حیرانی سے سوال کیا۔ چھوڑو یار! دنیا میں کیا نہیں ہوتا، بھوک بڑی ظالم چیز ہے۔ ہم نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے اپنا کدو جیسا سر ہلا دیا۔
کھگّا اپنے پہلوانوں کی طرح ہوتی ہے۔ بات بے بات دوسری مچھلیوں سے لڑائی کرنے پر تیار۔ کچھ بھی مل جائے کھا لیتی ہے۔ لیکن ہوتی بہت سست ہے۔ سوائے لڑائی کے اور کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ اس کی شوخی و طراوت دیکھنی ہو تو کسی دوسری مچھلی سے لڑا کر دیکھو۔گوشت بہت ہی عجیب سا ذائقہ رکھتا ہے۔ اور اگر کھا لو تو سمجھو میٹھی لسی پی لی۔ بس سوئے رہو۔ اس کا گوشت کھا کر طبع پر جو سستی چھاتی ہے اس کا اثر مہینوں نہیں جاتا۔ لڑائی بھڑائی پر تیار رہنے کے باوجود یہ کنڈی لگ جانے پربلا چون و چرا کیے کھنچی چلی آتی ہے جیسے آدمی غلطی نہ ہونے کے باوجود عورت سے تھپڑ کھا کر سر جھکا کر پتلی گلی سے نکل جاتا ہے۔ اس لیئے اگر یہ کنڈی کے دائیں بائیں نظر آئے تو کنڈی وہاں سے اٹھا کر کہیں اور لگا لینی چاہیے۔
اس قدر عارفانہ معلومات ملنے پر مچھلیوں میں ہماری دلچسپی بھی بڑھ چلی تھی۔ ہم تو ایکوریم والی نمائشی مچھلیوں سے ہی واقف تھے جو کسی خاص یا عام کام نہیں آتی تھیں۔لہذا ہم نے فوراً مچھلی پیڈیا کے ساتھ شکار کا پروگرام بنا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے حصے میں کوئی پری یا گلفام آتی ہے یا ہم بھی کھگّا یا کالکی پکڑ کر واپسی کی راہ سدھارتے ہیں۔

اہم نوٹ: یہ کوئی خاکہ نہیں ہے۔
دوسرا اہم نوٹ: یہ تحریر 18 سال سے کم عمر لوگوں کے لیئے ہے۔ بڑی عمر کے لوگ اگر اس کو پڑھیں تو اپنی طرف سے معانی اخذ کرنے سے گریز کریں۔

تیسرا اہم نوٹ: بقیہ اگلے سال (اگلا سال آنے پر یہی سطر دوبارہ پڑھیں)

Thursday, 7 August 2014

منحوس

6 comments
یوں تو دنیا میں بڑے بڑے منحوس گزرے ہوں گے۔ لیکن ہماری تو بات ہی الگ تھی۔ پیدائش سے لے کرجوانی تک ایسا کون سا کارنامہ تھا جو ہم نے کر نہیں دکھایا۔ یا کون سا ایسا کارنامہ تھا۔ جو ہم نے ہونے دیا ہو۔ ہردوصورت میں ہم نے ہمیشہ ستاروں کو گردش میں دیکھا۔ اس بات پر اعتبار اس حد تک بڑھ گیا کہ کبھی کسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ ستارے گردش نہیں کرتے تو ہم نے اس سے  زندگی بھر مہذب انداز میں بات نہ کی۔ بلکہ آغاز گفتگو ہی یوں کرتے جیسے کوئی پرانے  دوست مل گئے ہوں۔ یوں تو منحوس کہلائے جانا کوئی قابل فخر بات معاشرے میں نہیں گردانی جاتی۔ لیکن ہم نے اس شعبہ میں اس قدر تسلسل سے کامیابی حاصل کی کہ لوگ جہاں دستخط میں "ننگ اسلاف"  لکھا کرتے تھے وہاں ہم نے تیرہ بخت لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے ہمیں بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔ مقامی احباب اس کو زیر سے پڑھتے۔ اور امریکی احباب زبر سے۔ ہر دوصورت میں معانی  میں کوئی فرق نہ آتا۔ محض امریکی احباب کا تذکرہ یوں بھی کرنا مناسب ہے کہ فیشن میں "ان" ہے۔
زندگی میں جب بھی کسی کام کی ٹھانی ہے۔ تو یوں سمجھیے کہ زمین و آسماں اس کام کی تکمیل میں حائل ہوگئے۔ مجال ہے جو کبھی کسی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا پائے ہوں۔ اہل خانہ و دیگر احباب اس عمل کو ہماری بد نیتی پر محمول کرتے۔ جب کہ ہمارا اس بات پر ایمان کامل تھا کہ " برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے"۔ بارہا یہ رمز سب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بدگمانوں کو یقین نہ آنا تھا سو نہ آیا۔ اور وہ یہی کہتے پائے جاتے کہ ہمیں معلوم ہے تم کام نہ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہو۔ مجبورا پرانے درویشوں کی طرح ہم کو بھی بےنیازی کا نعرہ مستانہ مارنا پڑتا۔ رفتہ رفتہ ان نعروں کی وجہ سے ہم نیازیوں میں بھی غیر مقبول ہوتے چلے گئے۔
ابتداء میں تو ہم اس کو محض قدرت کی ستم ظریفی سمجھتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پرانے واقعات کے تسلسل پر تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت ہم پر عیاں ہوگئی کہ اگر کسی بھی کام کو کسی عبرت ناک انجام سے دوچار کرنا ہے تو ہمارا اس میں شامل ہونا ہی کافی ہے۔ یوں تو ہماری زندگی ان سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن کچھ واقعات ایسے ہیں جن کے بعد ہم نے سوچا کہ اب ہم کو باقاعدہ ادارہ  بنا کر معاشرے میں نام کمانے کا سوچنا چاہیے۔ اور ایسے تمام لوگوں کی سرپرستی کرنی چاہیے۔ جو اپنی اس خوبی کو خامی سمجھتے آرہے ہیں۔ اور معاشرے کے ناروا سلوک کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم پر گاڑی سیکھنے کا بھوت سوار تھا۔ لیکن گاڑی تو بہت دور ہمیں کہیں سے مرزا کی سائیکل بھی میسر نہ تھی۔ طالبعلمی کا دور گزرنے کے بعد جب ہم کماؤ پوت بن گئے تو سوچا۔ اب ہی وہ دن ہیں۔ جب ہم اپنے اس شوق کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ ہمیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ بس کسی بھی ڈرائیونگ اسکول کا دورہ کرنا ہے۔ اور پھر سڑکیں ہماری کاریگری دیکھیں گی۔ صبح کو دفتر جاتے اور شام کو واپس آتے ہمارا کام یہی رہ گیا  تھا کہ مارکیٹ  میں کہیں ڈرائیونگ اسکول کا بورڈ نظر آئے تو بس جھٹ سے شاگرد ہوجائیں۔ لیکن لگتا  یہ تھا کہ دنیا کے تمام ایسے اسکول بند ہوچکے ہیں۔ یا سنہری تالاب میں سنہری پھول کی حفاظت پر مامور بلا کی مانند ہماری طرح کے خوش نحوستیوں کا شکار ہو چکے تھے۔ کبھی خواب میں خود کو ڈرفٹنگ کرتے دیکھتے۔ تو کبھی ڈریک ریسز میں اپنا نام سب سے اونچا لکھا نظر آتا۔ لیکن وائے قسمت کہ یہ تو بہت دور ہمیں تو ابھی تک انجن اسٹارٹ کرنے کا بھی موقع نہ ملا تھا۔  ایک دن گھر کے قریب والی مارکیٹ کچھ سامان لینے گئے کہ  واپسی پر ایکا ایکی آنکھوں نے عجب منظر دیکھا۔ ایک گھر کے باہر ڈرائیونگ اسکول کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اتنی قریب ڈرائیونگ اسکول۔ بچہ بغل میں اور ڈھونڈورا شہر میں۔ دل کیا کہ فوراً چار پانچ الٹی قلابازیاں لگائیں۔ لیکن  اس ڈر سے نہ لگائیں کہ اگر خدانخواستہ کوئی چوٹ لگ گئی تو ہمارا ڈرائیونگ سیکھنے کا کام اور لٹک جائے گا۔ بس فوراً فون نمبر نوٹ کیا اور وہیں کھڑے کھڑے کال ملا دی۔
دوسری طرف سے کسی لڑکے نے فون اٹھایا۔ ہیلو!
ہم نے اس کی سات پشتوں پر احسان کرتے ہوئے کہا۔ کہ وہ جس کی خاطر آپ نے بورڈ لگا رکھا تھا۔ وہ شاگرد خاص وہ خاقان کٹ مار آپ تک آپہنچا ہے۔
جی؟ دوسری طرف سے حیرت زدہ آواز سنائی دی۔
اوہ میاں! گاڑی چلانی سیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اب سادہ الفاظ میں اس کو بات سمجھائی۔
اوہ اچھا! سر ایسا ہے کہ میں اس وقت تو شہر سے باہر ہوں۔ واپس آتا ہوں تو میں خود آپ کو فون کروں گا۔ اس نے جواب دیا۔
"سر" کہنے پر ہم اس کی آواز شناسی کے قائل ہوگئے۔ دل میں سوچا۔ لڑکا سمجھدار ہے۔ اور صاحب ِسماعت بھی۔ 
دو دن گزر گئے۔ ہم نے دوبارہ اس کو فون کیا۔ اس نے کہا کہ کل اتوار ہے۔ میں گھر پر ہوں گا۔ تو آپ سے ملاقات بھی ہوجائے گی۔ اور وہیں پر باقی معاملات بھی دیکھ لیں گے۔ لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ وہ ہم جیسی ہستی کے استاد ہونے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ یوں تو ہمیں معلوم تھا کہ کوئی چھوٹا موٹا سیہ بخت ہماری استادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن ہم کسی کے حق میں اتنے زہر قاتل ثابت ہوں گے اس کا اندازہ ہمیں اتوار کو ہی ہوا۔
کوئی صبح سویرے 10 بجے کا وقت ہوگا۔ سورج آسمان پر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ کبھی بادلوں کی چادر تان کر سو جاتا تو کبھی حالاتِ حاضرہ سے واقفیت کے لئے زمین پر نظر مار لیتا۔ ہم سورج کی اس آنکھ مچولی سے بےنیاز سرد موسم میں  نرم نرم دھوپ سینکنے کی نیت سے چھت پر کھڑے تھے۔  نیت کا واضح کرنا اس لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اور سورج کو ہماری اس نیت کا علم ہو چکا تھا تبھی   جب سےہم  چھت پر تھے۔ سورج صاحب بادلوں کی چادر تانے محو استراحت تھے۔ البتہ دائیں بائیں کی چھتوں سے کئی چاند دن کو آدھے آدھے نظر آرہے تھے۔ خدا گواہ ہے کہ اگر ہم چاند دیکھنے کی نیت اسی وقت کر لیتے تو اگلے کئی سال تک گرہن لگا رہتا۔ ابھی چھت پر اِدھر اُدھر دھوپ کی آس لئے کسی مناسب کونے کی تلاش میں تھے  کہ  کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے والے میدان میں ہجوم ہے۔ پولیس ہی پولیس۔  گاڑیاں ہی گاڑیاں۔ نظریں دوڑائیں کہ ہجوم کا مرکز معلوم کر سکیں۔ تو مرکز پر اسی اسکول والے گھر کا گماں گزرا۔ دل میں اندیشے جاگنے لگے۔
تو وہ نوجوان گزر گیا۔
افففف۔۔۔۔۔
دوسرا خیال آیا کہ پہلا خیال جھوٹ ہوگا۔ کچھ اور معاملہ ہوگا۔ اللہ رحم کرے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جنازہ لا کر میدان کے درمیان رکھا جا رہا ہے۔ فوراً  گھر سے نکلے ۔ وہاں تک پہنچتے پہنچتے جنازہ شروع ہونے والا تھا۔ خاموشی سے جنازہ پڑھا۔ اور بعد جنازہ ڈرتے ڈرتے ایک آدمی سے پوچھا۔ کس کا جنازہ ہے۔ اس نے کہا۔ رات سامنے ڈرائیونگ اسکول والوں کا لڑکا قتل ہوگیا ہے ۔وہ تو ہمیں اور بھی معلومات دینا چاہ رہا تھا۔ لیکن دل بجھ گیا تھا۔   خود کو مجرم سمجھتے ہم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے میدان سے نکل آئے۔
اس واقعے کا ہم پر بہت اثر ہوا۔ ہم اپنے حق میں تو ہمیشہ ہی منحوس ثابت ہوتے تھے۔ لیکن اب تو ہماری نحوست کا دائرہ کار بہت بڑھتا جا رہا تھا۔ جس کام کا ارادہ کرتے تھے۔ اس سے جڑے لوگ بھی کسی نہ کسی مشکل میں گرفتار ہو جاتے تھے۔  ایک دن واپسی پر ہماری پک اینڈ ڈراپ والے نے ہم سے کہا کہ سر اگر آپ نے کل کہیں جانا ہے تو گاڑی اپنے پاس رکھ لیں۔ کیوں کہ  میچ کی وجہ سے میں نہیں آ سکوں  گا۔ میں نے کہا یار تم بےفکر رہو۔ میں اپنا بندوبست کر لوں گا۔ مجھے گاڑی چلانی نہیں آتی۔ اس پر اس نے کہا۔ یہ کون سا کام ہے۔ بس آج سے میں آپ کو گاڑی چلانی سکھاؤں گا۔ میں نے اسے ہمدردانہ نظروں سے دیکھا۔ میرے اس سے اچھے تعلقات تھے۔ اور میں واقعی نہیں چاہتا تھا کہ مجھے جلد ہی ایک نیا پک اینڈ ڈراپ والا ڈھونڈنا پڑے۔ لہذا میں نے اسے کہا۔ کہ پریشانی والی بات نہیں۔ میں جلد ہی کسی اسکول سے سیکھ لوں گا۔ لیکن اس نے کہا۔ نہیں۔ بس آج سے آپ کی کلاس شروع۔ اور ہمارے گھر کے باہر والی سڑک پر اتر کر  کہنے لگا۔ کہ ڈرائیونگ سیٹ پر آجائیں۔ میں ڈر رہا تھا۔ لیکن پھرسوچا کہ جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا۔ ابھی سیٹ پر بیٹھ کر انجن اسٹارٹ کیا۔ اس نے مجھے گاڑی کے گئیر، کلچ اور بریک کے متعلق ایک درس دیا۔ پھر اس نے کہا۔ کہ یہ سامنے والی گاڑیاں گزر جائیں تو ہم آرام آرام سے ڈرائیو کر کے گھر چلے جائیں گے۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ برے سے برا کیا ہو سکتا ہے۔ کہ ایسے میں پیچھے سے ایک کار آکر سامنے رکی۔جس کے اندر کوئی فیملی بیٹھی تھی اور بونٹ میں آگ لگی ہوئی تھی۔ ذرا تصور کیجیئے کہ بونٹ میں آگ۔ میرے لبوں پر ایک مسکراہٹ تیر گئی۔ بالکل ویسی جیسی شکار کو سامنے دیکھ کر شکاری کے ہونٹوں پر نمودار ہوتی ہوگی۔ ڈرائیور  اتر کر اس کی طرف بھاگا۔ اور ان سب کو نیچے اترنے کا کہہ کر فوراً آگ بجھانے لگا۔  میں فخریہ انداز میں اس گاڑی کو دیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کہ کب سے گاڑی گرم ہوئی ہوگی۔ لیکن اس کو عین میرے سامنے آکر ہی رکنا تھا۔ ابھی اپنے اسی تیس فٹ کے نحوستی دائرہ پر سوچ رہا تھا کہ  اس فیملی میں سے ایک لڑکی میرے تک آئی اور کہنے لگی کہ آپ مجھے اپنا فون دیجیے۔ میں گھر فون کر سکوں۔ میں جیب سے فون نکال رہا تھا تو وہ کہنے لگی جلدی کرو۔ غالباً مجھے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر اس نے مجھے ڈرائیور ہی سمجھا۔ میں نےبھی اس کے لیجے سے تاثر بھانپ کر مسکرا کے کہا۔  بی بی میں گاڑی ضرور چلاتا ہوں گا کرائے پر لیکن فون نہیں چلاتا۔ صبر کرو۔ فون دیکھ کر اس نے ایسی نظروں سے مجھے دیکھا گویا ابھی ابھی میں کسی کا فون چرا کر لایا ہوں۔ اس  کے بعد اس نے جب فون پکڑا تو اس کو آپریٹ کرنا بھی نہیں آتا تھا۔ آخر مجھے اتر کر اس کو نمبر ملا کر دینا پڑا۔ اور نحوست کی انتہا دیکھیے کہ اس نے بھی اپنے باپ کا نمبر ملایا۔ وائے حسرتا!
اس سے پہلے میں آپ کو کوئی اور واقعہ سناؤ ایک دوست کا تعارف کرواتا چلتا ہوں۔ ہمارے ایک بے حد محترم دوست ہیں۔ یہاں میں احباب کو بتاتا چلوں کہ ہمارے دوست بھی نحوست میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ اور کچھ چھوٹے موٹے کام نہیں کرتے۔ ان کی اس میدان میں گرفت ظاہر کرنے کو ذرا یہ واقعہ سنیے۔
موصوف  کا ایک جائز کام اٹکا ہوا تھا۔ اور کام نکالنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ آخر ان کو کسی نے مشورہ دیا کہ وہاں پر ایک آدمی ہے۔ جو کوئی عرصہ چالیس سال سے روپے لے کر لوگوں کے جائز و ناجائز کام کر رہا ہے۔ اور آج تک کسی کرپشن کے الزام میں نہیں پکڑ اگیا۔ اب ان کی بدقسمتی سمجھیے یا پھر اس بیچارے کی بدقسمتی۔ کہ یہ بذات خود اس کے پاس جا پہنچے۔ اور رقم اس کے ہاتھ تھما دی۔ اور مطمئن و شاداں گھر کو لوٹ آئے۔ الغرض قصہ مختصر کہ وہ آدمی چند دنوں میں ہی کرپشن کے الزام میں  معطل ہوگیا۔ شاید بات یہیں ختم ہوجاتی تو بھی بہتر ہوتا۔ لیکن اس کے بعد پتا چلا کہ وہ پاگل ہوگیا ہے۔ اور را ہ جاتی گاڑیوں کو پتھر مارتا ہے۔  ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ اگر یہ کام ہوجاتا تو میں حیرت سے مر جاتا۔ لہذا اس کی یاد تازہ رکھنے کو آج بھی ہم سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر پتھر پھینکتے ہیں اور اس جنتی راشی کے ایصال ثواب کا سامان کرتے ہیں۔
خیر ان کو ایک دن خیال آیا کہ  گبرئیل گارشیا   مارکیزکا آٹو گراف لینا چاہیے۔ میں نے ان سے عرض کی۔ یہ کون سا کام ہے۔ اس کے پرستار پوری دنیا میں ہیں۔ آخر بیرون ممالک والوں کے آٹو گراف کے لئے کوئی طریقہ تو ضرور وضع کیا ہوگا یار لوگوں نے۔ گوگل کا سہار لیا۔ اور اس پبلشر تک پہنچ گئے جس نے پورا طریقہ بتایا ہوا تھا۔ کہ کس طرح آٹو گراف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور اس میں کتنی دیر لگ سکتی ہے۔ بس جناب۔ ہمارے دوست جذباتی ہوگئے۔ اور کہنے لگے کہ بس ایک دو دن میں ہی میں یہ کام کرتا ہوں۔ یہاں ہم دونوں یہ بات بھول گئے کہ ہم تو اکیلے اکیلے ہی بہت بھاری ہیں۔ کجا یہ کہ دونوں ملکر کسی کام کو نبٹانے جائیں۔ الغرض قصہ  مختصرکہ دو ہی دن  بعد کہنے لگے کل انشاءاللہ یہ کام لازماً کر گزرنا ہے۔ اسی شام کو اکیلا بیٹھا تھا۔ یونہی ٹی وی پر مختلف چینل گھما  رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ گبرئیل گارشیا کی خبر چل رہی ہے۔ کہ کچھ دن سے علیل تھے۔ اور آج چل بسے۔ چند ثانیے تو افسوس سے خبر سنی اور اس کے بعد جب یہ خیال آیا شاید تب سے علیل ہیں۔ جب سے ہم نے آٹو گراف لینے کا طریقہ ڈھونڈا ہے۔ دوست نے کہا کہ یار آدمی ستاسی برس جیا۔ بس آٹو گراف کا سوچا تو دارِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ اس کے بعد جو افسوس اور ہنسی کا ملاجلا دورہ پڑا ہے تو بس۔ 
اب احباب خود ہی بتائیں کہ ہم کو سست اور کام کو حیلے بہانوں سے ٹالنے والا کہنے والوں کو ہم کیا جواب دیں سوائے اس کے کہ اس نحوست کی دیوی کے چرنوں میں ہم نےاپنے  کتنے ہی  ارادوں  کا بلیدان دیا ہے۔  اب تو ادارہ ترقی منحوساں کا سنگ ِ بنیاد رکھے بنا چارہ نہیں۔

Saturday, 19 July 2014

شیف

1 comments
شام ڈھلنے کے قریب تھی۔ سامنے ٹی وی پر ایک ہی چینل بہت دیر سے چل رہا تھا۔ ہم کبھی ٹی وی پر نگاہ ڈالتے تو کبھی چند گز دور پڑے ریموٹ  پر۔ دل چاہ رہا تھا کہ اٹھ کر ریموٹ اٹھا   لیں۔  لیکن اس سے ہماری  سست طبع پر حرف آنے کا شدید امکان تھا۔اگرچہ گھر میں اور کوئی نہ تھا جو کہہ سکتا کہ اس نے خود اٹھ کر ریموٹ اٹھا یا ہے لیکن  کراماً کاتبین کو صرف اس کام کے لئے جگانا مناسب خیال نہ کیا۔ اورخود کوبھی  کیا جواب دیتے۔ کہ محض ایک ریموٹ اٹھانے کی خاطر ہی بستر سے جدائی اختیار کر لی۔ میاں کس بات پر خود کو امیرِ سستی کہتے ہو۔ کل یہی باتیں رہ جائیں گی۔ یہی مثالیں پیش کروں گے نوآموز پوستیوں کو۔ کیا منہ دکھاؤ گے باقی آلکسیوں کو۔ سستی کی معراج یہ ہے کہ یہ ریموٹ خود اٹھ کر تمہارے پاس آئے۔ ضمیر کی اس  متواتر پکار  سے سر میں بھی درد شروع ہوگیا تھا۔  لہذا سوچ کا محور ریموٹ سے بدل کر چائے کی طرف کیا۔ جو کہ  موجودہ صورت میں کے- ٹو سر کرنے سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھا۔  شام کی چائے بنانے کا منصوبہ ابھی ذہن میں ہی تکمیل پا رہا تھا کہ چائے ابھی  بنائی جائے یا کچھ دیر اور یونہی بستر سے محبت نبھائی جائےکہ دروازے پر دستک ہوئی۔
دروازہ کھلا ہے۔ ہم نے لیٹے لیٹے ہی اپنی لیٹی ہوئی آواز اٹھانے کی کوشش کی جو کسمساتی، رینگتی ہوئی باہر کھڑے شخص کے کانوں تک جا پہنچی۔ دستک دینے والا اندر آیا تو دیکھا کہ موٹا بھائی ہیں ۔ ہم نے فوراً لیٹے لیٹے مسکرا کر ان کا استقبال کیا۔ ہماری آلکسی بھلے معراج پر ہو لیکن اتنے بھی سست نہیں کہ چہرے کے تاثرات تک تبدیل نہ کر سکیں۔ مسکراتے ساتھ ہی  ہم نے ان سے عرض کی کہ جب ہاتھ ملانے کو ادھر آئیں تو راستے سے ریموٹ اٹھاتے لائیں۔ ہماری سستی کا یہ عالم دیکھ کر انہوں نے ایک بھرپور جمائی لی۔  اور ریموٹ اٹھا کر سامنے صوفے پر تشریف فرما ہوگئے۔ کہنے لگے۔تم سے ہاتھ ملانے کی حسرت کبھی بھی نہیں تھی۔ اور  ریموٹ کا بٹن دبانے سے عین ممکن ہے کہ تم میں چستی کی کوئی لہر دوڑ جائے۔ لہذا یہ کام میں خود ہی سرانجام دے لیتا ہوں۔ اور ہم جو موٹا بھائی کو فرشتہ و غیبی مدد اور پتا نہیں کون کون سے القابات سے نوازنے والے تھے۔' میر جعفر از بنگال صادق از دکن' کا مطلب پوچھنے لگے۔ موٹا بھائی ہماری اس گستاخی کو پس منظر کا شور گردانتے ہوئے ریموٹ کے بٹن دبا کر دیکھنے لگے کہ یہ کام بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ ہم نے ریموٹ کو بھلا کر واپس چائے کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ خیال آیا۔ اگر موٹا بھائی بھی چائے پینے پر رضامند ہوجائیں تو لطف رہے گا۔ 
"آپ چائے پئیں  گے؟"  ہم نے اپنی ساری طاقت مسکرانے پر صرف کرتے ہوئے کہا۔
"نہیں! میں چائے نہیں بناؤں گا۔" موٹا بھائی نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔
"عجب ہیں آپ! میاں ہم چائے پینے کا پوچھ رہے ہیں۔ اب گھر آئے مہمان سے کون چائے بنواتا ہے۔" ہم نے زبردستی حیرت اپنے اوپر طاری کرتے ہوئے کہا۔
"جو بھی ہے۔ میں چائے نہیں بناؤں گا۔" موٹا بھائی نے اسی لہجے میں جواب دیا۔
"حد ہوگئی! شرافت کا زمانہ ہی نہیں رہا۔  ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں کہ ہم چائے آپ سے بنوائیں گے۔" ہم نے موٹا بھائی پر آخری وار کرنے کی کوشش کی۔
"نہیں میاں! تم جو مرضی کہو۔ لیکن  اس بغیر کسی گوشے والے دماغ کے ہی تم کئی بار مجھ سے چائے بنوا چکے ہو۔ اور آج میں فیصلہ کر کے آیا ہوں کہ چائے نہیں بناؤں گا۔" موٹا بھائی  الزام تراشی پر اتر آئے تھے۔
"خودغرضی لوگوں کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہی ہے۔"  ہم نے ایک خبروں کے چینل پر ایک خبر دیکھ کر تبصرہ کیا۔
"ہاں بالکل! اب تو لوگ چائے بنانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔" موٹا بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"آپ کے اس رویے سے ہماری میزبان طبع کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔" ہم نے جذباتی حملہ کرنے کی کوشش کی۔
"ایسے ہی سہی۔" موٹا بھائی انتہائی بےرخی سے بولے۔
صبح سے کمر کو بستر سے جوڑ کر ہم نے طاقت جمع کی تھی ساری کی ساری صرف کر کےاٹھے  اور  کچن کا رخ کیا۔
"چائے پئیں گے آپ؟" ہم نے وہاں سے آواز لگائی۔
"بتایا تو ہے نہیں بناؤں گا۔" موٹے بھائی کی مسکراتی آواز  سنائی دی۔ غالباً انہیں اب تک اس بات پر یقین نہ آیا تھا کہ ہم واقعی چائے بنانے کی غرض سے باورچی خانے میں رونق افروز ہوچکے ہیں۔
ہم نے انتہائی تیزی اور پھرتی سے چائے بنائی۔ تاکہ بستر اور ہمارے درمیان ہجر کی گھڑیاں کم سے کم ہوں۔  موٹا بھائی کے سامنے ایک کپ دھرا اور دوسرا خود تھامے واپس اپنے بستر پر بیٹھنے ہی والے تھے کہ گھنٹی کی آواز نےہمارے چائے اور بستر کے درمیان کیدو کا کردار ادا کیا۔ باہر دیکھا تو  محلے کا اکلوتا چوکیدار فضلوکھڑا تھا۔
"کیسے ہو فضلو؟ کافی دن غائب رہے؟" ہم نے اس سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
ٹھیک ہوں صاحب!  بس وہ کچھ  کھا لیا تھا  بعد میں پتا چلا کہ وہ گلا ہوا ہے جس کی وجہ سے بہت بیمار رہا ہوں۔
فضلو کی عادت تھی کہ وہ اچھی بری ہر چیز بغیر پرواہ کئے  کھا جاتا تھا۔ صاف نظر آرہا ہوتا تھا کہ چیز خراب ہے لیکن وہ پھر بھی نگل جاتا۔ اپنی اسی عادت کی وجہ سے اکثر  و بیشتر بیمار رہتا  تھا۔ بارہا سمجھانے پر بھی جب اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو اہل محلہ نے سمجھانا چھوڑ دیا۔
ہم فضلو کو اس کی تنخواہ دے کر واپس آئے  تو کیا دیکھتے ہیں کہ موٹا بھائی ٹی وی پر چند لڑکیوں کو بڑے انہماک سے دیکھنے میں مصروف ہیں  جو کھانا بنانے میں مصروف تھیں۔
"تم کو کھانا بنانا آتا ہوگا؟  آخر کو ایک عمر تم نے گھر سے باہر گزاری ہے۔" موٹا بھائی نے لڑکیوں یا پھر کھانے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"جی نہیں۔" ہم نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔
"بنانا کیوں نہیں سیکھا۔"  موٹا بھائی نے  نظریں لڑکیوں سے ہٹانا گناہ  سمجھتے ہوئے پوچھا۔
"ہم صرف اچھا کھانا کھانے کے شوقین ہیں۔ اور چونکہ ہم کو اچھا کھانا بنانا نہیں آتا لہذا ہم اپنا بنایا کھا کر اچھا کھانے والی صلاحیت بھی کھونا نہیں چاہتے۔  " ہم نے وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
"میاں انسان گاتے گاتے گویا ہو ہی جاتا ہے۔ بناؤ گے تو آہستہ آہستہ بنانا آجائے گا۔" انہوں نے  ٹی وی پرکھانا بناتی لڑکیوں میں سے ایک پر نظر جماتے ہوئے  ناصحانہ  انداز میں کہا۔
"ہم میں صبر کی شدید کمی ہے۔" ہم نے اس نوجوان کے انداز میں کہا۔ جو چند بزرگوں کے درمیان گھر گیاہواور جان بچانے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔
"ہمم! اچھا سنو میں سوچ رہا ہوں کہ   شیف بنوں  اور اس  مقابلے میں حصہ لوں۔"  موٹا بھائی نےہماری طرف متوجہ ہوئے بغیر کہا۔
"اگر  آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال ہے کہ آپ کو ان لڑکیوں کی معرفت میں کام کرنے کا موقع ملے گا تو یقین کریں آپ بہت بھولے ہیں۔" ہم نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے ان پر جملہ چست کیا۔
"ان لڑکیوں کو کون دیکھتا ہے۔ میں کھانا بنانا سیکھوں گا اور اس مقابلے میں حصہ لے کر جیتوں گا۔"  موٹا بھائی نے اپنی نظریں لڑکیوں پر گاڑے گاڑے جواب دیا۔
اس عزم پر ہم نے حیرانی سے اس جثہ رستم کو دیکھا جو  کچھ بھی نیا سیکھنے کی عمر سے گزر چکا تھا۔
"آپ سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں!" ہم نے حیرت سے استفسار کیا۔
"ہاں! میں شیف بن کر رہوں گا۔ اور مقابلے میں حصہ بھی لازمی لوں گا۔" موٹا بھائی نےپلٹ کر  ہم کویوں  گھورتے ہوئے کہا۔  گویا اگر آج  تک وہ شیف نہیں تھے تو ہمارا ہی قصور تھا۔
"لیکن جہاں تک اس خاکسار کا خیال ہے کہ آپ کچھ بھی بننے کی عمر سے گزر چکے ہیں۔ "
"ہنہہ! نہیں میاں! تم کو معلوم نہیں کہ میرے اندر کتنا ٹیلنٹ چھپا ہے۔ "
ہم نے ایک نظر دوبارہ ان کے ٹیلنٹ زدہ جثے پر ڈالی۔ اور انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔" مشکل ہے!"
غصہ سے دوبارہ لڑکیوں پر نظریں جما لیں۔ کہنے لگے۔" کیا مشکل ہے! کسی کے جسامت دیکھ کر تم اندازہ لگاؤ گے کہ وہ اچھا شیف ہے یا نہیں۔ "
"نہیں۔ میری معلومات ذرا کم ہیں۔ شیف کا کام کیا ہوتا ہے۔"
فخر سے گردن اکڑا کر کہنے لگے۔ "میاں! بڑے بڑے ہوٹلوں میں شیف ہی ہوتا ہے۔ "
"اس کو باورچی بھی کہہ سکتےہیں؟ "
ذرا غصہ سے پہلو بدلتے ہوئے۔" تم نے کبھی کسی بڑے ہوٹل میں کھانا نہیں کھایا؟"
"کھایا ہے۔" ہم نے جلدی جلدی ہوٹلوں کے نام گنوانے شروع کر دیے۔
"بس بس! آگیا یقین کہ تمہیں بھی کسی نے اندر گھسنے دے دیا ہوگا۔ خیر وہ کھانا جو تم کھا آئے ہو۔ وہ شیف بناتا ہے۔" فخر سے بولے۔
"اوہ! اچھا۔ وہ اتنا بیہودہ اور مہنگا کھانا شیف بناتا ہے۔ ویسے تو آپ بن سکتے ہیں۔ اگر ذائقہ شرط نہ ہو تو آپ میں بھی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ "
بھڑک کر بولے۔ " کھانا بنانا آرٹ ہے۔ "
"کل تک تو عشق بھی آپ کی نظر میں آرٹ تھا۔ لیکن اس عمر میں اچھا بنانا کہاں سے سیکھیں گے۔ اچھا تو ایک طرف برا بنانا بھی کچھ ایسا سہل نہیں۔ کیا مخلوق خدا کے ہاضمے پر تجربات کے لئے کسی ادارے سے کوئی مالی امداد ملی ہے۔ یا  کسی امراض معدہ کے ڈاکٹر سے دوستی گانٹھ لی ہے۔ " موٹا بھائی کو مایوس کرنا ہماری گفتگو کا مقصد ہوچلا تھا۔
میری تمام تر گستاخیوں کو نظرانداز کر کے رازدارانہ انداز میں بولے۔ "باقاعدہ درس لینے کا ارادہ ہے۔ "
"کہاں سے؟" ہم نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا۔
انتہائی خوشی سے ایک بڑے ہوٹل کا نام بتاتے ہوئے۔ "  میں نے فیس، کلاسز کے اجراء اور داخلہ کی شرائط بھی پتا کر لی ہیں۔"
"ہیں!! تو گھر کھانا بناتے کیا موت پڑتی ہے۔بچت بھی ہوگی اور بھابھی کا بھی بھلا ہوجائے گا۔ " ہم نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔
"تم نہیں سمجھو گے۔ کتنے لوگوں کے لئے کتنا بنانا ہے۔ پیش کیسے کرنا ہے۔ یہ سب وہیں سکھایا جاتا ہے۔ " موٹا بھائی نے ہمیں دنیا کا آخری بیوقوف سمجھ کر سمجھانے کی کوشش کی۔
"تو آپ زیادہ لوگوں کے لئے کھانا بنانا چاہتے ہیں؟ ہوٹل کھولیں گے؟" ہمارے لہجے میں حقیقی حیرت عود کر آئی تھی۔
"نہیں۔ میں یہ مقابلہ جیت کر ملک کا بہترین شیف بنوں گا۔" وہ ہماری جہالت پر برہمی سے بولے۔
"کیا آپ اس عزت افزائی کے متحمل ہو سکتے ہیں جو مقابلے میں شریک لوگ برداشت کرتے ہیں۔ " ہماری حیرت کا سلسلہ جاری تھا۔
"ہاں! تنقید اگر مثبت ہو تو نکھار لاتی ہے۔" انہوں نے اپنا سر یوں ہلایا جیسے کسی ہانڈی میں ڈوئی ہلائی جا رہی ہو۔
"یہ کتابی باتیں ہیں۔ عملاً ان لوگوں کے چہروں پر اذیت کبھی محسوس نہیں کی آپ نے۔" ہم نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
"نہیں میاں۔ یہ تو سننے والے منحصر ہے کہ وہ تنقید کو مثبت لیتا ہے یا منفی۔ ظاہر ہے اصلاح کا عمل ضروری ہے۔ "
"ہمم۔۔۔بفرض محال آپ جیت گئے۔ اس کے بعد؟" ہم نے  بھولپن سے پوچھا۔
"بفرض محال ہی کیوں؟ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں نہیں جیت پاؤں گا۔" موٹا بھائی تیزی سے بولے۔
"چلیں جی یقیناً آپ جیت جائیں گے۔ اس کے بعد؟" ہم نے آگے کی منزل جاننے کو بحث سے بچنے کی کوشش کی۔
"اس کے بعد کسی بڑے ہوٹل میں ملازمت کروں گا۔" فخریہ انداز میں بولے۔
"یاحیرت! یعنی باورچی بن جائیں گے؟ "  ہم نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا جو اب سائبریا سے درآمد شدہ لگ رہی تھی۔
"شیف میاں شیف! تمہیں معلوم ہے کبھی کسی  ہوٹل میں جا کر کھانا بنانا تو کبھی کسی میں۔ کبھی کوئی گاڑی لینے آرہی ہے تو کبھی چھوڑنے۔ وقت پر وقت دیے جا رہا ہوں گا۔ اس وقت ممکن نہیں۔ آج اس وقت تک میسر ہوں۔ دولت کی ریل پیل۔ الغرض کتنے ہی فوائد ہیں جن کا تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ اور سب سے بڑا لطف مرکز توجہ ہونے کا۔ بئی واہ۔" انہوں نے خیالی پلاؤ کی دیگ میں زور زور سے چمچ ہلاتے ہوئے کہا۔
"مصالحے بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ ہاتھ ہلکا رکھیں۔ "ہم نے دست بستہ عرض کی۔
"پورے ملک میں میرا نام ہوگا۔ عزت ہوگی۔" انہوں  نے اسی کیفیت میں بات جاری رکھی۔
"تو کیا اب آپ کی عزت نہیں ہے۔" ہم نے بھی مسکراتے  ہوئے جملہ کسا۔
"تم اس طرح کی باتوں سے مجھے مایوس نہیں کرسکتے۔اس وقت سے ڈرو جب تمہیں اپنے خاص مہمانوں کے لئے میری خدمات کی ضرورت ہوگی اور میرے پاس تمہاری بات سننے کا بھی وقت نہیں ہوگا۔" انہوں نے ہماری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پرغرور لہجے میں کہا۔
"شادی بیاہ کا بھی بنا لیں گے؟ " ہم نے شرارت سے پوچھا۔
ہمارے لہجے کی شرارت نظر انداز کر کے فرمانے لگے۔ "ہاں! شادی بیاہ پر بھی پکا سکوں گا۔ "
"مطلب خاندان میں شادی پر نائی کا خرچہ نہیں ہوگا۔ " ہم نے اسی شرارتی انداز میں کہا۔
چراندے ہو کر کہنے لگے۔" کیا اول فول بک رہے ہو۔"
عرض کی۔" ہمارے تو شادی بیاہ کا کھانا نائی ہی بناتے ہیں۔" .
"تم لوگ جاہل ہو۔ اجڈ ہو۔ پرانے خیالات کے مالک ہو۔ " موٹا بھائی انتہائی برہمی سے بولے۔
"اگر نام بدل دیں۔ اور نائی یا باورچی کو شیف کہیں تو آپ کو اعتراض نہ ہوگا۔" ہم بھی شرارت پر تلے تھے۔
سخت غصہ سے ہونٹ بھینچ لئے۔ کوئی جواب نہیں۔
"اچھا چھوڑیں نائی کو۔ ہمارے لوگ ذرا پرانے خیالات کے مالک ہیں۔ اگر آپ کسی جگہ سج دھج کر جائیں۔ اور لوگ سوال کر بیٹھیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ تو کیا جواب دیں گے؟"
کہنے لگے۔ "تمہاری سب شیطانی  سمجھ رہا ہوں۔ کہوں گا کہ فلاں بڑے ہوٹل میں بڑا شیف ہوں۔ " زور بڑے پر تھا۔
"مطلب اگلا سوال کہ شیف کیا ہوتا ہے کا جواب کیا دیں گے؟"
"کہہ دوں گا وہاں کھانا بناتا ہوں۔ "
"یعنی نائی ہوں۔ یا باورچی۔ "
"حد ہوگئی۔ تمہاری سوئی اس  سے آگے کیوں نہیں بڑھتی۔ " بھڑک کر بولے۔ چائے کا کپ بھی واپس رکھ دیا۔ ختم جو ہوگئی تھی۔
"اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک بار شادی پر سردار کے برابر کرسی پر نائی بیٹھ گیا تھا۔ تو سردار وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ کہ آئندہ کبھی ان کی شادی میں نہیں آؤں گا۔ میرے برابر میں نائی کو بٹھا دیا ہے۔ " ہم نے ان کی معلومات میں اضافہ کرنے کی غرض سے کہا۔
"تم کچھ بھی کہہ لو ۔ لیکن یہ میرا شوق ہے۔ اور اب سے جنون بھی" ان کا لہجہ اٹل تھا۔
"آپ کو کتنا یقین ہے کہ آپ ایک اچھے شیف بن سکتے ہیں۔ " ہم نے ان کے عزم کو دیکھ کر موضوع بدلنے کی نیت سے پوچھا۔
"لو !  کیسی بات کی۔ ابھی کل ہی میں نے کھانا بنایا تھا۔ فضلو چوکیدار کو کھلایا تھا۔ وہ تو بلے بلے کر رہا تھا۔  اور کہہ رہا تھا کہ آپ بہت اچھے کھانے بناتے ہیں۔ "
ہم اپنی سائبرین چائے کو حلق میں انڈیلنے  لگے۔ بحث ختم ہوچکی تھی۔ ظاہر ہے  اب فضلو کی مہر کے بعد تو  نامور شیف بننے میں کوئی رکاوٹ ہی باقی نہیں رہی  تھی۔

Thursday, 17 July 2014

ایک بہت پرانا دور تھا​

2 comments

ایک بہت پرانا دور تھا

ایک بہت پرانا دور تھا۔ اتنا پرانا کہ پرانے لوگ بھی اس کو پرانا کہتے تھے۔ ایسے ہی ایک دور میں دو دوست کہیں جا رہے تھے۔ اس دور کی خاص بات یہ بھی تھی کہ کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ کوئی پوچھتا نہ تھا کہ کہیں سے کیا مراد ہے؟ آج کے دور کی طرح سوال جواب نہیں ہوتے تھے کہ کہیں بھی جاؤ تو بتا کر جاؤ ، کہاں جا رہے ہو۔ بس کہیں کا مقصد کہیں ہوتا تھا۔ ایسے جانے والے دوست کبھی تو چند دن میں لوٹ آیا کرتے تھے۔ اور کبھی مدتوں نہیں لوٹا کرتے تھے۔ بس راہ جانے والوں کو لوٹا کرتے تھے۔ اور اس رقم سے سرائے بنوا کر غریبوں کو مفت دعائیں اور امیروں کو روپے لے کر کھانا دیا کرتے تھے۔ یہ دو دوست بھی حالات سے ننگ، گھر والوں کے ہاتھوں تنگ کہیں کو چل پڑے۔ کہیں تو کوئی بھی جا سکتا تھا۔ اس کے لیے اسبابِ راہ و سواری وغیرہ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تھی۔ یا اگر ہوتی تھی تو پرانے حکایت بیان کرنے والے اس کو اضافی سمجھتے تھے۔ سو ہم بھی طول نہیں کھینچتے۔
ہاں تو ہم تذکرہ کر رہے تھے ان دوستوں کا۔ جو کہیں نکل پڑے تھے۔ راہ میں ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے وقت کٹ رہا تھا کہ مذاق کرتے کرتے دونوں سنجیدہ ہوگئے۔اورتاریخ شاہد ہے کہ جب جب لوگ سنجیدہ ہوئے ہیں۔ لڑے ہیں۔ سو اسی روایت کو قائم رکھنے کو یہ دونوں بھی لڑ پڑے۔ جب ایک نے دیکھا کہ دوسرا زبانی اس پر بھاری پڑ رہا ہے تو اس نے دوسرے کے منہ پر ایک شاندار قسم کا طمانچہ رسید کر دیا۔ گاؤں یا محلہ ہوتا تولڑائی خوب بڑھ جاتی تاوقتیکہ کوئی تیسرا آکر سمجھاتا، یا پھر فوراً کوئی بیچ بچاؤ کرانے آ پہنچتا۔لیکن وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا اور اس بات کا دونوں کو بخوبی ادراک تھا۔ لہذا دوسرے دوست نےجو صحت میں بھی کمزور تھا لڑ کر خود کو تھکانے اور مزید مار کھانے کی بجائے ریت پر لکھ دیا ۔ آج میرے کمینے، رذیل اور منحوس دوست نے میرے منہ پر تھپڑ مارا۔ باقی دل پر کیا لکھاکیا نہیں۔ اس کو پڑھنے یا جاننے کا راوی کے پاس کوئی وسیلہ نہیں۔ گرچہ کچھ پرانے حکایتی بیان کرتے ہیں کہ اس نے یہ بات دل پر پکی ووٹروں والی سیاہی سے لکھ لی تھی۔ لیکن محض ایک مبہم تاریخی حوالے کی وجہ سےہم کسی کے دل میں جھانکنے کا دعواٰ کرنا نہیں چاہتے۔
اس کے بعد دونوں آگے چل پڑے۔ کچھ دیر خاموش رہےلیکن کب تک خاموش رہتےکہ بات کرنے کو تیسرا تو کوئی تھا نہیں۔ سو انہوں نے سوچا کہ بجائے منہ خراب کر کے پڑے رہنے کے کیوں نہ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ وہ دوست جس نے تھپڑ مارا تھا۔اس نے کہا یار دیکھ! ارادہ تھپڑ مارنے کا نہیں تھا۔ لیکن تو ایک غصیلی بیگم کی طرح بےتکان بولے چلا جا رہا تھا اور تجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ تو زبان دراز ہے اور میں ہتھ چھٹ ہوں۔ اور ہاتھ قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ سو تجھےچپ کرانے کو ایک لگانی پڑی۔ اس بات پر دل میلا نہ کر۔ اپنے پاس تو کپڑے دھونے کو کوئی چیز نہیں۔ دل کہاں سے دھوتے پھریں گے۔ دوسرے دوست نے بظاہر ایک مسکان اور چند مغلّظات اس کے قصیدے میں پڑھ کر ظاہر کیا کہ وہ ناراض نہیں ہے۔
آگے جاتے جاتے دونوں ایک دریا کنارے تک جا پہنچے۔ تھپڑ کھانے والا دوست طبیعت بحال کرنے کو دریا میں اتر گیا۔ بیوقوف آدمی تھا۔ جب تیرنا نہیں آتا۔ تو دریا میں اترنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تھی۔ لیکن اتر گیا۔ ایک شوخ و چنچل لہر اس پر عاشق ہوگئی اور اس نے فورا سے پہلے اس کو آغوش میں آچھپایا یوں کہ وہ اس کے وجود میں یوں ڈوب جائے کہ اس کے سوا نہ کچھ دیکھ سکے اور نہ سوچ سکے۔ اور حقیقت میں نہ سانس لے سکے نہ آہ بھر سکے۔ عجب بیگم مزاج لہر تھی۔ وہ اس کی شوخی کی تاب نہ لا سکا۔ اور  اس کی آغوش میں ڈبکیاں لگانے لگا گویا فنا فی اللہر کی منازل طے کر رہا ہو۔دوسرے دوست نے جب اس کو ڈبکیاں کھاتے دیکھا۔ توایک نعرہ مارا۔ اوئے مریں نا۔ میں آیا۔ چھلانگ ماری اور اس کوسر کے بالوں سے پکڑ کر کنارے کی طرف کھینچنے۔ اور آخر کار اس کو باہر کھینچ لانے میں کامیاب ہوگیا۔
کچھ دیر بعد جب ڈوبتے دوست کے حواس درست ہوئے۔ تو اس نے ہتھوڑی اور کیل کی تلاش شروع کی۔ لیکن اس بیابان میں کیل ہتھوڑی کہاں سے آتی۔ آخر ایک گھوڑے کی نعل اس کے ہاتھ لگ گئی۔ اور اس نے اسی کی مدد سے ایک پتھر پر لکھ دیا۔ کہ آج میرے سب سے کمینے دوست نے میری جان بچائی۔ دل والی بات پر ہم دوبارہ کوئی بیان دینے سے خود کو معذور پاتے ہیں۔
پہلا ہتھ چھٹ دوست یہ حرکت دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا کہ پہلی بار تو نے ریت پر لکھالیکن تیرے دل کاغبار ہلکا نہیں ہوا۔ بلکہ تو اب مجھے سب کے سامنے گالیوں سے نوازنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے خیر! مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ دوسری بار تو نے پتھر پر لکھ دیا۔ لیکن اس بات کا تذکرہ تو سب کے سامنے بےعزت کرنے کے بعد گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کو کرے گا۔ یہ پرانی حکایتوں والی ڈرامہ بازی کر کے تو کیا ثابت کرنا چاہ رہا ہے۔ یہ بات سن کر دوسرا دوست ہنسنے لگ پڑا۔ اور کہنے لگا کہ آہ! تو کتنا ٹھنڈا کمینہ ہے۔ یہ بات سن کر پہلا بھی ہنسنے لگ پڑا اور کہنے لگا کہ جب تجھے معلوم ہے کہ مجھے سب معلوم ہے تو بلاوجہ سائنسدان کیوں بن رہا ہے۔ اور وہ دونوں ہنسی خوشی "کہیں" کے راستے پر گامزن ہوگئے۔
اخلاقی سبق: یہ دو دوستوں کی روزمرہ بکواس کی داستان ہے۔ اس میں سے اخلاقی سبق ڈھونڈنا دورجدید کی اداکاراؤں کے جسم پر لباس ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ سو بلاوجہ زحمت مت کیجیے۔

Tuesday, 15 July 2014

یہ شاخِ نور جسے ظلمتوں نے سینچا ہے

5 comments
عہد حاضر بلاشبہ خون ریزی و فساد کا دور ہے۔ جدھر جدھر نگاہ جاتی ہے لاشے نظر آتے ہیں۔ کوئی سر بریدہ بچہ تو کوئی جسم  بریدہ بوڑھا۔ کہیں خون کا تالاب تو کہیں اعضاء در و دیوار سے چپکے ہوئے۔ کوئی زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کرنے کو زندہ درگور کیا جا رہا ہے۔ تو کوئی بیٹا اپنی ماں کی لاش کے پاس اس امید سے بیٹھا ہے کہ ابھی ماں اٹھ کر اس کو سینے سے لگا لے گی۔ اس ظالم و جابر دنیا کے ظلم و جبر سے بچا لے گی۔ کوئی زخمی اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی آنتوں کو سنبھالے ہے۔ تو کوئی اپنے ہی زخم پر مرحم رکھنے کے واسطے بھی دوسرے ہاتھ کا محتاج ہے۔ کوئی کافر ہونے کے ارزاں فتوے کا شکار ہے تو کوئی خود کو مسیح اور دوسروں کو دجال سمجھے دنیا کو پاک کرنے کے کام پر مامور ہے۔ اس مسلسل بربریت کے مناظر نے ہم سے ہمارا احساس چھین لیا ہے۔ اب ہماری  راتیں اس سوچ میں نہیں گزرتیں کہ آج جو ہوا وہ سانحہ تھا۔ وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے دل نے اس رمز کو پا لیا ہےکہ جو ہوا وہ ہونا ہی تھا۔ اب ہماری  پلکیں ان مناظر کو دیکھتے دیکھتے ہی بوجھل ہو جاتی ہیں۔ اور ہم نیند کی وادیوں میں اتر جاتے ہیں۔ ہم یہ خونی داستانیں  سنتے سنتے  سو جاتے ہیں۔ اور اٹھ کر پھر سے داستان وہی سے سننا شروع کر دیتے ہیں جہاں نیند کی دیوی نے سماعتوں سے بےنیاز کر دیا تھا۔
میرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا سو ہے اب تک
مگر اس عالمِ وحشت میں ایمانوں‌ پہ کیا گزری
ایک بےحسی ایک وحشت طاری ہے۔ جانے کب کس کا دل کرے  اور لاشوں سے بازار پٹ جائے۔ قاتل کب دیکھتے ہیں کہ سہاگ تھا۔ نومولود تھا۔ یا پھر معاشرے کا ناسور تھا۔وہ تو بس اپنی وحشی طبع کی تسکین کرتے ہیں۔اور  جسم کو عبرت کا نشان بنانے کو چھوڑ جاتے ہیں۔ لاشیں گرائی جاؤ۔ لاشیں اٹھائی  جاؤ۔ بقول جون ایلیا "جشن کے ساتھ سوگ مناؤ۔ سوگ کے ساتھ جشن مناؤ۔" ایسے میں جب کبھی اپنے ماحول پر نظریں دوڑاؤ۔ اردگرد بستے لوگوں کو دیکھو۔تو دل بےاختیار قہقہے لگانے لگتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیسا خوش قسمت ہے۔ اس دور پر آشوب میں ہنسی اس کے ہونٹوں پر ہے۔ لیکن اس ہنسی سے پہلے کتنا خون تھوکا گیا ہے۔ اس پر کسی کی نگاہ نہیں جاتی۔
انبیاء کی سرزمین خون میں رنگی جا رہی ہے۔ کتنے ہی نومولود ہیں۔ جن کے جسم تک نہیں ملے۔ کتنے ہی سہاگ ہیں۔ کتنی ہی مائیں ہیں۔ بوڑھے بچے جوان۔ الغرض کون ہے جس کے خون سے زمین سیراب نہیں کی جا رہی۔ اور یہاں میرے معاشرے کے اہل درد کس قدر سرعت سے الزام ایک دوسرے کے کندھے پر رکھنے کو کوشاں ہیں۔ ان کا درد کس طریق سے ابل رہا ہے۔ ایک گرو پکار رہا ہے۔ ڈوب مرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری تھی۔دوسرا واویلا کر رہا ہے۔  نہیں تم ڈوب مرو۔ یہ تمہاری ذمہ داری تھی۔ ایک مسجد سے صدا بلند ہو رہی ہے۔ اے اللہ! یہ فلاں و فلاں و فلاں مر جائیں۔ ان کی وجہ سے آج اہل فلسطین برباد ہیں۔ دوسری مسجد سے رقت آمیز دعائیں کی جا رہی ہیں۔ اے مولا! رسوا کردے ان کو۔ کہ ان کی وجہ سے ہی آج اہل یہود غالب ہیں۔اپنے اپنے فرقوں اور مسالک کا بوجھ لئے اپنے بغض کی نکاسی میں مصروف ہیں۔ کہ اگر یہ چپ رہیں تو مر جائیں۔ اس قدر بغض و نفرت کے بعد بھلا کون خوش رہ پایا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک وہ گروہ ہے جس کے نزدیک جرم مارنے والے کا نہیں مرنے والے کا ہے۔ کہ کیوں مر گیا۔ جب دیکھ لیا کہ بم آرہا ہے۔ بارود آ رہا ہے۔ تو ایک طرف کیوں نہ ہٹ گیا۔ مصلحت کو کیوں نہ اپنایا۔ اب مرنے پر واویلا کیوں۔انسانوں کے اس روپ سے انسانیت خود نوحہ کنا ں ہے۔ 
مظلوم ان تماش بینوں کی طرف حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کچھ کر نہیں سکتے لیکن ہمارے درد میں شریک ہیں۔ جبکہ اس معاشرے میں بسنے والوں کی حالت اس گروہ کی سی ہے جو طوائف کا مجرا نہیں دیکھ سکا تو اب دیکھنے والوں سے قصے سن کر حظ اٹھا رہا ہے۔
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
میں ان مقتولوں، مظلوموں آس لگائے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم ان کی طرف حسرت و امید سے مت دیکھو۔ یہ وہ گروہ ہے کہ جب ان کے بازار میں معصوم بچے ڈنڈے مار مار کر قتل کئے جا رہے تھے تو یہ تماش بینی میں مصروف تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں۔ جو ایک ریپ کے بعد لٹکائی گئی لڑکی کی لاش پر یہ سوچتے رہے کہ مقدمہ درج ہونا چاہیے کہ نہیں۔ کہیں ریپ اور قتل کرنے والا گروہ امیر ہوا تو مقدمہ درج کرنے والوں کا ریپ ہوجائے گا۔ یہ وہ تماش بین قوم ہے جو غریب کے دو سال کے بیٹے کو ٹریکٹر کے نیچے کچل کر اس کو مرتے اور تڑپتے دیکھ کر لطف لیتی ہے۔اور اپنے خاموش رہنے کے لئے ایک سے ایک تاویل تراش لیتی ہے۔  ماں باپ کے سامنے بیٹیوں کی عزت لوٹتی ہے اور پھر اپنے گناہ کی مزید تشہیر کے لئے سب کو قتل کرتی ہے۔ یہ صرف اور صرف فریق مخالف کو گالیوں سے نواز سکتے ہیں۔ یہ سگانِ سیاست کے لئے دن رات مباحث کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس تمہارے لئے وقت کہاں ہے۔ ان کو تو اپنے اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماؤں کو ولی ثابت کرنا ہے۔ یہ ان سیاسی مداریوں کے جھوٹے وعدوں کو وقت کی پکار کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک گناہ صرف وہ ہے جو کوئی ایک آدمی کر رہا ہو۔ اگر سب اس  میں ملوث تھے یا رہے ہیں تو گناہ نہیں رہا۔ اس قوم سے بھلائی کی امید جو قبروں سے لاشیں نکال کر ان کی بےحرمتی کرتی ہے۔۔ اس قوم سے امید۔ اس قوم سے رحم کی توقع۔اس قوم سے مدد کی آس۔ جو آج تک اپنے لئے نہیں لڑ پائے وہ کسی اور کے لئے کیا لڑیں گے۔  اگر تم ان کے پاس فریاد لے کر آؤ گے تو یہ محض دوسرے گروہ کو گالیاں دے کر تمہاری تشفی کا سامان کریں گے۔    
وجہِ بے رنگیِٔ گلزار کہوں یا نہ کہوں!
کون ہے کتنا گنہگار کہوں یا نہ کہوں!
شیطان ہنس رہا ہے۔ رقص میں ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک پورا گروہ جو پچھلی چند دہائیوں میں لکھ پتی سے عرب پتی بنا ہے۔ رقصاں ہے۔ موت، بےبسی،غربت اور  جہالت اپنے پر پھیلاتی چلی جا رہی ہے۔ تاریکی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔انسانیت ظلم کے پنجہ میں بے بس ہے۔ بےحسی رگوں میں لہو بن کر رواں ہے۔ آدمیت نوحہ کناں ہے۔ اوروہ ذات جبار و قہار، رحمن و رحیم توبہ کا منتظر ہے۔ سچی توبہ کا۔اس کی صفتِ کریمی  کسی سچے سائل کی منتظر ہے۔ اجالا منتظر ہے۔ مگر تاریکی کے دیوانے ظلمت کو اپنا کر اس قدر خوش ہیں کہ اجالے کی کرنوں سے اب ان کا دم گھٹنے لگا ہے۔اب تاریکی کے سفر کو اوج ملنے والی ہے۔

Sunday, 6 July 2014

باکمال بزرگ - قسط پنجم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

6 comments
گزشتہ سے پیوستہ:

وہ خوراک والے قصے تو رہ ہی  گئے۔ ایک نوجوان ہاتھ ملتے ہوئے ملتمس ہوا۔ بھئی آج تو میں بہت تھک گیا ہوں۔ ویسے بھی رات شروع ہو گئی ہے۔ اس قصے کو کسی اور دن پر اٹھا  رکھو۔ چند دن گاؤں کے نوجوانوں کی زبان پر انہی لوگوں کے قصے تھے۔ اور ہر کوئی اپنے اپنے مزاج کے مطابق لطف اٹھا رہا تھا۔ کہ ایک دن راقم الحروف نے بزرگ کو دوبارہ چوپال میں چھاپ لیا۔ اور کہا کہ آج ادھورے قصے سنے بغیر ہم نہ جائیں گے۔ باقی سب نے بھی بھرپور تائید کی۔ اور بزرگ کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ چوپال سج گئی۔ بزرگ کے حقے کی چلم بھری گئی اور حقے کے دو چار کش لگانے کے بعد وہ کچھ یوں گویا ہوئے۔
بھئی بات یہ ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے۔ تو کیا زندگی تھی۔ بہت ہی سادہ اور زبردست۔ آج کے دور کی طرح تصنع سے عبارت نہ تھی۔ ماں نے صبح اٹھ کر گھر میں جھاڑو دینا۔ پھر بھینسوں کا دودھ دوہنے کے بعد اپلے جلا کر ابلنا رکھ دینا۔ اور ساتھ ہی ساتھ جھاڑو سے بھی فارغ ہوجانا۔ اتنی دیر میں فجر کی اذانیں ہو جاتی تھیں۔ تو ہم بھی نماز پڑھنے کو اٹھا جایا کرتے تھے۔ نماز کے بعد وہیں مسجد میں ناظرہ پڑھتے۔ اور پھر گھر کو لوٹ آتے۔ خیر یہ سب باتیں تو چلتی رہیں گی میں تمہیں ایک مزے کی بات سناتا ہوں۔
خوش خوراکی میں ہمارا گاؤں بہت مشہور تھا۔ اللہ بخشے ہمارے تایا مرحوم کو ایک روٹی کا ایک نوالہ بنایا کرتے تھے۔ کبھی بہت ہوا تو دو کر لیے۔ اس وقت روٹی بھی بڑی بنتی تھی۔۔۔ یہ چھوٹے چھوتے توے نہ تھے۔ بلکہ ایک بڑی سی توی ہوا کرتی تھی۔ جس پر اکھٹی چار پانچ روٹیا ں پکائی جاتی تھیں۔  گھر کی خواتین تین اطراف میں بیٹھ جاتیں۔ اور اوپر روٹیاں بناتی چلی جاتیں۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ تایا جی بڑے خوش خوراک تھے۔ دودھ کے بڑے شوقین تھے۔ روزانہ صبح کوئی سات آٹھ کلو دودھ پیا کرتے تھے۔ اور اس کے بعد ناشتہ کرتے۔ اکثر بلونے کے دوران ہی چاٹی  منہ کو لگا کر ساری لسی پی جاتے اورسارے  مکھن کے گولے بنا بنا کر کھاجاتے۔  اگر ان سے پہلے کوئی اور مکھن یا لسی پر ہاتھ صاف کر جاتا تو بڑا ناراض رہتے۔ پورا دن طبیعت پر بیزاری رہتی۔ دادی مرحوم ان کی خوراک کو ہاتھی کی خوراک سے تشبیہ دیا کرتی تھیں۔ کھانا بہت عجلت میں کھایا کرتے تھے۔ اور منہ میں لقمے پر لقمہ ڈالتے چلے جاتے۔ بعض اوقات تو اس طرح کھاتے کہ سانس لینے کا باقاعدہ وقت نکالنا پڑتا تھا۔ ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تایا کے سامنے بکرے کے گوشت سے ایک کڑاہی بھری رکھی تھی۔ کھاتے کھاتے سانس اکھڑ گئی۔ تو اشارے سے مجھے کہنے لگے۔ جلدی جلدی پانی دے۔ میں نے بھی مٹکا اٹھا کر دے دیا۔ مٹکا منہ کو لگایا اور ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔ ان کے اس واقعے کے بعد میں نے خاندان میں مشہور کر دیا کہ تایا کھانا کم کھاتا ہے اور ریس زیادہ لگاتا ہے۔ان کو ایک بہت پرلطف واقعہ سناتا ہوں جو کچھ یوں ہے کہ ہماری دادی نے ان کو ایک بڑے گیلن میں دیسی گھی ڈال کر دیا۔ جو کہ انہوں نے دوسرے گاؤں اپنی خالہ کے گھر پہنچانا تھا۔ خالہ کا گاؤں کافی دور تھا۔ چنانچہ تایا مرحوم صبح سویرے گیلن اٹھا کر گھر سے نکل گئے۔ دوپہر کے قریب ہی واپس آگئے۔ اور آکر سو گئے۔ گھر والوں نے دیکھا تو گیلن خالی تھا۔ دادی نے پوچھا کہ کوئی بیس کلو گھی تھا۔ آخر گیا کہاں۔ کیا گر گیا۔ شام کو اٹھے تو یہی سوال جواب کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ تو تایا کہنے لگے کہ جب میں یہاں سے نکلا تو میں نے سوچا کہ یہ جو درختوں کا جھنڈ ہے۔ اس کے اندر سے راستہ مختصر ہے۔ یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ ابھی درمیان میں ہی پہنچا تھا کہ چند ڈاکو مجھے اپنی طرف آتے نظر آئے۔ میرے پاس اور تو کچھ تھا ہی نہیں۔ یہ گھی ہی تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ گھی ہی لے جائیں گے۔ سو وہیں گیلن کا ڈھکن ہٹایا اور سارا گھی پی گیا۔ یہ منظر دیکھ کر ڈاکو وہاں سے بگٹٹ بھاگ اٹھے۔ گیلن خالی کرنے کے بعد آگے جانے کی کوئی وجہ نہ رہتی تھی سو واپس آگیا۔ ہمارے خاندان میں ڈاکوؤں کا بڑا مذاق اڑایا جاتا رہا کہ گھی پیتا دیکھ کر بھاگ گئے۔

چوپال میں سب نوجوانوں کے منہ کھلے ہوئے تھے اور حیرت زدہ ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔

(جاری ہے۔)

Wednesday, 2 July 2014

خاک نشیں کو پرواز کا تخیل بھی عجب ہے

1 comments
خاک نشیں کو پرواز کا تخیل بھی عجب ہے۔
علم کی بنیاد پیمانہ خالی رکھنے پر ہے۔ صاحب علم کے سامنے جوں جوں ادراک کی گرہیں کھلتی ہیں، اس کو اپنا پیمانہ اور بھی خالی نظر آنے لگتا ہے۔ ہوس بڑھتی ہے کہ مزید کچھ اس پیمانے میں ڈالا جائے۔ جوں جوں آگہی کے باب کھلتے ہیں اپنی کم علمی کھل کر سامنے آتی جاتی ہے۔ دل مزید کی تمنا کے لیے تڑپتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معاملے پر بلند پروازی اس کو عجب نظر آتی ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ آگہی کے فلک پر کتنے ہی ضیغم ہیں جو اس کو زیر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ صاحب علم ان کی بلند پروازی کے مشاہدے میں غرق ہو جاتا ہے اور یوں علم اس کے اندر انکساری کو پروان چڑھاتا ہے۔ یہ انکساری خشیت اور الہی کی اطاعت لے کر آتی ہے۔ کہ علمی ذہن جب مظاہر کے مطالعہ میں غرق ہوتا ہے۔ تو اس کو اپنی ذات تنکا نظر آتی ہے۔ جبکہ کسی معاملے پر اپنی رائے حرف آخر ثابت کرنا تکبر کو جنم دیتا ہے۔ اور تکبر پستی ہے۔ جوں جوں انسان ہر معاملے کو محض اپنی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کا پیمانہ بھرتا جاتا ہے۔ اور اس میں مزید کی گنجائش نہیں نکلتی۔ اسی بات کو مختصراً بیان کیا جائے تو وہ یہ کہ "خاک نشین کو پرواز کا تخیل بھی عجب ہے۔"
از قلم نیرنگِ خیال