Thursday, 12 December 2013

باکمال بزرگ - قسط سوئم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

4 comments
گزشتہ سے پیوستہ:
شام کو چوپال میں اسی طاقت کے تذکرے تھے۔ کہ کیسے کیسے لوگ زیرزمین سو گئے۔ ایک بزرگ نے فرمایا۔۔۔ بیٹا یہ سب پرانی خوراکوں کا اثر ہے۔ مجھے دیکھو۔۔۔ تمام نوجوانوں نے ایک نظر بزرگ پر ڈالی۔ ہڈیاں ہی ہڈیاں۔۔۔ آنکھوں پر کوئی ساٹھ نمبر کا چشمہ اور ہاتھ رعشے کی وجہ سے مسلسل لرزاں۔۔۔ اس پر ایک نوجوان کو پھبتی سوجھی۔ اس نے کہا میں نے بھی پرانی خوراکیں کھا رکھی ہیں۔ ابھی ابھی پرسوں کا رکھا  کھانا کھا کر آرہا ہوں۔ اس پر بزرگ جلال میں آگئے۔۔ یوں بھی ایسی باتوں پر جلال میں آنا بنتا ہے۔  محض آدھا گھنٹا کے قریب کھانس کر انہوں نے اپنا گلا صاف کیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے ایک تحقیرانہ نگاہ اس نابکار پر ڈالی۔ اور کہا۔۔۔ تمہارے لیے پرانی خوراکیں یہی ہیں۔۔ مگر ہماری پرانی خوراکیں بھی تازہ ہوتی تھیں۔ میں تمہیں اپنی جوانی کی بات سناؤ تو تم دنگ رہ جاؤ۔
اس پر راقم الحروف فورا ملتمس ہوا کہ قبلہ گاہی! گر آپ اس احقر کو ان  چشم کشا واقعات سے  آشنا فرمائیں۔ تو یہ سر احساس تشکر سے صدا خم رہے گا۔اس پر ایک اور بھی گویا ہوا کہ مجھے بھی دنگ ہوجانے کا شوق ہے۔ مدتیں بیتی کبھی دنگ نہ ہو سکا۔ آج یہ حسرت مکمل ہوتی نظر آتی ہے۔  بزرگ نے اس پر افروختہ افروز انداز میں کہا کہ ہمارے دور میں اسلاف کے سامنے زبان کھولنے کی تاب نہ تھی کسی میں۔ فرماں برداری کا یہ عالم تھا کہ جو اسلاف کہتے خاموشی سے کرتے۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنے باپ کے سامنے کبھی زباں کھولی ہو۔ ایک دن والد صاحب مجھے کہنے لگے کہ یار کچھ بولو۔ مجھے پتا چلے کہ تم بولنا نہیں بھول گئے۔

اس سے پہلے میں تمہیں خوراکوں کے متعلق آگاہی  دوں۔ پہلے والدین اور بڑوں کی خدمت اور ادب سے متعلق یہ واقعہ سنو۔ چوپال میں موجود تمام لوگ ہمہ تن گوش ہوگئے۔ بزرگ نے اپنے ایک پرانے دوست (جو کہ خود بھی بزرگ تھے) کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔۔۔ اس کو تو یاد ہی ہوگا۔۔۔

ایک دن کی بات ہے کہ میں پورا دن کھیتوں میں کام کر کے تھکا ہارا گھر کو آیا۔ صبح صبح میں نے پانی دینے کو نہر سے بندھ توڑا تھا۔ اس کے بعد پھر وہ بندھ باندھا بھی۔ اس ایک کام میں پورا دن کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا۔ جب تھکن سے براحال ہوگیا۔ اور میں اس نہر کنارے لیٹا لیٹا تھک کر چور ہوگیا۔ تو اٹھا اور گھر کی راہ لی۔ کھانے کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ والد محترم نے جس چارپائی پر سونا ہے۔ اس کی نوار ڈھیلی ہوگئی ہے۔ ایک دوست نے چونک کر دیکھا تو ہنس کر کہنے لگے۔۔۔ میاں یہ سنسکرت والا نوار ہے نہ کہ عربی و فارسی والا۔ اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سوچ سے کہ ساری رات والد بے آرام رہیں گے۔ تاک میں بیٹھ گیا کہ جیسے ہی والد اٹھیں تو میں فورا سے پہلے نوار کو کس دوں۔ تاکہ چارپائی پر آرام کیا جا سکے۔ مگر قدرت کو تو مجھ سے میری فرماں برداری اور محبت کا امتحان مقصود تھا۔ وہی امتحان جو ہر ولی سے لیا جاتا رہا ہے اور فرماں برداری کی اعلیٰ روایات کا مظہر رہا ہے۔

والد صاحب وہیں پر سو گئے۔ اب معاملہ میری برداشت سے باہر ہوگیا۔ اور میں اٹھا اور چارپائی کے نیچے گھس کو چاروں ہاتھوں پاؤں پر گھوڑے کی صورت نیچے جھک کر بان کو سہارا دیا۔ تاکہ والد صاحب کی کمر سیدھی رہے۔۔۔ اب جو والد صاحب بائیں کروٹ لیتے تو میں بھی بائیں سرک جاتا۔ اور دائیں کروٹ لیتے تو دائیں سرک جاتا۔ محض اتفاق کی بات ہے کہ والد صاحب جو روانہ تہجد پڑھنے کے عادی تھے۔ اس دن ایسی سکون کی نیند سوئے۔ کہ فجر بھی بس قضا ہی ہوئی چاہتی تھی۔ جب بیداری سے اٹھ کر مجھے چارپائی کے نیچے یوں جھکا پایا۔ تو بےاختیار میرا ماتھا چوم لیا۔ اور کہنے لگے۔ ایسی پرسکون نیند تو واللہ۔۔۔۔ کبھی زندگی میں نہ آئی تھی۔ بڑے فخر سے اپنے دوستوں میں یہ قصہ بیان کیا کرتے۔ پھر بزرگ نے تھوڑا سا شرما کر کہا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اس فرماں برداری اور ادب کے تذکرے گاؤں کی عورتوں میں چرخہ کاتتے بھی ہونے لگے۔ اس پر دوسرے بزرگ ہنس کر کہنے لگے ہاں۔۔۔۔ وہ چرخے والی بات بھی درست ہے۔۔۔۔ شام کو کھیتوں کے کنارے بانسری بجانا بھی تو نے اس کے بعد ہی سیکھا تھا۔۔۔۔۔ اس پر پہلے بزرگ ذرا مزید شرما گئے۔۔۔۔ 

سب نوجوان دنگ تھے۔ چوپال پر سکوت طاری۔۔۔۔

(جاری ہے)

Wednesday, 11 December 2013

باکمال بزرگ - قسط دوم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

6 comments
راقم نے اس نابکار کو گھورا۔۔۔۔ اور بزرگ کے قدم چھونے کے لیے آگے بڑھا۔ جذب عقیدت سے سرشار تھی طبیعت ۔ بس یوں سمجھیے کہ "اے تن میرا چشمہ ہووے" والا مصرعہ اسی دن ہی سمجھ آیا۔

اب  جو بزرگ سے باہم گفتگو بڑھی۔۔۔ تو انہوں نے اپنے خاندان میں گزرے اک اور بزرگ کی شہ زوری کے واقعات سے پردہ اٹھایا۔۔۔ ذرا انہی بزرگ کی زبانی سنیے۔۔۔

بزرگ اپنے سامنے بیٹھے نوجوانوں کو  دیکھا۔۔ اور کہا۔۔۔ کیا جوانیاں تمہاری ہیں۔۔۔ نوجوانوں۔۔ بس ذرا آٹے کی بوری اٹھاتے ہو تو ہانپنے لگتے ہو۔۔۔  یہ پیچھے ڈیرے کی چھت دیکھ رہے ہو۔۔۔ یہ پرانے وقتوں میں بھی چھت ہی تھی۔ اس انکشاف پر اکثر نے انگلیاں دانتوں تلے دبا لیں۔ یوں بھی فوق العادہ انکشافات پر اظہار کو محاورات کی عملی شکل ضروری تھی۔ بزرگ نے کمال سخاوت سے اس حیرانی کو نظر انداز کرتے ہوئے متبسم لہجے میں بات جاری رکھی۔  میں اس وقت جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔۔۔ بس روز کی عادت بنی ہوئی تھی۔۔۔ کہ دو بوریاں بغل میں دبا کر سیڑھیاں چڑھ جایا کرتا تھا۔۔۔ اور اترتا تھا۔۔۔ یہ عمل تیس بار دہراتا۔۔۔ پھر جب جسم گرم ہوجاتا تو ڈنڈ پیلا کرتا تھا۔۔۔  اور مزے کی بات دیکھو کہ میں اپنے  ساتھیوں میں سب سے کمزور ہوا کرتا تھا۔۔۔ باقی سب میرا مذاق اڑاتے تھے۔۔۔ غضب خدا کا دیکھو کہ وہ لوگ بھی میرا مذاق اڑاتے تھے جنہیں محلے میں کبوتر کوئی نہ اڑانے دیتا تھا۔ خیر۔۔۔ اس دور باکمال میں ہمارے  محلے میں اک بزرگ ہوا کرتے تھے۔۔۔ سب ان کو سائیں بابا کہا کرتے  تھے۔۔۔ ہائے۔۔۔ کیا بزرگ تھے۔۔۔ اللہ جنت نصیب کرے۔۔۔ بھئی زندگی بھر کوئی شہ زور دیکھا ہے تو وہ ۔۔۔  واہ کیا طاقت دی تھی اللہ نے مرحوم کو۔۔۔۔ گڈا  (بیل کے پیچھے جوتنے والا ریڑھا) اٹھا لیا کرتے تھے۔۔۔ قربانی کے دن بیل کو اکیلے ہی پچھاڑ کر ذبح کر دیا کرتے تھے۔۔ گر کوئی ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا۔۔ تو بہت ڈانٹتے۔۔۔ کہتے تم نوجوان  لوگ کام خراب کرتے ہو۔۔۔۔  ہم نے جا کر سب سے عید ملنے کے بعد ابھی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی تیاری کر رہے ہونا۔۔۔ اور  ان کے گھر سے گوشت  پہنچ جایا کرتا تھا۔۔۔ واہ واہ۔۔۔  اوئے تم لوگوں نے وہ تو دیکھا ہوا ہے ناں۔۔۔ یہاں سے وہ والا شہر۔۔۔۔ جی جی بالکل۔۔ اک نواجوان فورا بولا۔۔ یہاں سے دو سو کلومیٹر دور ہے۔۔ اس پر بزرگ سرکھجاتے ہوئے بولے۔۔ ہاں بالکل۔۔۔لیکن ہمارے دور میں یہ فاصلے ناپنے کا سلسلہ نہ تھا۔۔۔  بس جہاں تھک جاتے رات کاٹ لیتے تھے۔۔۔  خیر  اس سے تھوڑا پہلے اک گاؤں آتا ہے۔۔۔ وہاں جانا تھا۔۔۔ پیدل ہی نکلنے لگے۔۔۔ گھر والوں نے بہت کہا کہ نہیں ،گرمیوں کے دن ہیں۔۔ پیدل نہ جاؤ۔۔ ایسا کرو۔۔۔۔ گڈا لے جاؤ۔۔ پہلے تو نہ مانو۔۔۔ پر جب اصرار بڑھا تو گڈے پر سوار ہو کر نکل گئے۔۔ واپسی پر آدھے سے زیادہ سفر طے کر چکے تھے۔۔۔ کہ گڈے کا اک پہیہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔ طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔۔۔  بہت سٹپٹائے۔۔ اور گڈا اٹھا کر کاندھے پر رکھا۔۔ ساتھ بیل کو ہانکتے ہوئے لے آئے۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔ آئندہ پرائی چیز کا سہارا نہ لوں گا۔۔۔ بھائی اپنے پیروں سے بھلی چیز دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔  اس واقعے پر سب نوجوانوں کے منہ حیرت سے کھل گئے۔۔۔ واہ کیا طاقت تھی۔۔۔ اللہ اللہ

(جاری ہے)

باکمال بزرگ - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

10 comments
آپ کبھی بچے بھی رہے ہوں گے۔ اور جب بچے ہوں گے تب آپ نے اپنے بزرگوں کے کارنامے بھی سنے ہوں گے۔۔ ایسے ایسے کارنامے کے عقل دنگ رہ جائے۔ بھئی کیا کمال دور تھا۔۔۔ کیسے کیسے بزرگ ہوا کرتے تھے۔  اس دور میں تو یہاں تک مشہور تھا کہ بزرگ ہو اور باکمال نہ ہو۔۔۔ سمجھو بزرگ ہی نہیں۔۔۔۔ ایسے ہی کچھ باکمال بزرگوں کی زندگیوں سے کچھ سبق آموز واقعات پیش خدمت ہیں۔

تو جناب یہ بزرگ تھے بہت زبردست۔۔۔ پیدل چلنے کے بہت شوقین تھے۔۔۔ پیدل چلنا۔۔ لاہور سے جو نکلنا تو امرتسر چلے جانا۔۔۔ پورے گھر والوں نے علاقے کی مساجد میں اعلان کروا کروا کر تھک جانا۔۔۔ مگر بزرگ کا کہاں پتا چلنا۔۔۔ وہ تو وہاں کوئی دوسرا  خاندان کا بزرگ جو محض اتفاق سے پیدل ہی ہری مرچیں یا ٹماٹر خریدنے گیا ہوتا۔۔۔ ان کو بازار میں پھرتا دیکھ لیتا۔۔۔ اور ڈانٹ ڈپٹ کر واپس لے آتا۔۔۔ بس جی عجیب دور تھا ۔۔۔میلوں  کا سفرآن کی آن میں طے کرلینا۔۔۔ اک بار کرنا ایسا ہوا۔۔۔ کہ لاہور سے فیصل آباد جانا تھا۔۔۔ اور حقہ بھی ساتھ تھا۔۔۔ لاری والے ٹھہرے بدتمیز اور گستاخ۔۔ کہنے لگے کہ حقہ لاری کے اندر نہ رکھنے دیں گے۔۔ بزرگ نے بارہا سمجھایا۔۔۔ کہ یار حقہ کے بغیر سفر نہ ہوگا۔۔۔ تو گستاخی کی ساری حدیں پار کر گئے۔۔۔ کہنے لگے چھت پر باندھ دیتے ہیں۔۔۔ اس پر جو بزرگ کو جلال آیا۔۔۔ تو بس سے اتر آئے۔۔۔ اور کہنے لگے۔۔۔ اب فیصل آباد میں ہی ملاقات ہوگی۔۔۔ بس والا ہر سٹاپ پر رکتے سواریاں اتارتے چڑھاتے جب فیصل آباد بس اڈے پر پہنچا۔۔۔ تو یہ بزرگ وہاں انتظامیہ کی چارپائی پر بیٹھے حقہ سے لطف  اندوز  ہو رہے تھے۔۔۔ ڈرائیور کو دیکھ کر کہنے لگے۔۔ کیوں کاکا۔۔۔ بس اتنی ہی تھی رفتار۔۔۔۔ انتظامیہ نے جب بتایا۔۔۔ کہ بزرگ پیدل ہی آگئے تھے۔۔۔ اور کب کے آئے بیٹھے ہیں۔۔۔ تو حیرت سے اس کی آنکھیں کانوں تک پھیل گئیں۔۔۔ کہتے ہیں جھیل جیسی آنکھوں والا محاورہ اسی دن ہی ایجاد ہوا تھا۔۔ واللہ اعلم

اور یہ کتنے دن کا قصہ ہے۔۔۔ ایک گستاخ نے معصومیت سے سوال کیا۔۔۔۔

(جاری ہے)

Monday, 2 December 2013

دسمبر پر ایک غزل کی فکاہیہ تشریح

15 comments
ہمارے حال پر رویا دسمبر​
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر​
شاعر دسمبر کی اوس کو بھی اغیار کی طعنہ زنی سمجھ رہا ہے۔ کتابی باتوں نے شاعر کا دماغ اتنا خراب کر دیا ہے کہ وہ یہ بھی بھول بیٹھا ہے کہ ساون دسمبر میں نہیں آتا۔ اصل میں شاعر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے انکی کوئی وجہ تلاش کرنے کے چکر میں ہے۔ اب اور کوئی نہ ملا تو یہ الزام اس نے مہینے کے سر منڈھ دیا۔

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو​
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر​
کوئی اللہ کا بندہ پوچھے کہ جہاں سارا سال گزرا وہاں ان اکتیس دنوں کو کیا بیماری ہے۔ مگر نہ جی۔ اصل میں شاعر نے یہاں استعارے سے کام لیا ہے۔ کہ اپنے گھر والوں کے سامنے شادی کا ذکر کس طرح کرے۔ سو اس نے دسمبر کا کاندھا استعمال کرنے میں رتی بھر رعایت نہیں کی۔

بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا​
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر​
اسی موضوع کو شاعر نے جاری رکھا ہے۔ جب پہلے شعر پر کوئی ردعمل نہ ہوا اور گھر والوں کی طرف سے کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ تو شاعر کا لہجہ ذرا بیباک ہو گیا۔ اور اس نے کھلے الفاظ میں وصل کی تمنا ظاہر کرنی شروع کر دی۔ شاعر کو اخلاقی سدھار کی اشد ضرورت ہے۔

وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن​
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر​
یہاں ہر شاعر نے اپنی نام نہاد محبت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اگر اسے محبوب سے الفت ہوتی تو اسے وقت اور دن یاد ہونا چاہئے تھا۔ مگر شاعر کو تو عشرہ بھی یاد نہیں۔ کہ شروع تھا درمیان یا پھر آخر۔۔۔ ۔ اس کو صرف مہینہ یاد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محبوب شاعر کی نسیانی سے تنگ تھا۔ اوریہی وجہ بنی اس کے چھوڑ کر جانے کی۔ شعر کے الفاظ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ شاعر کو بھی کوئی دکھ نہیں ہے۔

یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے​
میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر​
اب شاعر نے یکدم پلٹی کھائی ہے۔ اور محبوب کے ذکر سے سیدھا غم روزگار پر آ پہنچا ہے۔ شاعر کسی ہوٹل میں پیاز کاٹنے کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ اور انکی وجہ سے جو آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے اس کو بھی دسمبر کے سر تھوپ دیا۔ حالانکہ دسمبر اک خوشیوں بھرا مہینہ ہے۔ اور خاص طور پر مغربی ممالک کے لیئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مگر اسے شاعر کی مغرب بیزاری کہیں یا پھر دسمبر سے چڑ کے اس نے پورے دسمبر کو ہی نوحہ کناں قرار دے دیا ہے۔

جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی​
مری تنہائی اور میرا دسمبر​
شاعر اک فضول خرچ آدمی ہے یا پھر بے روزگار۔ کہ اس کے پاس تنہائی کے علاوہ کچھ اور ہے ہی نہیں۔ اوپر سے اس نے اس کڑکی کے دور میں جب کچھ اور ہاتھ آتا نہ دیکھا تو دسمبر کو ہی اپنی ملکیت قرار دے دیا۔ دسمبر نے یقینا اس دعوے پر اچھے بھلے ناشائستہ لہجے میں اظہار خیال کیا ہوگا۔ واللہ اعلم
اک اور وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاعر اک بدزبان آدمی تھا۔ اور اسی وجہ سے کوئی بھی اس سے ملنا یا بات کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ اب تنہائی میں بیٹھا اکیلے میں باتیں کرتے ہوئے دسمبر کو کہنے لگا کہ یار تم تو میرے ہو۔ سنا ہے دسمبر نے اسکا دل رکھنے کو حامی بھر لی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسمبر نے صاف انکار کر دیا تھا۔ خیر ہم اندر کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔

دراصل میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دسمبر کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟؟؟؟

دسمبر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ شاعر کے ساتھ ہے جس نے دسمبر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور آخر میں اسے اک تھپکی بھی دے کہ
"تو تو یار ہے اپنا۔ فکر مت کر۔۔۔ ۔"
غیر تصدیقی ذرائع سے یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ دسمبر اس کے خلاف احتجاج کرے گا۔ اور قانونی چارہ جوئی کے لیئے بھی کوئی دعوی دائر کرے گا۔

Wednesday, 20 November 2013

طمانچہ​

4 comments
طمانچہ​
(مرکزی خیال ماخوذ)
یہ ملک کے اک انتہائی پسماندہ علاقے میں شہر سے بہت دور دریا کے ساتھ ساتھ کچھ گاؤں تھے۔ کاروبار زندگی رواں رکھنے کو یہاں لوگ باہمی اتفاق سے کام چلاتے تھے۔ لوہار، نائی اور موچی کو اجرت فصلوں کی کٹائی پر فصل کی صورت دی جاتی تھی۔ کسی بھی باہمی ناچاقی یا لین دین کے تنازعہ پر سردار کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا۔ انہی گاؤں کی سرحد کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں خانہ بدوشوں کی جھونپڑیاں تھیں۔ یہ خانہ بدوش ہمیشہ سر جھکا کر رکھتے۔ ہر قسم کی تذلیل کو خاموشی سے برداشت کرتے اور کبھی پلٹ کر جواب نہ دیتے۔ لیکن کل ایک ایسی انہونی ہو گئی تھی۔ جس نے سارے گاؤں کو حیران کر دیا تھا۔ خانہ بدوشوں کے اک لڑکے نے سردار کے بیٹے کو گالیاں دینے پر طمانچہ مار دیا تھا۔

گاؤں کے درمیانی میدان میں پورا گاؤں جمع تھا۔ خانہ بدوشوں کے اک لڑکے نے سردار کے بیٹے کو گالیاں دینے پر پیٹ دیا تھا۔ اتنی جرأت جہاں گاؤں کے لوگوں کے لیے حیران کن تھی۔ وہیں سردار کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ لوگ اس کو مثال بنا کر سرکشی پر نہ اتر آئیں۔ لہذا وہ مجرم کو عبرت ناک سزا دینا چاہتا تھا۔

جرم ثابت تھا۔ خانہ بدوشوں نے بہت معافی مانگی۔ لیکن سردار نے کوڑے لگانے کی سزا سنا دی۔ جب لڑکے کو کوڑے پڑنے لگے۔ تو لڑکے کی ماں برداشت نہ کر سکی۔ اور کھڑی ہو کر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی۔

سردار! کبھی ہمارے خون کی بھی اتنی جرأت ہوئی ہے کہ ایسی گستاخی کا سوچ بھی سکے۔ آپ میرے بیٹے کو معاف کر دیجیے۔

میدان پر سناٹا چھا گیا۔ لوگ آہستہ آواز میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔ سردار کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ اور وہ پنچایت سے اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔ سب لوگ گومگو کے عالم میں گھروں کو لوٹ گئے۔ جانے کل کا سورج کس طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

اگلی صبح گاؤں میں تین لاشیں اٹھیں۔ لڑکے اور اس کی ماں کو سردار کے بیٹوں نے قتل کر دیا تھا۔ اور سردار نے اس رات خود کشی کر لی تھی۔

Thursday, 14 November 2013

خاقان مساحت داں (المعروف کتب برار)

4 comments
ایک دن کا ذکر ہے۔۔ اب تک مجھے یہ بات نہیں سمجھ آئی کہ یہ ہمیشہ ایک دن ہی کا کیوں ذکر ہوتا ہے۔ کبھی دوسرے تیسرے دن کا ذکر کیوں نہیں ہوتا۔ یا پھر ایک رات کا ذکر چھیڑنے میں کیا مضائقہ ہے۔ سو کہانی ہماری ہے۔ اس لیے ہم روایت شکن کہلائیں گے۔ اور کہانی کا آغاز دوسرے دن  سے کریں گے۔

تو  دوستو!!!
دوسرے دن کا ذکر ہے۔ جی جی بالکل! یہ دوسرا دن وہی جو پہلے دن اور پہلی رات کے بعد آتا ہے۔ اب کوئی اسے ولیمے کا دن نہ سمجھ بیٹھے۔ ولیمے کا نام سنتے ہی معنی خیز مسکراہٹیں شروع۔ میاں کہیں تو شرافت اور تہذیب کا دامن تھامے رکھا کرو۔ ہم کیا بات کرنے جا رہے تھے۔ اور تم کیا سوچ رہے ہو۔ بھئی دوسرےدن کا تذکرہ ہے۔۔ نہ کہ لیلیٰ کی ان راتوں کا جو اس نے مجنوں کے سنگ بتائی تھیں۔ اور نہ ہی ان اسباق کا ذکر ہے جو سوہنی روز دریا پار کر کے مہینوال سے لینے جایا کرتی تھی۔ اک عام سے دن کو بھی کیا سے کیا بنا دیتے ہو تم لوگ۔ ہاں تو ہم بات کررہے تھے ایک دن کی۔ ارے نہیں میاں۔ بھلا دیا۔ ہم بات کر رہے تھے دوسرے دن کی۔ جی بالکلٖ!! یہ دوسرے دن کا تذکرہ ہے۔ جب ہماری ملاقات ان موصوف سے ہوئی۔۔ ملاقات کیا ہوئی۔ ایک عدد مراسلہ بنام اپنے پڑا دیکھا۔ کم مرتبہ آدمی تھے۔  کہیں کوئی بھولی بھٹکی ڈاک ہمارے نصیب میں آیا کرتی تھی۔ تو پہروں ڈاک کو کھولا نہ کرتے تھے۔اور اطلاع کی خبر دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ کہ دیکھو۔ ایک عدد خط بنام خاکسار کسی نے لکھا ہے۔ اب جو ہمت کر کے کھولا۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہی ایک عدد خط کا جواب ہے۔ دل ڈر سا گیا۔ کہیں جواب ہی نہ ہو۔ ویسے تو ہم نے کبھی کسی کو ایسا خط نہیں لکھا کہ وہ جواب دے تو ہم دل تھام لیں۔۔ ۔لیکن رسم دنیا تھی۔ سو نباہنی تو تھی۔ اب جو دیکھتے ہیں۔ تو ہم کو اکسایا جا رہا ہے۔ کہ میاں لکھا کرو۔ ہماری تفریح طبع کا سامان ہوتا رہتا ہے۔ ہم حیران رہ گئے۔ یہ کون ہے۔ ہم سے گستاخی۔۔ یعنی بین السطور ہمیں ضحک انگیز کہا جا رہا ہے۔ میاں خاندانی راجپوت ہیں۔ بڑی دیر تک اس دن آئینہ دیکھتے رہے۔ کہ کہیں سے کوئی مسخرے کا یا اور ایسی کسی مخلوق کا گماں گزرتا ہو۔ مگر نہ۔ اچھا بھلا خود کو پروقار شخصیت کا مالک پایا۔ ایک دو انجان لوگوں سے اس بابت رائے بھی لی۔ اپنوں سے اس لیے نہ لی کہ اللہ بخشے کشور کمار کو۔ گاتےہیں۔ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں۔  گرچہ امید واثق تھی کہ کوئی بھی بجلی نہ گرائے گا۔۔ کہ یہاں تو بلب  جلانے کو میسر نہیں۔ کجا یہ کہ کوئی گرا دے۔ مگر بعد میں شکوہ کرنے سے بہتر احتیاط کو سمجھا۔ بے شک پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

اب جو ان موصوف کا خط پڑھا۔ بار بار پڑھا۔ لیکن ہر بار سوئی تفریح طبع والی بات پر آ کر اٹک گئی۔ اب یہ اٹک شہر کا نام نہیں لیا جا رہا۔ کہ لوگوں کےکان کھڑے ہوجائیں۔ اٹک جانا۔ یعنی کہ خیال سے چھٹکارا نہ ملنا۔ سو نہ ملا۔ آخر بڑی دیر کی سوچ بچار کے یہ حل سمجھ میں آیا۔ کیوں نہ اس کی جاسوسی کی جائے۔ بس جی یہ خیال آنا تھا کہ ہماری ساری جاسوسی حسیات جاگ اٹھیں۔ بچپن میں انسپکٹر جمشید، کامران مرزا، شوکی برادرز اور ان کے بعد عمران سیریز کے تمام کارنامے ذہن میں جاگ اٹھے۔ کولمبو ٹو کا  لقب  ہمیں پہلے ہی مل چکا تھا۔ فورا خیال آیا۔ اب بتائیں گے اسے۔۔ ایک ایک حرکت پر نظر رکھیں گے۔ بڑا آیا۔ ہمیں یہ کہنے والا کہ ہنساؤ۔

اب جو انداز گفتگو دیکھا تو پایا کہ پروقار  اور لطیف الفاظ پر مشتمل مراسلے لکھا کرتے۔ پہلے پہل سوچا۔ شاید لغت میں سے لطیف الفاظ ڈھونڈ کر مراسلے لکھتے ہیں۔ لیکن پھر خود ہی اپنے بیوقوفانہ خیالات پر ہنسی آگئی۔ کہ بقول یوسفی۔ دنیا میں سب سے زیادہ فحش الفاظ جس کتاب میں ہیں۔ وہ لغت ہے۔ اور اگر یہ موصوف لغت سے دیکھ کر لکھتے تو کچھ یوں لکھا کرتے۔ کہ تیلی کا تیل جلے۔  بقیہ محاورہ خود ہی لغت سے دیکھ لیجیے۔ اب ہم کیا کشٹ اٹھائیں۔ یوں بھی ہمارے قلم کو لغویات سے وحشت سی ہوتی ہے۔  ایک مزاج آشنا کا کہنا ہے کہ راقم لغو بات لکھنے کی بجائے کرنے پر زیادہ یقین رکھتا ہے۔ اگر آپ کو کبھی ایسے آستین کے پالتو ملیں۔ تو سر کچل دینے کی مثال پر عمل کرنے سے درگزر نہ کریں۔  اور راقم کی جہنم ہاؤسنگ سوسائٹی سے عذاب الیم شاہراہ پر ایک کمرشل پلازہ کے حقدار ٹھہریں۔

جناب کو ایک بہترین غم گسار پایا۔ غم گساری کے لیے جنس بھی تبدیل کر لیتے تھے۔ تاکہ صنف مخالف کو اندیشۂ "مرداں" نہ رہے۔ مرداں کو زبر کے ساتھ پڑھیے۔ اس سے دو فوائد حاصل ہوتے۔ اِدھر ان کی غم گسار فطرت کو تسکین مل جاتی۔ اُدھر بعض صنف مخالف کو اپنی قبیل سے ایک اچھا سامع مل جاتا۔ جس کا اصل حالت میں ان کی قبیل میں پایا جانا بعد از قیاس تھا۔  ایسا نہیں تھا کہ صرف صنف مخالف کے لیے ہی درد دل تھا۔ اپنی قبیل  یعنی کے صنف بہت زیادہ کرخت (کیوں کہ موصوف خود صنف کرخت سے ایک درجہ اوپر کی چیز لگتے تھے ) کی بھی دلجوئی فرمایا کرتے تھے۔ مگر کچھ اس انداز سے کہ اس غریب کو کبھی شائبہ تک  نہ گزرتا کہ اس کی غم گساری کی جارہی ہے۔ کچھ لوگ جو استحقار بھانپ جاتے شکوہ کناں رہتے۔ ایک دن راقم سے کہنے لگے۔ میاں دل بھر آیا۔ آج ایک آدمی "دلبر" "د اشتہ " کو دو الگ الفاظ سمجھ رہا تھا۔ بس میاں! ادب کا زمانہ لد گیا۔ پرسوں ہی ایک ٹرک پر لدا جاتا دیکھا ہے۔  بعض احباب ان کے اس انداز برہمی کو بھی لطافت پر ہی محمول کیا کرتے۔

ہاں ادب سے یاد آیا۔ موصوف خود بہت نستعلیق واقع ہوئے تھے۔ عرصہ دراز تک لوگ ان سے یہ پوچھتے رہے کہ آپ کی نسخ سے کیا دشمنی ہے۔ تو رسان سے سمجھاتے کہ بھئی یہ دو الگ الگ قبیلے ہیں۔ اور قبائل میں باہمی تنازعات تو ہو ہی جاتے ہیں۔ ایک نے تو  گستاخی کی حد کر دی۔ کہنے لگا۔ کہ آپ فطرتاً نستعلیق تھے۔ یا یہ انداز بعد میں اختیار کیا ۔ تو ہنس کر کہنے لگے نہیں میاں میں اصلاً دیوانی ہوں۔

سردیوں کا موسم ان کو بہت پسند تھا۔ فرماتے برفباری میری کمزور ی ہے۔ ہم نے  جن جن کمزوریوں کے طریقہ علاج پڑھ رکھے تھے۔ ان میں کہیں بھی اس بیماری کا تذکرہ نہ تھا۔ عکس کشی پر بہت مہارت تھی۔ اور اکثر تصاویر دیکھ کر لگتا تھا کہ عکس کش کر دیا گیا ہے۔ کیمروں پر بےانتہا معلومات تھیں۔ آپ دنیا کے جس مرضی کیمرہ کا پوچھ لیں۔ فورا سے پہلے  تلاش کر کے بتا دیتے تھے۔ حافظے میں اتنا کچھ محفوظ تھا کہ اگر کوئی سوال پوچھ لیا جاتا۔ تو کافی کافی دیر جواب نہ دیتے۔ بعد میں بتاتے کہ میں دماغ میں تمام باتیں صعودی یا نزولی ترتیب سے نہیں رکھی ہوئیں۔ جس کی وجہ سے متعلقہ جواب تک پہنچتے پہنچتے وقت لگ جاتا ہے۔ متعدد بار کچھ بےتکلف دوستوں نے مشورہ دیا کہ بے جا  چیزوں کو ختم کر دیں۔ لیکن ہمیشہ ایک مسکان سے یہی جواب دیتے کہ میاں! اس سے کارگردگی بہتر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ایسا کرگزرتے۔

شکاریات سے بہت دلچسپی تھی۔ انکسارانہ دعوا  یہ کیا کرتے تھے کہ بس شکار ہم کر لیتے ہیں۔ ایک دن راقم نے پوچھا کہ کس چیز کا شکار کرتے ہیں۔ تو فرمانے لگے میاں ہر شکار کی تفصیلات بتائی نہیں جا سکتی۔ ہر  داستاں میں شکار کا ذکر ہو نہ ہو شکار جستہ کا ضرور ہوتا تھا۔  کئی کتابوں کے تراجم کیے۔ اور ان تمام کتابوں میں جو ایک بات مشترک تھی وہ یہ کہ تمام کسی نہ کسی شکار سے متعلق تھیں۔  سیاحت کی غرض سے سفر بھی بےتحاشہ کرتے۔ لیکن جب کسی بھی سفر کی روداد سننے کو ملتی۔ تو سیاح کی بجائے مساحت داں  معلوم ہوتے۔

الغرض عجب شخصیت ہے ان صاحب کی۔ الفاظ ان کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے۔ اور یہ الفاظ کی۔مذاق کر رہے ہوں تو لگتا ہے سنجیدہ ہیں۔ اور سنجیدہ ہوں تو بھی سنجیدہ ہی لگتے ہیں۔ کسی زمانے میں موصوف کو کی بورڈ پر ہاتھ سیدھا کرنے کا شوق تھا۔ سو بیٹھے کتابیں ٹائپ کیا کرتے تھے۔ زمانے کی ہوشیاری دیکھیں۔ انہیں کتابیں ٹائپ کرنے کا منتظم بنا دیا۔ اب بھی یہی کام کرتے تھے۔ پتا نہیں ٹائپنگ کب سیکھ پائیں گے۔ جانوروں سے ازحد لگاؤ۔ اس قدر کے خود کو بےبی ہاتھی کا خطاب دے ڈالا۔ لوڈ شیڈنگ میں یہ خطاب بڑا کام آتا۔ خود کو ہوا دے لیا کرتے۔۔ اور مکھیاں بھی اڑایا کرتے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک تو انہیں گرمی بھی لگتی تھی۔۔ جو ہوا دینے کی ضرورت پیش آتی۔ دوسرا یہ فارغ نہیں مصروف آدمی تھے۔۔ اگر فارغ ہوتے تو مکھیاں اڑانے کی بجائے مارا کرتے۔

زندگی نے مہلت دی تو اگلی قسط میں ان کے سفر ناموں، عکس کشی اور تراجم کا احاطہ کیا جائے گا۔

Monday, 11 November 2013

شہید و ہلاک

2 comments
جب چنگیز خان و ہلاکو خان فرات کے کنارے اپنی کشتیاں سیدھی کر رہے تھے۔ تو بغداد کی علم گاہوں میں "والضالین" کی قرأت پر بحث ہو رہی تھی۔
جب انگریزی افواج مغل سلطنت پر آخری حملہ کے لیے حکمت عملی وضع کر رہی تھیں تو بادشاہ سلامت اپنے کلام کی نوک پلک سنوارنے میں مشغول تھے۔ 
اور آج جب ایک اور طاقت تمہاری سرحدوں پر بگل بجا رہی ہے تو تم ہلاک و شہید کے بیکار مباحث میں الجھے اپنے اپنے مسلک کا بوجھ لیے اپنے بغض کی نکاسی کا سامان کرنے میں مصروف ہو۔ 

جون صحیح فرماتے تھے۔۔ "ہم حد سے گئے گزرے لوگ ہیں۔ اور وقت کو چاہیے کہ ہمیں بری طرح گنوا دے اور ٹھکرا دے۔ اس لیے کہ ہم بری طرح گنوا دیے جانے اور ٹھکرا دیے جانے کے ہی قابل ہیں۔"

ذوالقرنین