Monday, 30 November 2015

قصہ پھر ایک اور دن کا

7 comments
مجھے آج تک اس بات پر حیرانی ہے کہ تاریخ کون لکھتا ہے۔ کیا تاریخ اسی وقت لکھی جاتی ہے جب کوئی واقعہ رونما ہو۔ یا اس کے صدیوں بعد کوئی مؤرخ اٹھ کر آدھے سچے آدھے جھوٹے واقعات اٹھا کر اپنے تخیل کو بروئے کار لا کر تاریخ مرتب کرتا ہے۔ خیر اگر مؤرخ نے تاریخ کو بعد میں لکھنا ہے تو ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس کو مناسب معلومات فراہم کرتے جائیں۔ ذیلی واقعے کا مطالعہ کرنے کے بعد مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو چھے نومبر2015 کا دن سنہرے حروف سے لکھے گا۔ خدا کی بےنیازی کے جن مظاہر کا مشاہدہ اُس دن اِس نگاہ رندی نے...

Tuesday, 3 November 2015

سامنے دھری

5 comments
بزرگ فرماتے ہیں کہ چھپی ہوئی تو سب ڈھونڈ لیتے ہیں۔ سامنے دھری اکثر نظر نہیں آتی۔ اس بات پر ہم بہت ہنسا کرتے تھے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی، "سامنے دھری نظر نہ آئے"، اندھے کو نظر نہ آتی ہو تو اور بات ہے۔ لیکن زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہم نے محسوس کیا کہ یہ بات کچھ ایسی بےمعنی نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا کہ ہم بےاختیار پکار اٹھتے۔ "اوہ! یہ پہلے کیوں نہ دیکھا۔ سامنے کی بات تھی۔" کبھی دل سے آواز آتی۔ "خاموش! اب سب کے سامنے اس بات کا تذکرہ کر کے خود کی عزت نہ کروا لینا۔ یہ تو کسی اندھے کو بھی نظر...