Sunday, 12 January 2014

محفل بعنوان تذکرہ و تشہیرِ اردو

5 comments

محفل بعنوان تذکرہ و تشہیرِ اردو

مؤرخہ 8 ستمبر 2013

گزشتہ ہفتے کے کسی دن میں اپنے بستر پر دراز تھا کہ فون نے کانپنا شروع کر دیا۔ دیکھا تو اسلام آباد کے ایک نمبر سے کال تھی۔ اٹھایا۔۔ دوسری جانب سر سید زبیر تھے۔ فرمانے لگے کہ میرے ساتھ الف نظامی بھی تشریف رکھتے ہیں۔ گر مناسب ہو تو آئندہ اتوار 8 ستمبر کو مل بیٹھنے کے ایک پروگرام کو عملی شکل دی جائے۔ میں نے فورا اثبات میں سر ہلا دیا۔ لیکن دوسرے لمحے خیال آیا کہ یہ سر تو شاہ جی کی بصارت سے دور ہے۔ سو اپنی خوبصورت گھمبیر (احباب کو جلنے کی ضرورت نہیں) آواز سے ان کی سماعتوں میں زہر گھول دیا۔ مقام آئی-8 مرکز میں حبیبی ریستوران طے پایا۔ اور ہم نے دعوت نامہ کافی سارے احباب کو بھیج دیا۔ فرخ اور سعادت نے معذرت کر لی۔ بقیہ احباب تشریف لے آئے۔

اس سے پہلے کے میں روداد شروع کروں۔ ایک پرانی بات یہاں لکھنا چاہوں گا۔ یہ اس دن کی بات ہے جب اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں سر زبیر کے دفتر میں عاطف بٹ ، الف نظامی ، اور خاکسار بیٹھے ہوئے تھے۔ اور سرکار شاہ جی کے خرچ پر چائے کا دور چل رہا تھا۔ تو یونہی باتوں باتوں میں زبان کا تذکرہ آگیا۔
سر زبیر نے فرمایا کہ:
"دنیا میں سب سے بڑا رشتہ زبان کا رشتہ ہے"
اس سے مجھے احمد جاوید صاحب کی ایک بات یاد آگئی کہ :
"اپنی مادری زبان سے تعلق توڑنا اپنے ماں باپ کو عاق کرنا ہے"
جواُس دن تو اِس کم عقل کے ذہن میں نہ سمائی تھی۔مگر پھر سر کی اس بات سن کر سارے مطالب ذہن میں کھلتے چلے گئے۔
عبرانی کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔
ہر زندہ قوم اپنی زبان کو اپنا تشخص سمجھتے ہوئے ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں کہ اپنی زندہ زبان کو منوں مٹی تلے دفنانے پر تلے ہیں۔ چاہے وہ پنجابی ہو یا اردو۔
بڑے لوگ بڑی بڑی باتیں کہہ دیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ آگہی رکھتے ہیں۔ مگر ہم جیسے کج فہم جب تک ان الفاظ میں مستور معانی سمجھتے ہیں۔ یہ بڑے لوگ کوئی اور بات کر کے دوبارہ الجھا دیتے ہیں۔

تو اب آتے ہیں ملاقات کی طرف۔ جب راقم الحروف وہاں پہنچا تو دیکھا کہ بھلکڑ اور امجد میانداد تھوڑا آگے آگے چلتے جا رہے ہیں۔ ان کا تعاقب شروع کیا کہ دیکھوں کدھر کو جاتے ہیں۔ تو وہ تھوڑا آگے جا کر کچھ احباب سے گلے ملنے ملانے لگے۔ وہاں پر الف نظامی ، سید زبیر ، خرم شہزاد خرم اور hackerspk پہلے سے موجود تھے۔ میری آمد کے بعد اب مزید کسی کا انتظار باقی نہ تھا۔ کچھ احباب پہلے ہی چائے سے دل بہلا چکے تھے۔ ہمارے لیے بھی چائے آگئی۔ اور باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس سے پہلے کہ بھانت بھانت کی بولیاں شروع ہوتیں۔ اور احباب شغل میلے کا سماں باندھتے۔ نعیم بھائی نے صدارت سنبھالتے ہوئے کہا کہ آج کی مجلس بےمقصد نہیں ہے۔ بلکہ ایک موضوع ہے۔ "اردو اور اس کی ترویج" اور تمام احباب اس کے متعلق اظہار خیال کریں۔ کس طرح ہم بہتری لا سکتے ہیں؟ اور وہ کیا دستور العمل ہو سکتا ہے؟ جس کو سامنے رکھ کر کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مثبت نتائج حاصل کیے جائیں۔ سید زبیر سر تو پہلے ہی سے رہنما ٹھہرائے جا چکے تھے۔ اس ضمن میں فکر استدلال کا منصب زوہیب نے سنبھال لیا۔ اور مشاورت کے منصب پر امجد میانداد فائز ہوگئے۔ خرم نے بھی فکر سے آراستہ ہوتے ہوئے کسی بھی بیان کردہ طریق کے اجزائے مشتملہ کو پرکھنے کی کرسی سنبھال لی۔ اور بھلکڑ وہیں پر فکر آلود مسکان لیے بظاہر متفرس نظر آنے لگا۔ جبکہ سامنے ناظرین کی قطار میں اکیلا مستغنی المزاج راقم الحروف مٹکاہٹ سے آشنا ہونے لگا۔

فکر تجربی سے مالامال سر زبیر نے انتہائی خوبصورت انداز میں موضوع پر بات کرنے سے احتراز کیا۔ جبکہ امجد میانداد، زوہیب اور خرم بھائی کی گزارشات اس ضمن میں بے انتہا اعلی و ارفع تھیں۔ بھلکڑ نے بھی بیچ میں کہیں کوئی لقمہ دیا۔ جبکہ اس خاکسار نے سوائے غیر متفق ہونے کے کوئی اور کام نہیں کیا۔

چند نکات جو زیر بحث رہے۔ وہ پیش خدمت ہیں۔
  • دنیا ؛ خصوصا اسپین میں جتنی کتب کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ ایک سال میں ہوتا ہے، اتنا ہمارے ملک میں گزشتہ پانچ سے زائد دہائیوں میں نہیں ہوا۔ اگر اردو کو عام کرنا ہے توزیادہ سے زیادہ کتب کا اردو میں ترجمہ کر کے انہیں عام کرنا پڑے گا۔
  • کیا ہی بہترہوا گر ہمارا نصاب مکمل طور پر اردو میں ڈھال دیا جائے۔ اس سے نہ صرف بچوں میں سمجھنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔ بلکہ اردوکے وہ الفاظ جو اب متروک ہوئے جاتے ہیں۔ ان کو بھی نئی زندگی مل جائے گی۔
  • کمپیوٹر پر یونیکوڈ میں اردو زبان کی ترویج کے لیے پاک اردو انسٹالر کے ربط کو اپنے برقی خطوط کے دستخطوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بھی برقیہ(ای میل) پڑھنے والے احباب کو سہولت مل سکتی ہے۔ اور وہ براہ راست اُس ربط پر جا کر اپنے کمپیوٹر پر اردو کی تنصیب کر سکتے ہیں۔
  • فیس بک پر اردو کی ترویج کے لیے صارفین کو پیغامات بھیجے جائیں۔ اور انہیں اس بات کا شعور دیا جائے کہ وہ رومن کی بجائے براہِ راست اردو زبان میں لکھنے کو شعار بنائیں۔
  • نٹرنیٹ پر مختلف فورمز میں کمپیوٹر پر اردو لکھنے پڑھنے کے شعور کو عام کرنے کے لیے کام کیا جائے۔
  • فیس بک پر مختلف صفحات کے منتظمین کو پیغامات ارسال کیے جائیں کہ وہ اپنے صفحات پر اردو تنصیب کے عمل کے بارے میں رہنما ہدایات لکھیں۔ خود بھی اردو کتابت کو فروغ دیں، اور اپنے صفحے کے قارئین کو بھی اسی بات پر اکسائیں۔
  • اردو کی کتابیں صوتی صورت میں انٹرنیٹ پر فراہم کی جائیں۔ اور اس ضمن میں پہلے سے کام کرتے ہوئے احباب سے بھی رابطہ کیا جائے۔
  • اسلامی کتابوں کو زیادہ سے زیادہ لکھ کر انٹر نیٹ پر مہیا کیا جائے۔ کہ مذہب میں لوگوں کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ بقیہ کچھ اور پہلو بھی ہیں۔ جن میں عوام کی دلچسپی بیاں سے باہر ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر پر اردو کا اطلاق معانی نہیں رکھتا۔۔۔
  • ادارہ فروغ زبان و ادب کی بابت سید زبیر صاحب صراحت سے بیان فرمائیں گے۔
  • جامعات میں کمپیوٹر پر اردو کتابت کی ترویج کے لیے ورکشاپس منعقد کروائی جائیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم زوہیب اٹھا چکے ہیں۔
  • ایسے تمام منصوبے جو "اگر "سے شروع ہوں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے۔ (فرموداتِ نیرنگ خیال)
  • اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پلاسٹک کی تھیلیوں کی بجائے کپڑے سے بنے تھیلوں کے فروغ کے لیے بھی کام کیا جائے۔ ( ؏- بات سے بات یاد آتی ہے)

دورانِ گفتگو بنا ء باتوں کا سلسلہ منقطع کیے وہاں چائے کے کھوکھے سے اٹھ کر ہم لوگ حبیبی ریستوران کے اندر آبیٹھے ۔ اور کھانا لانے کا حکم صادر فرمایا۔ ساتھ میں یہ موضوع بھی چلتا رہا۔ ہلکی پھلکی گپ شپ اور نوک جھونک تو خاصہ ہوتی ہے۔ جب بھی احباب دنیا سے چند لمحے چرا کر یوں مل بیٹھتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد احباب نے ایک دوسرے سے اجازت چاہی۔ آسمان پر بادل چھا چکے تھے۔ اور ہر کوئی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ بارش شروع ہونے سے پہلے گھر کو پہنچ جائے۔ میں جب گھر پہنچا تو بارش زور پکڑ چکی تھی۔ کچھ دیر بارش میں نہانے کے بعد اندر آگیا۔ اور یہ تحریر لکھنے لگا کہ مبادا جزیات ذہن سے محو ہی نہ ہو جائیں۔ یوں ایک خوبصورت دوپہر انجام پذیر ہوئی۔ لیکن وہ تمام کام جو آج اس مجلس میں ہم نے سوچے اور لکھے۔ انشاءاللہ ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ اور اردو زبان کی کتابت کو محض رسائل سے نکال کر عمومی زندگی میں کمپیوٹر پر رواج دینے کے لیے ہر ممکنہ حد تک کوشش کی جائے گی۔ انشاءاللہ

Tuesday, 31 December 2013

کہروا

6 comments
حسب معمول صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی۔ اذانوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کی۔ لیکن دھند کے باعث کچھ نظر نہیں آیا۔ نماز کے بعد چائے بنائی اور کپ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ آج 2013 کا آخری سورج طلوع ہونے والا ہے۔ میں اس سورج پر ایک الوداعی نگاہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ کیوں؟ مجھے معلوم نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے ڈوبتے سورج پر الوداعی نگاہ ڈالنا عادت تھی۔ اس سال اپنی روایت بدلنے کا سوچا۔ طلوع ہوتا سورج دیکھا جائے گا۔

سورج کو اس چیز سے کوئی سروکار نہیں کہ کون سا دن سال اور مہینہ ہے۔ وہ تو اپنی روش پر قائم ہے۔ مگر انسان جس کو ہر چیز کو ناپنے تولنے کی عادت ہے۔ اس نے وقت تولنے کو بھی باٹ ایجاد کر رکھے ہیں۔ یہ سال، گزشتہ سال، آنے والا سال۔ انسان جب بھی وقت کی بات کرتا ہے۔ ناپنے کے لیے اسی ترازو کا استعمال کرتا ہے۔ زمین نے اپنا ایک چکر سورج کے گرد مکمل کر لیا۔ 365 دن گزر گئے۔ اس حساب سے عطارد کا ایک سال 88 دن کا بنتا ہے۔ بقول مقبول عامر
کوئی پڑاو نہیں‌ وقت کے تسلسل میں 
یہ ماہ سال کی تقسیم تو خیالی ہے 

12 ستمبر کا ڈوبتا سورج محمد زین العابدین کی زندگی کا پیغام لے کر آیا۔ اور مغرب کے بعد عشاء سے پہلے نومولود میری گود میں تھا۔ میرا وارث خاموش تھا اور میری ماں رو رہی تھی۔ اس شام میں نے خوشی کے آنسو دیکھے۔ بہت خوبصورت شام تھی۔ ساری عمر یاد رہنے والی شام۔  دوسری بوجھل صبح 22نومبرکی تھی۔ میں سستی سے بستر میں لیٹا تھا۔ نماز کا وقت گزرتا جا رہا تھا۔ اور مجھے اٹھنا عذاب لگ رہا تھا۔ کہ ابو کا فون آیا۔ بیٹا تمہاری پھپھو کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہر وقت دعائیں دینے والی مجسم محبت پھپھو دنیا سے کنارہ کر گئی تھی۔ میرے چاہنے والوں میں ایک کی کمی ہوگئی۔  تیسری خوبصورت شام پھر 28 دسمبر کی تھی۔ جب میرا بھانجا اس دنیا میں آیا۔ میں جن سے محبت کرتا ہوں۔ ان میں ایک کا اضافہ ہوگیا۔ جبکہ باقی محبتیں ہنوز اپنی جگہ برقرار۔ اپنی ماں کی بات یاد آرہی ہے کہ محبتیں رزق کی طرح بڑھتی گھٹتی ہیں۔ شاید ہمیں ان میں  کشادگی کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

یہ سال میرے لیے صرف تین دن کا رہا۔ اس سال کے 362 دنوں کا میرے پاس کوئی حساب نہیں ہے۔ کیسے سورج طلوع ہوئے۔ غروب ہوئے۔ کتنی برساتیں برسیں۔ کچھ یاد نہیں۔ صرف تین دن ایسے ہیں جو میرے سامنے ہیں۔ مجھے یاد ہیں۔ بقیہ سب دن کہرے میں گم ہیں۔ بالکل اس سورج کی طرح جو مشرق سے طلوع تو ہو گیا ہے۔ لیکن کہرے میں گم ہے۔ اس طرح یہ سال کا ہندسہ  بھی کہرے میں گم ہونے والا ہے۔ کل کے سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی کہرا اور گہرا ہوجائے گا۔ اور محض تین دن اپنا نشان برقرار رکھ کر مجھے یہ احساس دلائیں گے کہ یہ سال بھی کبھی زندگی میں آیا تھا۔

Thursday, 19 December 2013

باکمال بزرگ - قسط چہارم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

2 comments
گزشتہ سے پیوستہ:

کچھ ثانیے یوں ہی گزرے تھے۔ کہ دوسرے بزرگ نے کہا۔  چل اب شرمانا چھوڑ۔ تجھے وہ دلارا یاد ہے۔ وہ جس کو سب زنگی کہتے تھے۔ یہ بات سن کر پہلے بزرگ ہنسنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کو کھانسی لگ گئی۔  پہلے بزرگ نے کھانسنے کے درمیان  یوں ہاتھ ہلایا۔ جیسے کہہ رہے ہوں چھوڑ یار!  اور جب ذرا کھانسی تھمی تو انہوں نے واقعی یہی کہا۔ اور مزید اضافہ کرتے ہوئے  کہا۔ کہ یہ بچے یقین نہ کریں گے۔ اس پر ایک چوپال میں موجود ایک نوجوان بولا۔ جناب ہم کیوں یقین نہ کریں گے۔ آپ سنائیں۔ تو بزرگ کہنے لگے۔ یار پہلے تمہیں  اس دور کی خوراکوں کے بارے میں نہ بتا دوں۔ تو وہ نوجوان بچوں کی طرح مچلنے لگا کہ نہیں پہلے ہمیں دلارے کے متعلق بتایا  جائے۔  اس پر بزرگ نے تمام حاضرین پر نظر ڈالی۔ اور سب کے چہرے پر ایک مثبت تاثر دیکھ کر ہتھیار ڈالتے ہوئے کہنے لگے۔ اچھا چلو اب تم ضد کرتے ہو تو سناتا ہوں۔

نام تو اس کا بخشن تھا۔ مگر مشہور وہ پورے گاؤں میں دلارے  کے نام سے تھا۔ سیہ تاب تھا۔ اتنا کہ بسا اوقات تارکول کا گماں ہوتا۔ اور اکثر اوقات بھی تارکول کا ہی۔ یہ واقعہ ہمیں دلارے نے خود ہی سنایا تھا۔ اور اس کے بعد گاؤں کی چوپال میں اس  کا اتنا مذاق اڑایا گیا کہ اس نے یہ مشہور کر دیا کہ یہ محض مذاق کی بات تھی۔ اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ واقعہ دلارے کی زبانی ہی سنیے۔

میں کھیتوں میں ہل چلانے میں مصروف تھا۔ ہل چلاتے چلاتے سورج سر  پر آن پہنچا۔ محض اتفاق کی بات ہے۔ کہ میں نے قمیص اتار رکھی تھی۔ اتنی دیر میں میری والدہ کھانا لے کر آتی دکھائیں دیں۔ میں نے سوچا کہ اس سے پہلے والدہ مجھ تک پہنچیں۔ میں  کدال لے کر کھال کا راستہ کھول دوں۔ تاکہ میرے کھانے سے فراغت حاصل کرنے تک  ایک کھیت سیراب ہو سکے۔ میں کدال لے کر کھال  کھولنے لگا تو دیکھا کہ والدہ میرے پاس سے گزر کر آگے کو چلی جاتی ہیں۔ میں حیران ہوگیا۔ اور آواز دی کے بےبے کدھر۔ اس پر والدہ نے پیچھے مڑکر دیکھا۔ اور کہنے لگیں۔

اوئے دلاریا! اے توں ایں! میں سمجھی کٹا چرن ڈیا اے۔ (اوئے دلارے یہ تم ہو۔ میں سمجھی بھینسا چر رہا ہے۔)

اس پر چوپال فلک شگاف قہقہوں سے گونج اٹھا۔

جب ذرا قہقہوں کا طوفان تھما۔ تو بزرگ نے کہا۔۔۔ خیر یہ واقعہ تو برسبیل تذکرہ یوں ہی بیچ میں آگیا۔۔۔

(جاری ہے)

Thursday, 12 December 2013

باکمال بزرگ - قسط سوئم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

4 comments
گزشتہ سے پیوستہ:
شام کو چوپال میں اسی طاقت کے تذکرے تھے۔ کہ کیسے کیسے لوگ زیرزمین سو گئے۔ ایک بزرگ نے فرمایا۔۔۔ بیٹا یہ سب پرانی خوراکوں کا اثر ہے۔ مجھے دیکھو۔۔۔ تمام نوجوانوں نے ایک نظر بزرگ پر ڈالی۔ ہڈیاں ہی ہڈیاں۔۔۔ آنکھوں پر کوئی ساٹھ نمبر کا چشمہ اور ہاتھ رعشے کی وجہ سے مسلسل لرزاں۔۔۔ اس پر ایک نوجوان کو پھبتی سوجھی۔ اس نے کہا میں نے بھی پرانی خوراکیں کھا رکھی ہیں۔ ابھی ابھی پرسوں کا رکھا  کھانا کھا کر آرہا ہوں۔ اس پر بزرگ جلال میں آگئے۔۔ یوں بھی ایسی باتوں پر جلال میں آنا بنتا ہے۔  محض آدھا گھنٹا کے قریب کھانس کر انہوں نے اپنا گلا صاف کیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے ایک تحقیرانہ نگاہ اس نابکار پر ڈالی۔ اور کہا۔۔۔ تمہارے لیے پرانی خوراکیں یہی ہیں۔۔ مگر ہماری پرانی خوراکیں بھی تازہ ہوتی تھیں۔ میں تمہیں اپنی جوانی کی بات سناؤ تو تم دنگ رہ جاؤ۔
اس پر راقم الحروف فورا ملتمس ہوا کہ قبلہ گاہی! گر آپ اس احقر کو ان  چشم کشا واقعات سے  آشنا فرمائیں۔ تو یہ سر احساس تشکر سے صدا خم رہے گا۔اس پر ایک اور بھی گویا ہوا کہ مجھے بھی دنگ ہوجانے کا شوق ہے۔ مدتیں بیتی کبھی دنگ نہ ہو سکا۔ آج یہ حسرت مکمل ہوتی نظر آتی ہے۔  بزرگ نے اس پر افروختہ افروز انداز میں کہا کہ ہمارے دور میں اسلاف کے سامنے زبان کھولنے کی تاب نہ تھی کسی میں۔ فرماں برداری کا یہ عالم تھا کہ جو اسلاف کہتے خاموشی سے کرتے۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنے باپ کے سامنے کبھی زباں کھولی ہو۔ ایک دن والد صاحب مجھے کہنے لگے کہ یار کچھ بولو۔ مجھے پتا چلے کہ تم بولنا نہیں بھول گئے۔

اس سے پہلے میں تمہیں خوراکوں کے متعلق آگاہی  دوں۔ پہلے والدین اور بڑوں کی خدمت اور ادب سے متعلق یہ واقعہ سنو۔ چوپال میں موجود تمام لوگ ہمہ تن گوش ہوگئے۔ بزرگ نے اپنے ایک پرانے دوست (جو کہ خود بھی بزرگ تھے) کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔۔۔ اس کو تو یاد ہی ہوگا۔۔۔

ایک دن کی بات ہے کہ میں پورا دن کھیتوں میں کام کر کے تھکا ہارا گھر کو آیا۔ صبح صبح میں نے پانی دینے کو نہر سے بندھ توڑا تھا۔ اس کے بعد پھر وہ بندھ باندھا بھی۔ اس ایک کام میں پورا دن کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا۔ جب تھکن سے براحال ہوگیا۔ اور میں اس نہر کنارے لیٹا لیٹا تھک کر چور ہوگیا۔ تو اٹھا اور گھر کی راہ لی۔ کھانے کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ والد محترم نے جس چارپائی پر سونا ہے۔ اس کی نوار ڈھیلی ہوگئی ہے۔ ایک دوست نے چونک کر دیکھا تو ہنس کر کہنے لگے۔۔۔ میاں یہ سنسکرت والا نوار ہے نہ کہ عربی و فارسی والا۔ اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سوچ سے کہ ساری رات والد بے آرام رہیں گے۔ تاک میں بیٹھ گیا کہ جیسے ہی والد اٹھیں تو میں فورا سے پہلے نوار کو کس دوں۔ تاکہ چارپائی پر آرام کیا جا سکے۔ مگر قدرت کو تو مجھ سے میری فرماں برداری اور محبت کا امتحان مقصود تھا۔ وہی امتحان جو ہر ولی سے لیا جاتا رہا ہے اور فرماں برداری کی اعلیٰ روایات کا مظہر رہا ہے۔

والد صاحب وہیں پر سو گئے۔ اب معاملہ میری برداشت سے باہر ہوگیا۔ اور میں اٹھا اور چارپائی کے نیچے گھس کو چاروں ہاتھوں پاؤں پر گھوڑے کی صورت نیچے جھک کر بان کو سہارا دیا۔ تاکہ والد صاحب کی کمر سیدھی رہے۔۔۔ اب جو والد صاحب بائیں کروٹ لیتے تو میں بھی بائیں سرک جاتا۔ اور دائیں کروٹ لیتے تو دائیں سرک جاتا۔ محض اتفاق کی بات ہے کہ والد صاحب جو روانہ تہجد پڑھنے کے عادی تھے۔ اس دن ایسی سکون کی نیند سوئے۔ کہ فجر بھی بس قضا ہی ہوئی چاہتی تھی۔ جب بیداری سے اٹھ کر مجھے چارپائی کے نیچے یوں جھکا پایا۔ تو بےاختیار میرا ماتھا چوم لیا۔ اور کہنے لگے۔ ایسی پرسکون نیند تو واللہ۔۔۔۔ کبھی زندگی میں نہ آئی تھی۔ بڑے فخر سے اپنے دوستوں میں یہ قصہ بیان کیا کرتے۔ پھر بزرگ نے تھوڑا سا شرما کر کہا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اس فرماں برداری اور ادب کے تذکرے گاؤں کی عورتوں میں چرخہ کاتتے بھی ہونے لگے۔ اس پر دوسرے بزرگ ہنس کر کہنے لگے ہاں۔۔۔۔ وہ چرخے والی بات بھی درست ہے۔۔۔۔ شام کو کھیتوں کے کنارے بانسری بجانا بھی تو نے اس کے بعد ہی سیکھا تھا۔۔۔۔۔ اس پر پہلے بزرگ ذرا مزید شرما گئے۔۔۔۔ 

سب نوجوان دنگ تھے۔ چوپال پر سکوت طاری۔۔۔۔

(جاری ہے)

Wednesday, 11 December 2013

باکمال بزرگ - قسط دوم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

6 comments
راقم نے اس نابکار کو گھورا۔۔۔۔ اور بزرگ کے قدم چھونے کے لیے آگے بڑھا۔ جذب عقیدت سے سرشار تھی طبیعت ۔ بس یوں سمجھیے کہ "اے تن میرا چشمہ ہووے" والا مصرعہ اسی دن ہی سمجھ آیا۔

اب  جو بزرگ سے باہم گفتگو بڑھی۔۔۔ تو انہوں نے اپنے خاندان میں گزرے اک اور بزرگ کی شہ زوری کے واقعات سے پردہ اٹھایا۔۔۔ ذرا انہی بزرگ کی زبانی سنیے۔۔۔

بزرگ اپنے سامنے بیٹھے نوجوانوں کو  دیکھا۔۔ اور کہا۔۔۔ کیا جوانیاں تمہاری ہیں۔۔۔ نوجوانوں۔۔ بس ذرا آٹے کی بوری اٹھاتے ہو تو ہانپنے لگتے ہو۔۔۔  یہ پیچھے ڈیرے کی چھت دیکھ رہے ہو۔۔۔ یہ پرانے وقتوں میں بھی چھت ہی تھی۔ اس انکشاف پر اکثر نے انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں۔ یوں بھی فوق العادہ انکشافات پر اظہار کو محاورات کی عملی شکل ضروری تھی۔ بزرگ نے کمال سخاوت سے اس حیرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے متبسم لہجے میں بات جاری رکھی۔  میں اس وقت جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔۔۔ بس روز کی عادت بنی ہوئی تھی۔۔۔ کہ دو بوریاں بغل میں دبا کر سیڑھیاں چڑھ جایا کرتا تھا۔۔۔ اور اترتا تھا۔۔۔ یہ عمل تیس بار دہراتا۔۔۔ پھر جب جسم گرم ہوجاتا تو ڈنڈ پیلا کرتا تھا۔۔۔  اور مزے کی بات دیکھو کہ میں اپنے  ساتھیوں میں سب سے کمزور ہوا کرتا تھا۔۔۔ باقی سب میرا مذاق اڑاتے تھے۔۔۔ غضب خدا کا دیکھو کہ وہ لوگ بھی میرا مذاق اڑاتے تھے جنہیں محلے میں کبوتر کوئی نہ اڑانے دیتا تھا۔ خیر۔۔۔ اس دور باکمال میں ہمارے  محلے میں اک بزرگ ہوا کرتے تھے۔۔۔ سب ان کو سائیں بابا کہا کرتے  تھے۔۔۔ ہائے۔۔۔ کیا بزرگ تھے۔۔۔ اللہ جنت نصیب کرے۔۔۔ بھئی زندگی بھر کوئی شہ زور دیکھا ہے تو وہ ۔۔۔  واہ کیا طاقت دی تھی اللہ نے مرحوم کو۔۔۔۔ گڈا  (بیل کے پیچھے جوتنے والا ریڑھا) اٹھا لیا کرتے تھے۔۔۔ قربانی کے دن بیل کو اکیلے ہی پچھاڑ کر ذبح کر دیا کرتے تھے۔۔ گر کوئی ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا۔۔ تو بہت ڈانٹتے۔۔۔ کہتے تم نوجوان  لوگ کام خراب کرتے ہو۔۔۔۔  ہم نے جا کر سب سے عید ملنے کے بعد ابھی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی تیاری کر رہے ہونا۔۔۔ اور  ان کے گھر سے گوشت  پہنچ جایا کرتا تھا۔۔۔ واہ واہ۔۔۔  اوئے تم لوگوں نے وہ تو دیکھا ہوا ہے ناں۔۔۔ یہاں سے وہ والا شہر۔۔۔۔ جی جی بالکل۔۔ اک نواجوان فورا بولا۔۔ یہاں سے دو سو کلومیٹر دور ہے۔۔ اس پر بزرگ سرکھجاتے ہوئے بولے۔۔ ہاں بالکل۔۔۔لیکن ہمارے دور میں یہ فاصلے ناپنے کا سلسلہ نہ تھا۔۔۔  بس جہاں تھک جاتے رات کاٹ لیتے تھے۔۔۔  خیر  اس سے تھوڑا پہلے اک گاؤں آتا ہے۔۔۔ وہاں جانا تھا۔۔۔ پیدل ہی نکلنے لگے۔۔۔ گھر والوں نے بہت کہا کہ نہیں ،گرمیوں کے دن ہیں۔۔ پیدل نہ جاؤ۔۔ ایسا کرو۔۔۔۔ گڈا لے جاؤ۔۔ پہلے تو نہ مانو۔۔۔ پر جب اصرار بڑھا تو گڈے پر سوار ہو کر نکل گئے۔۔ واپسی پر آدھے سے زیادہ سفر طے کر چکے تھے۔۔۔ کہ گڈے کا اک پہیہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔ طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔۔۔  بہت سٹپٹائے۔۔ اور گڈا اٹھا کر کاندھے پر رکھا۔۔ ساتھ بیل کو ہانکتے ہوئے لے آئے۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔ آئندہ پرائی چیز کا سہارا نہ لوں گا۔۔۔ بھائی اپنے پیروں سے بھلی چیز دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔  اس واقعے پر سب نوجوانوں کے منہ حیرت سے کھل گئے۔۔۔ واہ کیا طاقت تھی۔۔۔ اللہ اللہ

(جاری ہے)

باکمال بزرگ - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

10 comments
آپ کبھی بچے بھی رہے ہوں گے۔ اور جب بچے ہوں گے تب آپ نے اپنے بزرگوں کے کارنامے بھی سنے ہوں گے۔۔ ایسے ایسے کارنامے کے عقل دنگ رہ جائے۔ بھئی کیا کمال دور تھا۔۔۔ کیسے کیسے بزرگ ہوا کرتے تھے۔  اس دور میں تو یہاں تک مشہور تھا کہ بزرگ ہو اور باکمال نہ ہو۔۔۔ سمجھو بزرگ ہی نہیں۔۔۔۔ ایسے ہی کچھ باکمال بزرگوں کی زندگیوں سے کچھ سبق آموز واقعات پیش خدمت ہیں۔

تو جناب یہ بزرگ تھے بہت زبردست۔۔۔ پیدل چلنے کے بہت شوقین تھے۔۔۔ پیدل چلنا۔۔ لاہور سے جو نکلنا تو امرتسر چلے جانا۔۔۔ پورے گھر والوں نے علاقے کی مساجد میں اعلان کروا کروا کر تھک جانا۔۔۔ مگر بزرگ کا کہاں پتا چلنا۔۔۔ وہ تو وہاں کوئی دوسرا  خاندان کا بزرگ جو محض اتفاق سے پیدل ہی ہری مرچیں یا ٹماٹر خریدنے گیا ہوتا۔۔۔ ان کو بازار میں پھرتا دیکھ لیتا۔۔۔ اور ڈانٹ ڈپٹ کر واپس لے آتا۔۔۔ بس جی عجیب دور تھا ۔۔۔میلوں  کا سفرآن کی آن میں طے کرلینا۔۔۔ اک بار کرنا ایسا ہوا۔۔۔ کہ لاہور سے فیصل آباد جانا تھا۔۔۔ اور حقہ بھی ساتھ تھا۔۔۔ لاری والے ٹھہرے بدتمیز اور گستاخ۔۔ کہنے لگے کہ حقہ لاری کے اندر نہ رکھنے دیں گے۔۔ بزرگ نے بارہا سمجھایا۔۔۔ کہ یار حقہ کے بغیر سفر نہ ہوگا۔۔۔ تو گستاخی کی ساری حدیں پار کر گئے۔۔۔ کہنے لگے چھت پر باندھ دیتے ہیں۔۔۔ اس پر جو بزرگ کو جلال آیا۔۔۔ تو بس سے اتر آئے۔۔۔ اور کہنے لگے۔۔۔ اب فیصل آباد میں ہی ملاقات ہوگی۔۔۔ بس والا ہر سٹاپ پر رکتے سواریاں اتارتے چڑھاتے جب فیصل آباد بس اڈے پر پہنچا۔۔۔ تو یہ بزرگ وہاں انتظامیہ کی چارپائی پر بیٹھے حقہ سے لطف  اندوز  ہو رہے تھے۔۔۔ ڈرائیور کو دیکھ کر کہنے لگے۔۔ کیوں کاکا۔۔۔ بس اتنی ہی تھی رفتار۔۔۔۔ انتظامیہ نے جب بتایا۔۔۔ کہ بزرگ پیدل ہی آگئے تھے۔۔۔ اور کب کے آئے بیٹھے ہیں۔۔۔ تو حیرت سے اس کی آنکھیں کانوں تک پھیل گئیں۔۔۔ کہتے ہیں جھیل جیسی آنکھوں والا محاورہ اسی دن ہی ایجاد ہوا تھا۔۔ واللہ اعلم

اور یہ کتنے دن کا قصہ ہے۔۔۔ ایک گستاخ نے معصومیت سے سوال کیا۔۔۔۔

(جاری ہے)

Monday, 2 December 2013

دسمبر پر ایک غزل کی فکاہیہ تشریح

15 comments
ہمارے حال پر رویا دسمبر​
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر​
شاعر دسمبر کی اوس کو بھی اغیار کی طعنہ زنی سمجھ رہا ہے۔ کتابی باتوں نے شاعر کا دماغ اتنا خراب کر دیا ہے کہ وہ یہ بھی بھول بیٹھا ہے کہ ساون دسمبر میں نہیں آتا۔ اصل میں شاعر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے انکی کوئی وجہ تلاش کرنے کے چکر میں ہے۔ اب اور کوئی نہ ملا تو یہ الزام اس نے مہینے کے سر منڈھ دیا۔

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو​
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر​
کوئی اللہ کا بندہ پوچھے کہ جہاں سارا سال گزرا وہاں ان اکتیس دنوں کو کیا بیماری ہے۔ مگر نہ جی۔ اصل میں شاعر نے یہاں استعارے سے کام لیا ہے۔ کہ اپنے گھر والوں کے سامنے شادی کا ذکر کس طرح کرے۔ سو اس نے دسمبر کا کاندھا استعمال کرنے میں رتی بھر رعایت نہیں کی۔

بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا​
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر​
اسی موضوع کو شاعر نے جاری رکھا ہے۔ جب پہلے شعر پر کوئی ردعمل نہ ہوا اور گھر والوں کی طرف سے کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ تو شاعر کا لہجہ ذرا بیباک ہو گیا۔ اور اس نے کھلے الفاظ میں وصل کی تمنا ظاہر کرنی شروع کر دی۔ شاعر کو اخلاقی سدھار کی اشد ضرورت ہے۔

وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن​
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر​
یہاں ہر شاعر نے اپنی نام نہاد محبت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اگر اسے محبوب سے الفت ہوتی تو اسے وقت اور دن یاد ہونا چاہئے تھا۔ مگر شاعر کو تو عشرہ بھی یاد نہیں۔ کہ شروع تھا درمیان یا پھر آخر۔۔۔ ۔ اس کو صرف مہینہ یاد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محبوب شاعر کی نسیانی سے تنگ تھا۔ اوریہی وجہ بنی اس کے چھوڑ کر جانے کی۔ شعر کے الفاظ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ شاعر کو بھی کوئی دکھ نہیں ہے۔

یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے​
میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر​
اب شاعر نے یکدم پلٹی کھائی ہے۔ اور محبوب کے ذکر سے سیدھا غم روزگار پر آ پہنچا ہے۔ شاعر کسی ہوٹل میں پیاز کاٹنے کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ اور انکی وجہ سے جو آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے اس کو بھی دسمبر کے سر تھوپ دیا۔ حالانکہ دسمبر اک خوشیوں بھرا مہینہ ہے۔ اور خاص طور پر مغربی ممالک کے لیئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مگر اسے شاعر کی مغرب بیزاری کہیں یا پھر دسمبر سے چڑ کے اس نے پورے دسمبر کو ہی نوحہ کناں قرار دے دیا ہے۔

جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی​
مری تنہائی اور میرا دسمبر​
شاعر اک فضول خرچ آدمی ہے یا پھر بے روزگار۔ کہ اس کے پاس تنہائی کے علاوہ کچھ اور ہے ہی نہیں۔ اوپر سے اس نے اس کڑکی کے دور میں جب کچھ اور ہاتھ آتا نہ دیکھا تو دسمبر کو ہی اپنی ملکیت قرار دے دیا۔ دسمبر نے یقینا اس دعوے پر اچھے بھلے ناشائستہ لہجے میں اظہار خیال کیا ہوگا۔ واللہ اعلم
اک اور وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاعر اک بدزبان آدمی تھا۔ اور اسی وجہ سے کوئی بھی اس سے ملنا یا بات کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ اب تنہائی میں بیٹھا اکیلے میں باتیں کرتے ہوئے دسمبر کو کہنے لگا کہ یار تم تو میرے ہو۔ سنا ہے دسمبر نے اسکا دل رکھنے کو حامی بھر لی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسمبر نے صاف انکار کر دیا تھا۔ خیر ہم اندر کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔

دراصل میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دسمبر کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟؟؟؟

دسمبر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ شاعر کے ساتھ ہے جس نے دسمبر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور آخر میں اسے اک تھپکی بھی دے کہ
"تو تو یار ہے اپنا۔ فکر مت کر۔۔۔ ۔"
غیر تصدیقی ذرائع سے یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ دسمبر اس کے خلاف احتجاج کرے گا۔ اور قانونی چارہ جوئی کے لیئے بھی کوئی دعوی دائر کرے گا۔