Thursday, 31 January 2019

لمّی اُڈیک

2 comments
میری ایک چھوٹی جیہی پنجابی نظم لمّی اُڈیک دل دی سخت زمین اندر خورے کنّے ورھیاں توں کئی قسماں دیاں سدھراں دبیاں اکّو سٹ اُڈیکن لگیاں کتّھے وجّے، کجھ تے پُھٹّے 28 جنوری 2019 نیرنگ خیا...

Monday, 7 January 2019

ایں آلکسی بزور بازو نیست

1 comments
یوں توں جب ہم سست نہیں ہوتے تو تب ہم صرف سست ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کیجیے، کہ جب ہم اپنے تئیں آلکسی کی کئی سیڑھیاں دیکھ کر وہیں پر ہمت ہار جاتے ہیں کہ اب اس رتبے پر کون جائے۔ وہیں ہمیں احمد بھائی کی کوئی ایسی حرکت نظر آتی ہے کہ ہم سوچتے رہ جاتے ہیں میاں۔۔۔ جس رتبہ پر یہ حضرت ہیں، بخدا میں زندگی بھر صرف سویا رہوں تو تب بھی نہیں پہنچ سکتا۔ "ایں آلکسی بزور بازو نیست"۔ احمد بھائی کی کوچہ آلکساں سے والہانہ محبت تو دیکھیے۔ کہ شاعری میں بھی گردوپیش سے بےخبر نہیں۔ فرماتے ہیں۔  فسانہ پڑھتے پڑھتے اپنے...

Wednesday, 2 January 2019

کچھ آگہی کی سبیلیں بھی، ہیں انتشار میں

0 comments
کچھ آگہی کی سبیلیں بھی، ہیں انتشار میں عمر رسیدہ اور جہاندیدہ لوگوں کی باتیں سن کر میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ ان سب کو مصنف ہونا چاہیے۔ کتنا اچھا بولتے ہیں۔ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس خیالات و الفاظ کی کتنی فراوانی ہے۔ کتنی سہولت سے یہ واقعات بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ مجھے تو جو دو چار لفظ آتے ہیں، فوراً سے پیشتر نوک قلم کے حوالے کر دیتا ہوں۔ دنیا چیختی رہتی ہے کہ یہ زبان و بیان درست نہیں۔ میاں لکھنے کا یہ انداز درست نہیں۔ تم کب لکھنا سیکھو گے؟ لیکن میں سب...

Friday, 28 September 2018

نہ قاصد سے بیاں ہو گی نہ قاصد سے بیاں ہو گا

4 comments
شمارندی آغوشیے  (لیپ ٹاپ) کے مسائل حل ہو چکے تھے۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ پر بہت خوبصورتی سے چل رہی تھی اور ہمیں  یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ زندگی اب ان بدرنگ، بدہیئت اور بدصورت  شمارندی آغوشیوں سے آگے نکل چکی ہے۔ لیکن ہماری یہ خوشی دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔ نہیں نہیں آپ بالکل غلط سمجھے ہیں، اس بار تو ہمیں ذہنی اذیت سے دوچار کرنے کے لیےقدرت نے ایک اور ہی رنگ اختیار کیا تھا۔ روزانہ کی طرح دفتری معاملات نبٹانے کی خاطر برقی خطوط  کا مطالعہ جاری تھا کہ ایک منفرد...

Tuesday, 11 September 2018

خرگوش جادوگر

3 comments
خرگوش جادوگر​ چنا اور منا بہت شرارتی بھائی تھے۔ یوں تو ان کی شرارتیں سب کو بھاتی تھیں مگر بعض دفعہ وہ ایسی شرارت بھی کر جاتے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچتا تھا۔ جیسے ایک دن کلاس میں گڑیا کی پینسل چھپا دی۔ جب معلم نے سب کو سبق لکھوایا تو گڑیا کے پاس پینسل نہ تھی۔ سزا کے طور پر معلم نے گڑیا کو کھڑا کر دیا۔ اور وہ رونے لگی۔ مگر یہ دونوں بہت خوش ہو رہے تھے۔ کبھی کسی کی کتاب چھپا دیتے۔ تو کبھی کسی کا لنچ نکال کر کھا جاتے۔ ان کے اساتذہ اور گھر والے ان کو بہت سمجھاتے کہ دیکھو بچو! شرارت ایسی ہو جس...

Wednesday, 16 May 2018

ایجنڈا برائے سوشل میڈیا دوران رمضان

2 comments
ایجنڈا برائے سوشل میڈیا دوران رمضان رمضان کریم کی آمد ہو چکی ہے۔ بازاروں میں رونق ہے۔ لوگ کھجوریں اور کپڑے خرید رہے ہیں۔ کسی بڑے شاپنگ مال میں کھڑے ہو کر "سیلفی" بھی لے رہے ہیں کہ روزے کی خریداری کرتے ہوئے۔ الحمداللہ۔ الحمداللہ کے بغیر جملہ ادھورا ہے۔ اس سے ایک نیکی کا "ٹچ" آجاتا ہے۔ مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔ اس بار میں نے بھی سوچا ہے کہ صبح فجر کے وقت مسجد کے باہر سیلفی لوں گا۔ عنوان دوں گا۔ اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوں میں۔ نہیں۔ یہ عنوان ٹھیک نہیں۔ یہ عنوان کیسا...

Wednesday, 7 March 2018

وزیراعظم (ایک آنکھوں دیکھا کانوں سنا مکالمہ)

0 comments
وزیراعظم (ایک آنکھوں دیکھا کانوں سنا مکالمہ( آج ایک بیگ خریدنے کی نیت سے ٹاؤن شپ بازار جانا ہوا۔ مختلف دکانوں سے ہوتا ہوا ایک دکان میں داخل ہوا۔ دکان میں پہلے سے ایک خاتون دو لڑکیوں سمیت موجود تھی۔ میں خاموشی سے دکاندار کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ دکاندار ان خواتین سے بحث میں مصروف تھا۔ جو گفتگو  میں نے سنی ،  پیش خدمت ہے۔ لڑکی: یہ بیگ کتنے کا ہے؟ دکاندار: یہ سات سو کا ہے۔ خاتون: سات سو؟ زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی سو کا بیگ لگتا ہے۔  دکاندار: نہیں ! یہ بیگ سات سو کا ہی...